Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6748

وحدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله عن بن شهاب قال حدثني محمود بن لبيد عن عباد بن تميم عن عمه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قالوا فهذه الآثار قد جاءت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بإباحة ما منعت منه الآثار الأول وأما ما ذكروه مما احتجوا به من قول كعب بن عجرة فإنه قد روي عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك

محمود بن لبید نے عباد بن تمیم سے انہوں نے اپنے چچا سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ پہلے آثار میں جس بات کی ممانعت ہے ان آثار میں اس کی اباحت ثابت ہو رہی ہے ۔ باقی انہوں نے کعب عجرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت پیش کی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سے اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

فهذه الآثار قد جاءت ← عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6748

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6749

6386 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مالك ويونس عن بن شهاب سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان رضي الله عنهما كانا يفعلان ذلك

سعید بن مسیب بیا کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس طرح کرتے تھے ۔

مَالِكٌ، وَيُونُسُ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6749

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6750

6387 - حدثني بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن عبد الله بن عمر قال حدثني سالم أبو النضر قال كان أبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم يجلس أحدهم متربعا وإحدى رجليه على الأخرى

سالم ابو النصر کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تربع کی حالت میں بیٹھتے اور ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھتے تھے ۔

كان أبو بكر وعمر وعثمان يجلس أحدهم متربعا وإحدى رجليه على الأخرى ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6750

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6751

6388 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا عبيد الله بن جعفر عن إسماعيل بن محمد عن سعيد عن عبد الرحمن بن يربوع أنه رأى عثمان بن عفان فعل ذلك

عبدالرحمن بن یربوع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے پایا۔

عبد الرحمن بن يربوع أنه رأى عثمان بن عفان فعل ذلك ← سَعِيدٌ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6751

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6752

6389 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني عمر بن عبد العزيز أن محمد بن نوفل حدثه أنه رأى أسامة بن زيد بن حارثة في مسجد النبي صلى الله عليه و سلم فعل ذلك

محمد بن نوفل نے بیان کیا کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں اسی طرح کرتے پایا ہے ۔

عمر بن عبد العزيز أن محمد بن نوفل ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6752

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6753

6390 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي عن نافع أنه رأى بن عمر رضي الله عنه يفعل ذلك

نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایسے کرتے پایا۔

نافع أنه رأى بن عمر يفعل ذلك ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6753

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6754

6391 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن سفيان عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود عن عبد الرحمن بن يزيد قال رأيت عبد الله مضطجعا بالأراك واضعا إحدى رجليه على الأخرى وهو يقول ربنا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ کو چت لیٹے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھے ہوئے یہ کہتے پایا: ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین " ( یونس : 85)

{رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ}. ← رأيت عبد الله مضطجعا بالأراك واضعا إحدى رجليه على الأخرى وهو ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6754

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6755

6392 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن عمران بن مسلم قال رأيت أنس بن مالك قاعدا قد وضع إحدى رجليه على الأخرى فقد روينا عن هؤلاء الجلة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وهذا مما لا يصل إلى تبيينه من طريق النظر فنستعمل فيه ما استعملناه في غيره من أبواب هذا الكتاب ولكن لما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما وصفنا في الفصل المتقدم وروى عن كعب بن عجرة أنه قال إنه لا يصلح لبشر فكان معنى هذا عندنا والله أعلم أنها لا تصلح لبشر لنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها لأنه لا يصلح لبشر أن يخالف رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قد جاء ما ذكرناه في الفصل الثاني من إباحتها باستعمال رسول الله صلى الله عليه و سلم إياها فاحتمل أن يكون أحد الأمرين قد نسخ الآخر فلما وجدنا أبا بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم وهم الخلفاء الراشدون المهديون على قربهم من رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلمهم بأمره قد فعلوا ذلك بعده بحضرة أصحابه جميعا وفيهم الذي حدث بالحديث الأول عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الكراهة فلم ينكر ذلك أحد منهم ثم فعله عبد الله بن مسعود وابن عمر وأسامة بن زيد وأنس بن مالك رضي الله عنهم فلم ينكر عليهم منكر ثبت بذلك أن هذا هو ما عليه أهل العلم من هذين الخبرين المرفوعين وبطل بذلك ما خالفه لما ذكرنا وبينا وقد روى عن الحسن في ذلك ما يدل على غير هذا المعنى

عمران بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں بیٹھے دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا ہے ۔ یہ روایات ہم نے اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے کی ہیں۔ جس کی وضاحت قیاس و نظر سے ہو سکے تاکہ ہم اس قیاس کو دوسرے ابواب کی طرح یہاں بھی استعمال کریں لیکن جب ہم جناب نبی اکرم ﷺ سے وہ روایات نقل کر چکے جو کہ شروع باب میں آئیں اور حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت وارد ہوئی کہ کسی شخص کو جناب رسول اللہ ﷺ کی مخالفت جائز نہیں تو ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے ۔ واللہ اعلم ۔ کہ کسی شخص کو اس پر عمل اس لئے جائز نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور جناب رسول اللہ ﷺ کی مخالفت جائز نہیں ۔ دوسری فصل میں وہ روایات لائی گئیں جس سے اس عمل کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خود یہ عمل کیا۔ اب دونوں روایات میں اس بات کا احتمال ہے کہ ایک دوسری کے لئے ناسخ ہوں ۔ پس جب حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم جو خلفاء راشدین اور ہادی مہدی ہیں ان کو جناب رسول اللہ ﷺ سے قرب رہا اور وہ جناب رسول اللہ ﷺ کو دوسروں سے زیادہ جاننے والے ہیں انہوں نے تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ عمل کیا اور ان میں وہ حضرات بھی ہیں جنہوں نے کراہت سے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے وہ روایات نقل کی ہیں ۔ ان میں سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ پھر حضرت ابن مسعود ، ابن عمر، اسامہ بن زید، انس بن مالک رضی اللہ عنہم نے یہ عمل کیا اور ان پر بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان دو مرفوع روایات میں سے اس روایت پر اہل علم کا عمل ہے ۔ اس کے ساتھ وہ باطل ہوا جو اس کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور تفصیل سے بیان کیا ۔ اور حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے تو دوسرے معنی پر دلالت کرنے والی روایت بھی مروی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6755

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6756

6393 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا خالد بن نزار الإيلي قال حدثني السري بن يحيى قال ثنا عقيل قال قيل للحسن قد كان يكره أن يضع الرجل إحدى رجليه على الأخرى فقال الحسن ما أخذوا ذلك إلا عن اليهود فيحتمل أن يكون كان من شريعة موسى عليه السلام كراهة ذلك الفعل فكانت اليهود على ذلك فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم باتباع ما كانوا عليه لأن حكمه أن يكون على شريعة النبي الذي كان قبله حتى يحدث الله له شريعة تنسخ بشريعته ثم أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بخلاف ذلك وبإباحة ذلك الفعل لما أباح الله عز و جل له ما قد كان حظره على من كان قبله وقد روى عن الحسن خلاف ذلك أيضا

عقیل کہتے ہیں کہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کو کہا گیا کہ یہ بات مکروہ قرار دی جاتی تھی کہ آدمی نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے تو حسن کہنے لگے انہوں نے یہ بات یہود دے اخذ کی ہے ۔ ممکن ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں یہ کراہت ہو۔ پس اس پر قائم تھے اور جناب نبی اکرم ﷺ کو پہلے پیغمبر کی شریعت پر چلنے کا حکم تھا جب تک اس کے متعلق کوئی نیا حکم نہ اترے پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے اس فعل کو مباح کر دیا اور اس کے خلاف حکم دیا کہ آپ کے لئے اس چیز کو جائز کر دیا جو آپ سے پہلے پیغمبر کے لئے جائز نہ تھی ۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے اس کے خلاف قول ۔ ( ملاحظہ ہو )

عَقِیلٍ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6756

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6757

6394 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حميد عن الحسن أنه كان يفعله يعني يضع إحدى الرجلين على الأخرى وقال إنما كره له ذلك أن يفعله بين يدي القوم مخافة أن ينكشف والوجه الأول عندي أشبه من هذا ألا ترى إلى قول كعب إنها لا تصلح لبشر فلو كان ذلك المعنى الذي روى عن الحسن في هذا الحديث لم يقل ذلك كعب ولكنه إنما قال ذلك لعلمه بنهي رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كان عليه من اتباع من قبله ثم نسخ الله عز و جل فلم يعلمه كعب فكان على الأمر الأول وعلمه غيره فرجع إليه وترك ما تقدمه

حمید نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی کہ وہ اس پر عمل کرتے تھے یعنی ایک پاؤں کو دوسرے پر کھا کرتے تھے اور فرماتے یہ اس وقت مکروہ ہے جب کسی کے سامنے کیا جائے تاکہ بے پردگی نہ ہو جائے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے ہاں پہلی وجہ زیادہ مناسب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کعب فرماتے ہیں " انھا لا تصلح لبشر " اگر یہ معنی جو حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ نے ذکر کیا مراد ہوتا تو حضرت کعب یہ نہ کہتے ۔ بلکہ آپ نے جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ممانعت کا علم ہونے کی بنیاد پر یہ بات فرمائی ہے اور اس وقت کی بات ہے جب آپ پر پہلے پیغمبر ﷺ کی اتباع ضروری تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کر دیا اور حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا علم نہ ہوا تو وہ پہلے حکم پر ہی قائم رہے جبکہ دوسرے حضرات کو اس کا علم ہو گیا اور انہوں نے پہلے حکم کو ترک کر کے دوسرے کی طرف رجوع کر لیا۔

الحسن أنه كان يفعله يعني يضع إحدى الرجلين على الأخرى ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6757

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 15 باب الرجل يتطرق في المسجد بالسهام ) · حديث 6758

6395 - حدثنا أبو بكرة وعلي بن معبد قالا ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزبير قال ثنا يزيد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في مساجدنا وفي يده سهام فليمسك بنصالها لا يعقر بها أحدا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا بأس أن يتخطى الرجل المسجد وهو حامل ما أراد حمله واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون وقالوا لا ينبغي لأحد أن يدخل المسجد وهو حامل شيئا من ذلك إلا أن يكون دخل به يريد بدخوله الصلاة أو أن يكون إذا دخله يريد به الصدقة فأما أن يدخل به يريد تخطي المسجد فإن ذلك مكروه وقالوا قد يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بما ذكرنا في حديث أبي موسى الإدخال للصدقة فنظرنا في ذلك هل نجد شيئا من الآثار يدل عليه

ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد سے گزرے یا مساجد سے گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہوں ۔ تو وہ اس کا پھل ہاتھ میں تھام لے ۔ کہیں اس کے ساتھ کسی کو زخمی نہ کر دے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مسجد سے گزرنے میں کچھ حرج نہیں خواہ آدمی کوئی چیز اٹھانے والا ہو۔ انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ کسی کو مناسب نہیں کہ وہ مسجد میں کوئی چیز اٹھا کر گزرے سوائے اس کے کہ وہ نماز یا صدقہ کا ارادہ رکھتا ہو اور اگر وہ مسجد کو عبور کرنا چاہتا ہو تو یہ مکروہ ہے ۔ مذکورہ روایت میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ صدقہ کے لئے داخل ہوئے ہوں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أبو بكرة وعلي بن معبد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6758

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 15 باب الرجل يتطرق في المسجد بالسهام ) · حديث 6759

6396 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث والليث بن سعد يزيد أحدهما على الآخر عن أبي الزبير عن جابر قال كان الرجل يتصدق بنبل في المسجد فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يمر بها إلا وهو آخذ بنصولها

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی تیر صدقہ کرنا چاہتا تھا آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ مسجد سے وہ اس طرح گزرے کہ اس کا پھل ہاتھ میں تھام لے ( تاکہ کسی کو ایذا نہ پہنچے )

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عمرو بن الحارث والليث بن سعد يزيد أحدهما على الآخر ← بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6759

chevron_left Previous
1…282930…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter