شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6097
5770 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا خالد بن عبد الرحمن حدثنا بن أبي ذئب عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلما جعلت البقرة عن سبعة وكان ذلك مما قد وقف عليه ولم يجعل لنا أن نعدو ذلك إلى ما هو أكثر منه كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة من ذلك فلما ثبت أن الشاة لا تجزئ عن أكثر من سبعة انتفى بذلك قول من قال إنها تجزئ عن جميع من ذبحت عنه ممن لا وقت ولهم ولا عدد ولا يجاوز إلى غيره وثبت ضده وهو قول من قال إن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد فقال قائل إنا إنما جعلنا الشاة تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة والجزور لأن الشاة أفضل منهما فقيل له ولم قلت ذلك وما دليلك عليه وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے جب ثابت ہو گیا کہ گائے سات سے زائد حصو ں میں تقسیم نہیں ہو سکتی جب ان سے سات پر اکتفا ثابت ہوا تو ہمیں ا ن سے زائد یا اکثر کی طرف سے تعدیہ جائز نہیں ۔ تو بکری میں سات سے اضافہ نہ ہوتا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا اب جبکہ بکری سات سے زائد کے لیے کافی نہیں تو ان لوگوں کی بات نادر ست ہو گئی جو کہتے ہیں کہ یہ ان سب کی طرف سے کافی ہو گئی جن کی طرف سے وہ ذبح کی گئی جن کی تعداد غیر معین ہے اور یہ حکم اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرے گا تو اب اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ بکری کو افضل ہونے کی وجہ سے سات سے زائد افراد دو اشخاص کے لیے جائز قرار دیا ۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ تمہارے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے کہ بکری سے افضل ہے اور اس افضلیت کی وجہ سے تم نے اس کو سات سے بھی زائدا فراد کے لیے جائز قرار دے دیا حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یہ ہے ۔
مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ربيع المؤذن
Hadith 6097
