شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 13 باب الشرب قائما ) · حديث 6724
6364 - حدثنا يحيى بن عثمان قال ثنا أبي قال ثنا بن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن إسماعيل الأعور قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل متكئا فنزل عليه جبريل عليه السلام فقال انظروا إلى هذا العبد كيف يأكل متكئا قال فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد يجوز أن يكون هذا هو المعنى الذي من أجله قال لا أكل متكئا لأنه فعل الملوك الجبابرة وفعل الأعاجم فكره ذلك ورغب في فعل العرب كما روى عن عمر فإنه
اسماعیل الاعور کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ ٹیک لگا کر کھا رہے تھے تو جبرائیل امین آئے اور کہنے لگے اس بندے کو دیکھو کس طرح ٹیک لگا کر کھا رہا ہے تو اسی وقت جناب رسول اللہ ﷺ سیدھے بیٹھ گئے ۔ ممکن ہے کہ یہ معنی مراد ہو جس کی بناء پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا کیونکہ یہ متکبر بادشاہوں کی علامت اور عجمیوں کا طریقہ ہے اس لئے اس کو ناپسند فرمایا اور اہل عرب کے فعل کو پسند کیا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے ۔
إسماعيل الأعور ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← بن لهيعة ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6724
