شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6976
6605 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة رضي الله عنه قال سمعت عبد الله بن سلمة يحدث عن علي رضي الله عنه كأنه عن الله عز و جل فذكر مثله وزاد قد سبح الله عز و جل في الظلمات فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التخيير بينه وبين أحد من الأنبياء بعينه وأخبر بفضيلة لكل من ذكره منهم لم تكن لغيره فإن قال قائل فيجعل مضادا لحديث المختار بن فلفل قلت ليس هذا عندي بمضاد له لأن حديث المختار إنما هو على أن إبراهيم خير البرية فلم يقصد في ذلك إلى أحد دون أحد وفي الآثار الأخر تفضيل نبي على نبي ففي تفضيل أحدهم بعينه على آخر منهم إزراء على المفضول وليس في تفضيل رجل على الناس إزراء على أحد منهم هذا يحتمل أن يكون هو المعنى حتى لا تتضاد هذه الآثار وقد يحتمل أن يكون الله عز و جل أطلع رسوله على أن إبراهيم عليه السلام خير البرية ولم يطلعه على تفضيل بعض الأنبياء غيره على بعض فوقف فيما لم يطلعه الله عز و جل عليه فأمر بالوقف عنده وأطلق الكلام فيما أطلعه الله عز و جل عليه
عبداللہ بن سلمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے گویا کہ انہوں نے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف نقل کیا ہے پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے روک دیا کہ انبیاء علیہم السلام کے درمیان ترجیح دی جائے اور اس طرح آپ نے ہر پیغمبر علیہ السلام کی اس فضیلت کا ذکر کیا جو دوسرے کے لئے نہیں اسی کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ روایت تو مختار بن فلفل کی گزشتہ روایت کے مخالف ہے ۔ یہ روایت میرے ہاں تو اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ حضرت مختار رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مخلوق میں بہتر ہیں تو اس میں کسی کو چھوڑ کر دوسرے کا قصد نہیں کیا گیا۔ جبکہ دیگر روایات میں ایک پیغمبر کی دوسرے پر فضیلت خاصہ کا تذکرہ ہے پس معین پیغمبر کو دوسرے پر فضیلت دینے سے مفغول کی توہین ہے جبکہ دوسرے شخص کو دوسرے تمام لوگوں پر فضیلت دیتے ہیں تو اس صورت میں ان پر عیب جوئی نہیں ہے تو اس طرح ا ن روایات سے تضاد ختم ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس بات پر مطلع کر دیا کہ ابراہیم علیہ السلام تمام مخلوق سے بہتر ہیں اور اس بات کی اطلاع نہ دی ہو کہ بعض انبیاء کرام کو دوسرے بعض پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اطلاع نہیں دی اس کے متعلق آ پ نے توقف فرمایا اور دوسروں کو بھی توقف کا حکم فرمایا اور جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی اس میں کلام کو مطلق رکھا۔ ( ممکن ہے کہ اس بات کی ممانعت ہو کہ اپنی رائے سے فضیلت نہ دو۔ بس جو منقول ہے اس پر اکتفاء کرو کیونکہ اس کا تعلق اطلاع باری تعالیٰ پر موقوف ہے نص سے فضیلت وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض کے تحت ہے ۔ متروجم واللہ اعلم )
الله عز و جل ← علي كأنه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6976
