Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6329

5989 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال ثنا شعيب عن الزهري فذكر بإسناده مثله فلما ثبت بما ذكرنا عن عمر إباحة قليل النبيذ الشديد وقد سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول كل مسكر حرام كان ما فعله في هذا دليلا أن ما حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله ذلك عنده من النبيذ الشديد هو السكر منه لا غير فإما أن يكون سمع ذلك من النبي صلى الله عليه و سلم قولا أو رآه رأيا فإن ما يكون منه في ذلك يكون رآه رأيا فرأيه في ذلك عندنا حجة ولا سيما إذ كان فعله المذكور في الآثار التي رويناها عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم منكر فدل ذلك على متابعتهم إياه عليه وهذا عبد الله بن عمر وهو أحد النفر الذين رووا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام وقد روى عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

شعیب نے زہری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے ۔ ان روایات سے جو ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں تھوڑے سخت نبیذ کی اباحت ثابت ہوئی حالانکہ انہوں نے بھی جناب رسول اللہ ﷺ سے " کل مسکر حرام " کا ارشاد سن رکھا تھا آپ کا یہ فعل اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے شدید یا سخت نبیذ میں سے جس چیز کو حرام قرار دیا وہ نشہ ہی ہے نہ کہ کچھ اور ۔ آپ نے یہ بات یا تو پھر آپ ﷺ سے سنی ہو گی یا آپ کا اجتہاد ہے اگر آپ کا یہ اجتہاد ہے تو وہ بھی ہمارے نزدیک دلیل ہے خاص طور پر جبکہ آپ نے یہ فعل صحابہ کرام کے سامنے کیا اور کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا تو اس سے ان کا آپ کی متابعت کرنا ثابت ہوا یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ " کل مسکر حرام " کی روایت کو نقل کرنے والوں میں سے ہیں انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6329

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6330

5990 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عبد السلام عن ليث عن عبد الملك بن أخي القعقاع بن شور عن بن عمر قال شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي بشراب فأدناه إلى فيه فقطب فرده فقال رجل يا رسول الله أحرام هو فرد الشراب ثم عاد بماء فصبه عليه ذكر مرتين أو ثلاثا ثم قال إذا اغتلمت هذه الأسقية عليكم فاكسروا متونها بالماء

عبدالملک جو کہ قعقاع بن شور کے بھتیجے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک مشروب لایا گیا آپ نے اس کو اپنے منہ کے قریب کیا پھر ترش روئی اختیار کر کے اس کو واپس کر دیا ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ حرام ہے کہ اپ نے مشروب کو واپس کر دیا پھر پانی منگوایا اور وہ اس میں ڈالا اور دو یا تین مرتبہ ذکر کیا پھر فرمایا جب یہ مشکیزے تیز ہو جائیں تو تم پر لازم ہے کہ ان کی تیزی پانی سے توڑ دیا کرو۔

بن عُمَرَ ← عبد الملك بن أخي القعقاع بن شور ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ السَّلامِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6330

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6331

5991 - حدثنا وهب بن عثمان البغدادي قال ثنا أبو همام قال حدثني يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن إسماعيل بن أبي خالد قال ثنا قرة العجلي قال حدثني عبد الملك بن أخي القعقاع عن بن عمر مثله

عبدالمالک جو قعقاع کے بھتیجے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن عمر مثله ← عبد الملك بن أخي القعقاع ← قرة العجلي ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو هَمَّامٍ، ← وهب بن عثمان البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6331

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6332

5992 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال حدثني أسباط بن محمد عن الشيباني عن عبد الملك بن نافع قال سألت بن عمر فقلت إن أهلنا ينبذون نبيذا في سقاء لو أنهكته لأخذ في فقال بن عمر إنما البغي على من أراد البغي شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم عند هذا الركن وأتاه رجل بقدح من نبيذ ثم ذكر مثل حديث أبي أمية غير أنه قال فاكسروها بالماء ففي هذا إباحة قليل النبيذ الشديد وأولى الأشياء بنا إذ كان قد روي عنه هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم فروى عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام أن نجعل كل واحد من القولين على معنى غير المعنى الذي عليه القول الآخر فيكون قوله كل مسكر حرام على المقدار الذي يسكر منه من النبيذ ويكون ما في الحديث الآخر على إباحة قليل النبيذ الشديد وقد روي عن أبي مسعود الأنصاري عن النبي صلى الله عليه و سلم نحو حديث بن عمر هذا

عبدالمالک بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہمارے گھر والے مشک کے اندر نبیذ بناتے ہیں اگر میں اس کو ختم کروں تو مجھے ہی نقصان ہو گا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سر کشی کا وبال اس پر ہے جو سر کشی کا ارادہ کرے میں جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس اس رکن کے قریب موجود تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی نبیذ کا پیالہ لایا پھر ابو امیہ جیسی روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو پانی سے توڑ دو۔ اس روایت میں شدید نبیذ کی تھوڑی مقدار کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے ہمارے لئے سب سے بہتر یہی ہے کہ جب جناب نبی اکرم ﷺ سے " کل مسکر حرام " بھی مروی ہے تو ہم دونوں اقوال کا ایسا معنی کریں جو دوسرے قول سے مختلف ہو ( الگ الگ محمل نکالیں ) پس " کل مسکر حرام " والی روایت کو نبیذ اس مقدار پر محمول کیا جائے جو کثیر اور نشہ آور ہو اور دوسری روایت قلیل مقدار خواہ سخت ہو اس کی اباحت ثابت ہو گی اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جیسی روایت نقل کی ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

سألت بن عمر فقلت ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6332

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6333

5993 - أخبرنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن منصور عن خالد بن سعد عن أبي مسعود قال عطش النبي صلى الله عليه و سلم حول الكعبة فاستسقى فأتي بنبيذ من نبيذ السقاية فشمه فقطب فصب عليه من ماء زمزم ثم شرب فقال رجل أحرام هو فقال لا وقد روى في ذلك عن أبي موسى الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

خالد بن سعد نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے گرد ( مطاف میں ) پیاس لگی آپ نے پانی طلب کیا تو آپ کے پاس مشکیزے کا نبیذ لایا گیا تو آپ نے اس سے ترش روئی اختیار فرمائی پھر اس میں زم زم کا پانی ڈالا گیا تو آپ نے اس کو نوش فرمایا۔ ایک آدمی نے پوچھا کیا وہ حرام ہے ( یعنی سخت ) آپ نے فرمایا نہیں ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6333

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6334

5994 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يونس قال ثنا شريك عن أبي إسحاق عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه قال بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا ومعاذا إلى اليمن فقلنا يا رسول الله إن بها شرابين يصنعان من البر والشعير أحدهما يقال له المزر والآخر يقال له البتع فما نشرب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اشربا ولا تسكرا

ابو بردہ نے اپنے والد حضرت ابو موسیٰ سے انہوں نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور معاذ رضی اللہ عنہ یمن بھیجا ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں دو مشروب گندم اور جو کے چلتے ہیں ایک کا نام المزر اور دوسرے کو البتع کہا جاتا ہے تو ہم کیا کیا پئیں تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونوں پیو۔ مگر نشہ کی حد تک نہ آئے ۔

ومعاذا إلى اليمن فقلنا ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6334

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6335

5995 - وحدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا شريك عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبيه أنه قال بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا ومعاذا إلى اليمن فقلت إنك بعثتنا إلى أرض كثير شراب أهلها فقال اشربا ولا تشربا مسكرا

ابو بردہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو میں گزارش کی کہ آپ ہمیں ایسے علاقہ کی طرف بھیج رہے ہیں کہ جہاں کے لوگ بہت سے مشروبات استعمال کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا تم مشروبات کو استعمال کرو مگر کسی نشہ آور کو استعمال نہ کرو۔

اشربا ولا تشربا مسكرا ← ومعاذا إلى اليمن فقلت إنك بعثتنا إلى أرض كثير شراب أهلها ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6335

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6336

5996 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا الفضيل بن مرزوق عن أبي إسحاق فذكر بإسناده مثله فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي موسى ومعاذ حين سألا عن البتع اشربا ولا تسكرا ولا تشربا مسكرا كان ذلك دليلا أن حكم المقدار الذي يسكر من ذلك الشراب خلاف حكم ما لا يسكر منه فدل ذلك على أن ما ذكره أبو موسى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما ذكرنا عنه في الفصل الأول من قوله كل مسكر حرام إنما هو على المقدار الذي يسكر لا على العين التي كثيرها يسكر وقد روينا حديث أبي سلمة عن عائشة في جواب النبي صلى الله عليه و سلم للذي سأله عن البتع بقوله كل شراب أسكر فهو حرام فإن جعلنا ذلك على قليل الشراب الذي يسكر كثيره ضاد جواب النبي صلى الله عليه و سلم لمعاذ وأبي موسى الأشعري وإن جعلناه على تحريم السكر خاصة لا على تحريم الشراب وافق حديث أبي موسى وأولى الأشياء بنا حمل الآثار على الوجه الذي لا يتضاد إذا حملت عليه وقد روي عن عبد الله بن مسعود في ذلك أيضا ما

فضیل بن مرزوق نے ابو اسحاق سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے ابو موسیٰ و معاذ رضی اللہ عنہ کے بتع وغیرہ کے متعلق استفسار کے جواب میں فرمایا تم مشروبات کا استعمال کرو اور نشہ آور چیز مت استعمال کرو۔ تو اس سے ثابت ہو گیا کہ ایسی مقدار جو نشہ لائے اس کا حکم نشہ نہ لانے والی مقدار سے مختلف ہے ۔ پس اس سے دلالت میسر آ گئی کہ فصل اول میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت " کل مسکر حرام " سے وہ مقدار مراد ہے جو نشہ پیدا کر دے وہ معینہ چیز مراد نہیں کہ جس کی کثیر مقدار نشہ لائے ( کہ وہ مکمل طور پر حرمت میں شامل ہو ) ہم نے ابو سلمہ کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے جواب جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا " کل شراب اسکر فھو حرام " ہر مشروب جو نشہ لائے وہ حرام ہے ۔ اگر بالفرض اس سے اس مشروب کی قلیل مقدار لیں کہ جس کی زیادہ مقدار نشہ آور بن جاتی ہے تو آپ کا جواب ابو موسیٰ والی روایت کے متضاد بن جاتا ہے اور اگر اس سے خاص نشہ کی حرمت مراد لیں مشروب کی حرمت مراد نہ لیں تو اس صورت میں روایت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے موافق بن جاتی ہے ۔ ہمارے لئے سب سے بہتر راہ یہی ہے آثار کو ایسے معانی پر محمول کریں کہ جن سے باہمی تضاد پیدا نہ ہو اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

أبي إسحاق فذكر بإسناده مثله فلما ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6336

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6337

5997 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا محمد بن كثير قال أنا سفيان عن أبيه عن لبيد عن شماس قال قال عبد الله إن القوم ليجلسون على الشراب وهو يحل لهم فما يزالون حتى يحرم عليهم

شماس کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ مشروبات پر بیٹھتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لئے حلال ہے اور اس کو وہ پیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان پر حرام ہو جاتا ہے ۔

شماس ← لبيد ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6337

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6338

5998 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا حماد عن إبراهيم عن علقمة بن قيس أنه أكل مع عبد الله بن مسعود خبزا ولحما قال فأتينا بنبيذ شديد سيرين في جرة خضراء فشربوا منه

علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا پھر ہمارے پاس سخت نبیذ لایا گیا جس کو محمد بن سیرین نے سبز گھڑے میں تیار کیا تھا پس انہوں نے اس میں سے نوش کیا۔

فأتينا بنبيذ شديد سيرين في جرة خضراء فشربوا منه ← علقمة بن قيس أنه أكل مع عبد الله بن مسعود خبزا ولحما ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6338

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6339

5999 - حدثني بن أبي داود قال ثنا نعيم وغيره قال أنا حجاج عن حماد عن إبراهيم عن علقمة قال سألت بن مسعود عن قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسكر قال الشربة له الأخيرة فهذا عبد الله بن مسعود قد روى عنه في إباحة قليل النبيذ الشديد من فعله وقوله ما ذكرنا ومن تفسير قول رسول الله صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام على ما وصفنا وقد روى عن عبد الله بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على هذا أيضا

علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے قول کے متعلق دریافت کیا جو مسکر کے متعلق ہے ۔ تو فرمایا آخری گھونٹ حرام ہے ( یعنی جب وہ نشہ آور ہو جائے ) یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جن کے فعل سے قلیل سخت نبیذ کی اباحت ثابت ہو رہی ہے اور ان کا جو قول ہم نے ذکر کیا اور " کل مسکر حرام " کی جو تفسیر ذکر کی وہ ہمارے سابقہ بیان کے مطابق ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت نقل کی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← نعيم وغيره ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6339

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6340

6000 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد الزبيري قال ثنا سفيان عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر قال سألت بن عباس عن الجر الأخضر والجر الأحمر فقال إن أول من سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك وفد عبد القيس فقال لا تشربوا في الدباء ولا في المزفت ولا في النقير واشربوا في الأسقية فقالوا يا رسول الله فإن اشتد في الاسقية قال صلى الله عليه و سلم صبوا عليه من الماء وقال لهم في الثالثة أو الرابعة فأهريقوه

قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سبز و سرخ گھڑے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے وفد عبدالقیس نے دریافت کیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا ۔ دبا ( کدو کا برتن ) مزفت ( تار کول ملا ہوا برتن ) اور نقیر ( لکڑی کا کھلا ہوا برتن ) میں مت پیو بلکہ مشکیزوں میں نبیذ پیو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ مشکیزے میں سخت ہو جائے ؟ آپ نے فرمایا اس میں پانی ڈال لو ۔ آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا پھر اس کو گرا دو۔

ذلك وفد عبد القيس ← إن أول من سأل النبي صلى الله عليه و سلم ← الجر الأخضر والجر الأحمر ← سألت بن عباس ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6340

chevron_left Previous
1…456…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter