Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6784

6420 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير قال سألت جابرا عن الصور في البيت وعن الرجل يفعل ذلك فقال زجر رسول الله عن ذلك

ابو الزبیر کہتے ہیں میں نے جابر سے گھر کے اندر تصاویر کے اور مصور کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس پر ڈانٹ ڈپٹ فرمائی ہے ۔

ذَلِكَ ← الصور في البيت وعن الرجل يفعل ذلك فقال زجر رسول الله ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6784

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6785

6421 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال ثنا محمد بن الفضل عن عمارة عن القعقاع عن أبي زرعة قال دخلت مع أبي هريرة دار مروان بن الحكم فإذا بتماثيل فقال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الله عز و جل ومن أظلم ممن ذهب يخلق خلقا كخلقي فليخلقوا ذرة أو ليخلقوا حبة أو ليخلقوا شعيرة قال أبو جعفر فذهب ذاهبون إلى كراهية إتخاذ ما فيه الصور من الثياب وما كان يوطأ من ذلك ويمتهن وما كان ملبوسا وكرهوا كونه في البيوت واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما كان من ذلك يوطأ ويمتهن فلا بأس به وكرهوا ما سوى ذلك وكان من الحجة لهم في ذلك ما

ابو زرعہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دار مروان میں داخل ہوا تو اچانک اس میں مورتیوں کو دیکھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنانے لگا۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اک ذرہ بنا کر دکھائیں یا ایک دانہ بنا کر دکھائیں یا ایک جو بنا کر دکھائیں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ ایک جماعت علماء کی اس طرف گئی ہے کہ اس کپڑے کا استعمال جس میں تصاویر ہوں خواہ اس کو پاؤں میں روندا جائے تاکہ اس کی تذلیل کی جائے یا اس کو پہنا جائے بہر حال اس کا استعمال مکروہ ہے بلکہ اس کا گھروں کے اندر رکھنا بھی مکروہ ہے انہوں نے ان آثار سے استدلال کیا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ جن تصاویر والے کپڑے کو روندا یا اس کی تذلیل کی جاتی ہے اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں اور اس کے علاوہ مکروہ ہے ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

دخلت مع أبي هريرة دار مروان بن الحكم فإذا بتماثيل فقال ← أَبِي زُرْعَةَ ← الْقَعْقَاعِ، ← عُمَارَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6785

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6786

6422 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي عن عبد الرحمن بن القاسم عن أمه أسماء بنت عبد الرحمن وكانت في حجر عائشة رضي الله عنها عن عائشة رضي الله عنها قالت قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم من سفر وعندي نمط لي فيه صورة فوضعته على سهوتي فاجتبذه وقال لا تستري الجدار قالت فصنعته وسادتين فأخذه رسول الله صلى الله عليه و سلم يرتفق عليهما

اسماء بنت عبدالرحمن حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس لوٹے ہمارے پاس تصاویر والا ایک گدا تھا میں نے اس کو کھڑکی پر ڈال دیا تو آپ نے اس کو وہاں سے کھینچ دیا اور فرمایا دیواروں کو مت ڈھانکو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نے اس کو دو حصے کر کے اس کے دو بچھونے بنا دئیے جناب رسول اللہ ﷺ ان پر آرام فرماتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6786

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6787

6423 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو عن بكير الأشج عن ربيعة بن عطاء مولى بني الأزهر أنه سمع القاسم بن محمد يذكر عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يرتفق عليهما

قاسم بن محمد ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ ان بچھونوں پر راحت فرماتے تھے ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← القاسم بن محمد يذكر ← ربيعة بن عطاء مولى بني الأزهر أنه ← بكير الأشج ← عَمْرٍو، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6787

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6788

6424 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير أن عبد الرحمن بن القاسم حدثه أن أباه حدثه عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت نصبت سترا فيه تصاوير فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزعه فقطعته وسادتين فقال رجل في المجلس حينئذ يقال له ربيعة بن عطاء مولى بني أزهر سمعت أبا محمد يذكر أن عائشة رضي الله عنها قالت فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرتفق عليهما فقال لا ولكن سمعت القاسم بن محمد يذكر ذلك عنها

عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی کہ میں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصاویر تھیں جناب رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے تو آپ نے اس کو اتار دیا پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو گدے بنا دئیے اس وقت مجلس میں بنی ازہر کا مولیٰ ربیعہ بن عطاء بھی تھا اس نے کہا میں نے تو ابو محمد کو عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ نقل کرتے سنا کہ آپ ان پر آرام بھی فرماتے تھے کہنے لگے نہیں لیکن قاسم بن محمد سے میں نے سنا کہ وہ اس کا تذکرہ کرتے تھے ۔

بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6788

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6789

6425 - حدثني بن مرزوق قال ثنا محمد بن أبي الوزير قال ثنا محمد بن مسلم عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها جعلت سترا فيه تصاوير إلى القبلة فأمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزعته وجعلت منه وسادتين فكان النبي صلى الله عليه و سلم يجلس عليهما

عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبلہ کی جانب میں نے تصاویر والا کپڑا لٹکایا جناب رسول اللہ ﷺ نے اسے اتارنے کا حکم دیا میں نے اس کو اتار دیا میں نے اس کی دو گدیاں بنا دیں جناب رسول اللہ ﷺ ان پر بیٹھتے تھے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن أبي الوزير ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6789

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6790

6426 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن القاسم بن محمد عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها استترت بنمرقة فيها تصاوير فلما رآها رسول الله صلى الله عليه و سلم قام على الباب فلم يدخل فعرفت في وجهه الكراهة فقلت يا رسول الله أتوب إلى الله وإلى رسوله فماذا أذنبت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما بال هذه النمرقة قلت اشتريتها لك لتقعد عليها وتتوسدها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أصحاب هذه الصور يقدمون يوم القيامة فيقال لهم أحيوا ما خلقتم ثم قال إن البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملائكة

قاسم بن محمد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ام المومنین رضی اللہ عنہ نے ایک گدیلے کو بچھایا جس پر تصاویر تھیں جب اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہ ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے چہرے پر نا پسندیدگی دیکھی تو کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے کیا غلطی کی جو بھی غلطی ہے اس کی میں اللہ اور اس کے رسول سے معافی مانگتی ہوں؟ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے ؟ میں نے کہا اس کو میں نے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ا س پر سہارا لگائیں ۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان تصاویر والے قیامت کے دن آئیں گے اور ان کو کہا جائے گا جو تم نے بنایا ان کو زندہ کرو ۔ پھر فرمایا وہ گھر جس میں تصاویر ہوں وہاں فرشتے نہیں آتے ۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6790

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6791

6427 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال قالت عائشة كان ثوب فيه تصاوير فجعلته بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي فكرهه أو قالت فنهاني فجعلته وسائد فقال أهل هذه المقالة فما كان مما يوطأ فلا بأس لهذه الآثار وما كان من غير ما يوطأ فهو الذي جاءت فيه الآثار الأول وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه استثنى مما نهي عنه من الصور إلا ما كان رقما في ثوب

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ایک کپڑا تھا جس میں تصاویر تھیں اس کو میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے ۔ تو آپ نے اس بات کو نا پسند کیا یا اس طرح کہا کہ آپ نے مجھے منع فرمایا تو میں نے اس کے تکیے بنا لیے ۔ فریق ثانی نے ان آثار کے پیش نظر یہ استدلال کیا کہ جو روندا جائے اس میں کوئی حرج نہیں اور پہلے آثار میں جس کا تذکرہ ہے وہ ہے جو اس کے علاوہ استعمال کیا جانے والا ہے جو کہ درست نہیں ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جن تصاویر کو ممانعت فرمائی ان میں سے جو مستثنیٰ ہیں ان کا تذکرہ یعنی جو کہ کپڑے پر چھی ہوئی ہیں ۔ ( ملاحظہ ہوں )

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6791

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6792

6428 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن بكير بن الأشج حدثه أن بشر بن سعيد حدثه أن زيد بن خالد الجهني حدثهم ومع بشر بن سعيد عبيد الله الخولاني أن أبا طلحة حدثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة قال بشر فمرض زيد بن خالد فعدناه فإذا نحن في بيته بستر فيه تصاوير فقلت لعبيد الله الخولاني ألم تسمعه حدثنا في التصاوير قال إنه قد قال إلا رقما في ثوب ألم تسمعه قلت لا بلى قد ذكر ذلك

بشر بن سعید نے حضرت زید بن خالد جہنی اور بشر اور عبید اللہ خولانی دونوں نے ابو طلحہ انصاری سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر ہو۔ بشر کہتے ہیں زید بن خالد بیمار ہوئے ہم اسن کی عیادت کو گئے جب ہم ان کے گھر میں پہنچے تو وہ ایک پردہ تھا جس میں تصاویر تھیں ۔ میں نے عبید اللہ خولانی کو کہا کیا تم نے ان سے تصاویر کے متعلق روایت بیان کر تے نہیں سنا؟ اس نے کہا انہوں نے ایسا کہا ہے مگر چھاپے والی تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے کیا تم نے نہیں سنا ؟ میں نے کہا نہیں ۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں انہوں نے ذکر کیا ہے ۔

ومع بشر بن سعيد عبيد الله الخولاني أن أبا طلحة ← أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ← أن بشر بن سعيد ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6792

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6793

6429 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن سالم أبي النضر عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال اشتكي أبو طلحة بن سهيل فقال لي عثمان بن حنيف هل لك في أبي طلحة تعوده فقلت نعم قال فجئناه فدخلنا عليه وتحته نمط فيه صورة فقال أنزغوا هذا النمط فألقوه عني فقال له عثمان بن حنيف أو ما سمعت يا أبا طلحة رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نهى عن الصورة قال إلا رقما في ثوب أو ثوبا فيه رقم قال بلى ولكنه أطيب لنفسي فأميطوه عني

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ بن سہیل بیمار ہو گئے تو مجھے عثمان بن حنیف نے کہا کیا تم ابو طلحہ کی بیماری پرسی کرو گے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت میں آئے اور ان کے ہاں داخل ہوئے ان کے نیچے گدا تھا جس پر تصویر تھی تو انہوں نے کہا اس گدے کو میرے نیچے سے کھینچ دو اور دور پھینک دو ۔ ان کو عثمان بن حنیف نے کہا کیا تم نے اسے طلحہ نہیں سنا جبکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تصویر سے منع فرمایا اور فرمایا مگر وہ جو کپڑے پر چھپی ہو۔ یا ایسا کپڑا ہو جس میں تصویر چھپی ہوں انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میرے لئے سکون کا باعث یہ ہے اس لئے اس کو مجھ سے دور کر دو۔

بلى ولكنه أطيب لنفسي فأميطوه عني ← إلا رقما في ثوب أو ثوبا فيه رقم ← الصورة ← يا أبا طلحة رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نهى ← له عثمان بن حنيف أو ما ← أنزغوا هذا النمط فألقوه عني ← فجئناه فدخلنا عليه وتحته نمط فيه صورة ← لي عثمان بن حنيف هل لك في أبي طلحة تعوده فقلت نعم ← اشتكي أبو طلحة بن سهيل ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6793

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6794

6430 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي النضر فذكر بإسناده مثله غير أنه قال مكان عثمان بن حنيف سهل بن حنيف فثبت بما روينا خروج الصور التي في الثياب من الصور المنهي عنها وثبت أن المنهي عنه الصور التي هي نظير ما يفعله النصارى في كنائسهم من الصور في جدرانها ومن تعليق الثياب المصورة فيها فأما ما كان يوطأ ويمتهن ويفرش فهو خارج من ذلك وهذا مذهب أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

مالک نے ابو النضر سے بیان کیا اور انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی البتہ انہوں نے عثمان بن حنیف کی جگہ سہل بن حنیف کہا ہے ۔ ان روایات سے ثابت ہو گیا کہ کپڑوں میں چھپی ہوئی تصاویر ممنوع تصاویر سے خارج ہیں ۔ اور اس سے ثابت ہوا کہ اس میں ممنوع تصاویر سے مراد وہ تصاویر ہیں جو نصاری وغیرہ اپنے گرجہ گاہوں میں بناتے تھے یعنی دیوار پر بنی ہوئی تصاویر اور دیواروں پر تصاویر والے کپڑوں میں جو بنی ہوں اور ان کو لٹکایا جائے ۔ البتہ جو روندی جائیں اور ان کی تذلیل کی جائے اور انکو بچھایا جائے وہ اس سے خارج ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے ۔

بإسناده مثله غير أنه ← أَبِي النَّضْرِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6794

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6795

6431 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو كامل قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا الليث قال دخلت على سالم بن عبد الله وهو متكئ على وسادة حمراء فيها تصاوير قال فقلت أليس هذا يكره فقال لا إنما يكره ما يعلق منه وما نصب من التماثيل وأما ما وطئ فلا بأس به قال ثم حدثني عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة حتى ينفخوا فيها الروح يقال لهم أحيوا ما خلقتم فدل هذا من قول سالم على ما ذكرنا ثم اختلف الناس بعد ذلك في هذه الصورة ما هي فقال قوم قد دخل في ذلك صورة كل شيء مما له روح ومما ليس له روح قالوا لأن الأثر جاء في ذلك مبهما واحتجوا في ذلك أيضا بما

لیث بیان کرتے ہیں کہ میں سالم بن عبداللہ کے ہاں گیا وہ ایک سرخ تکیہ کو سہارا بنائے ہوئے تھے جس میں تصاویر تھیں ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کیا یہ مکروہ نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ مکروہ وہ ہیں جو لٹکائی جائیں اور جو تماثیل کی طرح گاڑی جائیں جو روندی جائیں ان میں کوئی حرج نہیں ۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے مجھے اپنے والد سے یہ روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان تصاویر والے قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے تاکہ وہ اس میں روح ڈالیں ان کو کہا جائے گا جو تم نے بنایا اس کو زندہ کرو۔ سالم کا یہ قول ہماری بات پر دلالت کرتا ہے پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ان تصاویر کی حقیقت کیا ہے ؟ فریق اول کا کہنا یہ ہے کہ ہر اس چیز کی تصویر اس میں داخل ہے جس میں روح ہو۔ اور وہ بھی جس میں روح نہ ہو ۔ کیونکہ اس سلسلہ میں جو اثر وارد ہوا ہے وہ مبہم ہے ۔ مزید یہ روایات بھی دلیل ہیں ۔

اللَّيْثُ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو کَامِلٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6795

chevron_left Previous
1…313233…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter