شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6820
6455 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سماك عن النعمان عن عمر مثله فهذه صفة التوبة التي أمرهم الله عز و جل بها في كتابه فأما قولهم نتوب إلى الله ليس من هذا في شيء قيل لهم إن ذلك وإن كان كما ذكرتم فإنا لم نبح لهم أن يقولوا نتوب إلى الله عز و جل على أنهم معتقدون للرجوع إلى ما تابوا منه ولكنا أبحنا لهم ذلك على أنهم يريدون به ترك ما وقعوا فيه من الذنب ولا يريدون العودة في شيء منه فإذا قالوا ذلك واعتقدوا هذا بقلوبهم كانوا في ذلك مأجورين مثابين فمن عاد منهم بعد ذلك في شيء من تلك الذنوب كان ذلك ذنبا أصابه ولم يحبط ذلك أجره المكتوب له بقوله الدي تقدم منه واعتقاده معه ما أعتقد فأما من قال أتوب إلى الله عز و جل وهو معتقد أنه يعود إلى ما تاب منه فهو بذلك القول فاسق معاقب عليه لأنه كذلك على الله فيما قال وأما إذا قال وهو معتقد لترك الذنب الذي كان وقع فيه وعازم أن لا يعود إليه أبدا فهو صادق في قوله مثاب على صدقه إن شاء الله تعالى وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال الندم توبة
نعمان بن بشیر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ یہ توبہ کی وہ کیفیت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حکم فرمایا ہے باقی ان کا قول " نتوب الی اللہ " یہ اس میں دلیل کا کام نہیں دے سکتا۔ اگرچہ جیسا تم نے ذکر کیا اسی طرح ہے ہم نے ان کے لئے یہ کہنا جائز نہیں قرار دیا " نتوبوا الی اللہ عزو جل " جبکہ وہ ان گناہوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہوں جن سے انہوں نے توبہ کی ہے لیکن ہم نے ان کے لئے یہ اس طور پر جائز رکھا ہے کہ جب ان کا ارادہ یہ ہو کہ جس گناہ میں وہ مبتلا ہوئے ہیں اس کے چھوڑنے کا وہ ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی طرف لوٹنے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتے جب وہ کلمات کہیں گے اور دلوں میں یہ اعتماد رکھیں گے تو وہ اس سلسلے میں ماجور اور ثواب پانے والے ہوں گے پھر ان میں سے جو آدمی ان گناہوں کی طرف لوٹ گیا تو وہ اس کا گناہ ہے جو اس نے کیا اس سے کا سابقہ لکھا ہوا اجر مٹایا نہ جائے گا وہ اجر جو کہ اس کے سابقہ قول و اعتقاد سے لکھا گیا ۔ رہا وہ شخص جس میں اتوب الی اللہ کا کلمہ اس اعتقاد سے کہا کہ وہ دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ جائے گا تو وہ اس کہنے میں گناہگار ہے قابل سزا ہے کیونکہ وہ اللہ کے ذمے اسی طرح ہے جیسے اس نے کہا اور جس آدمی نے گناہ چھوڑنے کا اعتقاد رکھتے ہوئے یہ کہا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہے کہ وہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹے گا تو وہ اتوب الیہ کہنے میں سچا ہے اور ان شاء اللہ اس کی سچائی پر اس کو ثواب ملے گا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ندامت کو توبہ قرار دیا ہے ( جیسا ان روایات میں ہے ) ۔
النُّعْمَانِ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6820
