Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6109

5782 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو صالح قال ثنا الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن عمرو بن مسلم أنه قال أخبرني سعيد بن المسيب أن أم سلمة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله قال الليث قد جاء هذا وأكثر الناس على غيره قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وجعلوه أصلا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بقص الأظفار والشعر في أيام العشر لمن عزم على أن يضحي ولمن لم يعزم على ذلك واحتجوا في ذلك بما قد ذكرناه في كتاب الحج عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كنت أفتل قلائد هدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيبعث بها ثم يقيم فينا حلالا لا يجتنب شيئا مما يجتنبه المحرم حتى يرجع الناس ففي ذلك دليل على إباحة ما قد حظره الحديث الأول ومجيء حديث عائشة رضي الله عنها أحسن من مجيء حديث أم سلمة رضي الله عنها لأنه جاء مجيئا متواترا وحديث أم سلمة رضي الله عنها فلم يجئ كذلك بل قد طعن في إسناد حديث مالك فقيل إنه موقوف على أم سلمة رضي الله عنها

سعید بن مسیب نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے امام لیث کہتے ہیں کہ یہ حکم تو بہت وارد ہوا مگر اکثر لوگ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں بعض نے اس روایت سے استدلال کیا اور اس کو اصل لازم قرار دیا ۔ بال و ناخن ایام ذی الحجہ میں تراشوانے میں کوئی حرج نہیں اس میں وہ آدمی جو قربانی کرنا چاہتا ہو اور اس کے لیے بھی جو قربانی کا عزم نہ رکھتا ہو انہوں نے اپنی دلیل میں حضرت عائشیہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے استدلال کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے بناتی تھی آپ ہدی روانہ کرتے پھر گھر میں بلا احرام مقیم رہتے اور جن چیزوں سے محروم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی چیز سے بھی پرہیز نہ کرتے یہاں تک کہ لوگ لوٹ آتے اس روایت میں اس چیز کو مباح قرار دیا گیا ۔ جس کی ممانعت پہلی روایت میں وارد ہے روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کالانا روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بہتر ہے کہ کیونکہ یہ روایت متواتر طرق سے وارد ہوئی ہے جبکہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس طرح نہیں بلکہ مالک کی سند سے آنے والی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں ۔

عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6109

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6110

5783 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر بن فارس قال أخبرنا مالك عن عمرو بن مسلم عن سعيد بن المسيب عن أم سلمة رضي الله عنها ولم ترفعه قالت من رأى هلال ذي الحجة وأراد أن يضحي فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره حتى يضحي

سعید بن مسیب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نقل نہیں کیا ۔ اس میں یہ ہے جو ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ اپنے بال و ناخن نہ ترشوائے یہاں تک کہ قربانی کرے۔

أم سلمة ولم ترفعه ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← مَالِكٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6110

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6111

5784 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن عمرو بن مسلم عن سعيد بن مسلم عن سعيد بن المسيب عن أم سلمة رضي الله عنها مثله ولم ترفعه فهذا هو أصل الحديث عن أم سلمة رضي الله عنها فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما النظر في ذلك فإنا قد رأينا الإحرام ينحظر به أشياء مما قد كانت كلها قبله حلالا منها الجماع والقبلة وقص الأظفار وحلق الشعر وقتل الصيد فكل هذه الأشياء تحرم بالإحرام وأحكام ذلك مختلفة فأما الجماع فمن أصابه في إحرامه فسد إحرامه وما سوى ذلك لا يفسد إصابته الإحرام فكان الجماع أغلظ الأشياء التي يحرمها الإحرام ثم رأينا من دخلت عليه أيام العشر وهو يريد ان يضحي أن ذلك لا يمنعه من الجماع فلما كان ذلك لا يمنعه من الجماع وهو أغلظ ما يحرم بالإحرام كان أحرى أن لا يمنع مما دون ذلك فهذا هو النظر في هذا الباب أيضا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روى ذلك أيضا عن جماعة من المتقدمين

سعید بن مسیب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی اور اس کو مرفوع قرار نہیں دیا ۔ یہ آثار کے لحاظ سے اس کا حکم ہے البتہ غور و فکر کے لحاظ سے اس طرح ہے کہ احرام سے کئی ایسی چیزیں منع کر دی جاتی ہیں جوکہ پہلے حلال تھیں مثلاً جماع قبلہ ( بوسہ) ناخن اتارنا بال مونڈھنا ، شکار مارنا یہ تمام اشیاء احرام میں احرام ہیں اور ان کے احکام مختلف ہیں مثلا ً جو احرام میں جماع کرے اس کا احرام ختم ہو جائے گا ان کے علاوہ اور چیز احرام کو فاسد نہیں کرتیں جن چیزوں کو احرام نے حرام کیا ہے ۔ ان میں سے سب سے زیادہ سخت جماع ہے پھر ہم نے غور کیا کہ جب عشرہ دوالحجہ آجائے اور وہ آدمی قربانی کرنا چاہتا ہو تو اس کو جماع سے کوئی چیز مانع نہیں ہے جب احرام کی سب سے زیادہ سخت چیز عشرہ ذوالحجہ میں ممنوع نہیں تو اس سے کم درجہ کی چیز بدرجہ اولیٰ مانع نہ بنے گی اس باب میں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور ہمارے ائمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6111

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6112

5785 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي ذئب ح

ابن وہب نے ابن ابی ریب سے روایت نقل کی ہے ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6112

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6113

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا بن أبي ذئب عن بريد بن عبد الله بن قسيط أن عطاء بن يسار وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام وأبا بكر بن سليمان كانوا لا يرون بأسا أن يأخذ الرجل من شعره ويقلم أظفاره في عشر ذي الحجة وقد احتج في ذلك أيضا بعض أصحابنا بما

ابراہیم بن مرزوق نے اپنی سند کے ساتھ یزید بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ عطاء بن یسار اور ابو بکر بن عبدالرحمن اور ابو بکر بن سلیمان عشرہ زوالحجہ میں ناخن اور بال کاٹنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ہمارے بعض علماء نے اس روایت کو بھی دلیل بنایا ہے ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6113

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6114

5786 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن أبي ذئب عن عثمان بن عبيد الله بن رافع عن عبد الرحمن بن هرمز عن محمد بن ربيعة قال رآني عمر بن الخطاب رضي الله عنه طويل الشارب وذلك بذي الحليفة وأنا على ناقتي وأنا أريد الحج فأمرني أن أقص من شعري ففعلت ولا حجة عندنا في هذا لأنه لا يريد أن يضحي إذا كان يريد الحج فلا حجة في هذا على أهل المقالة الأولى لأنهم إنما يمنعون من ذلك من أراد أن يضحي وحجة أخرى تدفع هذا الحديث أن يكون فيه حجة عليهم وذلك أنه لم يذكر أن ذلك كان في عشر ذي الحجة أو قبل ذلك

محمد بن ربیعہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب نے دیکھا جبکہ میں ذوالحلیفہ میں اپنی اونٹنی پر سوار حج کا ارادہ کر رہا تھا اور میری مونچھیں لمبی تھیں مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنے بال کاٹ لوں چنانچہ میں نے اپنے بال کاٹ لیے ۔ اس روایت میں ہمارے لیے بھی کوئی دلیل نہیں اس لیے کہ وہ قربانی کا ارادہ تو رکھتا نہیں جبکہ وہ حج کا ارادہ رکھتا ہے تو فریق اول کے خلاف بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ وہ ناخن کاٹنا وغیرہ اس کے لیے ممنوع قرار دیتے ہیں جو قربانی کرنا چاہتا ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت فریق اول کے خلاف دلیل بھی کیسے بنے ۔ جبکہ اس میں یہ مذکور نہیں کہ یہ عشرہ ذی الحجہ کا واقعہ ہےیا اس سے پہلے کا ہے ۔

على ناقتي ← رآني عمر بن الخطاب طويل الشارب وذلك بذي الحليفة ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← عثمان بن عبيد الله بن رافع ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6114

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6115

5787 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير وروح بن عبادة قالا ثنا شعبة ح

وہب بن جریر اور روح بن عبادہ دونوں نے شعبہ سے روایت کی ہے ۔

شُعْبَةُ، ← وهب بن جرير وروح بن عبادة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6115

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6116

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان قالا جميعا عن سماك بن حرب عن مري بن قطري رجل من بني ثعلب عن عدي بن حاتم قال قلت يا رسول الله أرسل كلبي فيأخذ الصيد فلا يكون معي ما يذكيه إلا المروة والعصي فقال أنهر الدم بما شئت وأذكر أسم الله عز و جل قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن أباحوا ما ذبح بالسن والظفر المنزوعين وغير المنزوعين واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا ما ذبح بهما إذا كانا غير منزوعين وأباحوا ما ذبح بهما إذا كانا منزوعين واحتجوا في ذلك بما

ابراہیم بن مرزوق نے اپنی سند سے مری بن قطری تعلبی سے روایت کی انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں اور میرے پاس اس کو ذبح کرنے کے لیے پتھر اور لاٹھی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خون کو بہا دو خواہ جس چیز سے بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کا نام لو ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اکھڑے ہوئے ناخن اور دانت اور نہ اکھڑے ہوئے ناخن اور دانت سے ذبح کو جائز قرار دیا اور اس دلیل کو پیش کیا ۔ دوسروں نے کہا انہوں نے ان دونوں کے ذریعے ذبح کو مکروہ قرار دیا جبکہ یہ اکھڑے نہ گئے ہوں اور اکھڑے ہوئے ناخنوں اور دانتوں سے ذبیحہ کو جائز قرار دیا اور اس روایت کو دلیل میں پیش کیا

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مري بن قطري رجل من بني ثعلب ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← جَمِيعًا ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← وحدثنا إبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6116

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6117

5788 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا روح وسعيد بن عامر قالا ثنا شعبة عن سعيد بن مسروق عن عباية بن رفاعة عن جده رافع بن خديج أنه قال يا رسول الله إنا لاقو العدو غدا وليس معنا مدي قال ما أنهر الدم وذكرت أسم الله عليه فكل ليس السن والظفر وسأخبرك أما الظفر فمدي الحبشة وأما السن فعظم

عبایہ بن رفاعہ نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج سے نقل کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل ہمار ا دشمن سے سامنا ہے اور ہمارے پاس ذبح کے لیے چھری نہیں آپ نے فرمایا جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اور وہ خون کو بہا دے اس ذبیحہ کو کھاؤ سوائے ناخن اور دانت کے اور میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ ناخن کو چھری کے طور پر حبشہ والے استعمال کرتے ہیں اور دانت ہڈی ہے ۔

جده رافع بن خديج أنه ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← شُعْبَةُ، ← روح وسعيد بن عامر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6117

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6118

5789 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني سفيان الثوري عن أبيه عن عباية بن رفاعة عن جده رافع بن خديج رضي الله عنه أنه قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم إنا نرجو أو نخشى أن نلقي العدو وليس معنا مدي أفنذبح بالقصب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أنهر الدم وذكر أسم الله عليه فكلوا إلا السن والظفر ففي هذا الحديث إخراج النبي صلى الله عليه و سلم السن والظفر مما أباح الذكاة به فاحتمل أن يكون ذلك على المنزوعين واحتمل أن يكون على المنزوعين وغير المنزوعين فإن كان ذلك على المنزوعين فهما إذا كانا غير منزوعين أحرى أن يكونا كذلك وإن كان ذلك على غير المنزوعين فليس في ذلك دليل على حكم المنزوعين في ذلك كيف هو فلما أحاط العلم بوقوع النهي في هذا على غير المنزوعين ولم يحط العلم بوقوعه على المنزوعين وقد جاء حديث عدي الذي ذكرناه مطلقا أخرجنا منه ما أحاط العلم بإخراج حديث رافع إياه منه وتركنا ما لم يحط العلم بإخراج حديث رافع إياه منه على ما أطلقه حديث عدي بن حاتم رضي الله عنه وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما في هذا ما قد

حضرت عبایہ بن رفاعہ نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ ہمیں امید یا خطرہ ہے کہ کل دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو اور ہمار ے پاس چھری نہیں کیا ہم بانس کے ساتھ ذبح کر سکتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خون بہا ئے اور اس پر اللہ کا نا م لیا جائے اس کو کھاؤ سوائے ناخن اور دانت کے اس روایت میں جن چیزوں سے ذبح ہو سکتا ہے ان میں سے ناخن اور دانت کا نکال دیا پس اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اگر نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور پھر اکھاڑے ہوئے کا حکم کیا ہو گا اس کی کوئی دلیل یہاں موجود نہیں اور اگر وہ اکھاڑے ہوئے ہوں تو وہ دونوں جبکہ نہ اکھاڑے ہوئے ہوں زیادہ مناسب ہے کہ وہ اس طرح ہوں اور اگر اس سے مراد نہ اکھاڑے ہوئے ہوں اور پھر اکھاڑے ہوئے کے متعلق کیا حکم ہو گا اس کی کوئی دلیل نہیں اور نہ اکھاڑے ہوؤں کے متعلق جب پختہ طور نہی کا آنا ثابت ہو گیا اور اکھاڑے ہوئے کے متعلق معلوم نہ ہوا ۔ حالانکہ حضرت عدی کی روایت میں یہ بات موجود ہے وہ مطلق ہے اور جن کے بارے میں ہمیں علم تھا ہم نے انکو حدیث رافع کے ذریعے نکال دیا اور جن کے بارے میں علم نہیں تھا ان کو حدیث رافع کے ذریعے نکالنے والا معاملہ چھوڑ دیا جیسا کہ حدیث عدی رضی اللہ عنہ میں مطلق آیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ بات مروی ہے روایت یہ ہے ۔

جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6118

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6119

5790 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا أبو الأشعث عن أبي رجاء العطاردي قال خرجنا حجاجا فصاد رجل من القوم أرنبا فذبحها بظفره فشواها فأكلوها ولم آكل معهم فلما قدمنا المدينة سألت بن عباس رضي الله عنهما فقال لعلك أكلت معهم فقلت لا قال أصبت إنما قتلها خنقا

ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں کہ ہم حج کے لیے نکلے تو ساتھیوں میں سے ایک نے خرگوش شکار کیا اور اس کو اپنے ناخن کے ذریعے ذبح کیا اور اس کو بھونا سب نے کھایا مگر میں نے نہ کھایا جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا شاید تم نے بھی انکے ساتھ کھایا ہو گا میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا تم نے درست کیا انہوں نے اس کا گلہ گھونٹ کر مارا ہے ۔

أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6119

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 6 باب الذبح بالسن والظفر ) · حديث 6120

5791 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا يعقوب بن إسحاق قال ثنا سلم بن زرير عن أبي رجاء مثله أفلا ترى أن بن عباس رضي الله عنهما قد بين في حديثه هذا المعنى الذي به حرم أكل ما ذبح بالظفر أنه الخنق لأن ما ذبح به فإنما ذبح بكف لا بغيرها فهو مخنوق فدل ذلك أن مانهى عنه من الذبح بالظفر هو الظفر المركب في الكف لا الظفر المنزوع وكذلك ما نهى عنه مع ذلك من الذبح بالسن فإنما هو على السن المركبة في الفم لأن ذلك يكون عضا فأما السن المنزوعة فلا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

۶۱۲۰- یعقوب بن اسحق نے بیان کیا کہ ہمیں سلم بن زریر نے ابورجاء سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ کیا تم غور نہیں کرتے ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں وضاحت کر دی کہ یہ طریق کار جس سے ناخن کے ذبیحہ کا کھانا حرام ہوا وہ گلہ دبا نا ہے کیونکہ جو اس طریقے سے ذبح کیا جائے گا وہ ہتھیلی سے ذبح ہو گا نہ کہ اور کسی چیز سے اس لیے وہ گلہ گھونٹا ہوا شمار ہو گا پس اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ جس ناخن سے ذبح کرنا ممنوع ہے وہ ناخن ہے جو ہتھیلی سے جڑا ہوا ہو وہ ناخن مراد نہیں جو کہ الگ ہو اس طرح جس دانت سے ذبح کرنا ممنوع ہے اس مراد وہ دانت ہے جو منہ میں گھڑا ہوا ہو کیونکہ یہ عضو کے اندر آئے گا۔ رہا الگ دانت تو اس کا ذبیحہ ممنوع نہیں یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6120

chevron_left Previous
1…567…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter