شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6085
وحدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قالا ثنا حيوة عن أبي صخر المدني عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد وينظر في سواد ويبرك في سواد فأتى به ليضحي به ثم قال يا عائشة هلمي المدية ثم قال اشحذيها بحجر ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه وقال بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد ثم ضحي به
ربیع جیزی نے اپنی سند سے عروہ بن زبیر سےاور انہو ں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ایک سینگوں والا میڈھا لایا جائے جو کہ سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہے اور سیاہی میں بیٹھتا ہو ۔ چنانچہ وہ مینڈ ھا قربانی کے لیے لایا گیا پھر فرمایا ۔ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چھری لاؤ پھر فرمایا اس کو پتھر پر تیز کرو میں نے اس کو پتھر پر تیز کر دیا تو آپ نے اس چھری کو لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹا یا تو اس کو ذبح کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی ۔۔ بسم اللہ اللھم ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کو ذبح کرتا ہوں اے اللہ اس کو قبول فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پھر آپ نے اس کی قربانی دی ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← أبي صخر المدني ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← وحدثنا ربيع الجيزي
Hadith 6085
