Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6317

5977 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي عن عثمان بن مطر عن أبي حريز عن الشعبي قال سمعت النعمان بن بشير يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهاكم عن كل مسكر

شعبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جنب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَرِيزٍ، ← عثمان بن مطر ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6317

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6318

5978 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن بحر قال ثنا معتمر بن سليمان قال قرأت على فضيل بن ميسرة أبي معاذ قال حدثني أبو حريز أن الشعبي حدثه قال سمعت النعمان بن بشير يخطب على منبر الكوفة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهاكم عن كل مسكر

شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نشہ والی چیز سے تمہیں روکتا ہوں۔

النعمان بن بشير يخطب على منبر الكوفة ← أبو حريز أن الشعبي ← على فضيل بن ميسرة أبي معاذ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6318

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6319

5979 - حدثنا مبشر بن الحسن قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا الحويس بن مسلم الكوفي عن طلحة اليمامي عن أبي بردة عن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام

ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشے والی چیز حرام ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← طلحة اليمامي ← الحويس بن مسلم الكوفي ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← مبشر بن الحسن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6319

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6320

5980 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن سعيد عن أبي بردة قال سمعت أبي يحدث عن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعث أبا موسى ومعاذا إلى اليمن قال أبو موسى إن شرابا يصنع في أرضنا من العسل يقال له البتع ومن الشعير يقال له المزر فقال النبي صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن حرموا قليل النبيذ وكثيره واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فأباحوا من ذلك ما يسكر وحرموا الكثير الذي يسكر وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذه الآثار التي ذكرنا قد رويت عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن تأويلها يحتمل أن يكون كما ذهب إليه من حرم قليل النبيذ وكثيره فيحتمل أن يكون على الدار الذي يسكر منه شاربه خاصة فلما احتملت هذه الآثار كل واحد من هذين التأويلين نظرنا فيما سواهما ليعلم به أي المعنيين أريد بما ذكرنا فيها فوجدنا عمر بن الخطاب وهو أحد النفر الدين روينا عنهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال كل مسكر حرام قد روى عنه في إباحة القليل من النبيذ الشديد ما

ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کرتے سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ابو موسیٰ نے عرض کی ہمارے علاقے میں شہد سے ایک مشروب بنتا ہے جس کو بیع کہتے ہیں اور جو سے ایک مشروب بنتا ہے جس کو مزر کہتے ہیں تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہر نشے والی چیز حرام ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : کہ ایک جماعت اس طرف گئی کہ نبیذ کی تھوڑی اور زیادہ مقدار حرام ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا۔ دوسروں نے کہا نبیذ کی وہ مقدار جو نشہ نہ پیدا کرے وہ مباح ہے اور وہ زیادہ مقدار جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ آثار جن کا تذکرہ ہوا صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کے ہیں اور ان کی تاویل عین ممکن ہے کہ اس طرح بھی ہو جس طرف فریق اول گیا ہے کہ نبیذ کی قلیل و کثیر مقدار حرام ہے مگر اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے وہ مقدار مراد ہو جس سے پینے والے کو نشہ آ جائے جب ان روایات میں یہ دونوں احتمال ہیں تو اب ہم اور روایات کو دیکھتے ہیں تاکہ معنی مراد معلوم ہو سکے چنانچہ ہم نے دیکھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے " کل مسکر حرام " نقل کیا ہے انہیں سے سخت قسم کی نبیذ کی قلیل مقدار کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے روایت یہ ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي ← أَبِي بُرْدَةَ، ← سَعِيدٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6320

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6321

5981 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال حدثني إبراهيم عن همام بن الحارث عن عمر أنه كان في سفر فأتي بنبيذ فشرب منه فقطب ثم قال إن نبيذ الطائف له غرام فذكر شدة لا أحفظها ثم دعا بماء فصب عليه ثم شرب

حمام بن حارث کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے آپ کے پاس نبیذ لائی گئی پس آپ نے اس کو پیا آپ نے اس سے برتن بھرا پھر اپ نے فرمایا بے شک طائف کی نبیذ اس میں تیزی ہے ۔ پھر آپ نے اس کی سختی کا ذکر کیا جو مجھے یاد نہیں پھر آپ نے اس میں پانی منگوا کر ڈالا پھر اس کو پیا۔

إن نبيذ الطائف له غرام ← عمر أنه كان في سفر فأتي بنبيذ فشرب منه فقطب ثم ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6321

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6322

5982 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زهير بن معاوية عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال شهدت عمر حين طعن فجاءه الطبيب فقال أي الشراب أحب إليك قال النبيذ فأتي بنبيذ فشرب منه فخرج من إحدى طعنتيه

عمرو ابن میمون کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب آپ کو خنجر کا وار لگا معالج نے آ کر کہا کون سا مشروب آپ کو زیادہ پسند ہے آپ نے فرمایا نبیذ پھر آپ کے پاس نبیذ لایا گیا وہ آپ نے پیا وہ آپ کی ضرب والے زخم سے نکل گیا۔

النبيذ فأتي بنبيذ فشرب منه فخرج من إحدى طعنتيه ← شهدت عمر حين طعن فجاءه الطبيب فقال أي الشراب أحب إليك ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6322

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6323

5983 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا زهير قال ثنا أبو إسحاق عن عمرو بن ميمون مثله وزاد قال عمر وكان يقول إنا نشرب من هذا النبيذ شرابا يقطع لحوم الإبل في بطونها من أن يؤذينا قال وشربت من نبيذه فكان أشد النبيذ

عمرو بن میمون سے ابو اسحٰق نے اسی طرح روایت کی ہے ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم اس نبیذ کو بطور مشروب پیتے ہیں یہ اونٹ کے گوشت کی غذا کو پیٹ میں ختم کرتا ہے عمرو کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو دیکھا آپ نے نبیذ کو پیا تو وہ سخت نبیذ تھا۔

عمر وكان ← عمرو بن ميمون مثله وزاد ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6323

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6324

5984 - حدثنا روح قال ثنا عمرو قال ثنا زهير قال قال أبو إسحاق عن عامر عن سعيد بن ذي لعوة قال أتي عمر برجل سكران فجلده فقال إنما شربت من شرابك فقال وإن كان

سعیدبن ذی لعوہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نشے والا آدمی لایا گیا آپ نے اسے کوڑے لگائے تو اس نے کہا میں نے تو آپ والا مشروب پیا آپ نے فرمایا اگرچہ وہی ہو۔

وَإِنْ كَانَ ← إنما شربت من شرابك ← أتي عمر برجل سكران فجلده ← سَعِيدِ بْنِ ذِي لَعْوَةَ ← عَامِرٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← رَوْحٌ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6324

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6325

5985 - حدثنا فهد قال ثنا عمرو بن جعفر قال ثنا أبي عن الأعمش قال حدثني أبو إسحاق عن سعيد بن ذي حدان أو بن ذي لعوة قال جاء رجل قد ظمئ إلى خازن عمر فاستسقاه فلم يسقه فأتي بسطيحة لعمر فشرب منها فسكر فأتي به عمر فاعتذر إليه وقال إنما شربت من سطيحتك فقال عمر إنما أضربك على السكر فضربه عمر

سعید بن ذی حد ان یا ابن زی لعوہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا جو کہ پیاسا تھا اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خازن سے پانی مانگا اس نے پانی نہ پلایا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشکیزہ لایا گیا اس نے اس میں سے پیا تو اس کو نشہ چڑھ گیا اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو اس نے عذر پیش کیا کہ میں نے آپ کے مشکیزے میں سے پیا ہے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہارے نشے پر تمہیں سزا دوں گا چنانچہ آپ نے اسے کوڑے لگائے ۔

سعيد بن ذي حدان أو بن ذي لعوة ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عمرو بن جعفر ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6325

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6326

5986 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبي عن الأعمش قال حدثني حبيب بن أبي ثابت عن نافع عن أبي علقمة قال أمر بنبيذ له فصنع في بعض تلك المنازل فأبطأ عليهم ليلة فأتي بطعام فطعم ثم أتي بنبيذ قد احلف واشتد فشرب منه ثم قال إن هذا لشديد ثم أمر بماء فصب عليه ثم شرب هو وأصحابه

نافع نے ابن علقمہ سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے لئے نبیذ کا حکم دیا چنانچہ ان کے کسی مکان میں تیار کیا گیا تو ایک رات کی انہوں نے تاخیر کر دی ان کے پاس کھانا لایا گیا وہ انہوں نے کھا لیا پھر ان کے پاس نبیذ لایا گیا جو کہ نہایت سخت ہو چکا تھا آپ نے اس میں سے پیا پھر فرمایا کہ یہ تیز ہے پھر پانی لانے کا حکم دیا وہ اس میں ڈالا گیا اس میں سے آپ اور آپ کے ساتھیوں نے پیا۔

أَبِي عَلْقَمَةَ ← نَافِعٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6326

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6327

5987 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج بن منهال قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا خالد الحذاء الخزاعي عن المعدل عن بن عمر انتبذ له في مزادة فيها خمسة عشر أو ستة عشر فأتاه فذاقه فوجده حلوا فقال كأنكم أقللتم عكره

معدل نے ابن عمر سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ کے لئے ایک مشکیزے کے اندر نبیذ بنایا گیا جس میں پندرہ سولہ رطل آ سکتے تھے آپ تشریف لائے تو اس کو چکھا تو اس کو میٹھا پایا تو آپ نے فرمایا گویا تم نے اس کی تلچھٹ میں کمی کر دی۔

الْمُعَدِّلُ، ← خالد الحذاء الخزاعي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6327

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6328

5988 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال ثنا عقيل عن بن شهاب أنه قال أخبرني معاذ بن عبد الرحمن بن عثمان الليثي أن أباه عبد الرحمن بن عثمان قال صحبت عمر بن الخطاب رضي الله عنه إلى مكة فأهدى له ركب من ثقيف سطيحتين من نبيذ والسطيحة فوق الإداوة ودون المزادة قال عبد الرحمن فشرب عمر إحداهما ولم يشرب الأخرى حتى اشتد ما فيه فذهب عمر فشرب منه فوجده قد اشتد فقال اكسروه بالماء

عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ تک گیا آپ کو ثقیف کے ایک قافلے نے نبیذ کی دو مشکیں دیں سطیح ادا وہ سے بڑی اور مزا وہ سے چھوٹی مشک کو کہا جاتا ہے عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں ایک استعمال فرمائی دوسری کو سخت ہونے تک استعمال نہیں کیا۔ آپ اس کو پینے لگے تو اس کو سخت پایا آپ نے فرمایا اس میں پانی ڈال کر اس کی تیزی کو توڑ دو۔

بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6328

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter