Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6676

6319 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا يحيى بن اليمان عن معمر عن الزهري عن قبيصة بن ذؤيب قال رأيت زيد بن ثابت يبول قائما

قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کھڑے پیشاب کرتے دیکھا۔

رأيت زيد بن ثابت يبول قائما ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يحيى بن اليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6676

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6677

6320 - حدثنا يونس قال ثنا معن بن عيسى قال ثنا مالك عن عبد الله بن دينار أنه قال رأيت عبد الله بن عمر يبول قائما فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كانوا يبولون قياما وذلك عندنا على أنهم كانوا يأمنون أن يصيب شيء من ذلك ثيابهم وأبدانهم فإن قال قائل فقد روى عن عمر بن الخطاب ما يخالف ما رويت عنه في هذا الباب فذكر ما

عبداللہ بن دینار نے روایت کی کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا۔ یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں جو کھڑے ہو کر ( ضرورۃ ) پیشاب کر لیتے تھے ۔ مگر اس شرط سے کہ وہ پیشاب ان کے بدن و کپڑوں کو ملوث نہ کرتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت موجود ہے ۔

عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← مَعْن بن عيسی ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6677

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6678

6321 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر قال قال عمر ما بلت قائما منذ أسلمت وقيل له قد يجوز أن يكون عمر لم يبل قائما منذ أسلم حتى قال هذا القول ثم بال بعد ذلك قائما على ما رواه عنه زيد بن وهب ففي ذلك ما يدل على أنه لم يكن يرى بالبول قائما بأسا وقد دل على ذلك أيضا ما قد رويناه عن بن عمر في هذا الباب من بوله قائما وقد حدث عن عمر بن الخطاب بما قد ذكرنا فدل ذلك على رجوع عمر عن كراهية البول قائما إذا كان ذلك لما رواه عنه عبد الله بن عمر ولم يكن عبد الله بن عمر يترك ما سمعه من عمر إلا إلى ما هو أولى عنده من ذلك

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جب میں اسلام لایا میں نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا۔ یہ عین ممکن ہے کہ حضرت عم رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ یہ بات کہی پھر اس کے بعد کیا ہو جیسا کہ زید بن وہب نے روایت کی ہے ۔اس میں یہ دلالت ہے کہ وہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے اور اس پر وہ بات بھی دلالت کرتی ہے جو خود ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس باب میں ان کے کھڑے ہو کر پیشاب کے متعلق نقل ہوئی ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ پیش آیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔ اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع بھی معلوم ہو اکہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کراہت نہیں ۔ جس طرح کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو بات سنی تھی اس کو اسی لئے چھوڑا کہ اس سے اولیٰ بات مل گئی ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6678

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6679

6322 - حدثنا إسحاق بن الحسين الطحان قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال ثنا سفيان بن عيينة عن يونس بن يزيد عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن بن عباس في حديث طويل فيه ذكر رؤيا عبرها أبو بكر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أصبت يا رسول الله قال أصبت بعضا وأخطأت بعضا قال أقسمت عليك يا رسول الله قال لا تقسم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة القسم وقالوا لا ينبغي لأحد أن يقسم على شيء وأعظموا ذلك وكان ممن أعظم ذلك الليث بن سعد فذكر لي غير واحد من أصحابنا عن عيسى بن حماد زغبة قال أتيت بكر بن مضر لأعوده فجاء الليث فهم بالصعود إليه فقال له بكر أقسمت عليك أن تفعل فقال له الليث أو تدري ما القسم أو تدري ما القسم أو تدري ما القسم وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بالقسم بأسا وجعلوه يمينا وحكموا له بحكم اليمين وقالوا قد ذكر الله في غير موضع في كتابه فقال عز و جل لا أقسم بيوم القيامة ولا أقسم بالنفس اللوامة وقال فلا أقسم بمواقع النجوم وقال لا أقسم بهذا البلد فكان تأويل ذلك عند العلماء جميعا أقسم بيوم القيامة ولا صلة وقال الله عز و جل وأقسموا بالله جهد أيمانهم لا يبعث الله من يموت بلى وعدا عليه حقا فلم يعبهم بقسمهم ورد عليهم كفرهم فقال بلى وعدا عليه حقا وكان في ذكره جهد أيمانهم دليل على أن ذلك القسم كان منهم يمينا وقال الله عز و جل إذ أقسموا ليصرمنها مصبحين فلم يعب ذلك عليهم ثم قال ولا يستثنون

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث بیان کی جس میں اس خواب تذکرہ ہے جس کی تعبیر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں دی ۔ جناب ابو بکر نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں نے درست تعبیر کی ۔ آپ نے فرمایا تم نے کچھ درست اور کچھ غلط تعبیر کی ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ نے فرمایا تم مجھے قسم مت دو۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ قسم مکروہ ہے اور کسی کو کسی چیز پر قسم نہ اٹھانی چاہیے انہوں نے قسم اٹھانے کو بہت بڑا قرار دیا ہے ۔ امام لیث بن سعدان لوگوں سے ہیں کہ جنہوں نے اس کو بہت بڑا قرار دیا ہمارے کئی احباب نے عیسیٰ بن حماد زغبہ سے روایت کی ہے کہ میں بکر بن مضر کے پاس آیا تاکہ میں ان کی عیادت کروں اس وقت اچانک لیث آ گئے اور انہوں نے اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو بکر نے ان سے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ایسا نہ کریں ۔ لیث کہنے لگے کیا تم جانتے ہو کہ قسم کیا ہے ؟ یا قسم کی حقیقت جانتے ہو یا تم قسم کو جانتے ہو؟ قسم میں کوئی حرج نہیں اور یہ یمین بنے گی اور اس کا حکم یمین والا ہو گا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کئی مقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ " لا اقسم بیوم القیامہ۔ ولا اقسم بالنفس اللوامہ " ( القیامہ 1-2) اور فرمایا " ولا اقسم بمواقع النجوم " ( واقعہ : 75) اور فرمایا : " لا اقسم بھذا البلد " ( البلدا) ان ساری آیات کی تفسیر علماء کے ہاں یہ ہے کہ لا زائدہ ہے اور یہ اقسم بیوم القیامۃ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " اذا قسمو الیصر منھا مصبحین " ( قلم 17) انہوں نے قسم اٹھائی وہ ضرور صبح سویرے اس باغ کو کاٹ لیں گے یعنی پھل توڑ لیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قسم پر اعتراض نہیں کیا بلکہ فرمایا: " ولا یستثنون " کہ انہوں نے استثناء بھی نہیں کیا ( تو اس سے ثابت ہو کہ یہ قسم یمین ہے )

"أصبت" ← رؤيا عبرها أبو بكر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عباس في حديث طويل فيه ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إسحاق بن الحسين الطحان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6679

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6680

6323 - فحدثني سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد بن الحسن قال في هذه الآية دليل على أن القسم يمين لأن الاستثناء لا يكون إلا في اليمين وإذا كانت يمينا كانت مباحة فيما سائر الأيمان فيه مباحة ومكروهة فيما سائر الأيمان فيه مكروهة ولا حجة عندنا على أهل هذه المقالة في حديث بن عباس الذي ذكرنا فإنه يجوز أن يكون الذي كره رسول الله صلى الله عليه و سلم في القسم لأبي بكر من أجله هو أن التعبير الذي صوبه في بعضه وخطأه في بعضه لم يكن ذلك منه من جهة الوحي ولكن من جهة ما يعبر له الرؤيا كما نهى أن توطأ الحوامل على الإشفاق منه أن يضر ذلك بأولادهم فلما بلغه أن فارس والروم يفعلون ذلك فلا يضر بأولادهم أطلق ما كان حظر من ذلك وكما قال في تلقيح النخل ما أظن ان ذلك يغني شيئا فتركوه ونزعوا عنه فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال إنما هو ظن ظننته إن كان يعني شيئا فليصنعوه فإنما أنا بشر مثلكم وإنما هو ظن ظننته والظن يخطئ ويصيب ولكن ما قلت قال الله عز و جل فلن أكذب على الله

محمد بن حسن کہتے ہیں کہ اس آیت میں دلیل ہے کہ قسم یمین ہے کیونکہ استثنیٰ یمین ہی میں ہوتا ہے جب اس کا یمین ہونا ثابت ہو گیا تو پھر ان سب مقامات پر اس کا جواز ثابت ہوا جہاں یمین درست ہے اور جن مقامات پر یمین مکروہ ہے وہاں یہ بھی مکروہ ہے ہمارے نزدیک فریق ثانی کے خلاف ابن عباس کی روایت میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ کہنا ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قسم کو ابو بکر صدیق کے لئے مکروہ قرار دیا ہو کہ وہ تعبیر جس کو بعض کو آپ نے درست فرمایا اور بعض کو خطا قرار دیا تو وحی کے اعتبار سے نہیں بھی بلکہ علم تعبیر کے لحاظ سے تھی جیسا کہ حاملہ عورت سے وطی کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر کہ اولاد کو نقصان پہنچے پھر آپ کو یہ اطلاع ملی کہ فارس اور روم کے لوگ اس طرح کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی اولاد کو نقصان نہیں دیتی تو جس سے ڈرایا تھا اس کی آزادی دے دی جس طرح کہ تعبیر نحل یعنی کھجوروں کی پیوندکاری کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں اس کام کا کچھ بھی فائدہ نہیں تو صحابہ کرام نے اس کو چھوڑ دیا اور اس سے نقصان ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم جیسا انسان ہوں اور یہ گمان ہے جو میں نے کیا اور گمان کبھی درست نکلتا ہے اور کبھی خطا لیکن جو میں اس طرح کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے تو میں ہر گز اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بول سکتا اسی طرح کی روایت ابو داؤد نے اقضیہ باب 7 میں ذکر کی ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6680

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6681

6324 - حدثنا بذلك يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر قال ثنا إسرائيل عن سماك عن موسى بن طلحة عن أبيه فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ما قاله من جهة الظن فهو كسائر البشر في ظنونهم وأن الذي يقوله عن الله عز و جل فهو الذي لا يجوز خلافه وكانت الرؤيا إنما تعبر بالظن والتحري وقد روى ذلك عن محمد بن سيرين واحتج بقول الله عز و جل وقال للذي ظن أنه ناج منهما فلما كان التعبير من هذه الجهة التي لا حقيقة فيها كره رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بكر أن يقسم عليه ليخبره بما يظنه صوابا على أنه عنده كذلك وقد يكون في الحقيقة بخلافه ألا ترى أن رجلا لو نظر في مسألة من الفقه واجتهد فأداه اجتهاده إلى شيء وسعه القول به ورد ما خالفه وتخطئة قائله إذا كانت الدلائل التي بها يستخرج الجواب في ذلك رافعة له ولو حلف على أن ذلك الجواب صواب كان مخطئا لأنه لم يكلف إصابة الصواب فيكون ما قاله هو الصواب ولكنه كلف الاجتهاد وقد يؤديه الاجتهاد إلى الصواب وإلى غير الصواب فمن هذه الجهة كره رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بكر الحلف عليه ليخبره بصوابه ما هو لا من جهة كراهية القسم وقد روى في ذلك ما يدل على ما ذكرناه

سماک نے موسیٰ بن طلحہ اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس میں یہ بتلا دیا کہ جو کچھ میں گمان کی جانب سے کہوں تو وہ گمان میں عام انسانوں کی طرح ہے اور جو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمائیں تو وہ وحی ہے جس کی مخالفت جائز نہیں اور خواب کی تعبیر تو گمان اور تحری سے کی جاتی ہے اور یہ بات محمد ابن سیرین نے اس آیت " وقال للذی ظن انہ ناج منھما " ( یوسف 46) کو دلیل بنا کر فرمائی ہے ۔ جب کہ تعبیر ایسی جہت سے ہے جس میں قطعی بات نہیں ہوتی تو اسی لحاظ سے جناب رسول اللہ ﷺ نے صدیق اکبر کے اس پر قسم اٹھانے کو نا پسند کیا کہ آپ نے جس کو درست قرار دیا ہے اس کی ضرور اطلاع دیں اس طور پر کہ آ پکے ہاں اسی طرح ہے اور ہو سکتا ہے کہ حقیقت میں ا س کے خلاف ہو کیا تم دیکھتے ہو کہ ایک ادمی نے فقہ کے ایک مسئلے کے بارے میں غور کیا اور پھر اجتہاد کیا اس کے اجتہاد نے اس کو ایک چیز تک پہنچایا تو اس کو اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اپنے اجتہاد کے مطابق بات کہے اور اس کے خلاف قول کو رد کر دے اور اس کے کہنے والے کو غلط قرار دے جبکہ دلائل جن کے ذریعے اس نے مسئلہ نکالا ہے وہ مخالف کے قول کی تردید کر رہے ہیں اگر یہ آدمی اس جواب کے صحیح ہونے پر قسم اٹھائے وہ غلطی پر ہوگا اس لئے کہ صحیح تک پہنچے کا مکلف نہیں بنایا گیا پس جو کچھ اس نے کہا ہے وہی درست ہو گا کیونکہ وہ اجتہاد کا مکلف بنایا گیا ہے اور یہ اجتہاد بسا اوقات اس کو درست اور بسا اوقات غیر درست کی طرف لے جائے گا پس اسی جہت کے لحاظ سے جناب رسول اللہ ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس پر حلف اٹھانے کو ناپسند کیا اس لحاظ سے نہیں کہ آپ نے قسم کو ناپسند کیا اور ہم نے جو بات کہی ہے اس پر یہ روایات دلالت کرتی ہیں ۔

مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَامِرٍ ← بذلك يزيد بن سنان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6681

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6682

6325 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس مثل حديث إسحاق بن الحسين غير أنه قال والله لتخبرني بما أصبت مما أخطأت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تقسم فدل ذلك على أن ما كره رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الحلف فيه على إخباره بصوابه أو خطئه في شيء لم يقله رسول الله صلى الله عليه و سلم بالوحي الذي يعلم به حقيقة الأشياء لا لذكره القسم

عبید اللہ بن عبداللہ نے اسحٰق بن حسین جیسی روایت نقل کی مگر اس کے اندر یہ بات زائد ہے : واللہ لتخبرنی بما اصیت مما اخطات" ( اللہ کی قسم آپ مجھے ضرور بتلائیں جو میں نے اس میں سے درست کہا اور جو نا درست کہا ) تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم مت اٹھاؤ۔ ۔ اس سے دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جس کو ناپسند کیا وہ آپ ﷺ کی درست اور نا درست کی اطلاع پر جو قسم اٹھائی وہ تھی اس لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے وحی ذریعے تعبیر نہیں فرمائی تھی جس سے چیزوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اپ ﷺ نے اس لئے ناپسندیدگی نہیں فرمائی کہ انہوں نے قسم کا ذکر کیا ہے ۔

والله لتخبرني بما أصبت مما أخطأت ← بن عباس مثل حديث إسحاق بن الحسين غير أنه ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6682

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6683

6326 - وحدثنا بن أبي مريم قال ثنا الفريابي قال ثنا شريك عن يزيد بن زياد عن عبد الرحمن بن الحارث عن بن عباس قال القسم يمين فهذا بن عباس وهو الذي روى عنه الحديث الأول قد جعل القسم يمينا ففي ذلك دليل على إباحة الحلف به وأنه عنده كسائر الأيمان فثبت بذلك ما تأولنا الحديث الأول عليه وانتفى قول من تأوله على غير ما تأولناه عليه قال أبو جعفر وقد روى في إباحة القسم ما قد

عبدالرحمن بن حارث نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے قسم یمین ہے ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ وہی ہیں جنہوں نے پہلی روایت نقل کی ہے یہاں وہ قسم کو یمین بتلا رہے ہیں اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حلف مباح ہے اور یہ عام قسموں کی طرح ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ حدیث اول کی جو ہم نے تاویل کی ہے وہ درست ہے اور دوسری تاویل صحیح نہیں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اباحت قسم کی اور روایات بھی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← يزِيد بن زِيَاد ← شَرِيکٍ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6683

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6684

6327 - حدثنا عبد الغني بن أبي عقيل قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن أشعث بن سليم عن معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بإبرار القسم

معاویہ بن سوید نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قسم پورا کرنے کا حکم دیا۔

أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بإبرار القسم ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6684

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6685

6328 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود ووهب قالا ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال بإبرار القسم أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر بإبرار القسم ولو كان المقسم عاصيا لما كان ينبغي أن يبر قسمه وقد

ابو داؤد اور وہب نے دونوں نے شعبہ سے روایت کی ہے اور اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی اور اس نے ابرار القسم کے لفظ بھی ذکر کئے ہیں۔ غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قسم کے پورا کرنے کا حکم دیا اگر قسم اٹھانے والا نا فرمان ہو تو پھر اسے قسم کا پورا کرنا مناسب نہیں یعنی گناہ کی قسم ۔

بإبرار القسم أفلا ترى ← شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه ← أبو داود ووهب ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6685

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6686

6329 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا عبد الله بن بكر السهمي قال ثنا حميد الطويل عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره فلو كان القسم مكروها لكان قائله عاصيا ولما أبر الله قسم من عصاه وقد روينا فيما تقدم من كتابنا هذا عن المغيرة بن شعبة أنه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد ريح ثوم فلما فرغ من الصلاة قال من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا في مسجدنا حتى يذهب ريحها فأتيته فقلت أقسمت عليك يا رسول الله لما أعطيتني يدك فأعطانيها فأريته جبائر على صدري فقال إن لك عذرا ولم ينكر عليه إقسامه عليه

حمید الطویل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتے ہیں ۔ اگر قسم مکروہ ہوتی تو اس کا کہنے والا ہی گناہ گار تھا اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا نہ کرتے ہم پہلے ذکر کر آئے کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آ پ کو لہسن کی بو محسوس ہوئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا جو آدمی اس پودے کو کھائے تو وہ ہماری مسجد کے اس وقت تک قریب نہ آئے جب تک اس کی بو دور نہ ہو چنانچہ میں آپ کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیں آپ نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا تو میں نے آپ کو اپنے سینے کے زخم دکھائےا تو آپ نے فرمایا تم معذور ہو۔ آپ ﷺ نے مغیرہ کی قسم اٹھانے پر اعتراض نہیں فرمایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6686

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 12 باب القسم ) · حديث 6687

6330 - حدثنا جعفر بن سليمان النوفلي قال ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال حدثنا عمر بن أبي بكر الموصلي عن بن أبي الزناد عن أبيه عن عمرة عن عائشة أنها قالت أهدي لرسول الله صلى الله عليه و سلم لحم فقال أهدى لزينب بنت جحش قالت فأهديت لها فردته فقال أقسمت عليك لا رددتها فرددتها فدل ما ذكرنا على إباحة القسم وأن حكمه حكم اليمين وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن إبراهيم النخعي

عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو گوشت کا تحفہ بھیجا گیا تو آپ نے فرمایا یہ زینب بنت حجش کو دے دو میں نے ان کے پاس بھیجا تو انہوں نے واپس کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم اس کو واپس بھیجو تو میں نے واپس بھیج دیا۔ ان روایات سے ثابت ہو گیا کہ قسم مباح ہے اور اس کا حکم یمین والا ہے یہی امام ابو حنیفہ، ابو یوسف ، اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَوْصِلِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جعفر بن سليمان النوفلي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6687

chevron_left Previous
1…222324…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter