Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6341

6001 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا إسرائيل عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر عن بن عباس أنه سئل عن الجر فذكر مثل ذلك ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أباح لهم أن يشربوا من نبيذ الأسقية وإن اشتد فإن قال قائل فإن في أمره إياهم بإهراقه بعد ذلك دليلا على نسخ ما تقدم من الإباحة قيل لهم وكيف يكون ذلك كذلك وقد روى عن بن عباس من كلامه بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم حرمت الخمر لعينها والسكر من كل شراب وقد ذكرنا ذلك بإسناده فيما تقدم من هذا الكتاب وهو الذي روى عنه ما ذكرت فدل ذلك أن التحريم في الأشربة كان على الخمر بعينها قليلها وكثيرها والسكر من غيرها وكيف يجوز على بن عباس مع علمه وفضله أن يكون قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوجب تحريم النبيذ الشديد ثم يقول حرمت الخمر لعينها والسكر من كل شراب فيعلم الناس أن قليل الشراب من غير الخمر وإن كان كثيره يسكر حلال هذا غير جائز عليه عندنا ولكن معنى ما أراد بإهراق النبيذ في حديث قيس أنه لم يأمنهم عليه أن يسرعوا في شربه فيسكروا والسكر محرم عليهم فأمرهم بإهراقه لذلك وقد روى في مثل هذا أيضا ما

قیس بن حبتر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے گھڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا ۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے نبیذ کی مشکوں میں ان کو اجازت دی خواہ وہ گاڑھا ہو جائے ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ کا گرا دینے کا حکم اباحت کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات کس طرح کہی جا سکتی ہے ؟ حالانکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے کلام کے بعد یہ الفاظ ہیں شراب بعینہ حرام ہے اور ہر مشروب سے نشہ والی مقدار حرام ہے ۔ (نسائی فی الا شربہ باب : 48) یہ روایت ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں تو اس سے یہ بات پر دلالت مل گئی کہ اشربہ کے سلسلہ میں ذاتی طور پر حرمت شراب سے متعلق ہے خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور اس کے علاوہ مشروبات میں نشہ آور مقدار حرام ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے علم و فضل کے باوجود جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت کریں کہ نبیذ شدید حرام ہے ۔ پھر خود ہی فرمائیں کہ اصل حرام تو شراب ہے اور باقی تمام مشروبات نشہ دیں تو حرام ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ خمر کے علاوہ مشروبات اگرچہ زیادہ مقدار کی صورت میں نشہ دیں لیکن جب تھوڑی مقدار میں ہوں تو حلال ہیں ہمارے لئے ان کے متعلق ایسا کہنا جائز نہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں روایت قیس میں بہانے کا تذکرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خطرہ محسوس ہو ا کہ وہ شراب پینے کے لئے جلدی کریں اور پھر بے ہوش ہو جائیں اور نشہ والی مقدار تو حرام ہے ۔ فلہذا آپ نے ان کو گرا دینے کا حکم فرمایا۔ اس کی مثال یہ روایت ہے ۔

الجر فذكر مثل ذلك ففي هذا الحديث ← بن عباس أنه سئل ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6341

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6342

6002 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عثمان بن الهيتم بن الجهم المؤذن قال ثنا عوف بن أبي جميلة قال حدثني أبو القموص زيد بن علي عن أحد الوفد الذين وفدوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في وفد عبد القيس أو يكون قيس بن النعمان فإني قد نسيت اسمه أنهم سألوه عن الأشربة فقال لا تشربوا في الدباء ولا في النقير واشربوا في السقاء الحلال الموكأ عليها فإن اشتد منه فاكسروه بالماء فإن أعياكم فأهريقوه فإن قال قائل قد رويت في هذا الباب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ما ذكرت في حديث عمرو بن ميمون وغيره وقد روى عنه خلاف ذلك فذكر ما

ابو قموص زید بن علی نے اس وفد کے افراد میں سے ایک سے جو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے یا وہ قیس بن نعمان ہیں مجھے ان کا نام بھول گیا ان لوگوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے شرابوں کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کدو کے برتن ، کھرچی ہوئی لکڑی کے برتن میں مت پیو حلال مشکیزوں سے پیو۔ جن کا منہ بند کیا ہوا ہو۔ اگر وہ نبیذ تیز ہو جائے تو پانی کے ساتھ اسے ختم کر لو اور اگر وہ سختی تمہیں تھکا دے تو اسے گرا دو ( وہ پینے کے قابل نہیں رہا ) اگر کوئی معترض کہے کہ تم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عمرو بن میمون کی سند سے روایت نقل کی حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت موجود ہے ( وہ یہ ہے ) ۔ ( ابو داؤد فی الاشربہ باب 7)

أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← عثمان بن الهيتم بن الجهم المؤذن ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6342

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6343

6003 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهري قال حدثني السائب بن يزيد أن عمر بن الخطاب خرج فصلى على جنازة ثم أقبل على القوم فقال لهم إني وجدت آنفا من عبد الله بن عمر ريح الشراب فسألته عنه فزعم أنه طلاء وإني سائل عنه فإن كان يسكر جلدته قال ثم شهدت عمر بعد ذلك جلد عبد الله ثمانين في ريح الشراب الذي وجد منه

سائب بن یزید نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے آپ گھر سے نکلے اور ایک جنازہ پر نماز پڑھی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے ابھی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے شراب کی بو محسوس کی جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اپنے گمان میں اس کو طلاء قرار دیا ۔ میں اس سے دریافت کرتا ہوں اگر اس سے نشہ آ جاتا ہے تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا ۔ سائب کہتے ہیں پھر میں خود عبداللہ کے کوڑوں کے وقت موجود تھا کہ انہوں نے شراب کی بو پر ہی ابن عمر کو اسی کوڑے لگا۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6343

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6344

6004 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره عن بن شهاب عن السائب بن يزيد أن عمر بن الخطاب خرج عليهم فقال إني وجدت مع فلان ريح شراب فزعم أنه شراب الطلاء أنا سائل عما يشرب فإن كان يسكر جلدته فجلده الحد تاما قال فهذا عمر قد حد في الشراب الذي يسكر فهذا يخالف لما رويتم عن عمرو بن ميمون وغيره عنه قيل له ما هذا يخالف لذلك لأن عمر قال في هذا الحديث وأنا سائل عما شرب ما كان يسكر جلدته فقد يحتمل أن يكون أراد بذلك المقدار الذي شرب أي فإن كان ذلك المقدار يسكر فقد علمت أنه قد سكر ووجب عليه الحد وهذا أول ما حمل عليه تأويل هذا الحديث حتى لا يضاد ما سواه من الأحاديث التي قد رويت عنه وقد روى عن أبي هريرة أيضا في هذا ما

سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا مجھے فلاں سے شراب کی بو محسوس ہوئی ہے اور اس کے خیال میں وہ طلاء کا مشروب ہے میں اس سے دریافت کرتا ہوں کہ اس نے جو پیا ہے اگر وہ نشہ لاتا ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اسی کوڑے مارے ۔ لیجیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نشہ والے مشروب پر اسی کوڑوں کی سزا دی ۔ یہ آپ کی مروی روایت میمون کے خلاف ہے ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس کے خلاف نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں یہ فرمایا ہے کہ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے ۔ اگر وہ نشہ دیتا ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا اس میں یہ احتمال ہے کہ آپ کی مراد ان سے اس مقدار کو دریافت کرنا ہو جو انہوں نے پی ہے کہ اگر میں دیکھوں گا کہ یہ اتنی مقدار ہے جو نشہ لاتی ہے تو میں یقین سے معلوم کر لوں گا کہ وہ نشہ میں مبتلا ہوئے اور اس پر حد واجب ہو گئی ۔ یہ تاویل اس تاویل سے بہت بہتر ہے جس پر آپ نے محمول کیا ہے تاکہ ان احادیث میں تضاد لازم نہ آئے جو خود ان سے مروی ہیں۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6344

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6345

6005 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا مسلم بن خالد قال حدثني زيد بن أسلم عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه طعاما فليأكل من طعامه ولا يسأل عنه فإن أسقانا شرابا فليشرب منه ولا يسأل عنه فإن خشي منه فليكسره بشيء ففي هذا الحديث إباحة شرب النبيذ فإن قال قائل إنما إباحه بعد كسره بالماء وذهاب شدته قيل له هذا كلام فاسد لأنه لو كان في حال شدته حراما لكان لا يحل وإن ذهبت شدته بصب الماء عليه ألا ترى أن خمرا لو صب فيها ماء حتى غلب الماء عليها أن ذلك حرام فلما كان قد أبيح في هذا الحديث الشراب الشديد إذا كسر بالماء ثبت بذلك أنه قبل أن يكسر بالماء غير حرام فثبت بما روينا في هذا الباب إباحة ما لا يسكر من النبيذ الشديد وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو اسے کھا لینا چاہیے اور اس سے مت پوچھو ! پس اگر وہ اس کو کوئی مشروب پلائے تو اسے پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں کرید مت کرے اگر اس کو اس مشروب سے خدشہ محسوس ہو تو کسی چیز کو ملا کر اس کو ہلکا کر لے ۔ یہ غلط بات ہے اگر وہ سختی و گاڑھے پن کے وقت حرام تھی تو پانی ڈال کر شدت کا ازالہ اس کوحلال نہیں کر سکتا۔ ذرا غور فرمائیں : اگر شراب میں پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس پر غالب آ گیا ہو تو وہ پھر بھی حرام ہے ۔ پس جب شدید مشروب کو اس روایت میں مباح قرار دیا گیا جب کہ پانی سے اسے توڑ دیا جائے ۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ توڑنے سے پہلے بھی وہ حرام نہ تھی ۔ پس ان روایات سے غیر نشہ آور مشروبات جیسے سخت نبیذ وغیرہ کا استعمال مباح ہے ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6345

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6346

6006 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا القواريري قال ثنا يحيى بن سعيد عن سفيان الثوري عن سليمان عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الدباء والمزفت

حارث بن سوید نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کدو کے برتن اور تار کول والے برتن سے منع فرمایا۔

الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ. ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6346

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6347

6007 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام الدستوائي قال ثنا أيوب عن سعيد بن جبير قال سئل بن عمر عن نبيذ الجر فقال حرمه النبي صلى الله عليه و سلم فأتيت بن عباس فذكرت ذلك له فقال صدق قلت أي جر قال كل شيء من الله

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گھڑے کے نبیذ کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا اس کو جناب نبی اکرم ﷺ نے حرام قرار دیا پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا اس نے سچ کہا۔ میں نے پوچھا کون سا گھڑا مراد ہے ۔ انہوں نے کہا ہر چیز مٹی کی بنی ہوئی مراد ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6347

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6348

6008 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهيب عن أيوب عن رجل عن سعيد بن جبير مثله

ایوب نے اک آدمی سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَهُ. ← رَجُلٌ: ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6348

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6349

6009 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا أبو أحمد الزبيري قال ثنا سفيان عن علي بن بذيمة قال حدثني قيس بن حبتر قال سألت بن عباس عن الجر الأبيض والأحمر فقال إن أول من سأل النبي صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس فقالوا إنا نصيب من النخل فقال لا تشربوا في الدباء ولا في المزفت ولا في النقير ولا في الجر

قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سفید و سرخ گھڑے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے وفد عبدالقیس نے سوال کیا تھا وہ کہنے لگے ہمیں کھجوروں کے درخت میسر ہیں آپ نے فرمایا کدو کے برتن اور رال لگے ہوئے برتن ، اور لکڑی کھرچ کر بنائے ہوئے برتن اور گھڑوں میں مت پیو۔

الجر الأبيض والأحمر ← سألت بن عباس ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6349

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6350

6010 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة عن يحيى الزهراني قال سمعت بن عباس يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت

یحییٰ زہرانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کدو کے برتن سبز گھڑے ، کھدی لکڑی کے برتن اور تار کول لگے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔

الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ» ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← يحيى الزهراني ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6350

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6351

6011 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا شعبة وحماد بن سلمة عن أبي حمزة قال سمعت بن عباس يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس عن الدباء والحنتم والنقير في حديث شعبة وربما قال النقير والمزفت في حديثهما جميعا وفي حديث شعبة فاحفظوهن عني وأخبروا بهن من وراءكم

ابو حمزہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول الہ ﷺ نے وفد عبدالقیس کو کدو کے برتن ، رال لگے برتن ، کھدی ہوئی لکڑی کے برتن کا استعمال روک دیا۔ شعبہ کی روایت میں " ربما قال النقیر و المزفت " ہے اور دونوں کی روایت میں دونوں ہیں اور شعبہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ان کو مجھ سے محفوظ کر لو اور اپنے بعد والوں کو بتلا دو۔ کے الفاظ ہیں ۔

الدباء والحنتم والنقير في حديث شعبة وربما ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شعبة وحماد بن سلمة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6351

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6352

6012 - حدثنا ربيع المؤذن قالك ثنا أسد قال ثنا حماد بن زيد وأبو هلال عن أبي حمزة عن بن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس عن الحنتم والنقير والمزفت وفي حديث حماد والدباء

ابو حمزہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے وفد عبدالقیس کو سبز روغن والے گھڑے ، لکڑی کے گھڑے ، تار کول والے گھڑے سے منع کیا اور روایت حماد میں الدباء کا لفظ بھی مذکور ہے ۔

الحنتم والنقير والمزفت وفي حديث حماد والدباء ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم وفد عبد القيس ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حماد بن زيد وأبو هلال ← أسد ← ربيع المؤذن قالك

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6352

chevron_left Previous
1…567…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter