Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6820

6455 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سماك عن النعمان عن عمر مثله فهذه صفة التوبة التي أمرهم الله عز و جل بها في كتابه فأما قولهم نتوب إلى الله ليس من هذا في شيء قيل لهم إن ذلك وإن كان كما ذكرتم فإنا لم نبح لهم أن يقولوا نتوب إلى الله عز و جل على أنهم معتقدون للرجوع إلى ما تابوا منه ولكنا أبحنا لهم ذلك على أنهم يريدون به ترك ما وقعوا فيه من الذنب ولا يريدون العودة في شيء منه فإذا قالوا ذلك واعتقدوا هذا بقلوبهم كانوا في ذلك مأجورين مثابين فمن عاد منهم بعد ذلك في شيء من تلك الذنوب كان ذلك ذنبا أصابه ولم يحبط ذلك أجره المكتوب له بقوله الدي تقدم منه واعتقاده معه ما أعتقد فأما من قال أتوب إلى الله عز و جل وهو معتقد أنه يعود إلى ما تاب منه فهو بذلك القول فاسق معاقب عليه لأنه كذلك على الله فيما قال وأما إذا قال وهو معتقد لترك الذنب الذي كان وقع فيه وعازم أن لا يعود إليه أبدا فهو صادق في قوله مثاب على صدقه إن شاء الله تعالى وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال الندم توبة

نعمان بن بشیر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ یہ توبہ کی وہ کیفیت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حکم فرمایا ہے باقی ان کا قول " نتوب الی اللہ " یہ اس میں دلیل کا کام نہیں دے سکتا۔ اگرچہ جیسا تم نے ذکر کیا اسی طرح ہے ہم نے ان کے لئے یہ کہنا جائز نہیں قرار دیا " نتوبوا الی اللہ عزو جل " جبکہ وہ ان گناہوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہوں جن سے انہوں نے توبہ کی ہے لیکن ہم نے ان کے لئے یہ اس طور پر جائز رکھا ہے کہ جب ان کا ارادہ یہ ہو کہ جس گناہ میں وہ مبتلا ہوئے ہیں اس کے چھوڑنے کا وہ ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی طرف لوٹنے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتے جب وہ کلمات کہیں گے اور دلوں میں یہ اعتماد رکھیں گے تو وہ اس سلسلے میں ماجور اور ثواب پانے والے ہوں گے پھر ان میں سے جو آدمی ان گناہوں کی طرف لوٹ گیا تو وہ اس کا گناہ ہے جو اس نے کیا اس سے کا سابقہ لکھا ہوا اجر مٹایا نہ جائے گا وہ اجر جو کہ اس کے سابقہ قول و اعتقاد سے لکھا گیا ۔ رہا وہ شخص جس میں اتوب الی اللہ کا کلمہ اس اعتقاد سے کہا کہ وہ دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ جائے گا تو وہ اس کہنے میں گناہگار ہے قابل سزا ہے کیونکہ وہ اللہ کے ذمے اسی طرح ہے جیسے اس نے کہا اور جس آدمی نے گناہ چھوڑنے کا اعتقاد رکھتے ہوئے یہ کہا اور اس کا پختہ ارادہ یہ ہے کہ وہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹے گا تو وہ اتوب الیہ کہنے میں سچا ہے اور ان شاء اللہ اس کی سچائی پر اس کو ثواب ملے گا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ندامت کو توبہ قرار دیا ہے ( جیسا ان روایات میں ہے ) ۔

النُّعْمَانِ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6821

6456 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عبد الكريم الجزري قال أخبرني زياد بن أبي مريم عن عبد الله بن معقل قال دخلت مع أبي على عبد الله بن مسعود فقال له أبي أنت سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول الندم توبة فقال نعم

عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود کے پاس آیا میرے والد نے ان سے کہا کیا تم نے جناب نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ ندامت توبہ ہے انہوں نے کہا جی ہاں۔

الندم توبة فقال نعم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← دخلت مع أبي على عبد الله بن مسعود فقال له أبي أنت ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن أبي مريم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6822

6457 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب عن مالك عن عبد الكريم عن شرحبيل عن أبيه عن بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

شرجیل نے اپنے والد سے انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← شُرَحْبِيلَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6823

6458 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم الجزري عن زياد بن أبي مريم وابن الجراح عن عبد الله بن مغفل فذكر بإسناده مثله

ابن جراح نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن مغفل فذكر بإسناده مثله ← زياد بن أبي مريم وابن الجراح ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6824

6459 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا زهير بن معاوية عن عبد الكريم عن زياد وليس بابن أبي مريم فذكر بإسناده مثله

عبدالکریم نے زیاد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ۔

زياد وليس بابن أبي مريم فذكر بإسناده مثله ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6824

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يقول أستغفر الله وأتوب إليه ) · حديث 6825

6460 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا زهير قال ثنا عبد الكريم عن عبد الله بن مغفل نحوه فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جعل الندم توبة فدل ذلك على أن من قال أتوب إلى الله من ذنب كذا وكذا وهو نادم على ما أصاب من ذلك الذنب أنه محسن مأجور على قوله ذلك

عبدالکریم نے عبداللہ بن مغفل سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جنہوں نے شرمندگی کو توبہ قرار دیا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس شخص نے " اتوب الی اللہ من ذنب کذا " کہ فلاں گناہ سے توبہ کرتا ہوں اور اس کو اس گناہ پر شرمندگی بھی ہے تو یہ آدمی نیکی کرنے والا ہے اور اس کو اس قول پر اجر ملے گا۔

عَبْدِ الْکَرِيمِ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6825

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6826

6461 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مالك بن أنس عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك أن عتيك بن الحارث بن عتيك وهو جد عبد الله بن عبد الله أبو أمه أخبره أن جابر بن عتيك أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء يعود عبد الله بن ثابت فوجده قد غلب فصاح به فلم يجبه فاسترجع رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال غلبنا عليك يا أبا الربيع فصاح النسوة وبكين فجعل بن عتيك يسكتهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم دعهن فإذا وجب فلا تبكين باكية قالوا يا رسول الله وما الوجوب قال إذا مات قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة البكاء على الميت واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وبما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه

عبداللہ بن عبداللہ نے جابر بن عتیق سے روایت کی وہ بتاتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ثابت کی تیمار داری کے لئے آئے ان پر بیماری کا غلبہ دیکھا آپ نے ان کو آوازی دی مگر انہوں نے جواب نہ دیا پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے انا اللہ پڑھی اور فرمایا اے ابو الربیع ہم تیرے معاملے میں مغلوب کر دئیے گئے عورتوں نے چیخنا اور رونا شروع کر دیا ابن عتیق ان کو خاموش کرنے لگے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو چھوڑ دو جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ واجب ہونا کیا ہے فرمایا موت کا آنا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میت پر رونا مکروہ ہے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے اور انہوں نے اسی روایت کو دلیل بنایا اور دوسری وہ روایت کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے ۔

عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← مالک بن أنس ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6826

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6827

6462 - حدثنا ربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أحمد بن محمد بن الأزرقي قال ثنا عبد الجبار بن الورد قال سمعت بن أبي مليكة يقول لما ماتت أم أبان بنت عثمان بن عفان حضرت مع الناس فجلست بين يدي عبد الله بن عمر رضي الله عنه وعبد الله بن عباس فبكى النساء فقال بن عمر رضي الله عنه ألا تنهي هؤلاء عن البكاء إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إن الميت ليعذب ببعض بكاء أهله عليه فقال بن عباس قد كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول ذلك فخرجت مع عمر رضي الله عنه حتى إذا كنا بالبيداء إذا ركب فقال يا بن عباس من الركب فذهبت فإذا هو صهيب وأهله فرجعت فقلت يا أمير المؤمنين هذا صهيب وأهله فلما دخلنا المدينة وأصيب عمر رضي الله عنه جلس صهيب يبكي عليه وهو يقول واحباه واصاحباه فقال عمر رضي الله عنه لا تبك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إن الميت ليعذب ببعض بكاء أهله عليه قال فذكر ذلك لعائشة رضي الله عنها فقالت أم والله ما تحدثون هذا الحديث عن الكاذبين ولكن السمع يخطئ وإن لكم في القرآن لما يشفيكم ألا تزر وازرة وزر أخرى ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الله عز و جل ليزيد الكافر عذابا ببعض بكاء أهله عليه

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام عمان بنت عثمان فوت ہو گئیں تو میں بھی لوگوں کے ساتھ جنازے میں گیا میں ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اگلی جانب بیٹھا عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ان کو رونے سے کیوں نہیں منع کرتے میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میت کو اس کے بعض گھر والوں کے رونے سے عذاب ملتا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ بھی کہا کرتے تھے میں ایک دن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا ہم جب مقام بیدا میں پہنچے تو اچانک ایک قافلہ سامنے آیا آپ نے فرمایا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کن کا قافلہ ہے میں ان کی طرف گیا تو وہ صہیب اور ان کے گھر والے تھے میں واپس لوٹا اور میں مبتلا یا امیر المومنین رضی اللہ عنہ یہ صہیب اور ان کے گھر والے ہیں جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تو حضرت صہیب ان کے پاس بیٹھ کر رونے لگے اور کہہ رہے تھے اے میرے پیارے ، اے میرے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا مت رو بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا بے شک میت اس کے بعض گھر والوں کے رونے پر عذاب دی جاتی ہے راوی کہتے ہیں اس بات کا تذکرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس روایت کو جھوٹے لوگوں کی طرف سے بیان نہیں کرتے لیکن سننے میں غلطی ہو جاتی ہے بے شک تمہارے قرآن مجید میں ایسی بات ہے جو اس سے شفاء بخشنے والی ہے : الا تزرو وازرۃ وزرا خری۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اضافہ فرما دیں گے اس کے بعض گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے ۔

بن أبي مليكة ← عبد الجبار بن الورد ← أحمد بن محمد بن الأزرقي ← ربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6827

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6828

6463 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن بن أبي مليكة فذكر نحوه غير أنه لم يذكر قضية صهيب قالوا فلما كان الميت يعذب ببكاء أهله عليه كان بكاؤهم عليه مكروها لهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بالبكاء على الميت إذا كان بكاء لا معصية معه من قول فاحش ولا نياحة واحتجوا في ذلك بما

عمرو ابن دینا نے ابن ابی ملیکہ سے اسی طرح روایت ذکر کی البتہ صہیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا اس فریق کا کہنا یہ ہے کہ جب میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو ان کا رونا اس پر مکروہ ہے ۔ کچھ اور لوگوں نے یہ بات کہی کہ میت پر رونے میں کچھ حرج نہیں جبکہ رونے میں کوئی معصیت اور نا فرمانی نہ ہو جیسے فحش کلمات اور نوحہ اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ۔

نحوه غير أنه لم يذكر قضية صهيب ← بن أبي مليكة ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6828

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6829

6464 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن الحارث الأنصاري عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غشيته فقال قد قضى فقالوا لا والله يا رسول الله فبكي رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأى القوم بكاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بكوا فقال ألا تسمعون أن الله تعالى لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب ولكن يعذب بهذا وأشار إلى لسانه أو يرحم

سعید بن حارث انصاری نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے جناب رسول اللہ ﷺ کی عیادت کے لئے عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے ۔ جب آپ نے داخل ہوئے تو ان کی غشی میں پایا۔ آ پ نے فرمایا۔ کیا وہ فوت ہو گئے انہوں نے کہا نہیں ۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ آپ کے آنسو بہنے لگے ۔ جب صحابہ کرام نے آپ کا رونا دیکھا تو وہ بھی رونے لگے اور فرمایا سنو ! بے شک اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو بہانے سے عذاب نہیں دیتا اور نہ دل کے غم سے ۔ لیکن اس کے سبب عذاب دیتے ہیں یا رحم فرماتے ہیں اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6830

6465 - حدثنا أحمد بن الحسن قال سمعت سفيان يقول حدثنا بن عجلان عن وهب بن كيسان عن أبي هريرة أن عمر رضي الله عنه أبصر أمرأة تبكي على ميت فنهاها فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم دعها يا أبا حفص فإن النفس مصابة والعين باكية والعهد قريب

وہب بن کیسان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو میت پر روتے دیکھا تو اس کو منع کیا جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو۔ اے ابو حفص دل کو دکھ پہنچتا ہے اور آنکھ روتی ہے اور وقت قریب ہے ۔ ( صدمہ تازہ ہے ) ۔

أبي هريرة أن عمر أبصر أمرأة تبكي على ميت فنهاها ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← بن عَجْلَانَ ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 19 باب البكاء على الميت ) · حديث 6831

6466 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني أسامة بن زيد الليثي عن نافع عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بنساء بني عبد الأشهل يبكين هلكاهن يوم أحد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن حمزة لا بواكي له فجاء نساء الأنصار يبكين حمزة فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ويحهن ما انقلبن بعد مرورهن فلينقلبن ولا يبكين على هالك بعد اليوم

نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا گزر بنو عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے ہوا کہ جو کہ یوم احد میں فوت ہونے والوں پر رو رہی تھیں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو کوئی رونے والی نہیں تو انصار کی عورتیں آئیں اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں جناب رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور آ پ ﷺ نے فرمایا ان پر افسوس ہے یہ جانے کے بعد واپس نہیں لوٹیں اب ان کو لوٹ جانا چاہیے اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6831

chevron_left Previous
1…343536…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter