Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6904

6536 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن المنكدر وأبي النضر فذكر بإسناده مثله

ابن منکدر نے ابی النضر سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ۔

بن المنكدر وأبي النضر فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6904

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6905

6537 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن محمد بن المنكدر عن عامر بن سعد عن أسامة بن زيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ذكر الطاعون عنده فقال إنه رجس أو رجز عذب به أمة من الأمم وقد بقيت منه بقايا ثم ذكر مثل حديث يونس وزاد قال لي محمد فحدثت بهذا الحديث عمر بن عبد العزيز فقال لي هكذا حدثني عامر بن سعد

عامر بن سعد نے اسامہ بن زید سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ کے پاس طاعون کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ پلیدی یا عذاب ہے جس سے کسی امت کو عذاب دیا گیا اور اس سے باقی بچ گئی پھر انہوں نے یونس کی روایت کی طرح روایت کی البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ مجھے محمد نے کہا یہ روایت میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا اسی طرح مجھے عامر بن سعد نے بیان کی۔

الطاعون عنده ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6905

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6906

6538 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا عكرمة بن خالد المخزومي عن أبيه أو عن عمه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في غزوة تبوك إذا وقع الطاعون بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها وإذا كنتم بغيرها فلا تقدموا عليها

عکرمہ بن خالد نے مخزومی نے اپنے والد سے یا اپنے چچا سے اور اپنے دادا سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں فرمایا جب طاعون کسی سر زمین میں پڑ جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو اور جب تم اور کسی علاقے میں ہو تو وہاں مت جاؤ۔

جَدِّهِ، ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6906

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6907

6539 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة عن يزيد بن حمير قال سمعت شرحبيل بن حسنة يحدث عن عمرو بن العاص إن الطاعون وقع بالشام فقال عمرو تفرقوا عنه فإنه رجز فبلغ ذلك شرحبيل بن حسنة فقال قد صحبت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعته يقول إنها رحمة ربكم ودعوة نبيكم وموت الصالحين قبلكم فاجتمعوا له ولا تفرقوا عليه فقال عمرو رضي الله عنه صدق قالوا فقد أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار أن لا يقدم على الطاعون وذلك للخوف منه قيل لهم ما في هذا دليل على ما ذكرتم لأنه لو كان أمره بترك القدوم للخوف منه لكان يطلق لأهل الموضع الذي وقع فيه أيضا الخروج منه لأن الخوف عليهم منه كالخوف على غيرهم فلما منع أهل الموضع الذي وقع فيه الطاعون من الخروج منه ثبت أن المعنى الذي من أجله منعهم من القدوم غير المعنى الذي ذهبتم إليه فإن قال قائل فما معنى ذلك المعنى قيل له هو عندنا والله أعلم على أن لا يقدم عليه رجل فيصيبه بتقدير الله عز و جل عليه أن يصيبه فيقول لولا أني قدمت هذه الأرض ما أصابني هذا الوجع ولعله لو أقام في الموضع الذي خرج منه لأصابه فأمر أن لا يقدمها خوفا من هذا القول وكذلك أمر أن لا يخرج من الأرض التي نزل بها لئلا يسلم فيقول لو أقمت في تلك الأرض لأصابني ما أصاب أهلها ولعله لو كان أقام بها ما أصاب به من ذلك شيء فأمر بترك القدوم على الطاعون للمعنى الذي وصفنا وبترك الخروج عنه للمعنى الذي ذكرنا وكذلك ما روينا عنه في أول هذا الباب من قوله لا يورد ممرض على مصح فيصيب المصح ذلك المرض فيقول الذي أورده عليه لو أني لم أورده عليه لم يصبه من هذا المرض شيء ولعله لو لم يورده أيضا لأصابه كما أصابه لما أورده فأمر بترك إيراده وهو صحيح على ما هو مريض لهذه العلة التي لا يؤمن على الناس وقوعها في قلوبهم وقولهم ما ذكرنا بألسنتهم وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في نفي الإعداء ما

شرحبیل بن حسنہ حضرت عمرو بن عاص سے بیان کرتے ہیں کہ شام میں طاعون واقع ہوئی عمرو کہنے لگے اس سے الگ ہو جاؤ اس لئے کہ یہ عذاب ہے یہ بات حضرت شرحبیل بن حسنہ کو پہنچی تو کہنے لگے میں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں موجودتھا میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے پیغمبر کی دعا ہے اورتم سے پہلے صالحین کی موت ہے پس تم اس کے لئے جمع رہو اور منتشر مت ہو تو حضرت عمرورضی اللہ عنہ کہنے لگے انہوں نے سچ کہا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان آثار میں حکم فرمایا کہ جہاں طاعون ہو وہاں آدمی نہ جائے اور یہ طاعون کے خطرے ہی کے پیش نظر ہے۔ جو بات تم نے کبھی روایت میں اس کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر طاعون کے خطرے کی وجہ سے آمد کو چھوڑ دینے کا حکم ہوتا تو پھر یہ اس مقام کے تمام لوگوں کے لئے عام ہوتا جہاں واقع ہوئی کہ وہ وہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کے متعلق خطرہ دوسروں کے خطرے کی طرح ہے تو جب اس مقام والے لوگوں کا طاعون کے مقام سے نکلنا ممنوع ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہاں آنے کی ممانعت جس مقصد کی بنیاد پر ہے وہ اس سے مختلف ہے جوتم نے اختیار کیا۔ وہ کیا مقصد ہے واضع کریں۔ واللہ اعلم ۔ ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی وہاں نہ جائے کہ اس کو الله کی تقدیر سے وہ طاعون پہنچ گئی تو وہ کہیں یہ نہ کہنے لگے اگر میں اس علاقہ میں آتا تویہ تکلیف نہ پہنچتی اور شاید وہ اگر اس جگہ میں اقامت اختیار کرتا جہاں سے وہ نکلا ہے تو ضرور اس کو یہ پہنچ جاتی اس لئے حکم دے دیا کہ وہ وہاں نہ جائے تا کہ اس قسم کی بات اس کی زبان سے نہ نکلے اور اسی طرح یہ حکم دیا کہ وہ اس سرزمین سے نہ نکلے جہاں طاعون اتری ہے تا کہ وہ یہ کہنے سے بچ جائے اگر میں اس زمین میں اقامت اختیار کرتا تو مجھے وہ طاعون پہنچ جاتی جو وہاں کے لوگوں کو پہنچی ہے شاید کہ وہ وہاں اقامت اختیارکرتا تو کوئی چیز بھی اس کو نہ پہنچتی اس لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے طاعون والے علاقے میں جانے سے منع کیا جو کہ اسی بنیاد پر ہے جو ہم نے بیان کی اور وہاں سے نکلنے سے روک دیا اس کا وہی مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا اسی طرح وہ روایات جو شروع باب میں " لایورد ممرض على مصح " کہیں صحت یاب کو وہ بیماری نہ پہنچ جائے کہ وہ یہ کہنے لگ جائے کہ کاش کہ میں اس کی ملاقات کے لئے نہ آتا اور اس کو اس بیماری میں سے کوئی چیز پہنچتی حالانکہ شاید اگر وہ وہاں نہ آتا تو ضرور اس کو وہ تکلیف کی جاتی جیسا کہ اس کے آنے سے وہ تکلیف اس کو پہنچی پس جناب رسول اللہ ﷺ نے صحت یاب کو مریض کے پاس جانے سے اس لئے منع کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اور زبان پر ستم کے کلمات نہ آئیں ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← شرحبيل بن حسنة ← يزيد بن حمير ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6907

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6908

6540 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن الحضرمي أن سعيد بن المسيب قال سألت سعيدا عن الطيرة فانتهرني وقال من حدثك فكرهت أن أحدثه فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا عدوى ولا طيرة

سعید ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نےسعید سے بد فالی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا تمہیں یہ بات کس نے بیان کی میں نے تو اس کا بیان کرنا بھی نا پسند کیا چنانچہ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا کہ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ بد فالی کی کچھ حقیقت ہے۔

لا عدوى ولا طيرة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الطيرة فانتهرني وقال من حدثك فكرهت أن أحدثه فقال ← سَأَلْتُ سَعِيدًا ← الحضرمي أن سعيد بن المسيب ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6908

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6909

6541 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان قال ثنا أبان قال ثنا يحيى فذكر بإسناده مثله وزاد ولا هامة

ابان نے یحییٰ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ " ولا ھامۃ " کا اضافہ ہے یعنی مردہ کی کھوپڑی سے کوئی جانور نکلنا کچھ حقیقت نہیں رکھتا ۔

يحيى فذكر بإسناده مثله وزاد ولا هامة ← أَبَانُ، ← حِبَّانُ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6909

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6910

6542 - حدثنا فهد قال ثنا عثمان بن أبي شيبة ح

فہد نے عثمان بن ابی شیبہ سے روایت کی ہے ۔

عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6910

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6911

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قالا ثنا الوليد بن عقبة الشيباني قال ثنا حمزة الزيات عن حبيب بن أبي ثابت عن ثعلبة بن يزيد الحماني عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يعدي سقيم صحيحا

ثعلبہ بن یزید حمانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بیمار آدمی تعدیہ سے کسی صحت مند کو بیمار نہیں کر سکتا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ثعلبة بن يزيد الحماني ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← الوليدُ بنُ عقبةَ الشيبانيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← وحدثنا بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6911

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6912

6543 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن بن عباس قال قال رسول الله لا طيرة ولا هامة ولا عدوى فقال رجل تطرح الشاة الجرباء في الغنم فتجربهن قال النبي صلى الله عليه و سلم وابن عباس فالأولى من أجربها

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ بد فالی ہے نہ الو کی نحوست ہے اور نہ کوئی بیماری متعدی ہے ایک آدمی کہنے لگا خارشی بکری کو اگر بکریوں میں چھوڑا جائے تو وہ ان کو خارشی بنا دیتی ہے جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلی کو کس نے خارشی بنایا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6912

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6913

6544 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا أبو عوانة عن سماك فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يشك في شيء منه وذكره كله عن النبي صلى الله عليه و سلم

ابو عوانہ نے سماک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ انہوں نے اس میں سے کسی چیز کو شک سے بیان نہیں کیا بلکہ تمام جناب نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← بإسناده مثله غير أنه لم يشك في شيء منه وذكره كله ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6913

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6914

6545 - حدثنا أبو أمية قال ثنا شريح بن النعمان قال ثنا هشيم عن بن شبرمة عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا عدوى فقال رجل يا رسول الله فإن النقية من الجرب تكون بجنب البعير فيشمل ذلك الإبل كلها جربا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فمن أعدى الأول خلق الله عز و جل كل دابة فكتب أجلها ورزقها وأثرها

ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ذرا سی خارش اونٹ کی ایک جانب ہوتی ہے پھر وہ تمام اونٹوں میں خارش پیدا کر دیتی ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بتاؤ پہلے تک کس نے مرض پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی تخلیق فرما کر اس کی مدت مقررہ ، رزق اور اس کے نشا نہائے قدم لکھ دئیے ۔

لا عدوى فقال رجل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← بن شبرمة ← هُشَيْمٌ ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6914

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6915

6546 - حدثنا أبو أمية قال ثنا قبيصة عن سفيان عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن رجل عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو زرعہ نے ایک آدمی سے اس نے عبداللہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدُ اللَّهِ ← رَجُلٌ: ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6915

chevron_left Previous
1…414243…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter