شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6329
5989 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال ثنا شعيب عن الزهري فذكر بإسناده مثله فلما ثبت بما ذكرنا عن عمر إباحة قليل النبيذ الشديد وقد سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول كل مسكر حرام كان ما فعله في هذا دليلا أن ما حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله ذلك عنده من النبيذ الشديد هو السكر منه لا غير فإما أن يكون سمع ذلك من النبي صلى الله عليه و سلم قولا أو رآه رأيا فإن ما يكون منه في ذلك يكون رآه رأيا فرأيه في ذلك عندنا حجة ولا سيما إذ كان فعله المذكور في الآثار التي رويناها عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم منكر فدل ذلك على متابعتهم إياه عليه وهذا عبد الله بن عمر وهو أحد النفر الذين رووا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام وقد روى عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما
شعیب نے زہری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے ۔ ان روایات سے جو ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں تھوڑے سخت نبیذ کی اباحت ثابت ہوئی حالانکہ انہوں نے بھی جناب رسول اللہ ﷺ سے " کل مسکر حرام " کا ارشاد سن رکھا تھا آپ کا یہ فعل اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے شدید یا سخت نبیذ میں سے جس چیز کو حرام قرار دیا وہ نشہ ہی ہے نہ کہ کچھ اور ۔ آپ نے یہ بات یا تو پھر آپ ﷺ سے سنی ہو گی یا آپ کا اجتہاد ہے اگر آپ کا یہ اجتہاد ہے تو وہ بھی ہمارے نزدیک دلیل ہے خاص طور پر جبکہ آپ نے یہ فعل صحابہ کرام کے سامنے کیا اور کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا تو اس سے ان کا آپ کی متابعت کرنا ثابت ہوا یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ " کل مسکر حرام " کی روایت کو نقل کرنے والوں میں سے ہیں انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6329
