شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6868
6503 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن عبد الواحد بن عنبسة القرشي قال حدثني جدي عنبسة عن يونس بن عبيد عن الحسن عن الأسود بن سريع وكان شاعرا أنه قال يا رسول الله ألا أنشدك محامد حمدت بها ربي قال له النبي صلى الله عليه و سلم أما إن ربك يحب الحمد وما استزاده على ذلك شيئا
حسن نے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت کی یہ شاعر تھے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی تعریفات کے وہ اشعار نہ سناؤں جن میں میں نے اپنے رب کی حمد کی ہے ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ سنو بے شک تمہارا رب حمد کو پسند کرتا ہے اس سے زائد آپ نے اور کچھ نہیں فرمایا۔
الأسود بن سريع وكان شاعرا أنه ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← جدي عنبسة ← محمد بن عبد الواحد بن عنبسة القرشي ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6868
