Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6964

6594 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا همام بن يحى عن قتادة عن أبي حسان قال دخل رجلان من بني عامر على عائشة رضي الله عنها فأخبراها أن أبا هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال إن الطيرة في المرأة والدار والفرس فغضبت وطارت شقة منها في السماء وشقة في الأرض فقالت والذي نزل القرآن على محمد ما قالها رسول الله صلى الله عليه و سلم قط إنما قال أهل الجاهلية كانوا يتطيرون من ذلك فأخبرت عائشة أن ذلك القول كان من النبي صلى الله عليه و سلم حكاية عن أهل الجاهلية لأنه عنده كذلك

ابو حسان کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عامر کے دو آدمی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور ان کو بتلایا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ عورت ، گھر اور گھوڑے میں نحوست ہے ۔ ( تو یہ سن کر ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئیں اور تیور بدل گئے اور فرمایا اس ذات کی قسم ہے جس نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید اتارا ہے یہ کلمات جناب رسول اللہ ﷺ نے بالکل نہیں فرمائے ۔ بلکہ آپ نے فرمایا اہل جاہلیت ان تین چیزوں سے بد شگونی لیتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ اہل جاہلیت کا قول ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ نے بطور حکایت نقل فرمایا ۔ اس لئے نہیں کہ وہ آپ کے ہاں بھی اسی طرح ہے ۔

دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَاهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي حَسَّانَ، ← قَتَادَةَ ← همام بن يحى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6964

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6965

6595 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان عن المختار بن فلفل قال سمعت أنسا يقول جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا خير البرية فقال ذاك أبي إبراهيم عليه السلام

مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : یا خیر البریہ اے مخلوق میں سب سے بہتر تو آپ نے فرمایا وہ تو میرے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ۔

ذاك أبي إبراهيم. ← يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسًا ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6965

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6966

6596 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن سفيان عن المختار بن فلفل عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَنَسٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6966

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6967

6597 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق وإبراهيم بن محمد بن يونس قالا ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله

حذیفہ نے سفیان سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت کی ہے ۔

سُفْيَانُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إبراهيم بن مرزوق وإبراهيم بن محمد بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6967

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6968

6598 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا عبد الواحد بن زياد عن المختار بن فلفل عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا بأس بالتخيير بين الأنبياء فيقال إن فلانا خير من فلان على ما جاء مما كان في كل واحد منهم وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا التخيير بين الأنبياء واحتجوا في ذلك بما

مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے درمیان ترجیح میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلاً کہ فلاں فلاں سے بہتر ہے مگر یہ ان صفات میں ہو گا جو انفرادی طور پر ان میں پائی جاتی ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام میں ایک دوسرے پر ترجیح دینا جائز نہیں انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَنَسٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6968

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6969

6599 - حدثنا يونس قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن يحيى المازني عن أبيه عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تخيروا بين أنبياء الله

عمرو بن یحییٰ نے مازنی نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں ایک کو دوسرے پر ترجیح مت دو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6969

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6970

6600 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن يحيى بن عمارة عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6970

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6971

6601 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله

ابو نعیم نے سفیان سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

سُفْيَانُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6971

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6972

6602 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا الماجشون عن عبد الله بن الفضل قال أخبرني الأعرج عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله في حديث طويل غير أنه قال لا تفضلوا فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفضل بين الأنبياء وروى عنه أنه قال لا تفضلوني على موسى

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ۔ البتہ طویل روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔ " لا نفضلوا " جناب نبی اکرم ﷺ نے انبیاء علیہم السلام میں سے ایک دوسرے پر ترجیح دینے سے روکا۔ اور یہ روایت بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← الْمَاجِشُونُ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6972

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6973

عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تخيروني على موسى فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأكون أول من يفيق فإذا موسى عليه السلام باطش بجانب العرش فلا أدري أصعق فيمن كان صعق فأفاق قبلي أو كان فيمن أستثنى الله عز و جل فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفضلوه على موسى وقال لهم إني أول من يفيق من الصعقة فأجد موسى قائما فلا أدري أكان فيمن صعق قبلي فأفاق قبلي أم كان فيمن أستثنى الله عز و جل فكان ذلك عندنا على أنه جاز عنده أن يكون فيما استثنى الله عز و جل فلم تصبه الصعقة ففضل بذلك أو صعق فأفاق قبله فكان في منزلته لأنهما قد صعقا جميعا فكره النبي صلى الله عليه و سلم لذلك تفضيله عليه لما احتمل تخطي الصعقة إياه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا أنه قال لا ينبغي لأحد أن يقول أنا خير من يونس بن متى

سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔ بے شک لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے ۔ میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا ۔ اچانک موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پائے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں بے ہوش ہوئے اور پھر مجھ سے پہلے ان کو ہوش آ گیا یا وہ ان لوگوں سے ہیں جن کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے ۔ ( الا من شاء اللہ کی طرف اشارہ فرمایا ) جناب رسول اللہ ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت سے منع فرمایا اور یہ فرمایا کہ مجھے پہلے ہوش آئے گا تو میں موسیٰ علیہ السلام کو کھڑا پاؤں گا ۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ بے ہوش ہونے والوں سے ہیں یا وہ ان لوگوں سے ہیں کہ جن کو اس بے ہوشی سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے ۔ پس ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس بات کو جائز قرار دیا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں سے ہوں جو کہ بے ہوشی سے مستثنیٰ ہوں اور انہیں بے ہوشی پہنچی ہی نہیں تو اس لحاظ سے ان کو فضیلت حاصل ہو یا وہ بے ہوش ہوئے مگر آپ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیا ( اس لحاظ سے فضیلت ہو ) تو دونوں ایک ہی درجہ میں ہوئے اس لئے کہ دونوں میں بے ہوشی طاری ہوئی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنے کو نا پسند فرمایا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بے ہوشی سے محفوظ رہے ہوں حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی آدمی کو یہ کہنا جائر نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متی سے افضل و بہتر ہوں ۔ روایت یہ ہے :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6974

6603 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن قتادة عن أبي العالية عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا ينبغي لأحد أن يقول أنا خير من يونس بن متى

ابو العالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی کو یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر ہوں۔

خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی ← لا ينبغي لأحد أن ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 23 باب التخيير بين الأنبياء عليهم السلام ) · حديث 6975

6604 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم قال سمعت حميد بن عبد الرحمن يحدث عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال قال الله عز و جل ما ينبغي لعبد أن يقول أنا خير من يونس بن متى

حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی کو یہ کہنا جائز نہیں کہ میں ( محمد ﷺ ) حضرت یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں۔

خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی ← الله عز و جل ما ينبغي لعبد أن ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6975

chevron_left Previous
1…464748…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter