Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6568

6221 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشيم عن أبي بشر عن يوسف بن ماهك قال سألت امرأة بن عمر قالت أتحلي بالذهب قال نعم قالت فما تقول لي في الحرير قال يكره ذلك قالت ما يكره أخبرني أحلال هو أم حرام قال كنا نتحدث أن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة

یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا سونے کے زیور میں پہن لو؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں اس نے پوچھا ۔ آپ ریشم کے متعلق کیا فرماتے ہیں فرمایا یہ مکروہ ہے ۔ اس نے پوچھا مکروہ کیا ہوتا ہے آ پ مجھے بتلائیں کہ آیا حلال ہے یا حرام ہے ؟ کہنے لگے ہم بات کرتے تھے کہ جس نے اس کو دنیا میں پہنا وہ اس کو آخرت میں نہ پہنے گا۔

كنا نتحدث أن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة ← أحلال هو أم حرام ← ما يكره ← يكره ذلك ← فما تقول لي في الحرير ← نَعَمْ ← أتحلي بالذهب ← سألت امرأة بن عمر ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6568

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6569

6222 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا خالد بن بزار قال ثنا عبد العزيز بن أبي داود عن نافع عن بن عمر أن امرأة سألته عن لبس الحرير فكرهه فقالت ولم فقال لها أما إذ أبيت فسأخبرك كنا نقول من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے ریشم پہننے سے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند و مکروہ قرار دیا تو اس عورت نے کہا اس کی کیا وجہ ہے تو فرمایا اگر اس کا انکار کرتی ہے تو میں تمہیں بتلاتا ہوں ہم یہ کہا کرتے تھے جس نے اس کو دنیا میں پہنا وہ اس وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔

وَلِمَ ← لبس الحرير فكرهه ← بن عمر أن امرأة سألته ← نَافِعٍ ← عبد العزيز بن أبي داود ← خالد بن بزار ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6569

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6570

6223 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال أخبرني أبو دينار قال سمعت بن الزبير يخطب يقول يا أيها الناس لا تلبسوا نساءكم الحرير فإني سمعت عمر بن الخطاب يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة قال بن الزبير وأنا أقول من لم يلبسه في الآخرة لم يدخل الجنة لأن الله عز و جل قال ولباسهم فيها حرير

ابو دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن الزبیر رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے سنا ۔ کہ اے لوگو ! تم لوگوں کو ریشم مت پہناؤ ۔ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا کہ جس نے ریشم کو دنیا میں پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا ۔ ابن الزبیر کہنے لگے میں کہتا ہوں جس نے اس کو آخرت میں نہ پہنا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " ولباسھم فیھا حریر " ( الحج ۔ 23)

بن الزبير يخطب ← أبو دينار ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6570

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6571

6224 - حدثنا محمد بن خريمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة قال حدثني الأزرق بن قيس الحارثي قال سمعت عبد الله بن الزبير يخطب يوم التروية وهو يقول ا أيها الناس لا تلبسوا الحرير ولا تلبسوه نساءكم ولا أبناءكم فإنه من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة وذكروا في ذلك أيضا عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

ازرق بن قیس حارثی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ترویہ کے دن خطبہ دیتے سنا ۔ اے لوگو ! تم ریشم نہ پہنو ! اور نہ تم اپنی عورتوں اور بچوں کو پہناؤ ۔ اس لئے کہ جس نے اس کو دنیا میں پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔

عبد الله بن الزبير يخطب يوم التروية وهو ← الأزرق بن قيس الحارثي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← محمد بن خريمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6571

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6572

6225 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن أبا غسانة المعافري حدثه أنه سمع عقبة بن عامر الجهني يخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمنع أهله الحلية والحرير ويقول إن كنتن تحببن حلية الجنة وحريرها فلا تلبسنها في الدنيا قيل لهم أما قول النبي صلى الله عليه و سلم من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة فقد روى ذلك وقد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد به الرجال خاصة ويجوز أن يكون أراد به الرجال والنساء وما ذكرنا من حديث علي وعبد الله بن عمر وزيد بن أرقم وأبي موسى يخبرون أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما أراد به الرجال دون النساء فهو أولى وهذا المعنى أولى أن يحمل عليه وجه هذا الحديث حتى لا يضاد ما ذكرنا قبله ولئن كان ما ذكروه عن بن عمر وابن الزبير في ذلك حجة فإن ما قد ذكرناه عن علي مما يخالف ذلك أحرى بأن يكون حجة وقد روى في هذا أيضا عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك

ابو عشانہ معافری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ جہنی کو جناب رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ خبر دیتے سنا کہ آپ اپنے اہل کو زیور و ریشم سے منع فرماتے اور فرماتے اگرتم جنت کا زیور و ریشم پسند کرتی ہو۔ تو اس کو دنیا میں مت پہنو ۔ جناب رسول اللہﷺ کا قول " من لبسہ فی الدنیا " ۔۔۔۔ اس سے مراد فقط مرد بھی ہو سکتے ہیں ۔ 2۔ مراد بقول تمہارے مرد عورتیں دونوں ہوں اور ہم نے حضرت علی ، ابن عمر ، زید بن ارقم ، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کی روایات ذکر کی ہیں انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ اس سے مراد مرد ہیں عورتیں نہیں ۔ پس یہ احتمال متعین ہوا۔ یہ مطلب لینے سے دونوں روایات میں تضاد نہ رہے گا ۔ اگر ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بات کو وہ حجت قرار دیتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ان سے بڑھ کر حجت ہے اور اب تو فیصلہ ہی ہو گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اپنے قول کے خلاف اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی حمایت میں نقل کیا ہے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يُخْبِرُ ← أَنَّهُ ← عمرو بن الحارث أن أبا غسانة المعافري ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6572

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6573

6226 - حدثنا يزيد بن سنان وابن مرزوق قالا ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت نافعا يحدث عن بن عمر قال رأى عمر عطارد التميمي يقيم في السوق حلة سيراء فقال عمر يا رسول الله لو اشتريتها لوفد العرب إذا قدموا عليك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما يلبس الحرير في الدنيا من لا خلاق له في الآخرة فلما كان بعد ذلك أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بحلل سيراء فبعث إلى عمر بحلة وإلى أسامة بحلة وأعطى عليا حلة فأمره أن يشقها خمرا بين نسائه قال وراح أسامة بحلته فنظر إليها رسول الله صلى الله عليه و سلم نظرا عرف أنه كره ما صنع فقال إني لم أبعث بها إليك لتلبسها إنما بعثت بها إليك لتشقها خمرا بين نسائك

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد تمیمی کو دیکھا کہ ایک ریشمی دھاری دار جوڑے کی قیمت لگا رہا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ اس کو عرب کے وفود کی آمد پر پہننے کے لئے خرید لیں تو مناسب ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ دنیا میں تو وہ ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں حصہ نہیں ہے جب جناب رسول اللہ ﷺ کے ہاں دھاری دار ریشمی جوڑے آئے تو آ پ نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک جوڑا اور ایک جوڑا اسامہ کو اور ایک جوڑا علی رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ عورتوں کے مابین دوپٹے کے لئے کاٹ کر دے دیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ اسامہ اپنا جوڑا لے کر جانے لگے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف اس طرح دیکھا گویا انہوں نے ان کے اس عمل کو ناپسند کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہنو بلکہ اس لئے بھیجا کہ تم اسے پہنو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ اسے پھاڑ کر عورتوں کے دو پٹے بنا لو۔

رأى عمر عطارد التميمي يقيم في السوق حلة سيراء فقال عمر ← بن عُمَرَ ← نَافِعًا ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يزيد بن سنان وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6573

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6574

6227 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا حامد بن يحى قال ثنا سفيان قال ثنا أيوب بن موسى عن نافع عن بن عمر قال أبصر رسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء على عطارد فكرهها له ونهاه عنها ثم إنه كسا عمر مثلها فقال يا رسول الله قلت في حلة عطارد ما قلت وتكسوني هذه فقال لم أكسكها لتلبسها إنما أعطيتكها لتلبسها النساء فأخبر بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث أن قوله إنما يلبس الحرير في الدنيا من لا خلاق له إنما قصد به الرجال دون النساء وقد روى هذا عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب نبی اکرم ﷺ نے عطارد رضی اللہ عنہ پر ایک دھاری دار جوڑا دیکھا آپ نے وہ ان کے لئے ناپسند کیا اور آئندہ ان کو اس سے منع کر دیا ۔ پھر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی طرح کا کپڑا عنایت فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے عطارد کو اس سے منع فرمایا اور مجھے عنایت فرما رہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا یہ میں نے تمہیں خود پہننے کو نہیں دیا بلکہ تمہیں اس لئے دیا ہے تاکہ تم اپنی عورتوں کو پہناؤ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اس روایت میں بتلا دیا کہ " انما یلبس الحریر " ( الحدیث ) اس سے مراد مرد ہیں عورتیں اس میں شامل نہیں اور یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی جناب نبی اکرم ﷺ سے براہ راست نقل کی ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← حامد بن يحى ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6574

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6575

6228 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا وكيع عن مسعر عن أبي عون عن أبي صالح الحنفي عن علي أن أكيدر دومة أهدى للنبي صلى الله عليه و سلم ثوب حرير فأعطاه إياه وقال أشققه خمرا بين النساء وروي عن علي بن أبي طالب في ذلك ما

ابو صالح حنفی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دومہ کے حکمران اکیدر نے جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف ریشم کا ایک کپڑا بھیجا آپ نے وہ علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا ا س کو کاٹ کر اپنے ہاں عورتوں کے دوپٹے بناؤ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ← أَبِي عَوْنٍ، ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6575

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6576

6229 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا شعبة عن أبي عون الثقفي قال سمعت أبا صالح الحنفي يقول سمعت عليا يقول أهدى لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء من حرير فبعث بها إلي فلبستها فرأيت الكراهة في وجهه فأطرتها خمرا بين نسائي

ابو صالح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا ہدیہ میں لایا گیا آپ نے وہ میری طرف بھیجا میں نے اسے پہن لیا تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کئے ۔ میں اس کو کاٹ کر اپنے ہاں عورتوں کے دوپٹے بنا دئیے ۔

عَلِيًّا ← أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، ← أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6576

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6577

6230 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة قال أخبرني أبو عون محمد بن عبد الله فذكر بإسناده مثله

ابو عون نے محمد بن عبداللہ سے انہوں نے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

أبو عون محمد بن عبد الله فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6577

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6578

حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن زيد بن وهب عن علي فذكر مثله

زید بن وہب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

عَلِيٍّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6578

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6579

6231 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب أن إبراهيم بن عبد الله بن حنين حدثه أن أباه حدثه أنه سمع علي بن أبي طالب يقول كساني رسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء فرحت فيها فقال لي يا علي إني لم أكسكها لتلبسها فرجعت إلى فاطمة رضي الله عنها فأعطيتها طرفها كأنها تطوى معي فشققتها فقالت تربت يداك يا بن أبي طالب ماذا جئت به قلت نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ألبسها فالبسيها وأكسي نساءك

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّهُ ← أَنَّ أَبَاهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6579

chevron_left Previous
1…131415…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter