Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6281

5941 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام عن يحيى بن أبي كثير عن أبي كثير عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الخمر من هاتين الشجرتين النخلة والعنبة

ابو کثیر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ۔ کھجور ، انگور

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي کَثِيرٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة بكار بن قتيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6281

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6282

5942 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن الأوزاعي وعكرمة بن عمار عن أبي كثير وهشام عن يحيى بن أبي كثير عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو کثیر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أبي كثير وهشام ← الأوزاعي وعكرمة بن عمار ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6282

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6283

5943 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن حمران قال ثنا عقبة بن التوم الرقاشي قال حدثني أبو كثير اليمامي قال دخلت من اليمامة إلى المدينة لما أكثر الناس الختلاف في النبيذ لألقى أبا هريرة فأسأله عن ذلك فلقيته فقلت يا أبا هريرة إني أتيتك من اليمامة أسألك عن النبيذ فحدثني عن النبي صلى الله عليه و سلم لا تحدثني عن غيره فقال سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول الخمر من الكرمة والنخلة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الخمر من التمر والعنب جميعا واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الخمر المحرمة في كتاب الله تعالى هي الخمر التي من عصير العنب إذا نش العصير وألقى بالزبد هكذا كان أبو حنيفة رحمه الله يقول وقال أبو يوسف رحمه الله إذا نش وإن لم يلق بالزبد فقد صار خمرا وليس الحديث الذي رويناه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في أول هذا الباب بخلاف ذلك عندنا لأنه يحتمل أن يكون أراد بقوله الخمر من هاتين الشجرتين إحداهما فعمهما بالخطاب وأراد إحداهما دون الأخرى كما قال الله عز و جل يخرج منهما اللؤلؤ والمرجان وإنما يخرج من أحدهما وكما قال يا معشر الجن والإنس ألم يأتكم رسل منكم والرسل من الإنس لا من الجن وكما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عبادة بن الصامت إذ أخذ على أصحابه في البيعة كما أخذ على النساء أن لا تشركوا ولا تسرقوا ولا تزنوا ثم قال من أصاب من ذلك شيئا فعوقب به فهو كفارة له

ابو کثیر یمامی کہتے ہیں کہ یمامہ سے مدینہ آیا جبکہ لوگوں کے درمیان نبیذ کے اختلاف نے زور پکڑا میں نے اپنے آپ کو کہا کہ میں ضرور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کروں گا اور اس کے متعلق ان سے سوال کروں گا۔ چنانچہ میں ان سے ملا اور میں نے کہا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں نبیذ کے متعلق پوچھنے کے لئے یمامہ سے حاضر ہوا ہوں میں نے کہا آپ جناب رسول اللہ ﷺکا ارشاد میرے سامنے نقل کیجئے اور کوئی بات نقل مت کریں۔ تو وہ فرمانے لگے میں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا کہ شراب انگور کی بیل اور کھجور سے بنتی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ شراب کھجور اور انگور دونوں سے ہوتی ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ۔ وہ شراب جس کو کتاب اللہ میں حرام کہا گیا وہ انگور کا نچوڑ ہے جبکہ اسے جوش آئے اور جھاگ پھینکے ۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔قول ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ یہ ہے جب وہ جوش کرے اگرچہ وہ جھاگ پیدا نہ کرے وہ شراب بن جائے گی۔ شروع باب میں مذکور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت وہ اس کے مخالف نہیں ہے ۔ الخمر من ھاتین الشجر تین " خطاب اگرچہ عام ہے مگر مراد ایک ہے جیسا کہ اس ارشاد الہی میں " ٰیخرج منھما اللؤ والمرجان " ( الرحمن 22) ان میں سے ایک سے یہ مونگے موتی نکلتے ہیں جیسا کہ فرمایا : " یمعشر الجن والانس " الانعام 130) دونوں اجناس کا ذکر فرما کر مراد انسان لئے ہیں کیونکہ رسول تو صرف انسانوں سے آئے ہیں نہ کہ جنات سے رضی اللہ عنہ جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کہ حضرت عبادہ بن صامت والی روایت میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح صحابیات سے لی۔ ان لا تشرکو ۔۔۔ کہ شرک نہ کرنا ، چوری نہ کرنا، اور زنا نہ کرنا پھر فرمایا جو ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا پھر اسے سزا مل گئی وہ اس کے لئے کفارہ ہے ۔ ( بخاری فی الایمان باب : 11)

أبو كثير اليمامي ← عقبة بن التوم الرقاشي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6283

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6284

5944 - حدثنا بذلك يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه و سلم وقد علمنا من أشرك فعوقب بشركه فليس ذلك بكفارة فدل ما ذكرنا أنه إنما أراد ما سوى الشرك مما ذكر في هذا الحديث فلما كانت هذه الأشياء قد جاءت ظاهرها على الجمع وباطنها على خاص من ذلك احتمل أيضا أن يكون قوله الخمر من هاتين الشجرتين النخلة والعنبة ظاهر ذلك عليهما وباطنه على أحدهما فيكون الخمر المقصود في ذلك من العنبة لا من النخلة ويحتمل أيضا قوله الخمر من هاتين الشجرتين أن يكون عني به الشجرتين جميعا ويكون ما خمر من ثمرهما خمرا كما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد فيما ينفع من الزبيب والتمر فجعلوه خمرا ويحتمل قوله الخمر من هاتين الشجرتين أن يكون أراد الخمر منهما وإن كانت مختلفة على أنها من العنب ما قد علمناه من الخمر وعلى أنها من التمر ما يسكر فيكون خمر العنب هي عين العصير إذا اشتد وخمر التمر هو المقدار من نبيذ التمر الذي يسكر فلما احتمل هذا الحديث هذه الوجوه التي ذكرنا لم يكن أحدها بأولى من بقيتها ولم يكن لمتأول أن يتأوله على أحدهما إلا كان لخصمه أن يتأوله على ذلك فإن قال قائل فما معنى حديث عمر يريد ما

ابو ادریس خولانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جس آدمی نے شرک کیا پھر اس کو شرک کی سزا دے دی گئی یہ اس کے لئے کفارہ نہیں بنے گا جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ شرک کے علاوہ مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد شرک کے علاوہ گناہ ہیں جن کا تذکرہ اس روایت میں آیا ہے جب ان اشیاء کو ظاہری طور پر اکٹھا ذکر کیا حالانکہ حقیقی طور پر ان میں بعض خاص ہیں تو اسی طرح روایت : الخمر من ھاتین الشجر تین النخلۃ و العنبۃ " ظاہری طور پر دونوں مذکور ہیں اور حقیقی طور پر ایک مراد ہے پس مقصودی شراب انگور سے بنتی ہے ۔ ممکن ہے کہ دونوں کے درخت بھی مراد ہوں اور جوان دونوں کے پھلوں میں سے خمر بنائی جائے وہ خمر ہو جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول ہے کہ کھجور اور انگور میں سے نچوڑ کر بنائی جائے وہ خمر ہے ۔ اس خمر والی روایت سے مراد یہ ہے کہ شراب دونوں سے ہے اگرچہ وہ مختلف ہے جیسا کہ انگور سے ہم جانتے ہیں اور کھجور میں سے وہ جو نشہ پیدا کرے پس اس لحاظ سے انگور کی شراب تو بعینہ وہی نچوڑ ہے جبکہ وہ گاڑھا ہو جائے اور کھجور کی شراب نبیذ تمر کی ایسی مقدار جو نشہ آور ہو جائے جب اس روایت میں ان وجوہات کا احتمال ہوا تو پھر ایک احتمال دوسرے سے کسی طور پر بھی اولیٰ نہیں ہر ایک اس کو دلیل بنا سکتا ہے ۔ اس حدیث عمر کا پھر کیا مطلب ہو گا ( روایت یہ ہے )

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← بذلك يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6284

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6285

5945 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال سمعت بن إدريس قال سمعت أبا حيان التيمي عن الشعبي عن بن عمر قال سمعت عمر رضي الله عنه على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول أما بعد أيها الناس إنه نزل تحريم الخمر وهي يومئذ من خمسة التمر والعنب والعسل والحنطة والشعير والخمر ما خامر العقل وقد روى مثل ذلك أيضا عن بن عمرو النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم

شعبی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ منبر رسول اللہ ﷺ پر یہ فرما رہے تھے : اما بعد ! اے لوگو ! شراب کی حرمت اتری ان دنوں شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی : کھجور، انگور، شہد، گندم ، جو اور خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ۔ اس جیسی روایت ابن عمرو النعمان نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے ۔

بن عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبَا حَيَّانَ التَّيْمِيَّ ← بن إدريس، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6285

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6286

5946 - حدثنا ربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال ثنا بن لهيعة عن أبي النضر عن سالم بن عبد الله عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن من العنب خمرا وأنهاكم عن كل مسكر

سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انگور میں خمر ہے اور میں تمہیں ہر نشے والی چیز سے منع کرتا ہوں۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي النَّضْرِ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6286

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6287

5947 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر عن الشعبي عن النعمان بن بشير عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه لم يذكره قوله وأنهاكم عن كل مسكر قيل له يحتمل هذان الحديثان جميع المعاني التي يحتملها الحديث الأول غير معنى واحد وهو ما احتمله الحديث الأول مما حمله عليه من ذهب إلى كراهة نقيع التمر والزبيب فإنه لا يحتمله هذا الحديث لأنه قرن مع ذلك خمر الحنطة وخمر الشعير وهم لا يقولون ذلك لأنهم لا يرون بنقيع الحنطة والشعير بأسا ويفرقون بينهما وبين نقيع التمر والزبيب فذلك التأويل لا يحتمله هذا الحديث ولكنه يحتمل التأويلات الأخر كما يحتمله الحديث الأول فإن احتج في ذلك بما روى عن أنس قال

شعبی نے نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت ذکر کی البتہ اس میں " انھا کم عن کل مسکر " کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ان دونوں روایاتوں میں وہ تمام احتمالات ہیں جو پہلی روایت میں ہم ذکر کئے البتہ ایک معنی کا احتمال نہیں جو کہ فقط پہلی روایت میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جنہوں نے کھجور اور کشمش کے رس کو مکروہ قرار دیا ہے ان روایات میں اس معنی کا حتمال اس لئے نہیں کیونکہ پہلی روایت میں گندم اور جو اور شہد کی خمر کو بھی ساتھ ملایا گیا ہے اور فریق اول اس کا قائل نہیں کیونکہ ان کے خیال میں جو اور گندم کے نچوڑ میں کوئی حرج نہیں اسی لئے وہ ان کے نچوڑ اور کھجور اور کشمش کے نچوڑ میں فرق کرتے ہیں تو اس روایت میں اس تاویل کا احتمال نہیں بلکہ اس کے علاوہ تاویلات کا احتمال ہے ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ کچی اور پکی کھجوروں کا رس بھی ان کے ہاں خمر میں شمار ہوتا تھا جیسا کہ یہ روایات دلالت کرتی ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6287

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6288

5948 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا أبو الأحوص قال ثنا أبو إسحاق الهمداني عن يزيد بن أبي مريم عن أنس قال كنا في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ننبذ الرطب والبسر فلما نزل تحريم الخمر أهرقناهما من الأوعية ثم تركناهما

یزید بن ابی مریم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کچی اور پکی کھجوروں کا نبیذ بناتے تھے جب شراب کی حرمت اتری ہو تو ہم نے ان دونوں کو بھی برتنوں سے گرادیا اور اس کو چھوڑ دیا ۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6288

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6289

5949 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر قال ثنا حميد الطويل عن أنس قال كان أبو عبيدة بن الجراح وسهيل بن البيضاء وأبي بن كعب عند أبي طلحة وأنا أسقيهم من شراب حتى كاد أن يأخذ فيهم قال فمر بنا مار من المسلمين فنادى ألا هل شعرتم إن الخمر قد حرمت فوالله ما أنتظر أن أمروني أن ألقي ما في الآنية ففعلت فما عادوا في شيء منها حتى لقوا الله وإنها للبسر والتمر وإنها لخمرنا يومئذ

حمید الطویل کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جرح، سہیل بن بیضاء اور ابی ابن کعب حضرت ابو طلحہ کے پاس مہمان تھے اور میں ان کو شراب پلا رہا تھا قریب تھا کہ شراب ان پر اپنا اثر کر جائے کہ ہمارے پاس سے ایک مسلمان کا گزر ہوا اس نے زور سے آواز دی ۔ سنو کیا تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ شراب حرام کر دی گئی اللہ کی قسم ! انہوں نے ذرا انتظار نہیں کیا مجھے حکم دیا کہ جو کچھ برتنوں میں ہے ۔ میں وہ سب انڈیل دوں میں نے فوراً ایسا کر دیا پھر وہ اس میں سے کسی چیز کی طرف بھی نہیں لوٹے ۔ یہاں تک کہ ان کی وفات ہوئی اور بلاشبہ وہ کچی اور پکی کھجور تھی اور ان دنوں ہماری وہی شراب تھی۔

أسقيهم من شراب حتى كاد أن يأخذ فيهم ← أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ← سهيل بن البيضاء، ← كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6289

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6290

5950 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا عبد الله بن بكر قال ثنا حميد عن أنس مثله

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، مِثْلَهُ ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6290

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6291

5951 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا ثابت وحميد عن أنس قال كنت أسقي أبا طلحة وسهيل بن بيضاء وأبا عبيدة بن الجراح وأبا دجانة خليط البسر والتمر حتى أشرعت فيهم فنادى رجل ألا إن الخمر قد حرمت فوالله ما انتظروا حتى يعلموا أحقا ما قال أن باطلا فقالوا أكفئ إناءك يا أنس فكفأتها فلم يرجع إلى رؤوسهم حتى لقوا الله عز و جل وكان خمرهم يومئذ البسر والتمر

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ سہیل بن بیضاء ابو عبیدہ بن جراح اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہم کو کچی ، پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ان میں اپنا اثر شروع کیا۔ اسی وقت ایک منادی نے ندا دی سنو ! بے شک شراب حرام کر دی گئی ۔ اللہ کی قسم انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے بھی انتظار نہ کیا کہ آیا یہ سچی بات ہے یا جھوٹی سب نے کہا اے انس اپنا برتن الٹ دو پھر وہ نشہ ان کے سروں کی طرف نہیں لوٹا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے ان دنوں شراب کچی اور پکی کھجوروں کی ہوتی تھی۔

أبا دجانة خليط البسر والتمر حتى أشرعت فيهم فنادى رجل ألا ← أبا عبيدة بن الجراح ← سهيل بن بيضاء ← كنت أسقي أبا طلحة ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6291

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6292

5952 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام عن قتادة عن أنس قال إني لأسقي أبا طلحة وأبا دجانة وسهيل بن بيضاء خليط بسر وتمر إذ حرمت الخمر فارقتها وأنا ساقيهم يومئذ وأصغرهم وإنا نعدها يومئذ خمرا قالوا هذا ما يدل على أن ذلك كان خمرا أيضا قيل لهم ليس في ذلك دليل على ما ذكرت لأنه قد يجوز أن يكون الشراب نقيع تمر مخمر فثبت بذلك قول من كره نقيع التمر ولا يجب بذلك حجة حرمة طبيخه ويحتمل أن يكونوا فعلوا ذلك لعلمهم أن كثير ذلك مسكر فلم يأمنوا على أنفسهم الوقوع فيه لقرب عهدهم به فكسروه لذلك وأما قول أنس وإنها لخمرنا يومئذ فيحتمل أن يكون أراد بذلك ما كنا نخمر والدليل على ذلك ما

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ ، ابو دجانہ ، سہیل بن بیضاء کو کچی ، پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا جبکہ شراب کے حرام ہونے کا اعلان ہوا میں ان میں سے سب سے چھوٹا اور ان کا ساتھی تھا میں نے وہ ساری شراب بہادی ہم ان دنوں اسی کو شراب شمار کرتے تھے ۔ یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ کچی پکی کھجور کا نبیذ بھی شراب تھی۔ ان کو جواب میں کہے کہ ان روایات میں تو کوئی دلیل نہیں جو تمہاری اس بات کو ثابت کرے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ شراب کھجور سے بنائی شراب کا نچوڑ ہو۔ اس سے تو ان لوگوں کا قول ثابت ہو گیا جو کھجور کے نچوڑ کو ناپسند کرتے ہیں اس سے پکے ہوئے نبیذ کی حرمت تو نہ ثابت ہو سکی اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ اس لئے کیا ہو کہ وہ جانتے تھے کہ اس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہے اور ان کو شراب کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اسی کے پیش نظر انہوں نے اس کے برتن بھی توڑ ڈالے ۔ باقی حضرت انس رضی اللہ عنہ کا قول " انہ لخمر نا یو منذ " اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان مراد یہ ہو کہ ہم اس کو خمر بنا لیتے تھے اور اس احتمال کی دلیل یہ روایت ہے ۔

نعدها يومئذ خمرا ← ساقيهم يومئذ وأصغرهم، ← سهيل بن بيضاء خليط بسر وتمر إذ حرمت الخمر فارقتها ← أبا دجانة ← إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6292

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter