Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6976

6605 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة رضي الله عنه قال سمعت عبد الله بن سلمة يحدث عن علي رضي الله عنه كأنه عن الله عز و جل فذكر مثله وزاد قد سبح الله عز و جل في الظلمات فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التخيير بينه وبين أحد من الأنبياء بعينه وأخبر بفضيلة لكل من ذكره منهم لم تكن لغيره فإن قال قائل فيجعل مضادا لحديث المختار بن فلفل قلت ليس هذا عندي بمضاد له لأن حديث المختار إنما هو على أن إبراهيم خير البرية فلم يقصد في ذلك إلى أحد دون أحد وفي الآثار الأخر تفضيل نبي على نبي ففي تفضيل أحدهم بعينه على آخر منهم إزراء على المفضول وليس في تفضيل رجل على الناس إزراء على أحد منهم هذا يحتمل أن يكون هو المعنى حتى لا تتضاد هذه الآثار وقد يحتمل أن يكون الله عز و جل أطلع رسوله على أن إبراهيم عليه السلام خير البرية ولم يطلعه على تفضيل بعض الأنبياء غيره على بعض فوقف فيما لم يطلعه الله عز و جل عليه فأمر بالوقف عنده وأطلق الكلام فيما أطلعه الله عز و جل عليه

عبداللہ بن سلمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے گویا کہ انہوں نے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف نقل کیا ہے پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے روک دیا کہ انبیاء علیہم السلام کے درمیان ترجیح دی جائے اور اس طرح آپ نے ہر پیغمبر علیہ السلام کی اس فضیلت کا ذکر کیا جو دوسرے کے لئے نہیں اسی کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ روایت تو مختار بن فلفل کی گزشتہ روایت کے مخالف ہے ۔ یہ روایت میرے ہاں تو اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ حضرت مختار رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مخلوق میں بہتر ہیں تو اس میں کسی کو چھوڑ کر دوسرے کا قصد نہیں کیا گیا۔ جبکہ دیگر روایات میں ایک پیغمبر کی دوسرے پر فضیلت خاصہ کا تذکرہ ہے پس معین پیغمبر کو دوسرے پر فضیلت دینے سے مفغول کی توہین ہے جبکہ دوسرے شخص کو دوسرے تمام لوگوں پر فضیلت دیتے ہیں تو اس صورت میں ان پر عیب جوئی نہیں ہے تو اس طرح ا ن روایات سے تضاد ختم ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس بات پر مطلع کر دیا کہ ابراہیم علیہ السلام تمام مخلوق سے بہتر ہیں اور اس بات کی اطلاع نہ دی ہو کہ بعض انبیاء کرام کو دوسرے بعض پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اطلاع نہیں دی اس کے متعلق آ پ نے توقف فرمایا اور دوسروں کو بھی توقف کا حکم فرمایا اور جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی اس میں کلام کو مطلق رکھا۔ ( ممکن ہے کہ اس بات کی ممانعت ہو کہ اپنی رائے سے فضیلت نہ دو۔ بس جو منقول ہے اس پر اکتفاء کرو کیونکہ اس کا تعلق اطلاع باری تعالیٰ پر موقوف ہے نص سے فضیلت وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض کے تحت ہے ۔ متروجم واللہ اعلم )

الله عز و جل ← علي كأنه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6977

6606 - حدثنا أبو خالد يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يخصى الإبل والبقر والغنم والخيل وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنه يقول منها نشأت الخلق ولا تصلح الإناث إلا بالذكور

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جنا ب رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں ، بیلوں ، بکروں، گھوڑوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی سے مخلوق پیدا ہوئی اور مادہ بلا نر کے مناسب ہی نہیں ۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6977

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6978

6607 - حدثنا يزيد قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا عيسى بن يونس عن عبد الله بن نافع فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا لا يحل إخصاء شيء من الفحول واحتجوا في ذلك بهذا الحديث ويقول الله عز و جل فليغيرن خلق الله قالوا وهو الإخصاء وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما خيف عضاضه من البهائم أو ما أريد شحمه منها فلا بأس بإخصائه وقالوا هذا الحديث الذي احتج به علينا مخالفنا إنما هو عن بن عمر موقوف وليس عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكروا ما

عیسیٰ بن یونس نے عبداللہ بن نافع سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کسی نر کو خصی کرنا حلال نہیں ۔ انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ " فلیغیرن خلق اللہ ۔۔۔۔" اس آیت میں جس تغییر خلق کا ذکر ہے اس سے یہی خصی ہونا مراد ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ جس کے متعلق خطرہ ہو کہ وہ دوسرے جانوروں کو کاٹے گا یا جس کے چربی سے بھر پور کرنے کا ارادہ ہو اسے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ فریق مخالف کا کہنا ہے کہ جو روایت دلیل میں پیش کی جاتی ہے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے وہ جناب رسول اللہ ﷺ تک مرفوعا ثابت نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6979

6608 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه مثله ولم يذكر النبي صلى الله عليه و سلم فصار أهل هذا الحديث إنما هو عن بن عمر رضي الله عنه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم فأما ما ذكروا من قول الله عز و جل فليغيرن خلق الله فقد قيل تأويله ما ذهبوا إليه وقيل إنه دين الله وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ضحى بكبشين موجوءين وهما المرضوضان خصاهما والمفعول به ذلك قد انقطع أن يكون له نسل فلو كان إخصاؤهما مكروها إذا لما ضحى بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم لينتهي الناس عن ذلك فلا يفعلونه لأنهم متى ما علموا أن ما أخصى تجتنب أو تجافى أحجموا عن ذلك فلم يفعلوه ألا ترى أن عمر بن عبد العزيز فيما رويناه عنه في باب ركوب البغال أنه أتى بعبد خصى يشتريه فقال ما كنت لأعين على الإخصاء فجعل إبتياعه إياه عونا على إخصائه لأنه لولا من يبتاعه لأنه خصى لم يخصه من أخصاه فكذلك إخصاء الغنم لو كان مكروها لما ضحى رسول الله صلى الله عليه و سلم بما قد أخصى منها ولا يشبه إخصاء البهائم إخصاء بني آدم لأن إخصاء البهائم إنما يراد به ما ذكرنا من سمانتها وقطع عضها فذلك مباح وبنو آدم فإنما يراد بإخصائهم المعاصي فذلك غير مباح ولو كان ما روينا في أول هذا الباب صحيحا لأحتمل أن يكون أريد الإخصاء الذي لا يبقى معه شيء من ذكور البهائم حتى يخصى فذلك مكروه لأن فيه انقطاع النسل ألا تراه يقول في ذلك الحديث منها نشأت الخلق أي فإذا لم ينشأ شيء من ذلك الخلق فذلك مكروه فأما ما كان من الإخصاء الدي لا ينقطع منه نشئ الخلق فهو بخلاف ذلك وقد روى في إباحة إخصاء البهائم عن جماعة من المتقدمين

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ نہیں ہے ۔ پس اس کا موقوف ہونا ثابت ہو گیا باقی آیت جس کا تذکرہ بطور دلیل کیا گیا ہے تو اس کی ایک تاویل اگر وہ ہے جو فریق اول نے کی ہے تو دوسری تاویل تخلیق کے بدلنے سے دین فطرت کا بدلنا مراد ہے ۔ روایات میں وارد ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور وہ دو دنبے تھے جو موجؤین تھے اس کا معنی جس کے کپوروں کو کوٹا گیا ہو۔ اس کی نسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا تو اگر خصی کرنا مکروہ ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ ان کی قربانی نہ کرتے تاکہ لوگ اس سے باز آ جائیں اور نہ کریں کیونکہ لوگوں کو جب یہ معلوم ہو جاتا جو خصی ہو اس سے گریز کیا جاتا یا بچا جاتا ہے تو لوگ اس سے رک جاتے اور نہ کرتے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک غلام لایا گیا جو خصی تھا تاکہ وہ خرید لیں ( باب رکوب البغال ) تو آپ نے فرمایا میں خصی پن پر معاون نہیں بن سکتا ( اس لئے میں نہ خریدوں گا ) تو آپ نے خصی غلام کی خریداری کو اعانت علی الا خصاء قرار دے کر نہ خریدا ۔ کیونکہ اگر کوئی اس کو خصی ہونے کی بناء پر نہ خریدے گا تو پھر خصی کرے والا آئندہ خصی نہ کرے گا۔ اسی طرح بکریوں میں خصی کرنا اگر مکروہ ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ خصی کی قربانی نہ کرتے ۔ نیز اس کو بنی آدم کے خصی کرنے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ جانوروں کے خصی کرنے سے ان کا موٹا کرنا اور ان کے کاٹنے سے حفاظت مقصود ہے اور یہ مباح ہے اور انسانوں کو خصی کرنے سے معاصی مقصود ہیں اور یہ ناجائز ہے ۔ اگر اس روایت کو بوجو ہ مال لیا جائے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا خصی بنانا ہو جس کے ساتھ اور کوئی چیز نر حیوانات کی باقی نہ رہے اور یہ مکروہ ہے کیونکہ اس سے سلسلہ نسل کا انقطاع لازم آتا ہے اس پر دلالت یہ ہے کہ روایت میں " منھا نشات الخلق " کہا گیا کہ جب اس سے کوئی چیز پیدا نہ ہو تو یہ مکروہ ہے ۔ باقی ایسا خصی کرنا جس سے پیدائش کا سلسلہ منقطع نہ ہو وہ اس کے خلاف ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6980

6609 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن عروة أنه أخصى بغلا له

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عروہ سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے خچر کو خصی کیا۔

عروة أنه أخصى بغلا له ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6981

6610 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبد الله بن عمر قال ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه مثله

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

أَبِیہِ مِثْلَہُ۔ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6982

6611 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله قال ثنا سفيان عن بن طاوس أن أباه أخصى جملا له

سفیان نے ابن طاؤس سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے اپنے ایک اونٹ کو خصی کیا ۔

بن طاوس أن أباه أخصى جملا له ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 24 باب إخصاء البهائم ) · حديث 6983

6612 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله قال ثنا سفيان عن مالك بن مغول عن عطاء قال لا بأس بإخصاء الفحل إذا خشي عضاضه

مالک بن مغول سے روایت ہے کہ حضرت عطاء نے فرمایا کہ نر کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس کے کاٹنے کا خطرہ ہو۔

لا بأس بإخصاء الفحل إذا خشي عضاضه ← عَطَاءٍ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6983

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 25 باب كتابة العلم هل تصلح أم لا ) · حديث 6984

6613 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان بن عيينة عن عبد الرحمن بن زيد عن أبيه عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري أنه استأذن النبي صلى الله عليه و سلم في كتاب العلم فلم يأذن له قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة كتابة العلم ونهوا عن ذلك واحتجوا فيه بما ذكرناه وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بكتابة العلم بأسا وعارضوا ما احتج به عليهم مخالفهم من الأثر الذي ذكرناه بما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نقل کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے علمی باتیں لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت دی۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ علم کا لکھنا مکروہ ہے اور وہ اس سے منع کرتے ہیں اور اس روایت کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ کتابت علم میں کوئی حرج نہیں اور اس کا ثبوت یہ روایت ہے جو آئندہ سطور میں ذکر کر رہے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن زيد ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 25 باب كتابة العلم هل تصلح أم لا ) · حديث 6985

6614 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا شريك عن المخارق عن طارق قال خطبنا علي رضي الله عنه فقال ما عندنا من كتاب نقرؤه عليكم إلا كتاب الله وهذه الصحيفة يعني الصحيفة في دواته وقال في غلاف سيف عليه أخذناها من رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها فرائض الصدقة

طارق کہتے ہیں کہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور سوائے اللہ کی کتاب کے اور اس صحیفے کے جو آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار کے غلاف میں تھا جس کو ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا ہے اس میں صدقہ کے فرائض کا بیان ہے ۔

خَطَبَنَا عَلِيٌّ ← طَارِقٍ ← الْمُخَارِقِ، ← شَرِيکٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6985

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 25 باب كتابة العلم هل تصلح أم لا ) · حديث 6986

6615 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبيد الله بن موسى قال ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن علي قال ليس عندنا عن النبي صلى الله عليه و سلم من كتاب إلا كتاب الله عز و جل وشئ في هذه الصحيفة المدينة حرام ما بين عير إلى ثور وفي الحديث غير هذا

ابراہیم تیمی نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہمارے پاس جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور ایک چیز جو اس صحیفہ میں ہے کہ مدینہ حرم ہے اور اس کی حدود جبل عیر سے ثور تک ہے ۔ اور حدیث میں اس کے علاوہ مذکور ہے ۔

لَيْسَ عِنْدَنَا ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6986

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 25 باب كتابة العلم هل تصلح أم لا ) · حديث 6987

6616 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن المغيرة بن حكيم ومجاهد أنهما سمعا أبا هريرة يقول ما كان أحد أحفظ لحديث رسول الله صلى الله عليه و سلم مني إلا ما كان من عبد الله بن عمرو فإني كنت أعي بقلبي وكان يعي بقلبه ويكتب بيده استأذن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك فأذن له

مغیرہ بن حکیم اور مجاہد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ فرماتے تھے حدیث رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے زیادہ کوئی بھی یاد رکھنے والا نہیں تھا سوائے عبداللہ بن عمرو کے میں زبانی یاد کرتا اور وہ زبانی یاد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے انہوں نے اس سلسلے میں حضور ﷺ سے اجازت طلب کی تھی آپ نے ان کو اجازت دے دی تھی ۔

المغيرة بن حكيم ومجاهد أنهما سمعا أبا هريرة ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6987

chevron_left Previous
1…474849…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter