Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6928

6558 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى قال ثنا هشام وسعيد عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هشام وسعيد ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6928

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6929

6559 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن علقمة بن مرثد قال سمعت أبا الربيع يحدث عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أربع في أمتي من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس الطعن في الأنساب والنياحة ومطرنا بنوء كذا وكذا والعدوى يكون البعير في الإبل فيجرب فيقول من أعدى الأول

ابو الربیع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا میری امت میں چار باتیں جاہلیت کے معاملات سے ہیں ان کو لوگ ترک نہ کریں گے ۔ 1۔ نسب میں طعنہ زنی ، 2۔ نوحہ خوانی ، 3۔ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ، 4 ۔ اونٹوں میں خارش کے مرض میں ایک سے دوسرے کو لگ جانا تو آپ فرماتے کس نے پہلے کو خارشی کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبا الربيع ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6929

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6930

6560 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن علقمة فذكر بإسناده مثله

سفیان نے علقمہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

علقمة فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6930

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6931

6561 - حدثنا فهد قال ثنا أبو سعيد الأشج قال ثنا أبو أسامة قال ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن القاسم عن أبي أسامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا عدوى وقال فمن أعدى الأول

قاسم نے حضرت ابو اسامہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کوئی مرض متعدی نہیں اور فرمایا کس نے پہلے مرض لگایا ؟

لا عدوى وقال فمن أعدى الأول ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي أُسَامَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6931

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6932

6562 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا يونس بن محمد عن مفضل بن فضالة عن حبيب بن الشهيد عن محمد بن المنكدر عن جابر قال أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيد مجذوم فوضعها في القصعة وقال بسم الله ثقة بالله وتوكلا على الله

محمد بن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا پھر اس کو پیالے میں رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ ثقۃ باللہ وتو کلا علی اللہ " اللہ تعالیٰ کے نام اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے میں اس میں ڈالتا ہوں۔

بسم الله ثقة بالله وتوكلا على الله ← أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيد مجذوم فوضعها في القصعة ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6932

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6933

6563 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله ألانصاري قال ثنا إسماعيل بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6933

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6934

6564 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا موسى بن داود قال ثنا يعقوب بن إبراهيم عن يحيى بن سعيد عن أبي مسلم الخولاني عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كن مع صاحب البلاء تواضعا لربك وإيمانا فقد نفى رسول الله صلى الله عليه و سلم العدوى في هذه الآثار التي ذكرناها وقد قال فمن أعدى الأول أي لو كان إنما أصاب الثاني لما أعداه الأول إذا لما أصاب الأول شيء لأنه لم يكن معه ما يعديه ولكنه لما كان ما أصاب الأول إنما كان بقدر الله عز و جل كان ما أصاب الثاني كذلك فإن قال قائل فنجعل هذا مضادا لما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم لا يورد ممرض على مصح كما جعله أبو هريرة قلت لا ولكن يجعل قوله لا عدوى كما قال النبي صلى الله عليه و سلم نفى العدوى أن يكون أبدا ويجعل قوله لا يورد ممرض على مصح على الخوف منه أن يورد عليه فيصيبه بقدر الله ما أصاب الأول فيقول الناس أعداه الأول فكره إيراد المصح على الممرض خوف هذا القول وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار أيضا وضعه يد المجذوم في القصعة فدل فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا على نفي الإعداء لأنه لو كان الإعداء مما يجوز أن يكون إذا لما فعل النبي صلى الله عليه و سلم ما يخاف ذلك منه لأن في ذلك جر التلف إليه وقد نهى الله عز و جل عن ذلك فقال ولا تقتلوا أنفسكم ومر رسول الله صلى الله عليه و سلم بهدف مائل فأسرع فإذا كان يسرع من الهدف المائل مخافة الموت فكيف يجوز عليه أن يفعل ما يخاف منه الإعداء وقد ذكرت فيما تقدم من هذا الباب أيضا معنى ما روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في الطاعون في نهيه عن الهبوط عليه وفي نهيه عن الخروج منه وأن نهيه عن الهبوط عليه خوفا أن يكون قد سبق في علم الله عز و جل أنهم إذا هبطوا عليه أصابهم فيهبطون فيصيبهم فيقولون أصابنا لأنا هبطنا عليه ولولا أنا هبطنا عليه لما أصابنا وأن نهيه عن الخروج منه لئلا يخرج فيسلم فيقول سلمت لأني خرجت لولا أني خرجت لم أسلم فلما كان النهي عن الخروج عن الطاعون وعن الهبوط عليه بمعنى واحد وهو الطيرة لا الإعداء كان كذلك قوله لا يورد ممرض على مصح هو الطيرة أيضا لا الإعداء فنهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه كلها عن الأسباب التي من أجلها يتطيرون وفي حديث أسامة الذي رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وإذا وقع بأرض وهو بها فلا يخرجه الفرار منه دليل على أنه لا بأس أن يخرج أن يخرج منها لا عن الفرار منه وقد دل على ذلك أيضا ما

ابومسلم خولانی نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مصیبت زدہ کا ساتھ دو اپنے رب کی بارگاہ میں تواضع اختیارکرتے ہوئے اور اپنے رب پرایمان لانے کی وجہ سے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان آثار میں ”فمن اعدى الأول“کہہ کر مرض میں تعدیہ کی نفی فرمائی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر دوسرے کو پہلے کی وجہ سے لگ گیا تو پہلے کو مرض کہاں سے لاحق ہوا۔ کیونکہ اس کے ساتھ تو کوئی ایسا نہ تھا جو اس تک جراثیم کو منتقل کرے۔ لیکن جب پہلے کو تقدیر الہی کی وجہ سے بیماری پہنچی تو دوسرے کو بھی اس وجہ سے پہنچی ۔یہ روایات ان روایات کے مخالف ہیں کہ جن میں آپ نے فرمایا کہ کوئی بیمار تندرست کے پاس نہ آئے جیسا کہ اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے مخالف ٹھہرایا۔ یہ روایات ان کے خلاف نہیں لیکن جناب رسول اللہ ﷺ نے ”لاعدوی " میں ہمیشہ کے لئے تعدیہ کی نفی فرمائی اور آپ کا ارشاد "لا یورد ممرض " کا مطلب یہ ہے کہ اس خوف کی بنیاد پر کسی مریض کو صحت مند کے پاس نہ لایا جائے کہ اگر اسے وہاں لایا جائے اور قدرتی طور پر اس صحت مند کو دہ بیماری لاحق ہوگئی جس میں وہ مریض مبتلا تھا تو لوگ کہیں گے اس کو پہلے بیمار سے بیماری لگ گئی ہے تو اس خدشے کے پیش نظر آپ ﷺ نے بیمار کو صحت مند کے پاس لے جانے سے منع کیا ہے۔ اور ہم ان روایات میں ایک روایت نقل کر آ ئے کہ آپ نے کوڑھی کے ہاتھ کو پیالے میں ڈالا تو آپ کا یہ فعل مبارک بھی مرض میں تعدیہ کے منافی ہے۔ اگر بیماری کا متعدی ہونا ممکن ہوتا تو جناب نبی اکرم ﷺ اس خوف سے یہ عمل نہ کرتے کیونکہ اس میں اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا "لاتقتلوا انفسکم“ اپنے کو ہلاک مت کرو۔ چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ کاگزرایک جھکی ہوئی عمارت کے پاس سے ہوا تو آپ تیزی سے گزر گئے جب آپ کرنے والی دیوار کے نیچے سے موت کے خطرے کے پیش نظر تیزی سے گزر جاتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ تعدیہ کا خطرہ ہو اور آپ اس سے احتیاط نہ کریں۔ اس باب میں ہم نے روایات کے ضمن میں اس روایت کا مفہوم بیان کر دیا کہ طاعون والے مقام میں مت جاؤ اور طاعون والے مقام سے مت نکلو۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کا وہاں جانے سے روکنا اس خطرے کی بناء پرتھا کہ الله تعالی کے علم میں بات پہلے سے موجود ہے کہ جب یہ لوگ وہاں اتریں گے تو انہیں طاعون کی بیماری لگ جائے گی میں وہ اتریں اور وہ اس بیماری کا شکار ہو جائیں تو یہ لوگ کہیں گے کہ چونکہ ہم یہاں اترے ہیں اس بناء پر ہمیں یہ بیماری پہنچی ہے اگر وہاں نہ جاتے تو ہم طاعون میں مبتلا نہ ہوتے۔ اسی طرح وہاں سے نکلنے سے منع کرنا اس بناء پرتھا کہ ممکن ہے کہ وہ باہر جانے سے محفوظ رہے اور یہ کہنے لگے کہ میں تو اس لئے بچا کہ میں باہر آ گیا تھا اگر میں وہاں سے نکلتا تو نہ بچتا ۔ تو جب طاعون والی جگہ سے نکلنے اور وہاں جانے کی ممانعت کا دارومدار ایک ہی وجہ پر ہے اور وہ بد فالی ہے بیماری کا متعدی ہونا نہیں تو آپ کے ارشاد گرامی کہ بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے ان کو بھی بد فالی پر محمول کیا جائے گا بیماری کے متعدی ہونے پر نہیں۔ پس ان تمام روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ایسے اسباب سے منع فرمایا ہے جن کی بنیاد پر وہ بد فالی اختیار کرتے تھے ۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ " اذا وقع بارض " الحدیث ۔ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر فرار مقصود نہ ہو تو نکلنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اس پر روایات بھی دلیل ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أبى مسلم الخولاني ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6935

6565 - حدثنا يونس قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير عن أبي قلابة عن أنس أن نفرا من عكل قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة فاجتووها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو خرجتم إلى ذود لنا فشربتم من ألبانها وأبوالها ففعلوا وصحوا ثم ذكر الحديث

ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے ان کو بخار ہو گیا جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم ہمارے اونٹوں کی طرف جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو تو مناسب ہے چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا وہ تندرست ہو گئے پھر روایت اس طرح ذکر کی ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6936

6566 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا سماك بن حرب عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم نفر مرضى من حي من أحياء العرب فأسلموا وبايعوه وقد وقع الموم وهو البرسام فقالوا يا رسول الله هذا الوجع قد وقع لو أذنت لنا فخرجنا إلى الإبل فكنا فيها قال نعم اخرجوا فكونوا فيها ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرهم بالخروج إلى الإبل وقد وقع الوباء بالمدينة فكان ذلك عندنا والله أعلم على أن يكون خروجهم للعلاج لا للفرار فثبت بذلك أن الخروج من الأرض التي وقع بها الطاعون مكروه للفرار منه ومباح لغير الفرار وعلى هذا المعنى والله أعلم رجع عمر بالناس من سرغ لا على أنه فار مما قد نزل بهم والدليل على ذلك ما

معاویہ بن قرہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عربوں کے ایک قبیلہ کے لوگ بیمار آئے اور وہ اسلام لائے اور بیعت کی ۔ سرسام کی بیماری پھیل گئی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ بیماری پھیل گئی ہے اگر آپ ہمیں اجازت دے دیں کہ ہم اونٹوں کی طرف جائیں اور وہاں قیام کریں آپ ﷺ نے فرمایا مناسب ہے تم وہاں رہو۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اونٹوں کی طرف جانے کا حکم فرمایا اس لئے کہ مدینہ منورہ میں وباء پھیل گئی تھی ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جانا علاج کی خاطر تھا فرار عن الوباء کی وجہ سے نہ تھا ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ طاعون والے علاقہ سے فرار اختیار کرنا تو مکروہ ہے مگر اس کے علاوہ علاج وغیرہ کے لئے نکلنا جائز ہے ۔ اسی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ مقام سرغ سے واپس لوٹ آئے اس وجہ سے نہیں کہ وہ اترنے والی وباء سے فرار اختیار کرنے والے تھے اس کی دلیل یہ روایت ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6937

6567 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن عياش الحمصي قال ثنا شعيب بن أبي حمزة عن زيد بن أسلم عن أبيه قال قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه اللهم إن الناس يخلون ثلاث خصال وأنا أبرأ إليك منهن زعموا أني فررت من الطاعون وأنا أبرأ إليك من ذلك وأني أحللت لهم الطلاء وهو الخمر وأنا أبرا إليك من ذلك وأني أحللت لهم المكس وهو النجس وأنا أبرأ إليك من ذلك فهذا عمر يخبر أنه يبرأ إلى الله أن يكون فر من الطاعون فدل ذلك أن رجوعه كان لأمر آخر غير الفرار وكذلك ما أراد بكتابه إلى أبي عبيدة أن يخرج هو ومن معه من جند المسلمين إنما هو لنزاهة الجابية وعمق الأردن فقد بين أبو موسى الأشعري في حديث شعبة المكروه في الطاعون ما هو وهو أن يخرج منه خارج فيسلم فيقول سلمت لأني خرجت ويهبط عليه هابط فيصيبه فيقول أصابني لأني هبطت وقد أباح أبو موسى مع ذلك للناس أن يتنزهوا عنه إن أحبوا فدل ما ذكرناه على التفسير الذي وصفنا فهذا معنى هذه الآثار وعندنا والله أعلم وأما الطيرة فقد رفعها رسول الله صلى الله عليه و سلم وجاءت الآثار بذلك مجيئا متواترا

زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اے اللہ لوگ تین خصال اختیار کرنے والے ہیں اور میں ان تینوں سے تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ 1۔ان کا خیال یہ ہے کہ میں طاعون سے فرار اختیار کرنے والا ہوں۔ اے اللہ تعالی میں تیری بارگاہ میں اس سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ 2۔ میں نے نبیذ طلاء ( گاڑها نبیذ ) کو ان کے لئے حلال کر دیا حالانکہ وہ تو شراب ہے ، میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔ 3۔ میں نے ان کے لئےمکس (ٹیکس سے زائد) کو ان کے لئے حلال کیا ہے حالانکہ وہ تو پلید ہے اے اللہ میں اس سے بھی تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا ہوں ۔ کی عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ اس سے بری الذمہ ہیں کہ وہ طاعون سے فرار اختیار کرنے والے ہوں ۔ اس سے دلالت مل گئی کہ ان کی واپسی فرار کی وجہ سے نہ تھی بلکہ کسی دوسری غرض سے تھی۔ اسی طرح ان کا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ لکھنا کہ وہ خود اور اسلامی لشکر اس علاقہ سے نکل آئیں اس کی وجہ جابیہ کا پرفضا ہونا اور اردن کا گہرا ہونا تھا۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے شعبہ کی روایت میں واضح کر دیا طاعون میں کیا چیز مکروہ ہے وہ یہ ہے کہ کوئی نکلے اور سلامت رہے اور یہ کہنے لگے کہ میں نکلنے کی وجہ سے بچ گیا اور وہاں کوئی چلا جائے اور وہ طاعون کا شکار ہو جائے تو کہنے لگے یہ طاعون میرے یہاں آنے کی وجہ سے مجھ پر پڑی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے لوگوں کا وہاں سے کوچ مباح کر دیا اگر وہ پسند کریں۔ یہ آثار اس تفسیر پر دلالت کر رہے ہیں جو ہم نے بیان کی ہے۔ آثار کو سامنے رکھ کر ہمارے ہاں یہی معنی ہیں۔ بد فالی جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو ختم کیا جیسا کہ متواتر روایات اس پر وارد ہوئی ہیں۔

عمر بن الخطاب اللهم إن الناس يخلون ثلاث خصال ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6938

6568 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير وروح قالا ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن عيسى رجل من بني أسد عن زر عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الطيرة من الشرك وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل

زر نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بد فالی شرک کی قسم ہے لیکن ہم میں سے جو بھی ہے اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے لے جائیں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عيسى رجل من بني أسد ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← وهب بن جرير وروح ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6938

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6939

6569 - حدثنا أبو أمية قال حدثنا شريح قال ثنا هشيم عن بن شبرمة عن أبي زرعة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا طيرة

ابو زرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ بد فالی نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← بن شبرمة ← هُشَيْمٌ ← شُرَيْحٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6939

chevron_left Previous
1…434445…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter