Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6664

6308 - حدثنا علي قال ثنا خالد بن عمرو قال ثنا يونس بن أبي إسحاق قال رأيت قيس بن أبي حازم وعبد الرحمن بن الأسود وقيس بن ثمامة والشعبي يتختمون بيسارهم حدثني علي قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا شعبة عن مغيرة قال كان نقش خاتم إبراهيم نحن بالله وله فهؤلاء الذين روينا عنهم هذه الآثار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وتابعيهم قد كانوا يتختمون وليس لهم سلطان فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما من طريق النظر فإن السلطان إذا كان له لبس الخاتم لأنه ليس بحلية فكذلك أيضا غير السلطان له أيضا لبسه لأنه ليس بحلية وقد رأينا ما نهى عنه من استعمال الذهب والفضة يستوي فيه السلطان والعامة فالنظر على ذلك أن يكون كذلك ما أبيح للسلطان من لبس الخاتم يستوي فيه هو والعامة وإن كان إنما أبيح الخاتم لاحتياجه إليه ليختم به مال المسلمين وأنه أيضا مباح للعامة لاحتياجهم إليه للختم على أموالهم وكتبهم فلا فرق في ذلك بين السلطان وغير السلطان

یونس بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے قیس بن ابی حازم ، عبدالرحمن بن الاسود ، قیس بن ثمامہ اور شعبی رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھیاں پہنے دیکھا۔ نظر طحاوی رحمتہ اللہ علیہ : اگر بادشاہ کے لئے انگوٹھی پہننا جائز ہے کیونکہ یہ زیور نہیں تو دیگر لوگوں کے لئے بھی اس کا پہننا درست ہے کیونکہ یہ زیور نہیں ہے ۔

مُغِيرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَلِيٍّ، ← الشعبي يتختمون بيسارهم ← قيس بن ثمامة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← رأيت قيس بن أبي حازم ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← خالد بن عمرو ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6664

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6665

6309 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم ح

حضرت مغیرہ سے مری ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی انگوٹھی کا نقش نحن باللہ ولہ تھا ۔ پس صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن سے ہم نے یہ آثار نقل کیے ہیں ، یہ سب حضرات انگوٹھیاں پہنتے تھے حالانکہ ان میں کوئی بھی حاکم نہ تھا ۔ اس باب کا حکم روایات کے پیش نظر یہی ہے ۔ اگر بادشاہ کے لئے انگوٹھی پہننا جائز ہے کیونکہ یہ زیور تو نہیں تو دیگر لوگوں کے لئے بھی اس کا پہننا درست ہے کیونکہ یہ زیور نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چاندی اور سونے ( کے برتنوں ) کی ممانعت میں بادشاہ اور عام لوگ برابر ہیں پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں بھی حکم اسی طرح ہو ۔ اسی طرح بادشاہ کو چاندی کی انگوٹھی روا ہے تو وہ اور عام لوگ اس حکم میں دونوں برابر ہیں اگر بادشاہ کے لئے اس طور پر مباح کی گئی تاکہ وہ اس سے اموال مسلمین کے سلسلہ میں مہر لگائے اور یہ بات عام بات عام لوگوں کے لے مباح ہے ( ضروریات میں کم زیادہ کا بس فرق ہے ) کیونکہ ان کو بھی یہ ضرورت ہے کہ وہ اپنے اموال و خطوط پر مہر لگائیں اس سلسلہ میں بادشاہ اور غیر بادشاہ کا کوئی فرق نہیں ۔ اس بات کا حکم روایات کے پیش نظر یہی ہے ۔

أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6665

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6666

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن المقدام بن شريح عن أبيه عن عائشة قالت ما بال رسول الله صلى الله عليه و سلم قائما منذ أنزل عليه القرآن قال أبو جعفر فكره قوم البول قائما واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا به بأسا واحتجوا في ذلك بما

ابراہیم بن مرزوق کہتے ہیں ہم سے ابو عامر نے بیان کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6666

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6667

6310 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل شقيق بن سلمة عن حذيفة قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم بال وهو قائم على سباطة قوم ثم أتى بوضوء فتوضأ ومسح على خفيه

مقدام ابن شریح نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا جب سے آپ پر وحی کا نزول شروع ہوا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض لوگوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کو منع کیا ہے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا اس میں کچھ حرج نہیں ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6667

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6668

6311 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن سليمان فذكر بإسناده مثله

شقیق بن سلمہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے کھڑے ہو نے کی حالت میں ایک قوم کی کوڑی پر پیشاب کیا پھر پھر آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔

سليمان فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6668

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6669

6312 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان فذكر بإسناده مثله

شعبہ نے سلیمان سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

سليمان فذكر بإسناده مثله ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6669

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6670

6313 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان الثوري قال ثنا منصور عن أبي وائل عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ففي هذا الحديث إباحة البول قائما وهذا أولى مما ذكرنا قبله عن عائشة لأن حديث عائشة إنما فيه من حدثك أن رسول الله بال قائما بعد ما أنزل عليه القرآن فلا تصدقه أي أن القرآن لما نزل عليه أمر فيه بالطهارة واجتناب النجاسة والتحرز منها فلما رأت عائشة ذلك وعلمت تعظيم رسول الله صلى الله عليه و سلم لأمر الله وكان الأغلب عندها أن من بال قائما لا يكاد يسلم من إصابة البول ثيابه وبدنه قالت ذلك وليس فيه حكاية منها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم يوافق ذلك ثم جاء حذيفة فأخبر أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة بعد نزول القرآن عليه يبول قائما فثبت بذلك إباحة البول قائما إذا كان البائل في ذلك يأمن من النجاسة على بدنه وثيابه وقد روى عن عائشة في هذا ما يدل على ما ذهبنا إليه من معنى حديثها الذي ذكرنا

ابو عوانہ نے سلیمان سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے پھر انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ اس روایت میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ہے اور یہ روایات اس روایات سے اولیٰ ہیں جو ہم نے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کیونکہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ میں یہ مذکور ہے کہ جو تمہیں یہ بیان کرتے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے نزول قرآن کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کی مت تصدیق کرو یعنی جب قرآن مجید اترا تو اس میں طہارت کا حکم ملا ۔ اور نجاست سے پرہیز و گریز کا حکم دیا گیا جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھا اور جاتا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حکم کی بہت تعظیم فرماتے تو عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اغلب بات یہی ہے کہ جس نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا وہ کپڑے اور بدن کو پیشاب لگنے سے بچ نہیں سکتا تو اس بات کے پیش نظر انہوں نے یہ بات فرمائی حالانکہ روایت میں جناب نبی اکرم ﷺ سے کوئی ایسی بات منقول نہیں ہے جو اس کی تصدیق کرے ۔ پھر دوسری طرف حضرت حذیفہ نے خود جناب رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں نزول قرآن کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اباحت کا ثبوت ملتا ہے بشرطیکہ کپڑے اور بدن پر نجاست نہ لگے۔

عائشة لأن حديث عائشة إنما فيه من حدثك ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6670

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6671

6314 - حدثنا أحمد بن داود وقال ثنا بن صالح قال ثنا شريك عن المقدام بن شريح عن أبيه عن عائشة قالت من حدثك أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم يبول قائما فكذبه فإني رأيته يبول جالسا ففي هذا الحديث ما يدل على ما دفعت به عائشة رواية رؤية من رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم يبول قائما وإنما رؤيتها إياه يبول جالسا فليس في هذا الحديث عندنا دليل على ذلك لأنه قد يجوز أن يبول جالسا في وقت ويبول قائما في وقت آخر فلم تحك عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا شيئا يدل على كراهية البول قائما وقد روى عن غير واحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه بال قائما

مقدام بن شریح نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جو شخص تمہیں یہ بیان کرے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے اس نے اپ پر جھوٹ بولا میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا ۔ اس روایت میں اس بات پر دلالت ہے جس کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ تردید کر رہی ہیں جو کہ یہ کہتا ہے کہ میں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا ہے جبکہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا ۔ تو اس میں ہمارے ہاں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا بلکہ ممکن ہے کہ آپ نے کسی وقت بیٹھ کر اور دوسرے وقت ( ضرورۃ) کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوئی بات نقل نہیں کی جو کھڑے ہو کر پیشاب کی کراہت ( تحریمی ) پر دلالت کرتی ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← شَرِيکٍ ← بن صالح ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6671

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6672

6315 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر عن شعبة أنه حدث عن سليمان عن زيد بن وهب قال رأيت عمر بال قائما فأنجح حتى كاد يصرع

زید بن وہب نے کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا انہوں نے اپنی حاجب کو پورا کیا یہاں تک کہ وہ گرنے کے قریب ہو گئے ( معلوم ہوتا ہے وہ کسی مجبوری کی وجہ سے تھا)

رأيت عمر بال قائما فأنجح حتى كاد يصرع ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شعبة أنه حدث ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6672

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6673

6316 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب وأبو داود قالا ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي ظبيان أنه رأى عليا بال قائما

سلمہ بن کھیل نے ابو ظہیان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا۔

أبي ظبيان أنه رأى عليا بال قائما ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← وهب وأبو داود ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6673

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6674

6317 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن سليمان فذكر بإسناده مثله

شعبہ نے حضرت سلیمان رحمتہ اللہ علیہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

سليمان فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6674

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 11 باب البول قائما ) · حديث 6675

6318 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي عن الأعمش فذكر بإسناده مثله

ابی نے اعمش سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

الأعمش فذكر بإسناده مثله ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6675

chevron_left Previous
1…212223…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter