Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 2 باب استقبال القبلة بالفروج للغائط والبول ) · حديث 6460

6116 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا حماد بن سلمة عن خالد الحذاء عن خالد بن أبي الصلت قال كنا عند عمر بن عبد العزيز فذكروا الرجل يجلس على الخلاء فيستقبل القبلة فكرهوا ذلك فحدث عراك بن مالك عن عروة عن الزبير عن عائشة أن ذلك ذكر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أو قد فعلوها حولوا مقعدتي إلى القبلة فكانت هذه الآثار حجة لأهل هذه المقالة على أهل المقالة الأولى وموجبة الحجة عليهم لأن في هذه الآثار تأخير الإباحة عن النهي على ما ذكرنا في حديث جابر فهي ناسخة للآثار التي ذكرناها في أول هذا الباب وقد خالف قوم في القولين جميعا فقالوا بل نقول إن هذه الآثار كلها لا ينسخ شيء منها شيئا وذلك أن عبد الله بن الحارث أخبر في حديثه أنه أول من سمع النبي صلى الله عليه و سلم ينهى عن ذلك قال وأنا أول من حدث الناس بذلك فقد يجوز أن يكون ذلك النهي لم يقع على البول والغائط في جميع الأماكن ووقع على خاص منها وهي الصحارى ثم جاء أبو أيوب فكانت حكايته عن النبي صلى الله عليه و سلم هي النهي خاصة فذلك يحتمل ما احتمله حديث بن جزء على ما فسرناه وكراهة الاستقبال في الكرابيس المذكور فيه فهو عن رأيه ولم يحكه عن النبي صلى الله عليه و سلم فقد يجوز الاستقبال إلى أن يكون سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ما سمع فعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد به الصحارى ثم حكم هو للبيوت برأيه بمثل ذلك ويجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد البيوت والصحارى إلا أنه ليس في ذلك دليل عن النبي صلى الله عليه و سلم يبين لنا أنه أراد أحد المعنيين دون الآخر وحديث عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان وحديث معقل بن أبي معقل وحديث أبي هريرة مما فيها عن النبي صلى الله عليه و سلم فمثل ذلك أيضا ثم عدنا إلى ما رويناه في الإباحة فإذا بن عمر يقول رأيت النبي صلى الله عليه و سلم على ظهر بيت مستقبل القبلة فاحتمل أن يكون ذلك على إباحته لإستدبار القبلة للغائط أو البول في الصحارى والبيوت واحتمل أن يكون ذلك على الإباحة لذلك في البيوت خاصة فكان أراد به فيما روى عنه في النهي على الصحارى خاصة فأولى بنا أن نجعل هذا الحديث زائدا على الأحاديث الأول غير مخالف لها فيكون هذا على البيوت وتلك الأحاديث الأول على الصحارى وهذا قول مالك بن أنس

خالد بن ابی صلت کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے انہوں نے اس آدمی کا ذکر کیا جو بیت الخلاء میں بیٹھ کر قبلہ کی طرف رخ کرے تو انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا چنانچہ عراک بن مالک عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں تو میرے بیت الخلاء میں بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی طرف موڑ دو۔ ان آثار کو فریق ثانی فریق اول کے خلاف بطور حجت پیش کیا ہے ان سے ان کا مؤقف ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ممانعت کے بعد اباحت اس کو منسوخ کرنے والی جیسا کہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ صاف طور پر پہلے آثار کی ناسخ ہے ۔ فریق ثالث کا کہنا ہے کہ ان آثار میں کوئی بات بھی پہلے آثار کی ناسخ نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو استقبال قبلہ سے منع کرتے سنا اور یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے لوگوں سے اس کے متعلق بات فرمائی ۔ تو اب اس کے مطابق یہ کہنا درست ہے کہ پیشاب اور پاخانے میں استقبال قبلہ کی ممانعت تمام مقامات کے لئے نہ ہو گی بلکہ فقط صحرا کے لئے ہو گی ۔ پھر حضرت ابو ایوب کی روایت میں آیا ہے کہ یہ ممانعت خاص ہے اور اس میں وہی احتمال ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا اور بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنے کی کراہت جو اس روایت میں مذکور ہے وہ ان کی اپنی رائے ہے جناب نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے اس کو بیان نہیں کیا تو ممکن ہے کہ استقبال کو آپ نے جائز قرار دیا ہو پھر انہوں نے جناب نبی اکرم سے وہ سنا جو سنا تو اس سے انہوں نے جان لیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی مراد اس سے صحرا ہیں پھر انہوں نے گھروں کے متعلق بھی اپنے اجتہاد سے وہی حکم لگا دیا۔ یہ عین ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے صحرا اور گھر دونوں مراد لئے ہوں البتہ اس میں جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کوئی دلیل موجود نہیں جو ہمارے سامنے ان دو معنوں میں سے ایک کی وضاحت کر دے باقی رہی روایت عبدالرحمن بن یزید اور حدیث معقل بن ابی معقل اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے ان کا مفہوم بھی اسی طرح ہے ۔ اب ہم روایات اباحت کو دیکھتے ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو ایک گھر کی چھت پر قبلہ رخ بیٹھے دیکھا تو اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ قضائے حاجت کے لئے قبلہ کی طرف پشت کرنے کا صحرا اور گھر دونوں میں جواز ثابت ہوا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ فقط گھروں میں قضائے حاجت کے لئے اس طرح بیٹھنے کا جواز ثابت ہو اور ممانعت کی روایات میں صحرا مراد ہوں۔ پس ہمارے بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو پہلی حدیث پر اضافہ شمار کریں ان کے مخالف قرار نہ دیں ۔ پس اس سے مراد گھروں میں اباحت اور پہلی احادیث سے صحرا میں ممانعت تسلیم کی جائے یہ امام مالک بن انس رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 6460

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 2 باب استقبال القبلة بالفروج للغائط والبول ) · حديث 6461

6117 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أنه سمع مالكا يقول ذلك ثم رجعنا إلى حديث أبي قتادة ففيه أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم يبول مستقبل القبلة قد يكون رآه بن عمر فيكون معنى حديثه وحديث بن عمر سواء فقد يكون رآه حيث رآه بن عمر فيكون معنى حديثه وحديث بن عمر سواء أو يكون رآه في صحراء فيخالف حديث بن عمر وينسخ الأحاديث الأول فهو عندنا غير ناسخ لها حتى يعلم يقينا أنه قد نسخها وأما حديث جابر ففيه النهي من رسول الله صلى الله عليه و سلم عن استقبال القبلة وإستدبارها لغائط أو بول ولم يبين مكانا فيحتمل أن يكون ذلك أيضا على ما فسرنا وبينا من حديث أبي أيوب فلا حجة فيه أيضا توجب مضادة حديث بن عمر وأبي قتادة قال جابر في حديثه ثم رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يبول مستقبل القبلة فقد يحتمل أن يكون ذلك البول كان في المكان الذي لم يكن نهي رسول الله صلى الله عليه و سلم الأول وقع عليه فلم نعلم شيئا من هذه الآثار نسخ شيئا منها شيء ثم عدنا إلى حديث عراك ففيه أنه ذكر لرسول الله صلى الله عليه و سلم أن ناسا يكرهون استقبال القبلة بفروجهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم حولوا مقعدتي مستقبل القبلة فقد يجوز أن يكون أنكر قولهم لأنهم كرهوا ذلك في جميع الأماكن فأمر بتحويل مقعدته نحو القبلة ليرد عليهم وليعلم أنه لم يقع نهيه على ذلك وإنما وقع النهي على إستقبالها في مكان دون مكان ويحتمل أن يكون أراد بذلك نسخ النهي الأول في الأماكن كلها لأن النهي كان قد وقع في الآثار الأول عن ذلك فليس فيه دليل أيضا على نسخ ولا غيره فلما كان حكم هذه ألآثار كذلك كان أولى بنا أن نصححها كلها فنجعل ما فيه النهي منها على الصحارى وما فيه الإباحة على البيوت حتى لا تضاد منها شيء وقد

یونس نے ابن وہب سے بیان کیا کہ میں نے امام مالک کو یہ بات کہتے سنا ۔ اب ہم حدیث ابی قتادہ کی طرف دوبارہ رجوع کرتے ہیں کہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو قبلہ رخ کر کے پیشاب کرتے دیکھا تو ممکن ہے کہ انہوں نے اسی جگہ دیکھا ہو جہاں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کی روایت کا بھی وہی مفہوم ہوا جو روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے صحرا میں دیکھا ہو تو یہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہوئی ۔ یہ پہلی احادیث کے لئے ناسخ بن جائے گی۔ حالانکہ ہمارے نزدیک یہ اس کی ناسخ نہیں ہے جب تک کہ یقین سے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔ پھر حدیث جابر ۔ تو اس میں جناب نبی اکرم ﷺ نے قبلہ کی طرف قضائے حاجت میں منہ اور پیٹھ کرنے سے منع فرمایا لیکن ہمارے لئے جگہ کی وضاحت نہیں فرمائی ۔ پس اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ہو جو ہم نے پیچھے حدیث ابو ایوب کے بارے میں بیان کر دیا۔ تو اس صورت میں کوئی ایسی دلیل نہیں پائی جاتی جو اس کو حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حدیث ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے متضاد ثابت کرے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے دیکھا ۔ پس اس میں یہ احتمال ہے کہ پیشاب کرنا ایسے مقام میں تھا جس کی ممانعت پہلی بار آپ نے نہیں فرمائی ۔ پس ان آثار میں کوئی چیز ہمیں ایسی معلوم نہ ہوئی جس نے کسی دوسری روایت کو منسوخ کیا ہو۔ اب ہم حدیث عراک کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اس میں آپ کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا جو اپنی شرمگاہ ہوں کا رخ قبلہ کی طرف کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بیت الخلاء کا رخ قبلہ کی طرف پھیر دو تو اب اس روایت میں یہ درست ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کیا ہو کیونکہ ان لوگوں نے اس کو تمام مقامات کے لئے خیال کیا تو آپ ﷺ نے اپنے بیت الخلاء کے بدلنے کا حکم دیا تاکہ ان کی تردید ہو جائے اور ان کو معلوم ہو جائے کہ ممانعت ہر جگہ کے لئے نہیں ۔ قبلہ رخ کرنے کی ممانعت بعض مقامات میں ہے اور بعض میں نہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ تمام مقامات میں جو ممانعت تھی وہ منسوخ ہو گئی کیونکہ پہلے آثار میں ممانعت موجود ہے ۔ پس اس روایت میں کوئی نسخ اور غیر نسخ کی دلیل نہیں ۔ جب ان آثار کا معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا تو اب زیادہ بہتر یہی ہے کہ ان تمام کو ہم صحیح قرار دیں ممانعت والی روایات کو صحرا پر محمول کریں اور اباحت ولا ی روایات کو گھروں پر محمول کریں تاکہ ان میں کوئی روایت ایک دوسرے سے متضاد نہ رہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 6461

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 2 باب استقبال القبلة بالفروج للغائط والبول ) · حديث 6462

6118 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا إسحاق بن إسماعيل قال ثنا حاتم بن إسماعيل قال ثنا يونس قال ثنا بن وهب عن حاتم عن عيسى بن أبي عيسى الخياط ح

ابن وہب نے حاتم سے انہوں نے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ خیاط سے روایت کی ہے ۔

عيسى بن أبي عيسى الخياط ← حَاتِمٌ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إسحاق بن إسماعيل ← بن أبي عمران

Hadith 6462

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 2 باب استقبال القبلة بالفروج للغائط والبول ) · حديث 6463

وحدثنا إسماعيل قال ثنا عبيد الله بن موسى قال ثنا عيسى عن الشعبي أنه سأله عن اختلاف هذين الحديثين فقال الشعبي صدقا والله أما حديث أبي هريرة فعلى الصحارى إن الله وملائكته يصلون فلا تستقبلوهم وإن حشوشكم هذه لا قبلة فيها فعلى هذا المعنى يحمل هذه الآثار حتى لا يتضاد منها شيء

عبداللہ بن موسیٰ نے عیسیٰ سے انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے کہ میں نے ان سے ان دنوں روایتوں کے اختلاف کے بارے میں پوچھا تو شعبی کہنے لگے اللہ کی قسم دونوں نے سچ کہا حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صحراؤں کے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے نماز پڑھتے ہیں پس اس کی طرف رخ کرنے کی ممانعت فرمائی اور تمہارے یہ بیت الخلاء یعنی گھروں میں ہیں ان میں کوئی قبلہ کا لحاظ نہیں ان آثار کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا تاکہ ان میں کوئی روایت دوسری کے متضاد نہ ہے ۔ اس بات میں امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فریق ثانی کے قول کو ترجیح دی ہے اور ترتیب میں اسے تیسرے نمبر پر آخر میں لانا چاہیے تھا۔ فریق اول و ثالث کی روایات کی مناسب تاویل فرمائی ہے ۔

اختلاف هذين الحديثين ← الشعبي أنه سأله ← عِيسَى؛ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 6463

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6464

6119 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني طلحة بن عمرو عن عطاء عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أكل من خضراواتكم هذه ذوات الريح فلا يقربنا في مساجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو کوئی تمہاری ان سبزیات میں سے کھائے جو کہ بدبو والی ہیں وہ ہماری مساجد کے قریب مت جائے اس لیے کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے ایذا پہنچتی ہے جن سے اولاد آدم کو ایذا پہنچتی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 6464

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6465

6120 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد الله بن رجاء عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أكل من هذه الشجرة فلا يأت المساجد

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس پودے میں سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 6465

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6466

6121 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا بن نمير عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أكل من هذه البقلة فلا يقربن المسجد حتى يذهب ريحها يعني الثوم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جو آدمی اس سبزی میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو ( یعنی لہسن )

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Hadith 6466

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6467

6122 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن نافع عن بن عمر قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل الثوم بخيبر

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے خیبر میں لہسن کھانے سے منع فرمایا۔

أكل الثوم بخيبر ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Hadith 6467

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6468

6123 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا قيس عن أبي إسحاق عن شريك بن حنبل عن علي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أكل من هذه البقلة فلا يقربنا أو يؤذينا في مسجدنا

شریک بن حنبل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اس سبزی میں سے کھایا وہ ہمارے قریب نہ جائے یا یہ فرمایا کہ ہماری مسجد میں ہمیں تکلیف نہ دے ۔

من أكل من هذه البقلة فلا يقربنا أو يؤذينا في مسجدنا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← قَيْسٍ ← أبو غسان، ← فهد

Hadith 6468

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6469

6124 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو صالح الحنفي محمد بن عبد الوهاب قال ثنا معن بن عيسى عن إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عباد بن تميم عن عمه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال من أكل من هذه الشجرة فلا يقربن مساجدنا يعني الثوم

زہری نے عباد بن تمیم سے اور انہوں نے اپنے چچا سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو آدمی اس سبزی میں سے کھائے یعنی لہسن۔ وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے ۔

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَعْن بن عيسی ← أبو صالح الحنفي محمد بن عبد الوهاب ← بن أبي داود

Hadith 6469

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6470

6125 - حدثنا أحمد بن أبي داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا عبد العزيز بن صهيب قال سأل رجل أنسا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في الثوم فقال يعني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا ولا يصلين معنا

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم نے لہسن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو اس پودے کو کھائے نہ وہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہر گز ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔

من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا ولا يصلين معنا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← في الثوم فقال يعني ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سأل رجل أنسا ما ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أحمد بن أبي داود

Hadith 6470

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6471

6126 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا عبيد الله بن موسى عن بن أبي ليلى عن عطاء عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أكل من هذه البقلة فلا يقربنا في مسجدنا أو لا يقربن مسجدنا

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اس سبزی میں سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یا یہ فرمایا ہماری مساجد کے قریب ہر گز نہ آئے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي لَيْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Hadith 6471

chevron_left Previous
1…456…59
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter