Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6892

6525 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب أن أبا سلمة حدثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا عدوى وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يورد ممرض على مصح قال أبو سلمة كان أبو هريرة يحدث بهما كليهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صمت أبو هريرة بعد ذلك عن قوله لا عدوى وأقام على أن لا يورد ممرض على مصح ثم حدث مثل حديث بن أبي داود قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فكرهوا إيراد الممرض على المصح وقالوا إنما كره ذلك مخافة الإعداء وأمروا باجتناب ذي الداء والفرار منه واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن عمر في الطاعون في رجوعه بالناس فارا منه فذكروا ما

ابوسلمہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا عدویٰ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی بیمار صحت یاب کے پاس نہ جائے ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں روایتیں جناب رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے لا عدویٰ کے قول سے خاموشی اختیار کر لی البتہ " لا یورد " والی روایت پر قائم رہے پھر انہوں نے یہ روایت ابن ابی داؤد کی طرح بیان کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ بیمار کا صحیح کے پاس جانا مکروہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس بات کو اس لئے ناپسند کیا گیا تاکہ بیماری میں تعدیہ نہ ہو اسی لئے بیمار آدمی سے پرہیز اور گریز کا حکم دیا گیا اور انہوں نے اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی روایت سے استدلال کیا کہ آپ لوگوں سمیت واپس لوٹے اور اس واپسی کا مقصد طاعون سے گریز تھا ( جیسا ان روایات میں ہے ) ۔

بن شهاب أن أبا سلمة ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6892

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6893

6526 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال ثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أقبل إلى الشام فاستقبله أبو طلحة وأبو عبيدة بن الجراح فقالا يا أمير المؤمنين إن معك وجوه أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وخيارهم وإنا تركنا من بعدنا مثل حريق النار فارجع العام يعني فرجع عمر فلما كان العام المقبل جاء فدخل يعني الطاعون

اسحق بن عبداللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے دورے پر روانہ ہوئے تو حضرت ابو طلحہ اور ابو عبیدہ نے ان کا استقبال کیا اور دونوں نے کہا اے امیر المومنین آپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں ہم نے اپنے پچھلے لوگوں کو آگ کی جلن کی طرح پھوڑے میں مبتلا پایا پس آپ اس سال لوٹ جائیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوٹ آئے جب اگلا سال آیا اور آپ شام میں داخل ہوئے تو پھر طاعون پھیل گیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6894

6527 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن عبد الله بن عباس أن عمر بن الخطاب خرج إلى الشام حتى إذا كان بسرغ لقيه أمراء الأجناد أبو عبيدة بن الجراح وأصحابه فأخبروه أن الوباء قد وقع بالشام قال بن عباس فقال عمر أدع لي المهاجرين الأولين فدعاهم فاستشارهم فأخبرهم أن الوباء قد وقع بالشام فاختلفوا عليه فقال بعضهم قد خرجت لأمر ولا نرى أن ترجع عنه وقال بعضهم معك بقية الناس وأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا نرى أن تقدمهم على هذا الوباء فقال ارتفعوا عني ثم قال أدعوا لي الأنصار فدعوتهم له فسلكوا سبيل المهاجرين واختلفوا كاختلافهم فقال ارتفعوا عني ثم قال أدع لي من كان ها هنا من مشيخة قريش من مهاجرة الفتح فدعوتهم فلم يختلف عليه منهم رجلان قالوا نرى أن ترجع بالناس ولا تقدمهم على هذا الوباء فنادى عمر في الناس في مصبح على ظهر فأصبحوا عليه قال أبو عبيدة أفرارا من قدر الله فقال عمر لو غيرك قالها يا أبا عبيدة نعم نفر من قدر الله إلى قدر الله أرأيت لو كانت لك إبل فهبطت واديا له عدوتان إحداهما خصبة والأخرى جدبة أليس إن رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله وإن رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله قال فجاء عبد الرحمن بن عوف وكان غائبا في بعض حاجته فقال إن عندي من هذا علما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه قال فحمد الله عمر ثم انصرف

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے دورے پر روانہ ہوئے تو جب آپ مقام سرغ میں پہنچے تو اپ کو اجناد کے امراء ملے جن میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی تھے انہوں نے اطلاع دی کہ شام کے علاقہ میں وباء داخل ہو چکی ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مہاجرین اولین کو بلاؤ چنانچہ ان کو بلا کر ان سے مشورہ کیا اور ان کو بتلایا کہ شام میں وباء بڑھ چکی ( اب اس کا کیا حکم ہے ) انہوں نے اس سلسلے میں مختلف رائے دی بعض نے کہا آپ ایک کام کے لئے نکلے ہم مناسب خیال نہیں کرتے کہ آپ کرنے کے بغیر واپس لوٹ جائیں دوسروں نے کہا آپ کے پاس بقیہ لوگ اور اصحاب رسول ہیں ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آ ان کو لے کر وباء میں داخل ہوں آپ نے فرمایا تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ پھر فرمایا تم میرے لئے انصار کو بلاؤ چنانچہ میں نے ان کو بلایا چنانچہ وہ بھی مہاجرین کی راہ پر چلے اور اسی طرح اختلاف کیا آپ نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ پھر فرمایا یہاں جو قریش کے بوڑھے لوگ فتح کے مہاجرین میں سے ہیں ان کو بلاؤ چنانچہ ان میں سے دو آدمیوں نے بھ اختلاف نہیں کیا سب نے کہا ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیں اور اس وباء پر ان کو پیش نہ کریں چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ میں صبح کے وقت سفر پر جانے والا ہوں چنانچہ وہ صبح سویرے آ گئے حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے کیا اللہ کی تقدیر سے آپ بھاگتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تیرے علاوہ اور کوئی یہ کلمہ کہتا ( تو مجھے جواب کی ضرورت نہیں تھی ) ہاں اللہ کی تقدیر سے ہم اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں تمہارا کیا خیال ہے اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور ان اونٹوں کے ساتھ ایک ایسی وادی میں اتریں جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سبز اور دوسرا قحط زدہ ہو تو کیا اسی طرح نہیں کہ اگر تم سر سبز میں جانور چراؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہیں اور اگر تم قحط والے حصے میں جانور چراؤ تو وہاں بھی اللہ کی تقدیر سے چراؤ گے راوی کہتے ہیں کہ اچانک عبدالرحمن بن عوف آ گئے وہ کسی ضرورت کی وجہ سے وہاں موجود نہیں تھے وہ کہنے لگے اس سلسلے میں میرے پاس معلومات ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی زمین میں طاعون پھیل گیا ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب کسی ایسی زمیں واقع ہو جہاں تم موجود اور جب کسی ایسی زمین میں واقع ہو جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے مت نکلو ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے الحمد للہ کہا پھر واپس روانہ ہو گئے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6894

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6895

6528 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أن عمر بن الخطاب خرج إلى الشام فلما جاء بسرغ بلغه أن الوباء قد وقع بالشام فأخبره عبد الرحمن بن عوف عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ما في حديث يونس الذي قبل هذا من حديث عبد الرحمن خاصة قال فرجع عمر من سرغ

عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے تو ان کو عبدالرحمن بن عوف نے رسول اللہ ﷺ کی یہ روایت ذکر کی جس میں وہی تذکرہ ہے جو روایت یونس میں گزرا خاص طور پر حدیث عبدالرحمن ہیں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے لوٹے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6895

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6896

6529 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني هشام بن سعد عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن أن عمر بن الخطاب حين أراد الرجوع من سرغ واستشار الناس فقالت طائفة منهم أبو عبيدة بن الجراح أمن الموت تفر إنما نحن بقدر ولن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا فقال عمر يا أبا عبيدة لو كنت بواد إحدى عدوتيه مخصبة والأخرى مجدبة أيهما كنت ترعى قال المخصبة قال فإنا إن تقدمنا فبقدر وإن تأخرنا فبقدر وفي قدر نحن

حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب مقام سرغ سے لوٹنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں سے مشورہ کیا ایک جماعت نے جن میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے کہا کیا موت سے آپ بھاگتے ہیں اور ہمارا تو وقت مقرر ہے اور ہمیں وہی ملے گا جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عبیدہ اگر تم ایک وادی میں ہو جس کا ایک کنارہ شاداب ہو اور دوسرا قحط زدہ ہو تم ان میں سے کس کنارے پر چراؤ گے انہوں نے کہا سر سبز کنارے پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمارا آنا بھی اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہمارا واپس لوٹنا بھی اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہمارا واپس لوٹنا بھی اللہ کی تقدیر سے ہے اور ہم بھی اللہ کی تقدیر میں ہیں ۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6896

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6897

6530 - حدثنا الحسين بن الحكم الجيزي قال ثنا عاصم بن علي ح

حسین جیزی نے عاصم بن علی سے بیان کیا۔

عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← الحسين بن الحكم الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6897

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6898

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قالا ثنا شعبة بن الحجاج عن قيس بن مسلم قال سمعت طارق بن شهاب قال كنا نتحدث إلى أبو موسى الأشعري فقال لنا ذات يوم لا عليكم أن تخفوا عني فإن هذا الطاعون قد وقع في أهلي فمن شاء منكم أن يتنزه فليتنزه واحذروا اثنتين أن يقول قائل خرج خارج فسلم وجلس جالس فأصيب لو كنت خرجت لسلمت كما سلم آل فلان أو يقول قائل لو كنت جلست لأصبت كما أصيب آل فلان وإني سأحدثكم ما ينبغي للناس في الطاعون إني كنت مع أبي عبيدة وأن الطاعون قد وقع بالشام وأن عمر كتب إليه إذا أتاك كتابي هذا فإني أعزم عليك إن أتاك مصبحا لا تمسي حتى تركب وإن أتاك ممسيا لا تصبح حتى تركب إلى فقد عرضت لي إليك حاجة لإغنائي عنك فيها فلما قرأ أبو عبيدة الكتاب قال إن أمير المؤمنين أراد أن يستبقي من ليس بباق فكتب إليه أبو عبيدة إني في جند من المسلمين إني فررت من المناة والسير لن أرغب بنفسي عنهم وقد عرفنا حاجة أمير المؤمنين فحللني من عزمتك فلما جاء عمر الكتاب بكى فقيل له توفى أبو عبيدة قال لا وكان قد كتب إليه عمر إن الأردن أرض عمقة وإن الجابية أرض نزهة فانهض بالمسلمين إلى الجابية فقال لي أبو عبيدة انطلق فبوىء المسلمين منزلهم فقلت لا أستطيع قال فذهب ليركب وقال لي رجل من الناس قال فأخذه أخذة فطعن فمات وانكشف الطاعون قالوا فهذا عمر رضي الله عنه قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك وقد روى عن غير عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه و سلم في مثل هذا ما روى عبد الرحمن

ابن شہاب نے ابوموسی اشعری کی طرف نسبت کر کے بیان کیا ہمیں ایک دن فرمانے لگے تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم مجھ سے چھپے رہو یہ طاعون میرے گھر میں داخل ہوگئی ہے پس جو چاہے تم میں سے بچے وہ علیحدگی اختیار کرے اور دو چیزوں سے خاص طور پر احتیاط کرو کہ کہنے والا یہ کہے کہ نکلنے والا نکل گیا وہ بچ گیا اور بیٹھنے والا بیٹھا رہا پس اس کو طاعون پہنچ گئی اگر میں بھی نکل جاتا تو میں بھی اسی طرح بچ جاتا جس طرح فلاں گھر والے بچ گئے ۔ کوئی کہنے والا یوں کہنے لگے اگر میں بھی بیٹھا رہتا تو مجھے بھی طاعون آلیتا جیسے فلاں کو آئی میں تمہیں عنقریب بتاتا ہوں کہ طاعون میں لوگوں کو کیا مناسب ہے میں حضرت ابوعبیدہ کے ساتھ شام میں تھا اور شام میں طاعون بڑھ گئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا کہ جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر صبح سویرے خط آئے تو شام ہونے سے پہلے تم سوار ہو جاؤ اور اگر شام کے وقت آئے تو صبح ہونے سے پہلے تم میری طرف سوار ہو کر آ جاؤ مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے جس میں تمہارے بغیر مجھے چارہ کار نہیں جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھا تو کہنے لگے امیرالمومنین اس کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والانہیں چنانچہ ان کی طرف حضرت ابوعبیده رضی اللہ عنہ نے لکھا میں مسلمانوں کے لشکر میں ہوں مجھے آرزو اور راز داری سے نفرت ہے میں اپنے نفس کے بارے میں رغبت رکھتے ہوئے ان سے ہرگز دوری اختیارنہیں کر سکتا ہمیں امیر المونین کی ضرورت معلوم ہوگئی پس اپنی قسم کو میرے بارے میں توڑ دیجیے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاک خط پہنچا تو وہ رو پڑے ان سے پوچھا گیا کیا ابوعبیدہ کی وفات ہوگئی انہوں نے کہا نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف لکھا تھا کہ اردن گہری سرزمین ہے اور جا بیہ صحت مند سرزمین ہے پس تم مسلمانوں کو لے کر جابیہ میں آ جاؤ مجھے ابوعبیدہ کہنے لگے کہ جا ؤ اور مسلمانوں کے لئے ان کے ٹھکانے مقرر کر دو میں نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتاراوی کہتے ہیں کہ وہ سوار ہونے کے لئے چلے گئے تو مجھے ایک آدی نے کہا کہ ان کو طاعون نے پکڑ لیا ہے چنانچہ وہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور وفات پائی اور طاعون پھیل پڑا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے لوگوں کو طاعون سے نکلنے کا حکم دیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں ان کی موافقت کی اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے ایک ارشاد نقل کیا تو اس رائے کے موافق تھا اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی دیگر صحابہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔

كنا نتحدث إلى أبو موسى الأشعري ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6898

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6899

6531 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن الحضرمي عن سعيد بن المسيب عن سعد بن أبي وقاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا كان الطاعون بأرض وأنتم بها فلا تفروا منها وإذا كان بأرض فلا تهبطوا عليها

سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ۔ جب طاعون کسی مقام میں ہو۔ وہاں موجود ہو تو اس سرزمین سے مت بھاگو اور جب کسی سر زمین میں نہ ہو وہاں مت جاؤ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الْحَضْرَمِيِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6899

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6900

6532 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان قال ثنا أبان قال ثنا يحيى الحضرمي أن لاحقا حدثه أن سعيد بن المسيب حدثه عن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← يحيى الحضرمي أن لاحقا ← أَبَانُ، ← حِبَّانُ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6900

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6901

6533 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أسامة بن زيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إن هذا الوجع والسقم رجز عذب به بعض هذه الأمم قبلكم ثم بقي في الأرض فيذهب المرة ويأتي الأخرى فمن سمع بها في أرض فلا يقدمن عليه ومن وقع بأرض وهو بها فلا يخرجه الفرار منه

عامر بن سعد نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا یہ درد اور بیماری یہ عذاب تھا جس سے پہلی امتوں میں سے ایک کو عذاب دیا گیا۔ ( بنی اسرائیل ) پھر یہ زمین میں باقی رہ گئی ۔ کبھی ختم ہوتی ہے اور کبھی پھر سے لوٹ آتی ہے جو آدمی یہ سنے کہ فلاں سر زمین میں یہ بیماری واقع ہے تو وہاں نہ جائے اور جو ایسی جگہ میں ہو جہاں طاعون موجود ہ ہو تو وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6901

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6902

6534 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت عن إبراهيم بن سعد قال سمعت أسامة بن زيد يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن هذا الطاعون رجز وعذاب عذب به قوم فإذا كان بأرض فلا تهبطوا عليه وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا عنه

ابراہیم بن سعد نے کہا میں نے حضرت اسامہ بن زید سے سنا کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ یہ طاعون عذاب ہے جس سے پہلی اقوام میں سے ایک کو عذاب دیا گیا جب یہ کسی زمین میں ہو تو وہاں مت اترو۔ اور جب یہ آ پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکل کر مت جاؤ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6902

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6903

6535 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث رضي الله عنه عن أبي النضر عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أنه سمع أباه يسأل أسامة بن زيد أسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الطاعون قال نعم قال كيف سمعته قال سمعته يقول هو رجز سلطه الله على بني إسرائيل أو على قوم فإذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإن وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا فرارا منه

عابر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد س ےسنا وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کیا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے طاعون کا تذکرہ سنا ہے انہوں نے کہا جی ہاں ۔ انہوں نے کہا تم نے کس طرح سنا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا۔ وہ عذاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر مسلط فرمایا یا کسی قوم پر مسلط فرمایا۔ جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سر زمین میں بڑھ گئی ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی جگہ پڑ جائے تو وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے مت نکلو۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6903

chevron_left Previous
1…404142…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter