شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 2 باب استقبال القبلة بالفروج للغائط والبول ) · حديث 6460
6116 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا حماد بن سلمة عن خالد الحذاء عن خالد بن أبي الصلت قال كنا عند عمر بن عبد العزيز فذكروا الرجل يجلس على الخلاء فيستقبل القبلة فكرهوا ذلك فحدث عراك بن مالك عن عروة عن الزبير عن عائشة أن ذلك ذكر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أو قد فعلوها حولوا مقعدتي إلى القبلة فكانت هذه الآثار حجة لأهل هذه المقالة على أهل المقالة الأولى وموجبة الحجة عليهم لأن في هذه الآثار تأخير الإباحة عن النهي على ما ذكرنا في حديث جابر فهي ناسخة للآثار التي ذكرناها في أول هذا الباب وقد خالف قوم في القولين جميعا فقالوا بل نقول إن هذه الآثار كلها لا ينسخ شيء منها شيئا وذلك أن عبد الله بن الحارث أخبر في حديثه أنه أول من سمع النبي صلى الله عليه و سلم ينهى عن ذلك قال وأنا أول من حدث الناس بذلك فقد يجوز أن يكون ذلك النهي لم يقع على البول والغائط في جميع الأماكن ووقع على خاص منها وهي الصحارى ثم جاء أبو أيوب فكانت حكايته عن النبي صلى الله عليه و سلم هي النهي خاصة فذلك يحتمل ما احتمله حديث بن جزء على ما فسرناه وكراهة الاستقبال في الكرابيس المذكور فيه فهو عن رأيه ولم يحكه عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد يجوز الاستقبال إلى أن يكون سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ما سمع فعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد به الصحارى ثم حكم هو للبيوت برأيه بمثل ذلك ويجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد البيوت والصحارى إلا أنه ليس في ذلك دليل عن النبي صلى الله عليه و سلم يبين لنا أنه أراد أحد المعنيين دون الآخر وحديث عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان وحديث معقل بن أبي معقل وحديث أبي هريرة مما فيها عن النبي صلى الله عليه و سلم فمثل ذلك أيضا ثم عدنا إلى ما رويناه في الإباحة فإذا بن عمر يقول رأيت النبي صلى الله عليه و سلم على ظهر بيت مستقبل القبلة فاحتمل أن يكون ذلك على إباحته لإستدبار القبلة للغائط أو البول في الصحارى والبيوت واحتمل أن يكون ذلك على الإباحة لذلك في البيوت خاصة فكان أراد به فيما روى عنه في النهي على الصحارى خاصة فأولى بنا أن نجعل هذا الحديث زائدا على الأحاديث الأول غير مخالف لها فيكون هذا على البيوت وتلك الأحاديث الأول على الصحارى وهذا قول مالك بن أنس
خالد بن ابی صلت کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے انہوں نے اس آدمی کا ذکر کیا جو بیت الخلاء میں بیٹھ کر قبلہ کی طرف رخ کرے تو انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا چنانچہ عراک بن مالک عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں تو میرے بیت الخلاء میں بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی طرف موڑ دو۔ ان آثار کو فریق ثانی فریق اول کے خلاف بطور حجت پیش کیا ہے ان سے ان کا مؤقف ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ممانعت کے بعد اباحت اس کو منسوخ کرنے والی جیسا کہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ صاف طور پر پہلے آثار کی ناسخ ہے ۔ فریق ثالث کا کہنا ہے کہ ان آثار میں کوئی بات بھی پہلے آثار کی ناسخ نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو استقبال قبلہ سے منع کرتے سنا اور یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے لوگوں سے اس کے متعلق بات فرمائی ۔ تو اب اس کے مطابق یہ کہنا درست ہے کہ پیشاب اور پاخانے میں استقبال قبلہ کی ممانعت تمام مقامات کے لئے نہ ہو گی بلکہ فقط صحرا کے لئے ہو گی ۔ پھر حضرت ابو ایوب کی روایت میں آیا ہے کہ یہ ممانعت خاص ہے اور اس میں وہی احتمال ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا اور بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنے کی کراہت جو اس روایت میں مذکور ہے وہ ان کی اپنی رائے ہے جناب نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے اس کو بیان نہیں کیا تو ممکن ہے کہ استقبال کو آپ نے جائز قرار دیا ہو پھر انہوں نے جناب نبی اکرم سے وہ سنا جو سنا تو اس سے انہوں نے جان لیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی مراد اس سے صحرا ہیں پھر انہوں نے گھروں کے متعلق بھی اپنے اجتہاد سے وہی حکم لگا دیا۔ یہ عین ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے صحرا اور گھر دونوں مراد لئے ہوں البتہ اس میں جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کوئی دلیل موجود نہیں جو ہمارے سامنے ان دو معنوں میں سے ایک کی وضاحت کر دے باقی رہی روایت عبدالرحمن بن یزید اور حدیث معقل بن ابی معقل اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے ان کا مفہوم بھی اسی طرح ہے ۔ اب ہم روایات اباحت کو دیکھتے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو ایک گھر کی چھت پر قبلہ رخ بیٹھے دیکھا تو اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ قضائے حاجت کے لئے قبلہ کی طرف پشت کرنے کا صحرا اور گھر دونوں میں جواز ثابت ہوا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ فقط گھروں میں قضائے حاجت کے لئے اس طرح بیٹھنے کا جواز ثابت ہو اور ممانعت کی روایات میں صحرا مراد ہوں۔ پس ہمارے بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو پہلی حدیث پر اضافہ شمار کریں ان کے مخالف قرار نہ دیں ۔ پس اس سے مراد گھروں میں اباحت اور پہلی احادیث سے صحرا میں ممانعت تسلیم کی جائے یہ امام مالک بن انس رحمہم اللہ کا قول ہے ۔
خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة
Hadith 6460
