Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6097

5770 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا خالد بن عبد الرحمن حدثنا بن أبي ذئب عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلما جعلت البقرة عن سبعة وكان ذلك مما قد وقف عليه ولم يجعل لنا أن نعدو ذلك إلى ما هو أكثر منه كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة من ذلك فلما ثبت أن الشاة لا تجزئ عن أكثر من سبعة انتفى بذلك قول من قال إنها تجزئ عن جميع من ذبحت عنه ممن لا وقت ولهم ولا عدد ولا يجاوز إلى غيره وثبت ضده وهو قول من قال إن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد فقال قائل إنا إنما جعلنا الشاة تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة والجزور لأن الشاة أفضل منهما فقيل له ولم قلت ذلك وما دليلك عليه وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے جب ثابت ہو گیا کہ گائے سات سے زائد حصو ں میں تقسیم نہیں ہو سکتی جب ان سے سات پر اکتفا ثابت ہوا تو ہمیں ا ن سے زائد یا اکثر کی طرف سے تعدیہ جائز نہیں ۔ تو بکری میں سات سے اضافہ نہ ہوتا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا اب جبکہ بکری سات سے زائد کے لیے کافی نہیں تو ان لوگوں کی بات نادر ست ہو گئی جو کہتے ہیں کہ یہ ان سب کی طرف سے کافی ہو گئی جن کی طرف سے وہ ذبح کی گئی جن کی تعداد غیر معین ہے اور یہ حکم اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرے گا تو اب اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ بکری کو افضل ہونے کی وجہ سے سات سے زائد افراد دو اشخاص کے لیے جائز قرار دیا ۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ تمہارے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے کہ بکری سے افضل ہے اور اس افضلیت کی وجہ سے تم نے اس کو سات سے بھی زائدا فراد کے لیے جائز قرار دے دیا حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یہ ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ربيع المؤذن

Hadith 6097

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6098

5771 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يضحي بالجزور وبالكبش إذا لم يجد جزورا فأخبر عبد الله بن عمر رضي الله عنهما في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يضحي بالجزور إذا وجده وذلك دليل على أنه كان يدع ما سواه مما يضحى به من البقر والغنم وهو قادر عليه ويضحي بالشاة إذا لم يقدر على الجزور فذلك دليل على أن الجزور كان عنده أفضل من الشاة وقد رأينا الهدايا في الحج جعل للبدنة فيها من الفضل ما لم يجعل للشاة فجعلت البدنة مما يشترك فيها الجماعة فيهدونها عن قرانهم ومتعتهم ولم تجعل الشاة كذلك فمما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من إباحة الشركة في الهدي إذا كان جزورا ما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کی قربانی کرتے اور مینڈھے کی قربانی کرتے جب اونٹ نہ ہوتا نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کی قربانی کرتے اور مینڈھے کی قربانی کرتے اگر وہ نہ ملتا تو تب مینڈھے کی قربانی کرتے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اونٹ کے علاوہ گائے بکری کی قربانی اونٹ نہ ہونے کی صورت میں فرماتے اس سے ثابت ہوا کہ اونٹ کی قربانی آپ کے ہاں سب سے افضل تھی اور بکری سے افضل تھی حج کے ہدایا میں بدنہ کی افضیلت دی گئی ہے جو کہ بکری کو حاصل نہیں بدنہ کو ایک جماعت کی طرف قربانی اورہدی کے لیے مقرر کیا گیا جبکہ وہ قرآن و تمتع کریں اور بکری کو جماعت کی طرف سے قرار نہیں دیا گیا ۔ شراکت ہدی کی روایات ملاحظہ ہو ں۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 6098

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6099

5772 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سفيان عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم أهدى مائة بدنة وأشرك عليا رضي الله عنه في ثلثها

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹ بطور ہدری روانہ فرمائے اور اس کے ثلث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حصہ دار بنایا ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 6099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6100

5773 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه قال ساق النبي صلى الله عليه و سلم سبعين بدنة وأشرك بينهم فيها فلما كانت الشركة جائزة في الجزور مباحة في الهدي وغير مباحة في الشاة ثبت بذلك أن الشاة إنما عدلت بجزء من الجزور وقد ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الباب الذي قبل هذا أن رجلا قال له إن علي ناقة وقد غربت عني فأمره أن يجعل مكانها سبعا من الغنم فدل ذلك على ما ذكرنا أيضا وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما أيضا ما يوافق هذا المعنى

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات تر بدنہ بطور ہدی روانہ فرمائے اور ان میں صحابہ کرام کو باہمی حصہ دار بنایا ۔ پس جب اونٹ میں شرکت جائز ہے تو ہدی میں مباح ہے مگر بکری میں شرکت مباح نہیں اس سے ثابت ہوا کہ بکری کو اونٹ کے ایک حصہ کی برابری حاصل ہے اس سے پہلے باب میں ہم ذکر کر چکے کہ ایک شخص نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹنی بنتی تھی مگر وہ مجھ سے بھاگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سات بکریوں کا حکم فرمایا ۔ پس یہ بھی ہمارے موقف کی دلیل ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس کے موافق ہے ۔

ساق النبي صلى الله عليه و سلم سبعين بدنة ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 6100

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6101

5774 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال حدثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي حمزة قال سئل بن عباس رضي الله عنهما عما استيسر من الهدي فقال جزورا وبقرة أو شرك في دم

ابو حمزہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا " استیسر من الھدی " کا کیا معنی ہے تو فرمایا اونٹ یا گائے یا کسی دم میں شریک ہو جائے ۔

جزورا وبقرة أو شرك في دم ← سئل بن عباس عما استيسر من الهدي ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 6101

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6102

5775 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن زيد عن أبي حمزة قال سمعت بن عباس رضي الله عنهما يقول فذكر مثله فأخبر عبد الله بن عباس رضي الله عنهما بأن الجزء من الجزور يعدل الشاة فيما استيسر من الهدي وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا ما يدل على فضل الجزور على البقرة وعلى فضل البقرة على الشاة

ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اسی طرح فرماتے تھے جیسا پہلے ذکر ہوا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اونٹ کا ایک جزء وہ بکری کےبرابر ہو کر استیسر من الہدی میں شامل ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت وارد ہے جو اونٹ کی گائے اور گائے کی بکری پر فضیلت کو ظاہر کرتی ہے ( ملاحظہ ہو )

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 6102

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6103

5776 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن أبي عبد الله الأغر عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من أبواب المسجد ملائكة يكتبون الأول فالأول فإذا جلس الأمام طووا الصحف وجلسوا يستمعون الذكر فمثل المهجر كمثل الذي يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كالذي يهدي الكبش ثم كالذي يهدي الدجاجة ثم كالذي يهدي البيضة

ابو عبداللہ اغر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر درواز پر فرشتے بیٹھ جاتے ہیں اور سب پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے نام درج کرتے ہیں جب اما م منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحائف لپیٹ کر بیٹھ جاتے اور خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں پس اس آدمی کی مثال جو سب سے پہلے آنے والا ہو اس شخص جیسی ہے جس نے اونٹ کی قربانی دی ہو پھر اس شخص جیسی جس نے گائے کی قربانی دی ہو پھر اس شخص کی طرح جس نے دنبہ کی قربانی کی ہو پھر اس شخص کی طرح جو بکری صدقہ کرنے والا ہو اور پھر اس شخص کی طرح جو انڈا راہ خدا میں دینے والا ہو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 6103

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6104

5777 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد عن بن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول مثل المهجر إلى الصلاة كمثل الذي يهدي بدنة ثم الذي جاء على أثره كمثل الذي يهدي البقرة ثم الذي على أثره كمثل الذي يهدي الكبش ثم الذي على أثره كمثل الذي يهدي الدجاجة ثم الذي على أثره كمثل الذي يهدي البيضة

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اس آدمی کی مثال جو سب سے پہلے آنے والا ہے اس آدمی جیسی ہے جو کہ اونٹ ہدی کے طور پر دے پھر اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرھ ہے جو گائے کو ہدی میں دے پھر اس کے بعد آنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کہ دنبہ راہ خدا میں دے پھر اس کے بعد آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مرغی راہ خدا میں دے پھر آخر میں آنے والے کی مثال اللہ کی راہ میں انڈا قربان کرنے والے جیسی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Hadith 6104

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6105

5778 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال ثنا سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه فذكر نحوه

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Hadith 6105

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6106

5779 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہو ں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Hadith 6106

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6107

5780 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه قال سمعت أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله فلما جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم المهجر في أفضل الأوقات كالمهدي بدنة والمهجر في الوقت الذي بعده كالمهدي بقرة والمهجر في الثالث كالمهدي كبشا ثبت بذلك أن أفضل ما يهدي الجزور ثم البقرة ثم الكبش فلما كانت البدنة أعظم ما يهدي ثبت أنها أعظم ما يضحى به ولما أنتفي أن تجزئ الشاة عما فوق السبعة ثبت أنها لا تجزئ إلا عن خاص من الناس ولما كانت باتفاقهم لا تجزئ في الأضحية عما فوق السبعة كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن ذلك وقد أجمعوا على أنها مجزئة عن الواحد واختلفوا فيما هو أكثر منه فلا يدخل فيما قد ثبت له حكم الخصوصية إلا ما قد أجمعوا على دخوله فيه فثبت بما ذكرنا أنه لا يجوز أن يضحي بالشاة الواحدة عن أثنين ولا عن أكثر من ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے نقل کیا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جنا ب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افضل اوقات میں پہلے کرنے والے کو ہدی میں اونٹ قربان کرنے والے کی طرح قرار دیا اور اس کے بعد والے وقت میں آنے والے کو گائے ہدی کے طور پر دینے والے کی طرح اور تیسر ے نمبر پر آنے والے کو مینڈ ھا ہدی میں دینے والے کی طرح قرار دیا تو اس سے ثابت ہو گیا کہ اس کی قربانی سب سے افضل ہے ۔ جب اس بات کی نفی ہو گئی کہ بکری سات سے اوپر افراد کی طرف سے جائز نہیں اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ صرف خاص لوگوں سے کفایت کرنے والی ہے جب اس پر سب کا اتفاق ہے سات سے اوپر افراد اکٹھے ایک جانور کی قربان نہیں دے سکتے تو بکری زیادہ مناسب ہے کہ وہ سات سے اوپر کی طرف سے جائز نہ ہو ار اس پر بھی اتفاق ہے کہ بکری ایک فرد کی طرف سے جائز ہے ایک سے زیادہ میں اختلاف ہو ا تو جس کے لیے خصوصیت کا حکم ثابت تو اس میں وہی فرد داخل ہو نا چاہے جس میں اتفاق ہے اور وہ ایک ہے پس ثابت ہوا کہ بکری کی قربانی صرف ایک کی طرف سے ہو گی نہ دو اور نہ دو سے زیادہ کی طرف سے ۔ یہی ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 6107

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6108

5781 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن ثابت البزاز قال ثنا شعبة عن مالك بن أنس عن عمرو بن مسلم عن سعيد بن المسيب عن أم سلمة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال من رأى منكم هلال ذي الحجة وأراد أن يضحي فلا يأخذ من شعره وأظفاره حتى يضحي

سعید بن مسیب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میں سے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنےبال و ناخن نہ تراشے جب تک کہ قربانی سے فارغ نہ ہو جائے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← مالک بن أنس ← شُعْبَةُ، ← بشر بن ثابت البزاز، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 6108

chevron_left Previous
1…456…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter