شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 7 باب أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاثة أيام ) · حديث 6145
5814 - حدثنا بحر عن شعيب عن أبيه عن الحارث بن يعقوب عن يزيد بن أبي يزيد مولى الأنصار ثم ذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر ففي هذه الآثار ما يدل على نسخ ما رويناه في أول هذا الباب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من النهي عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام فإن قيل فقد رويتم عن علي في هذا الفصل عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه أباح لحوم الأضاحي بعد ما قد كان نهى عنها ثم رويتم عنه في الفصل الذي قبل هذا الفصل أنه خطب الناس وعثمان محصور فقال لا تأكلوا من لحوم أضاحيكم بعد ثلاثة أيام فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بذلك فقد دل ذلك على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان نهى عن ذلك بعد ما كان إباحه حتى تتفق معاني ما رويتموه عن علي رضي الله عنه من هذا ولا يتضاد قيل له ما في هذا دليل على ما ذكرت لأنه قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم كان نهى عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام لشدة كان الناس فيها ثم ارتفعت تلك الشدة فأباح لهم ذلك ثم عاد ذلك في وقت ما خطب على الناس فأمرهم بما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرهم به في مثل ذلك والدليل على ما ذكرنا من هذا
حارث بن یعقوب نے یزید بن ابی یزید مولا انصار سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : کہ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ۔ تم نے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے گوشت کو ممانعت کے بعد حلال قرار دیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ نے منع تو کیا تھا اس کے بعد کہ اس کو جائز قرار دیا تاکہ روایات کے معانی درست ہو سکیں اور ان میں تضاد نہ ہو۔ ان کو جواب میں کہے کہ جو کچھ آپ نے ذکر کیا اس میں آپ کے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں اس لئے ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے اس لئے منع کیا ہو کہ لوگوں پر تنگدستی ہے پھر وہ تنگدستی ختم ہو گئی تو ان کے لئے مباح کر دیا پھر دوبارہ لوٹ آئی جس وقت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو انہوں نے لوگوں کو وہی بات فرمائی ۔ جس کا جناب رسول اللہ ﷺ نے ایسے حالات میں حکم دیا تھا اور اس کی دلیل ابن مرزوق کی یہ روایت ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6145
