Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6832

6467 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن عمر قال ثنا سفيان عن عاصم بن عبيد الله عن القاسم عن عائشة رضي الله عنها قالت رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل عثمان بن مظعون بعد موته ودموعه تسيل على لحيته ففي هذه الآثار التي ذكرنا إباحة البكاء على الموتى وذلك أن ذلك غير ضار لهم ولا سبب لعذابهم ولولا ذلك لما بكي رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أباح البكاء ولمنع من ذلك فإن قال قائل فإن في حديث بن عمر رضي الله عنه الذي ذكرت ما يدل على نسخ ما كان أباح من ذلك وهو قوله ولا يبكين على هالك بعد اليوم قيل له ما في ذلك دليل على ما ذكرت قد يجوز أن يكون قوله ولا يبكين على هالك بعد اليوم أي من هلكاهن الذين قد بكين عليهم منذ هلكوا إلى هذا الوقت لأن في ذلك البكاء ما قد أتين به على ما جلا عنهن حزنهن وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في تفسير البكاء الذي قصد إلى النهي في نهيه عن البكاء على الموتى ما

قاسم نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ عثمان بن مظعون کو ان کی وفات کے بعد چوم رہے ہیں اس حال میں آپ کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے ہیں ۔ ان مذکورہ آثار میں مرنے والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ یہ ان کے عذاب کا سبب ہیں اگر یہ نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ نہ روتے اور نہ رونے کو جائز قرار دیتے بلکہ اس سے ضرور روک دیتے ۔ اعتراض : ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو مباح تھا وہ منسوخ ہو گیا اور وہ آپ کا یہ ارشاد ہے " ولا یبکین علی حالک بعد الیوم " الحدیث۔ آپ نے جو بات کہی اس کا اس میں کچھ بھی تذکرہ نہیں اور ممکن ہے کہ آپ کا یہ ارشاد " ولا یبکین الی آخرہ کا مطلب یہ ہو کہ جو لوگ اب تک ہلاک ہو گئے ہیں جن پر تم رو چکی ہو ان بن پر مت رو کیونکہ اس رونے سے ان کا غم دو ر ہا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ سے خود مرنے والوں پر رونے کی ممانعت کی وضاحت منقول ہے ( جیسا اس روایت میں ہے )

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سُفْيَانَ، ← إسماعيل بن عمر ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6833

6468 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا إسرائيل عن محمد بن عبد الرحمن عن عطاء عن جابر بن عبد الله عن عبد الرحمن بن عوف قال أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيدي فانطلقت معه إلى ابنه إبراهيم وهو يجود بنفسه فأخذه النبي صلى الله عليه و سلم فوضعه في حجره حتى خرجت نفسه فوضعه ثم بكى فقلت يا رسول الله أتبكي وأنت تنهي عن البكاء فقال إني لم أنه عن البكاء ولكن نهيت عن صوتين أحمقين فاجرين صوت عند نغمة لهو ولعب ومزامير شيطان وصوت عند مصيبة لطم وجوه وشق جيوب وهذا رحمة من لا يرحم لا يرحم يا إبراهيم لولا إنه وعد صادق وقول حق وإن آخرنا سيلحق أولنا لحزنا عليك حزنا هو أشد من هذا وإنا بك لمحزونون تبكي العين ويحزن القلب ولا نقول ما يسخط الرب فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث بالبكاء الذي نهى عنه الأحاديث الأول وأنه البكاء الذي معه الصوت الشديد ولطم الوجوه وشق الجيوب وبين أن ما سوى ذلك من البكاء فما فعل من جهة الرحمة أنه بخلاف ذلك البكاء الذي نهى عنه وأما ما ذكرناه عن عمرو عن بن عمر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الميت يعذب ببكاء أهله عليه فقد ذكرنا عن عائشة رضي الله عنها إنكار ذلك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الله عز و جل ليزيد الكافر عذابا في قبره ببعض بكاء أهله عليه وقد يجوز أن يكون ذلك البكاء الذي يعذب به الكافر في قبره يزداد به عذابا على عذابه بكاء قد كان أوصى به في حياته فإن أهل الجاهلية قد كانوا يوصون بذلك أهليهم أن يفعلوه بعد وفاتهم فيكون الله عز و جل يعذبه في قبره بسبب قد كان سببه في حياته فعل بعد موته وقد روى هذا الحديث عن عائشة رضي الله عنها بغير هذا اللفظ

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے ابراہیم کی طرف گیا وہ جانکنی کے عالم میں تھا چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنی گود میں لٹا لیا۔ یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی پھر اس کو رکھ دیا اور رونے لگے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ روتے ہیں حالانکہ آپ تو رونے سے منع فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے رونے سے منع نہیں کیا لیکن میں نے فاجرین کی دو احمق آوازوں سے منع کیا ہے ایک خوشی کے وقت لہو و لعب کے گانے اور شیطانی باجوں کی آواز اور مصیبت کے وقت کی آواز جس میں چہروں پر تھپڑ مارے جائیں اور گریبان کو پھاڑا جائے ۔ باقی یہ تو رحمت کے آنسو ہیں جو رحم نہیں کرتا اس پر حم نہیں کیا جاتا اے ابراہیم اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا قول برحق ہے اور ہمارا پچھلا عنقریب پہلے سے جا ملے گا تو ہم ضرور تم پر اس سے بھی زیادہ غم کرتے اور بے شک تمہاری وجہ سے ہم غمگین ہیں آنکھ رو رہی ہے اور دل غمزدہ ہے اور ہم وہ بات نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو ۔ اس روایت میں اس رونے کی وضاحت کر دی جس کو پہلی روایات میں ممنوع قرار دیا گیا اس سے مراد ایسا رونا ہے جس کے ساتھ چیخ و پکار، چہروں کا پیٹنا اور گریبان کا پھاڑنا ہو اور یہ بھی وضاحت کر دی کہ اس کے علاوہ رونا رحمت ہے ۔ یہ ممنوعہ رونے سے مختلف ہے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ولی روایات کہ " ان المیت یعذب ببکاء اھلہ علیہ " ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس کا انکار نقل کر دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قبر میں کافر کی سزا میں اضافہ فرماتے ہیں جبکہ اس کے گھر والے اس پر روتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وہ رونا مراد ہو جس کی وہ اپنی زندگی میں وصیت کرتا تھا کہ اس ک موت کے بعد رویا جائے ۔ زمانہ جاہلیت میں نوحہ و بین کی وصیت کر جاتے کہ وہ ان کی موت کے بعد اس طرح روئیں ۔ پس اللہ تعالیٰ اس رونے کے سبب سے اس کافر کو قبر میں عذاب دیتا ہے کیونکہ وہ زندگی میں اس کا سبب بنا اور اس کی موت کے بعد کیا گیا یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی مروی ہے ۔ ( ملاحظہ ہو )

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6834

6469 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها قالت يغفر الله لأبي عبد الرحمن بن عمر رضي الله عنه يقول إن الميت ليعذب ببكاء الحي والله ما ذاك إلا إيهاما من عبد الله بن عمر رضي الله عنه يغفر الله له إن الله عز و جل يقول ولا تزر وازرة وزر أخرى وما ذاك إلا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على قبر يهودي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنتم تبكون عليه وإنه ليعذب في قبره يقول بعمله فأخبرت عائشة رضي الله عنها في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أخبر أن ذلك الكافر يعذب في قبره بعمله وأهله يبكون عليه وقد منع الله عز و جل أن تزر وازرة وزر أخرى فدل ذلك على أن ميتا لا يعذب في قبره ببكاء حي لم يأمر به في حياته ومات لحديث جابر عن عبد الرحمن بن عوف البكاء المكروه ما هو وأنه هو الذي معه اللطم والشق فقد ثبت بما ذكرنا إباحة البكاء على الميت إذا لم يكن معه سبب مكروه من شق ثوب ولطم وجه ونياحة وما أشبه ذلك وقد

عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ام المومنین سے بیان کیا کہ وہ فرماتی تھیں اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عمر رضی اللہ عنہ کو معاف کرتے کہ وہ کہتے تھے کہ میت کو زندہ لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اللہ کی قسم ! یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ " ولا تزرو ازرۃ وزر اخری " ( فاطر 18) کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اس کا واقعہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک یہودی کی قبر کے پاس سے ہوا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( اے لوگو! ) تم رو رہے ہو اور اس کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔ فرمایا اس کے عمل کے باعث۔ اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتلا دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کافر کو تو اس کے عمل کی وجہ سے قبر میں عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر نالہ و شؤن میں مصروف ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس بات کو غلط قرار دیا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ زندوں کے رونے سے قبر میں اس میت کو عذاب نہیں ہوتا جس نے اپنے اوپر زندگی میں رونے کا حکم نہ دیا ہو ۔ جیسا کہ جابر بن عبدالرحمن بن عوف کی روایت میں ہے ۔ مکروہ رونا وہ ہے جس میں منہ پر تھپڑ مارنا اور گریبان کا پھاڑنا پایا جائے اور ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوا بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی مکروہ سبب نہ ہو مثلاً کپڑے پھاڑنا ، چہرے پر تھپڑ مارنا ، نوحہ کرنا اور جو اس کے مشابہہ ہوں۔

إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، ← يغفر الله لأبي عبد الرحمن بن عمر ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6835

6470 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الحميد الحماني قال ثنا شريك عن أبي إسحاق عن عامر بن سعد قال دخلت على قرظة بن كعب وعلى أبي مسعود الأنصاري وثابت بن قيس وعندهم جوار يغنين فقلت أتفعلون هذا وأنتم أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم قالوا إن كنت تسمع وإلا فأمض فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في اللهو عند العرس وفي البكاء على الميت فإن قال قائل فقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الميت يعذب في قبره بنياحة أهله عليه وذكر ما

عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ثابت بن قیس کے ہاں داخل ہوا اس وقت ان کے پاس لونڈیاں تھیں جو گیت و اشعار گا رہی تھیں میں نے کہا تم اصحاب محمد ﷺ ہو کر یہ کرتے ہو۔ انہوں نے کہا اگر تو نے سننا ہے تو سنو ورنہ اپنا راستہ لو ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے شادی کے موقعہ پر اتنے لہو کی اجازت دی ہے اور اسی طرح میت پر رونے کی اجازت دی ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ سے قبر میں عذاب ہوتا ہے ۔ ( جیسا کہ یہ روایت ہے )

على أبي مسعود الأنصاري ← دَخَلْتُ عَلَی قُرَظَةَ بْنِ کَعْبٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6836

6471 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا سعيد بن عبيد أبو الهذيل الطائي عن علي بن ربيعة قال نيح على قرظة بن كعب فخطب المغيرة بن شعبة فقال ما بال النياحة في هذه الأمة إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إن كذبا علي ليس ككذب على أحد من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار ومن ينح عليه عذب بما نيح عليه أو لما نيح عليه قيل له هذا عندنا والله أعلم على النياحة التي كانوا يوصون بها أهليهم فتكون مفعولة بعدهم بوصيتهم بها في حياتهم فيعذبون على ذلك والله أعلم

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ قرظہ بن کعب پر نوحہ کیا گیا۔ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا ۔ اس امت میں نوحہ کا کیا جواز ہے ؟ بے شک میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ۔ مجھ پر جھوٹ بولنا وہ تمہارے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ آگ بنا لے اور جس پر نوحہ کیا جائے تو اس کو نوحہ کی وجہ سے عذاب ہو گا کہ اس پر نوحہ کیا گیا ہے ۔ ہمارے ہاں اس کی تاویل یہ ہے کہ اس سے وہ نوحہ مراد ہے جس کی زمانہ جاہلیت میں وصیت کی جاتی تھی اور وہ نوحہ زندگی میں مرنے والے کے حکم کی وجہ سے ان کی وصیت کے مطابق کیا جاتا تھا ۔ پس اس وجہ سے ان کو عذاب دیا جاتا تھا ۔ واللہ اعلم ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ما بال النياحة في هذه الأمة إني ← نيح على قرظة بن كعب فخطب المغيرة بن شعبة ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← سعيد بن عبيد أبو الهذيل الطائي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6837

6472 - حدثنا علي بن عبد الرحمن ومحمد بن سليمان الباغندي قالا ثنا خلاد بن يحيى قال ثنا سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد عن عمرو بن حريث عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا

عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے کہ اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھرے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھرا ہو۔

لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا‏.‏ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← علي بن عبد الرحمن ومحمد بن سليمان الباغندي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6838

6473 - حدثنا محمد بن إسماعيل الصائغ قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا شعبة عن قتادة عن يونس بن جبير عن محمد بن سعد عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه خير له من أن يمتلئ شعرا

محمد بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا ہو اور وہ اس کے پھیپھڑے میں پڑ جائے تو یہ شعروں کے ساتھ اس کے بھرنے سے بہتر ہے ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6839

6474 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن شعبة فذكر بإسناده مثله

عبدالصمد بن عبدالوارث نے شعبہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6840

6475 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل حتى يريه

ابو عامر نے شعبہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ " حتی یریہ " کے لفظ نہیں کہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل حتى يريه ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6841

6476 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت حنظلة قال سمعت سالم بن عبد الله يقول سمعت عبد الله بن عمر رضي الله عنه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سالم بن عبداللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے سنا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← حَنْظَلَةُ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6842

6477 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا أبو جعفر الرازي عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← أبو جعفر الرازي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 20 باب رواية الشعر هل هي مكروهة أم لا ) · حديث 6843

6478 - حدثنا محمد بن إسماعيل قال ثنا مسلم قال ثنا شعبة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله وزاد حتى يريه

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اور " حتی یریہ " کا اضافہ کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله وزاد حتى يريه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُّسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6843

chevron_left Previous
1…353637…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter