Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6544

6198 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أن عمه إسماعيل بن عبد الرحمن دخل مع عبد الرحمن على عمر وعليه قميص من حرير وقلبان من ذهب فشق القميص وفك القلبين وقال أذهب إلى أمك

اسماعیل بن عبدالرحمن ، عبدالرحمن کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اس وقت وہ ریشم کی قمیض پہنے ہوئے تھا اور سونے کے دو کنگن پہن رکھے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قمیض کو چیر دیا اور کنگنوں کو اتار لیا اور فرمایا اپنی ماں کے پاس جاؤ۔

أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6544

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6545

6199 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أحمد قال ثنا مسعر عن وبرة بن عبد الرحمن عن عامر عن سويد بن غفلة قال أتينا عمر وعلينا من ثياب أهل فارس أو قال كسرى فقال برح الله هذه الوجوه فرجعنا فألقيناها ولبسنا ثياب العرب فرجعنا إليه فقال أنتم خير من قوم أتوني وعليهم ثياب قوم لو رضيها الله لهم لم يلبسهم إياها لا يصلح أو لا يحل إلا أصبعين أو ثلاثا أو أربعا يعني الحرير

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے ہم نے فارسیوں کا لباس پہن رکھا تھا یا کسری کے لوگوں کا لباس تھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان چہروں کو دور کرے ۔ ہم نے پلٹ کر ان کپڑوں کو اتار پھینکا اور عرب کا لباس زیب تن کیا پھر ہم ان کی خدمت میں گئے تو آپ نے فرمایا تم ان لوگوں سے بہتر ہو جو میرے پاس آئے انہوں نے دوسری قوم کا لباس پہن رکھا تھا اگر اللہ تعالیٰ اس قوم پر راضی ہوتا تو ان کو یہ لباس نہ پہناتا اور یہ ریشم درست نہیں یا حلال نہیں مگر دو یا تین یا چار انگلیوں کی مقدار ۔

برح الله هذه الوجوه فرجعنا فألقيناها ولبسنا ثياب العرب فرجعنا إليه ← كسرى ← أتينا عمر وعلينا من ثياب أهل فارس أو ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← عَامِرٍ، ← وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مِسْعَرٍ، ← أَحْمَدُ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6545

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6546

6200 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين عن أبي عمرو الشيباني قال رأى على بن أبي طالب على رجل جبة في صدره لينة من ديباج فقال له على ما هذا الشيء الذي تحت لحيتك فجعل الرجل ينظر فقال له رجل إنما يعني الديباج

ابو عمر شیبانی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نے ایک آدمی ایسا جبہ پہنے ہوئے پایا جس کے گریبان میں ریشم لگا تھا ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تمہاری داڑھی کے نیچے کیا ہے ؟ آدمی دیکھنے لگا تو دوسرے آدمی نے اسے کہا ان کی مراد یہ ریشم ہے ۔

أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6546

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6547

6201 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان عن عمرو عن صفوان بن عبد الله بن صفوان قال استأذن سعد بن أبي وقاص على بن عامر وتحته مرافق من حرير فأمر بها فرفعت فدخل عليه سعد وعليه مطرف شطره حرير فقال له بن عامر يا أبا إسحاق استأذنت علي وتحتي مرافق من حرير فأمرت بها فرفعت فقال نعم الرجل أنت يا بن عامر إن لم تكن من الذين قال الله عز و جل أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها لأن أضطجع على جمر الغضاء أحب إلي من أن اضطجع على مرافق حرير قال فهذا عليك مطرف شطره خز وشطره حرير قال إنما يلي جلدي منه الخز

صفوان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ابن عامر رضی اللہ عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی ان کے نیچے ریشمی گدے تھے انہوں نے ان کو اٹھانے کا حکم دیا حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو انہوں نے ایک چادر پہن رکھی تھی جس کی ایک جانب ریشم کی تھی ان کو ابن عمار رضی اللہ عنہ نے کہا اے ابو اسحاق ! آپ نے جب اجازت طلب کی تو میرے نیچے ریشمی گدا تھا میں نے ان کو اٹھانے کا حکم دیا تو وہ اٹھا لئے گئے ۔ تو انہوں نے کہا اے عامر ! تم خوب آدمی ہو اگر تو ان لوگوں سے نہ ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " اذھبتم طیباتکم فی حیا تکم الدنیا " ( الاحقاف : 20) کیونکہ غضباء نام درخت کے انگاروں پر لوٹنا مجھے ریشمی گدے پر لیٹنے کی بنسبت زیادہ پسند ہے ۔ تو ابن عامر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ تم نے چادر اوڑھ رکھی ہے جس کی ایک جانب ریشم کی ہے اور ایک جانب اون اور ریشم کی ہے تو وہ کہنے لگے میری جلد ریشم سے ملاصق ہے ۔

صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6547

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6548

6202 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن طلق بن حبيب قال قلت لابن عمر أرأيت هذا الذي تقول في هذا الحرير أشئ سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم أو وجدته في كتاب الله عز و جل قال ما وجدته في كتاب الله ولا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكني رأيت أهل الإسلام يكرهونه

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہا اس ریشم سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں کیا اس کے متعلق آ پ نے کوئی چیز جناب رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے نہ تو قرآن مجید میں اس کے متعلق پایا اور نہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ۔ لیکن میں نے اہل اسلام ( صحابہ کرام ) کو اس سے نفرت کرتے پایا۔

قلت لابن عمر أرأيت هذا الذي تقول في هذا الحرير أشئ ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6548

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6549

6203 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بن الخصيب قال ثنا يزيد بن زريع عن عبد الله بن عون قال لا أعلمه إلا قال عن الحسن قال دخلنا على بن عمر بالبطحاء فقال له رجل إن ثيابنا هذه يخالطها الحرير قال دعوه قليله وكثيره قال أبو جعفر فذهب ذاهبون إلى أن حرم من ذلك فقد دخل فيه النساء والرجال جميعا واحتجوا في ذلك بقول النبي صلى الله عليه و سلم من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة ولم يخص في ذلك الرجال دون النساء قالوا قد رأينا آنية الذهب والفضة حرمت على المسلمين لأنها آنيات الكفار فاستوى في ذلك النساء والرجال فكذلك الحرير لما حرم على المسلمين لأنه لباس الكفار استوى فيه الرجال والنساء جميعا فكان من الحجة على من ذهب إلى هذا القول أنه قد نهى عن لبس الثياب المصبغات وقيل إنها لباس الكفار وروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ما

حسن کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطحاء میں داخل ہوئے تو ان کو ایک آدمی نے کہا ہمارے یہ کپڑے ریشم ملے ہوئے ہیں آپ نے فرمایا اس کے قلیل و کثیر کو چھوڑ دو۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض لوگ تو ادھر چلے گئے کہ مرد عورتیں سب پر ریشم حرام ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے قول کو دلیل بنایا ہے " من لبسہ فی الدنیا یلبسہ فی الاخرہ " اس میں مردوں اور عورتوں میں سے کسی کی تخصیص نہیں ہے ۔ اس کی مزید دلیل یہ ہے کہ سونے چاندی کے برتن مسلمانوں پر حرام ہیں کیونکہ وہ کفار کے برتن ہیں اس میں مردوں اور عورتوں کا حکم برابر ہے ۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ رنگین کپڑوں کے پہننے کی ممانعت ہے اور ان کو کفار کا لباس قرار دیا گیا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سے مندرجہ ذیل روایات وارد ہیں ۔ اب ہم غور کرتے ہیں کہ کیا یثاب کفار ہونے کی علت کی وجہ سے ان کپڑوں کا عورتوں کا پہننا حرام ہے یا نہیں ۔ ( روایات ملاحظہ ہوں )

دعوه قليله وكثيره ← له رجل إن ثيابنا هذه يخالطها الحرير ← دخلنا على بن عمر ← الْحَسَنِ، ← لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بن الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6549

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6550

6204 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى عليه ثوبين معصفرين قال هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان پر زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے دیکھے تو فرمایا یہ کفار کے کپڑے ہیں، ان کو مت پہنو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6550

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6551

6205 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل الخزار قال ثنا علي بن المبارك قال ثنا يحيى فذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث أن الثياب المصبغة ثياب الكفار فنظرنا في ذلك هل حرم لبسها لهذه العلة على النساء أم لا فإذا سليمان بن شعيب قد

یحییٰ نے بھی اپنی اسناد سے اس کی مثل ذکر کیا ہے اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ رنگے ہوئے کپڑے کفار کے کپڑے ہیں ، اب ہم غور کرتے ہیں کہ آیا اس علت کی وجہ سے ان کپڑوں کا عورتوں کے لئے بھی پہننا حرام ہے یا نہیں ؟

يَحْيَى ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل الخزار ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6551

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6552

6206 - حدثنا قال ثنا الخصيب قال ثنا عمارة بن زاذان عن زياد النميري عن أنس بن مالك قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم وعليه ثوب معصفر فقال له لو أن ثوبك هذا كان في تنور لكان خيرا لك فذهب الرجل فجعله تحت القدر أو في التنور فأتى النبي صلى الله عليه و سلم قال ما فعل ثوبك قال صنعت به ما أمرتني فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم ما بهذا أمرتك أولا ألقيته على بعض نسائك فكان ذلك التحريم على الرجال دون النساء وقد روى في ذلك عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

زیاد نمیری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زعفرانی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے آپ نے اسے فرمایا اگر تمہارے یہ کپڑے تمہارے جسم کی بجائے تنور میں ڈالے جائیں تو تمہارے حق میں یہ بہتر تھا وہ شخص گیا اور اس نے اپنے کپڑوں کو ہنڈیا کے نیچے یا تنور میں ڈال دیا اور پھر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آ پ نے فرمایا تیرے کپڑوں کا کیا بنا؟ اس نے کہا میں نے ان کا وہی علاج کیا جو آپ نے بتلایا تھا تو اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں اس بات کا حکم تو نہ دیا تھا تو نے اس کو اپنے گھر کی کسی عورت پر کیوں نہ ڈالا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ تحریم مردوں کے لئے تھی نہ کہ عورتوں کے لئے ۔ دیگر صحابہ کرام سے بھی اس سلسلہ میں روایات مروی ہیں۔

له لو ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم وعليه ثوب معصفر ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← الخصيب

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6552

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6553

6207 - حدثنا أبو حازم عبد الحميد بن عبد العزيز قال ثنا بندار قال ثنا بن أبي عدي عن سعيد بن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم النخعي قال دخلت على عائشة فرأيت عليها ثيابا مصبغة

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا میں نے ان کو رنگین کپڑے پہنے ہوئے پایا۔

دخلت على عائشة فرأيت عليها ثيابا مصبغة ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← بُنْدَارٌ ← أبو حازم عبد الحميد بن عبد العزيز

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6553

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6554

6208 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم قال أخبرني بن جريج عن موسى بن عقبة قال كانت أم سلمة وعائشة وأم حبيبة يلبسن المعصفرات

موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ عائشہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے استعمال فرماتی تھیں۔

كانت أم سلمة وعائشة وأم حبيبة يلبسن المعصفرات ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6554

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6555

6209 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابرا يقول لأهله لا تلبسوا ثياب الطيب وتلبسوا الثياب المعصفرة من غير الطيب

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ وہ اپنے گھر والوں کو فرما رہے تھے خوشبو دار کپڑے مت استعمال کرو اور خوشبو کے بغیر زعفرانی کپڑے پہنو۔

لأهله لا تلبسوا ثياب الطيب وتلبسوا الثياب المعصفرة من غير الطيب ← جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6555

chevron_left Previous
1…111213…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter