شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6293
5953 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا بن شهاب عن أبي ليلى عن عيسى أن أباه بعثه إلى أنس في حاجة فأبصر عنده طلاء شديدا والطلاء ما يسكر كثيره فلم يكن ذلك عند أنس خمرا وإن كثيره يسكر وثبت بما وصفنا أن الخمر عند أنس لم يكن من كل شراب ولكنها من خاص من الأشربة وقد وجدنا من الآثار ما يدل على ما ذكرنا أيضا مما تأولنا عليه أحاديث أنس
ابو لیلیٰ نے عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کام کے لئےبھیجا ۔ میں نے وہاں سخت قسم کا طلاء دیکھا۔ طلاء وہ ہے جس کا زیادہ پینا نشہ لائے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ خمر میں شمار نہیں ہوتا تھا حالانکہ اس کا زیادہ پینا نشہ آور تھا۔ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں ہرشراب خمر نہیں بلکہ وہ خاص مشروبات سے حاصل ہوتی ہے ہمیں اور بھی آثار ایسے ملتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایات کی تاویلات میں پیش کئے ہیں۔
أَبِي لَيْلَى ← بن شِهَابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6293
