Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6652

6296 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب قال ثنا سعد عن قتادة عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد أن يكتب إلى كسرى وقيصر فقيل له إنهم لا يقبلون كتابك إلا بخاتم فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسری اور قیصر کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ وہ آپ کا خط مہر کے بغیر قبول نہیں کریں گے تو آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس کا نقش ( محمد رسول اللہ ﷺ ) تھا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعْدٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6652

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6653

6297 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا شبابة قال ثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال أراد النبي صلى الله عليه و سلم أن يكتب كتابا إلى الروم ثم ذكر مثله فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد انتقش في خاتمه العربية ثم قد فعل ذلك أصحابه من بعده

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ روم ( کے بادشاہ ) کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ حاصل : یہ جناب رسول اللہ ﷺ ہیں کہ جن کی انگوٹھی کا نقل عربی زبان میں تھا پھر ان کے بعد صحابہ کرم نے اسی طرح کیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6653

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6654

6298 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا إبراهيم بن محمد القرشي عن عمرو بن يحيى عن جده قال قدم عمرو بن سعيد مع أخيه على النبي صلى الله عليه و سلم فنظر إلى حلقة في يده فقال ما هذه الحلقة في يدك قال هذه حلقة يا رسول الله قال فما نقشها قال محمد رسول الله قال أرنيه فتختمه رسول الله صلى الله عليه و سلم فمات وهو في يده ثم أخذه أبو بكر بعد ذلك فكان في يده ثم أخذه عمر فكان في يده ثم أخذه عثمان فكان في يده عامة خلافته حتى سقط منه في بير أريس فهذا رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينكر على خالد بن سعيد لبس ما هو منقوش بالعربية

عمرو بن یحییٰ نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ عمرو بن سعد اپنے بھائی کے ساتھ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ہاتھ میں ایک چھلا دیکھا اپ نے فرمایا یہ چھلا جو تمہارے ہاتھ میں ہے یہ کیسا ہے ۔ تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ چھلا ہے آپ نے فرمایا اس کا نقش کیا ہے؟ اس نے کہا محمد رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا مجھے دکھاؤ ۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ اس کو مہر کے لئے استعمال فرماتے تھے ۔ جب آپ کی وفات ہوئی تو وہ آپ کے دست اقدس میں تھی ۔ پھر اس کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لیا وہ ان کے ہاتھ میں رہی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لے لیا ۔ پس وہ ان کے ہاتھ میں رہی ۔ پھر اس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لے لیا وہ زمانہ خلافت میں ان کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ بیرار لیں میں ان کے ہاتھ سے گر پڑی ۔ یہ جناب رسول اللہ ﷺ ہیں کہ آپ نے خالد بن سعید کو ہاتھ میں عربی نقش والی انگوٹھی سے منع نہیں فرمایا۔

جَدِّهِ، ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← إبراهيم بن محمد القرشي ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6654

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6655

6299 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا الربيع بن صبيح عن حيان الصائغ قال كان نقش خاتم أبي بكر الصديق نعم القادر الله

حیان صائغ سے روایت ہے کہ جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش " نعم القادر اللہ " تھا ۔ اللہ تعالیٰ خوب قدرت والا ہے ۔

كان نقش خاتم أبي بكر الصديق نعم القادر الله ← حيان الصائغ ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6655

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6656

6300 - حدثنا علي قال ثنا خالد بن عمرو قال ثنا إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال كان نقش خاتم علي رضي الله عنه لله الملك

ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش یہ تھا " اللہ الملک " اللہ بادشاہ ہے ۔

كان نقش خاتم علي لله الملك ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← خالد بن عمرو ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6656

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6657

6301 - حدثنا علي قال ثنا عبد الوهاب قال ثنا شعبة عن قتادة قال كان نقش خاتم أبي عبيدة بن الجراح الحمد لله فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وخلفاؤه الراشدون المهديون قد نقشوا على خواتيمهم العربية فدل ما فعلوا من ذلك على أنه غير محظور عليهم وأنه إنما أريد بالنهي أن لا ينقش على خاتم الإمام لئلا يفتعل فيما بيده من الأموال التي للمسلمين ألا ترى أن عمر قد روينا عنه النهي عن ذلك ثم قد لبس هو من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما هو منقوش بالعربية فدل ذلك على أن ما كره من العربية هو العربية الموضوعة على خاتم إمام المسلمين خاصة لا غير ذلك وأما ما روي مما كان نقش خاتم النعمان بن مقرن وابن مسعود وحذيفة فإنه قد يجوز أن يكونوا فعلوا ذلك ولهم أن ينقشوا مكانهم عربيا ولقد

قتادہ کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ بن جراع کی انگوٹھی کا نقش یہ تھا " الحمد للہ " تمام تعریفوں کا حقدار اللہ ہے ۔ یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں اور خلفاء راشدین المہدبین ہیں جنہوں نے اپنی انگوٹھیوں کا نقش عرب میں بنوایا تھا ان کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ممنوع نہیں اور ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ امام کی انگوٹھی والا نقش نہ بنوایا جائے تاکہ اس کے ذریعہ وہ ( جھوٹی مہریں لگا کر ) مسلمانوں کے اموال کے سلسلہ میں کوئی کاروائی نہ کرے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی ممانعت نقل کی ہے پھر ان کا عمل ذکر کیا کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی عربی منقوش انگوٹھی خود استعمال فرمائی ۔ اس سے بھی یہ دلالت مزید مل گئی کہ جس عربی نقش والی انگوٹھی کو انہوں نے ناپسند کیا وہ امام و مقتدا والی ہے ۔ اس کے علاوہ کا یہ حکم نہیں ۔ اب رہی وہ روایات جو حضرت نعمان بن مقرب، ابن مسعود ، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سند سے منقول ہیں تو ممکن ہے کہ انہوں نے اس طرح کیا اور وہ اس کی بجائے عربی میں بھی نقش بنوا سکتے تھے ۔ ( یہ بھی ممکن ہے کہ سنداً یہ روایات کمزور ہوں)

قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6657

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 9 باب نقش الخواتيم ) · حديث 6658

6302 - حدثني بن أبي داود قال ثنا القواريري قال ثنا عبد الوارث عن عمرو عن الحسن أنه كان يكره أن ينقش الرجل على خاتمه صورة وقال إذا ختمت لها فقد صورت بها

عمرو بن حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ وہ انگوٹھی کے نگینہ پر تصویر بنانے کو نا پسند و مکروہ قرار دیتے تھے اور فرماتے جب تم اس کی مہر لگاؤ گے تو تم نے گویا تصویر بنائی ۔

إذا ختمت لها فقد صورت بها ← الحسن أنه كان يكره أن ينقش الرجل على خاتمه صورة ← عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6658

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6659

6303 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا معلى بن منصور قال ثنا مفضل بن فضالة قال ثنا عياش بن عياش عن الهيثم بن شفي الحجري عن أبي عامر عن أبي ريحانة قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبوس الخاتم إلا لذي سلطان قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة لبس الخاتم إلا لذي سلطان واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بلبسه لسائر الناس من سلطان وغيره بأسا وكان من حجتهم في ذلك الحديث الذي قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الباب الذي قبل هذا الباب أنه ألقي خاتمه فألقى الناس خواتيمهم فقد دل هذا على أن العامة قد كانت تلبس الخواتيم في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن قال قائل فكيف تحتج بهذا وهو منسوخ قيل له إن الذي احتججنا به عنه ليس بمنسوخ وإنما المنسوخ ترك لبس الخاتم من الذهب للنبي صلى الله عليه و سلم ولغيره من أمته وقبل ذلك فقد كان هو وهم في ذلك سواء فلما نسخ لبس خواتيم الذهب كان الحكم متقدما في لبسه ولبسهم الخواتيم سواء وكان النسخ لم يمنعه هو صلى الله عليه و سلم من لبس خاتم الفضة فكذلك أيضا لا يمنعهم من لبس الخواتيم من فضة فهذا الذي أرادنا من هذا الحديث وقد روى عن جماعة ممن لم يكن لهم سلطان أنهم كانوا يلبسون الخواتيم فمما روى في ذلك ما

ابو عامر نے حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حکام کے علاوہ دوسروں کو انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : ایک جماعت علماء کہتی ہے کہ حاکم کے علاوہ کسی دوسرے کو انگوٹھی کا استعمال مکروہ ہے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ تمام لوگ خواہ وہ صاحب اقتدار ہوں یا غیر ، انگوٹھی کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی دلیل وہ روایت ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی پھینک دی تو دوسرے لوگوں نے بھی پھینک دیں اس سے یہ خود دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عام لوگ بھی انگوٹھیاں پہنتے تھے ۔ اگر کوئی کہے کہ آپ منسوخ روایت سے استدلال کر رہے ہیں ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا جس بات سے ہم نے اس روایت سے استدلال کیا ہے وہ تو منسوخ نہیں ہے ۔ منسوخ سونے کی انگوٹھی کا آپ اور آپ کی امت کے لئے پہننا ہے ( مطلق انگوٹھی پہننا تو مخالف کو بھی مسلم ہے ) اور اس اعلان نسخ سے پہلے پہننے میں آپ ﷺ اور دوسرے لوگ سب شریک تھے پھر سونے کی انگوٹھی منسوخ ہوئی مگر آپ کے اور دوسرے لوگوں کے لئے انگوٹھی کا حکم تو اسی طرح باقی رہا ۔ اس نسخ نے آپ کو چاندی کی انگوٹھی سے نہ روکا۔ تو اسی طرح دوسرے لوگوں کے لئے بھی رکاوٹ نہ ہو گی اس روایت سے ہمارا استدلال صرف اتنا ہی ہے ۔ ورنہ تو ان لوگوں سے اس کا پہننا ثابت ہے جو حاکم و بادشاہ نہ تھے روایات ملاحظہ ہوں۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة لبس الخاتم إلا لذي سلطان ← لبوس الخاتم إلا لذي سلطان ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي رَيْحَانَةَ ← أَبِي عَامِرٍ ← الهيثم بن شفي الحجري ← عَيَّاشِ بْنِ عَيَّاشٍ ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6659

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6660

6304 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا محمد بن جعفر المدائني قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر بن محمد عن أبيه أن الحسن والحسين كانا يتختمان في يسارهما وكان في خواتيمهما ذكر الله

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھیاں پہنتے تھے اور ان انگوٹھیوں پر ذکر اللہ منقش تھا۔

اللہُ ← أبيه أن الحسن والحسين كانا يتختمان في يسارهما وكان في خواتيمهما ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6660

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6661

6305 - حدثنا علي قال ثنا يعلى بن عبيد قال ثنا رشد بن كريب أنه قال رأيت بن الحنفية يتختم في يساره

رشد بنکریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی استعمال فرماتے تھے ۔

رأيت بن الحنفية يتختم في يساره ← رشد بن كريب أنه ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6661

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6662

6306 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوحاظي قال ثنا سليمان بن بلال قال ثنا جعفر بن محمد عن أبيه قال كان الحسن والحسين يتختمان في يسارهما

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھیاں پہنتے تھے ۔

کان الحسن والحسين يتختمان في يسارهما ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الوحاظي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6662

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 10 باب لبس الخاتم لغير ذي السلطان ) · حديث 6663

6307 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن إبراهيم بن عطاء عن أبيه قال كان نقش خاتم عمران بن حصين رحلا متقلدا بسيف

ابراہیم بن عطاء نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش تلوار گلے میں لٹکانے والا آدمی تھا۔

كان نقش خاتم عمران بن حصين رحلا متقلدا بسيف ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6663

chevron_left Previous
1…202122…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter