شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6832
6467 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن عمر قال ثنا سفيان عن عاصم بن عبيد الله عن القاسم عن عائشة رضي الله عنها قالت رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل عثمان بن مظعون بعد موته ودموعه تسيل على لحيته ففي هذه الآثار التي ذكرنا إباحة البكاء على الموتى وذلك أن ذلك غير ضار لهم ولا سبب لعذابهم ولولا ذلك لما بكي رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أباح البكاء ولمنع من ذلك فإن قال قائل فإن في حديث بن عمر رضي الله عنه الذي ذكرت ما يدل على نسخ ما كان أباح من ذلك وهو قوله ولا يبكين على هالك بعد اليوم قيل له ما في ذلك دليل على ما ذكرت قد يجوز أن يكون قوله ولا يبكين على هالك بعد اليوم أي من هلكاهن الذين قد بكين عليهم منذ هلكوا إلى هذا الوقت لأن في ذلك البكاء ما قد أتين به على ما جلا عنهن حزنهن وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في تفسير البكاء الذي قصد إلى النهي في نهيه عن البكاء على الموتى ما
قاسم نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ عثمان بن مظعون کو ان کی وفات کے بعد چوم رہے ہیں اس حال میں آپ کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے ہیں ۔ ان مذکورہ آثار میں مرنے والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ یہ ان کے عذاب کا سبب ہیں اگر یہ نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ نہ روتے اور نہ رونے کو جائز قرار دیتے بلکہ اس سے ضرور روک دیتے ۔ اعتراض : ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو مباح تھا وہ منسوخ ہو گیا اور وہ آپ کا یہ ارشاد ہے " ولا یبکین علی حالک بعد الیوم " الحدیث۔ آپ نے جو بات کہی اس کا اس میں کچھ بھی تذکرہ نہیں اور ممکن ہے کہ آپ کا یہ ارشاد " ولا یبکین الی آخرہ کا مطلب یہ ہو کہ جو لوگ اب تک ہلاک ہو گئے ہیں جن پر تم رو چکی ہو ان بن پر مت رو کیونکہ اس رونے سے ان کا غم دو ر ہا جاتا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ سے خود مرنے والوں پر رونے کی ممانعت کی وضاحت منقول ہے ( جیسا اس روایت میں ہے )
عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سُفْيَانَ، ← إسماعيل بن عمر ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6832
