شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 22 باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا ) · حديث 6892
6525 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب أن أبا سلمة حدثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا عدوى وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يورد ممرض على مصح قال أبو سلمة كان أبو هريرة يحدث بهما كليهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صمت أبو هريرة بعد ذلك عن قوله لا عدوى وأقام على أن لا يورد ممرض على مصح ثم حدث مثل حديث بن أبي داود قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فكرهوا إيراد الممرض على المصح وقالوا إنما كره ذلك مخافة الإعداء وأمروا باجتناب ذي الداء والفرار منه واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن عمر في الطاعون في رجوعه بالناس فارا منه فذكروا ما
ابوسلمہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا عدویٰ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی بیمار صحت یاب کے پاس نہ جائے ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں روایتیں جناب رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے لا عدویٰ کے قول سے خاموشی اختیار کر لی البتہ " لا یورد " والی روایت پر قائم رہے پھر انہوں نے یہ روایت ابن ابی داؤد کی طرح بیان کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ بیمار کا صحیح کے پاس جانا مکروہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس بات کو اس لئے ناپسند کیا گیا تاکہ بیماری میں تعدیہ نہ ہو اسی لئے بیمار آدمی سے پرہیز اور گریز کا حکم دیا گیا اور انہوں نے اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی روایت سے استدلال کیا کہ آپ لوگوں سمیت واپس لوٹے اور اس واپسی کا مقصد طاعون سے گریز تھا ( جیسا ان روایات میں ہے ) ۔
بن شهاب أن أبا سلمة ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6892
