شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6341
6001 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا إسرائيل عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر عن بن عباس أنه سئل عن الجر فذكر مثل ذلك ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أباح لهم أن يشربوا من نبيذ الأسقية وإن اشتد فإن قال قائل فإن في أمره إياهم بإهراقه بعد ذلك دليلا على نسخ ما تقدم من الإباحة قيل لهم وكيف يكون ذلك كذلك وقد روى عن بن عباس من كلامه بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم حرمت الخمر لعينها والسكر من كل شراب وقد ذكرنا ذلك بإسناده فيما تقدم من هذا الكتاب وهو الذي روى عنه ما ذكرت فدل ذلك أن التحريم في الأشربة كان على الخمر بعينها قليلها وكثيرها والسكر من غيرها وكيف يجوز على بن عباس مع علمه وفضله أن يكون قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوجب تحريم النبيذ الشديد ثم يقول حرمت الخمر لعينها والسكر من كل شراب فيعلم الناس أن قليل الشراب من غير الخمر وإن كان كثيره يسكر حلال هذا غير جائز عليه عندنا ولكن معنى ما أراد بإهراق النبيذ في حديث قيس أنه لم يأمنهم عليه أن يسرعوا في شربه فيسكروا والسكر محرم عليهم فأمرهم بإهراقه لذلك وقد روى في مثل هذا أيضا ما
قیس بن حبتر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے گھڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا ۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے نبیذ کی مشکوں میں ان کو اجازت دی خواہ وہ گاڑھا ہو جائے ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ کا گرا دینے کا حکم اباحت کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات کس طرح کہی جا سکتی ہے ؟ حالانکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے کلام کے بعد یہ الفاظ ہیں شراب بعینہ حرام ہے اور ہر مشروب سے نشہ والی مقدار حرام ہے ۔ (نسائی فی الا شربہ باب : 48) یہ روایت ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں تو اس سے یہ بات پر دلالت مل گئی کہ اشربہ کے سلسلہ میں ذاتی طور پر حرمت شراب سے متعلق ہے خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور اس کے علاوہ مشروبات میں نشہ آور مقدار حرام ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے علم و فضل کے باوجود جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت کریں کہ نبیذ شدید حرام ہے ۔ پھر خود ہی فرمائیں کہ اصل حرام تو شراب ہے اور باقی تمام مشروبات نشہ دیں تو حرام ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ خمر کے علاوہ مشروبات اگرچہ زیادہ مقدار کی صورت میں نشہ دیں لیکن جب تھوڑی مقدار میں ہوں تو حلال ہیں ہمارے لئے ان کے متعلق ایسا کہنا جائز نہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں روایت قیس میں بہانے کا تذکرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خطرہ محسوس ہو ا کہ وہ شراب پینے کے لئے جلدی کریں اور پھر بے ہوش ہو جائیں اور نشہ والی مقدار تو حرام ہے ۔ فلہذا آپ نے ان کو گرا دینے کا حکم فرمایا۔ اس کی مثال یہ روایت ہے ۔
الجر فذكر مثل ذلك ففي هذا الحديث ← بن عباس أنه سئل ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6341
