Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6724

6364 - حدثنا يحيى بن عثمان قال ثنا أبي قال ثنا بن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن إسماعيل الأعور قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل متكئا فنزل عليه جبريل عليه السلام فقال انظروا إلى هذا العبد كيف يأكل متكئا قال فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد يجوز أن يكون هذا هو المعنى الذي من أجله قال لا أكل متكئا لأنه فعل الملوك الجبابرة وفعل الأعاجم فكره ذلك ورغب في فعل العرب كما روى عن عمر فإنه

اسماعیل الاعور کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ ٹیک لگا کر کھا رہے تھے تو جبرائیل امین آئے اور کہنے لگے اس بندے کو دیکھو کس طرح ٹیک لگا کر کھا رہا ہے تو اسی وقت جناب رسول اللہ ﷺ سیدھے بیٹھ گئے ۔ ممکن ہے کہ یہ معنی مراد ہو جس کی بناء پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا کیونکہ یہ متکبر بادشاہوں کی علامت اور عجمیوں کا طریقہ ہے اس لئے اس کو ناپسند فرمایا اور اہل عرب کے فعل کو پسند کیا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے ۔

إسماعيل الأعور ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← بن لهيعة ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6724

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6725

6365 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال ثنا عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي قال أتانا كتاب عمر بن الخطاب اخشوشنوا واخشوشبوا واخلولقوا وتمعددوا كأنكم معد وإياكم والتنعم وزي العجم أفلا ترى أنه نهاهم عن زي العجم وأمرهم بالتمعدد وهو العيش الخشن الذي تعرفه العرب فكذلك الأكل متكئا نهوا عنه لأنه فعل العجم وأما الشرب قاعدا فأمروا به خوفا مما يحدث عليهم في صدورهم وليس في ذلك شيء من زي العجم وقد روى في إباحة الشرب قائما عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ جفا کشی اختیار کرو اور مشقت پر صبر کرو اور اپنے کو مٹا دو۔ ترو تازہ ہو جاؤ گویا تم تنومند ہو اور عیش پرستی سے اپنے اپ کو بچاؤ اور عجمیوں کا لباس مت پہنو۔ کہ آپ نے ان کو عجمیوں کے لباس سے منع کیا اور سخت زندگی گزارنے کا حکم دیا جس کو عرب پہنچانتے تھے اور ٹیک لگا کر کھانے کی ممانعت بھی عجمیوں کی وجہ سے کی گئی رہا بیٹھ کر پینا تو اس کا حکم دیا گیا تاکہ ان کے سینے میں کوئی چیز پیدا نہ ہو عجم کے لباس کی عادات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ( کیا تم دیکھتے نہیں کہ انہوں نے ان کو عجمیوں کے لباس سے منع کیا اور کھردری زندگی گزارنے کا حکم دیا جس سے عرب واقف تھے )

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6725

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6726

6366 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عبد الأعلى عن بشر بن غالب قال دخلت على الحسين بن علي داره فقام إلى بخيتة له فسح ضرعها حتى إذا درت دعا بإناء فحلب ثم شرب وهو قائم ثم قال يا بشر إني إنما فعلت ذلك لتعلم أنا نشرب ونحن قيام

بشر بن غالب کہتے ہیں کہ میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر میں گیا وہ اپنی بختی اونٹنی کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے تھنوں کوپسایا جب وہ دودھ سے بھر آئے تو انہوں نے برتن منگوایا اور اس کو دوہا پھر اس کو اس حالت میں پی لیا کہ وہ کھڑے تھے پھر فرمایا۔ اے بشر ! میں نے یہ اس لئے کیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ ہم کھڑے ہو کر بھی پی لیتے ہیں ۔

بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6726

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6727

6367 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا ملك عن عامر بن عبد الله بن الزبير قال رأيت أبي يشرب وهو قائم

عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر پانی پی رہے تھے ۔

رَأَيتُ أَبِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ. ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ملك ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6727

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6728

حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن علي بن عبد الله البارقي قال ناولت بن عمر إداوة فشرب منها قائما من فيها وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى أن يشرب من في السقاء

علی بن عبداللہ بارقی کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو مشکیزہ دیا پس آپ نے اس میں کھڑے ہو کر پانی پیا۔

ناولت بن عمر إداوة فشرب منها قائما من فيها وقد روى ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6728

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6729

6368 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قتادة عن عكرمة عن بن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الشرب من في السقاء

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے سے پانی پینے سے منع فرمایا۔

الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ. ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6729

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6730

6369 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن عكرمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلم يكن هذا النهي من رسول الله صلى الله عليه و سلم على تحريم ذلك على أمته حتى يكون من فعله منهم عاصيا له ولكن لمعنى قد اختلف فيها ما هو

عکرمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ پس یہ ممانعت جناب رسول اللہ ﷺ سے امت پر تحریم کے لئے نہیں کہ جس کے کرنے ولاے گنہگار کہا جائے بلکہ اس کا معنی مختلف لیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ان روایات میں ملاحظہ کریں گے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6730

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6731

6370 - فحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الشرب من في السقاء لأنه ينتنه فهذا معناه وقد روى في ذلك معنى آخر وهو ما

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے سے براہ راست پانی پینے سے منع فرمایا کیونکہ مشکیزہ اس پانی کو بدبو دار کر دیتا ہے ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← فحدثنا محمد بن خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6731

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6732

6371 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن ليث عن مجاهد قال كان يكره الشرب من ثلمة القدح وعروة الكوز وقال هما مقعدا الشيطان فلم يكن هذا النهي من رسول الله صلى الله عليه و سلم على طريق التحريم بل كان على طريق الإشفاق منه على أمته والرأفة بهم والنظر لهم وقد قال قوم إنما نهى عن ذلك لأنه الموضع الذي يقصده الهوام فنهى عن ذلك خوف أذاها فكذلك ما ذكرنا عنه في صدر هذا الباب من نهيه عن الشرب قائما ليس على التحريم الذي يكون فاعله عاصيا ولكن للمعنى الذي ذكرناه في ذلك وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما تقدم من هذا الباب أنه أتى بيت أم سليم فشرب من قربة وهو قائم من فيها فدل ذلك على أن نهيه الذي روى عنه في ذلك ليس على النهي الذي يجب على منتهكه أن يكون عاصيا ولكنه على النهي من أجل الخوف فإذا ذهب الخوف ارتفع النهي فهذا عندنا معنى هذه الآثار والله أعلم وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا أنه نهى عن اختناث الأسقية وهو أن يكسر فيشرب من أفواهها

لیث نے مجاہد سے بیان کیا کہ وہ پیالے کے ٹوٹے ہوئے حصہ اور کوزے کی دستے والی جانب سے پینا ناپسند کرتے اور فرماتے یہ شیطان کے ٹھکانے ہیں ۔ پس یہ ممانعت جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حرمت کے لئے نہ تھی بلکہ امت پر رحمت و شفقت کی توجہ کے پیش نظر تھی ۔ بعض نے کہا کہ کیونکہ وہ مقامات کیڑے مکوڑوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پس ان کی ایذا کے ڈر سے ممانعت فرمائی ۔ اسی طرح کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت بھی تحریم کے لئے نہیں کہ جس کا کرنے والا گناہ گار ہو بلکہ اس کا مطلب بھی وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہم نے جناب ام سلیم رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور لٹکی ہوئی مشک سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت ایسی نہیں جس کی مخالفت سے گناہ لازم ہو ۔ بلکہ ممانعت خطرے کے پیش نظر ہے جب خطرہ نہ ہو تو ممانعت نہ ہو گی ۔ آثار کے سامنے رکھ کر ہمارے ہاں یہی معنی ہے ۔ واللہ اعلم ۔ روایات میں جنا ب رسول اللہ ﷺ سے " اختنات اسقیہ " کی ممانعت وارد ہے یعنی " اختناث اسقیہ " یہ ہے کہ مشکیزے کے منہ کو توڑ کر باہر کی طرف موڑ دیا جائے اور سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے روایت یہ ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6732

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6733

6372 - حدثنا بذلك إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا الشافعي عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن اختناث الأسقية

عبید اللہ بن عبداللہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے " اختناث اسقیہ " سے منع فرمایا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِیُّ ← بذلك إسماعيل بن يحيى المزني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6733

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6734

6373 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بن أبي ذئب عن الزهري فذكر بإسناده مثله قال بن أبي ذئب اختناثها أن تكسر فيشرب منها فالوجه الذي نهى عن ذلك هو الوجه الذي من أجله نهى عن الشرب من في السقاء

ابن ابی ذئب نے زہری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ابن ذئب کہتے ہیں اختناث ۔ منہ کو توڑ کر اس سے پانی پینے کو کہتے ہیں ۔ پس وجہ سے مشکیزہ سے پانی پینے کی ممانعت ہے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی بھی وہی وجہ ہے ۔

الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ. ← ذلك هو الوجه الذي من أجله نهى ← بن أبي ذئب اختناثها أن تكسر فيشرب منها فالوجه الذي نهى ← الزُّهْرِيِّ،. فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6734

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 14 باب وضع إحدى الرجلين على الأخرى ) · حديث 6735

6374 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان قال ثنا أبو الزبير عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كره أن يضع الرجل إحدى رجليه على الأخرى

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آدمی دونوں پاؤں میں سے ایک دوسرے پر رکھے ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6735

chevron_left Previous
1…262728…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter