Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6085

وحدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قالا ثنا حيوة عن أبي صخر المدني عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد وينظر في سواد ويبرك في سواد فأتى به ليضحي به ثم قال يا عائشة هلمي المدية ثم قال اشحذيها بحجر ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه وقال بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد ثم ضحي به

ربیع جیزی نے اپنی سند سے عروہ بن زبیر سےاور انہو ں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ایک سینگوں والا میڈھا لایا جائے جو کہ سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہے اور سیاہی میں بیٹھتا ہو ۔ چنانچہ وہ مینڈ ھا قربانی کے لیے لایا گیا پھر فرمایا ۔ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چھری لاؤ پھر فرمایا اس کو پتھر پر تیز کرو میں نے اس کو پتھر پر تیز کر دیا تو آپ نے اس چھری کو لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹا یا تو اس کو ذبح کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی ۔۔ بسم اللہ اللھم ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کو ذبح کرتا ہوں اے اللہ اس کو قبول فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پھر آپ نے اس کی قربانی دی ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← أبي صخر المدني ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← وحدثنا ربيع الجيزي

Hadith 6085

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6086

5761 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال ثنا سفيان الثوري عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أو عن عائشة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا ضحى أشتري كبشين عظيمين سمينين أملحين اقرنين موجوءين يذبح أحدهما عن أمته من شهد منهم بالتوحيد وشهد له بالبلاغ والآخر عن محمد وآل محمد

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے موٹے بڑے سینگوں والے خصی چتکبر ے مینڈ ھے خریدتے ایک اپنی امت کی طرف سے جو کہ تو حید کی گواہی دینے والے ہیں اور آپ کے پیغام پہنچنے کی گواہی دینے والے ہیں ان لوگوں کی طرف سے اور دوسرا اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی فرماتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 6086

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6087

5762 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد عن عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن علي بن حسين عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا ضحى أشتري كبشين عظيمين أملحين حتى إذا خطب الناس وصلى أتى بأحدهما وهو قائم في مصلاه فذبحه بيده ثم قال اللهم هذا عن أمتي جميعا من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ ثم يؤتى بالآخر فيذبحه ثم يقول اللهم هذا عن محمد وآل محمد ثم يجمعهما جميعا ويأكل هو وأهله منهما قال فمكثنا سنين ليس رجل من بني هاشم يضحي قد كفى الله المؤنة والعزم برسول الله صلى الله عليه و سلم

علی ابن حسین نے حضرت ابو رافع سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے بڑے چتکبرے مینڈھے خریدتے جب لوگوں کو نماز پڑھا کر اور خطبہ دے کر فارغ ہو تے تو ایک کو لایا جاتا جبکہ آپ ابھی عید گاہ میں تشریف فرما ہوتے اور اپنے دست مبارک سے اس کو ذبح کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے اللھم ۔۔۔۔۔۔ اے اللہ یہ میر ی تمام امت کے ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید کی گواہی دینے والے اور میرے پیغام پہنچانے کی گواہی دینے والے ہیں پھر دوسرے کو لایا جاتا اور اس کا گوشت اکٹھا کرتے اور آپ خود اور گھر والے کھاتے تھے ابو رافع کہتے ہیں کہ ہمارے کئی سال ایسے گزر ے کہ بنی ہاشم میں سے کوئی بھی قربانی نہیں کرتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مشقت کو ہٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تاوان سے کفایت کر دی ۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Hadith 6087

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6088

5763 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان ح

ابراہیم بن مرزوقن نے عفان سے روایت کی ۔

عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 6088

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6089

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قالا ثنا حماد بن سلمة قال ثنا عبد الله بن محمد بن عقيل قال أخبرني عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله قال حدثني أبي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بكبشين أملحين عظيمين أقرنين موجوءين فأضجع أحدهما وقال بسم الله والله أكبر اللهم عن محمد وأمته من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ

محمد بن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ عبدالرحمن بن جابر اور انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو بڑ ے بڑے چتکبرے بڑے سینگوں والے خصی مینڈھے لائے گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو لٹایا اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھی ۔ اللھم ۔۔۔۔۔اے اللہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے توحید ا ور پیغام رسالت پہنچنے کی گواہی دینے والوں کی طرف سے ہے ۔

أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← وحدثنا محمد بن خزيمة

Hadith 6089

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6090

5764 - حدثنا بن أبي داود قال أخبرنا أحمد بن خالد الوهبي قال أخبرنا بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي عياش عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال ضحى رسول الله صلى الله عليه و سلم بكبشين في يوم عيد فقال حين وجههما وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض إلى آخر الآية اللهم منك ولك عن محمد وأمته ثم سمى وكبر وذبح

ابو عیاش نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو دنبوں کی قربانی کی جب دونوں کو لٹایا تو زبان پر یہ الفاظ تھے ۔ ۔۔وجھت وجھی۔۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والی ہے یہ آیت آخر تک پڑھی اور یہ دعا بھی فرمائی ۔ اے اللہ یہ تیری طرف سے ہے اور تیری رضا مندی کے لیے ہے اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما پھر بسم اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← بن أبي داود

Hadith 6090

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6091

5765 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الله بن سالم عن عمرو مولى المطلب عن المطلب بن عبد الله وعن رجل من بني سلمة أنهما حدثاه أن جابر بن عبد الله أخبرهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى للناس يوم النحر فلما فرغ من خطبته وصلاته دعا بكبش فذبحه هو بنفسه وقال بسم الله والله أكبر اللهم عني وعمن لم يضح من أمتي

مطلب بن عبداللہ اور بنی سلمہ کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید قربانی کے دن نماز پڑھائی جب آپ نماز اور خطبہ سے فارغ ہو چکے تو آپ نے ایک دنبہ منگوایا تو اس کو اپنے دست اقدس سے ذبح کیا اور ذبح کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی اللہ کے نام بہت بڑے ہیں اے اللہ میری طرف سے قبول فرما اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہیں کی ۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرِو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ ← يعقوب بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الله بن سالم ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 6091

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6092

5766 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو إبراهيم الترجماني قال ثنا الدراوردي عن ربيح بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضحى بكبش أقرن ثم قال اللهم هذا عني وعمن لم يضح من أمتي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الشاة لا بأس أن يضحي بها عن الجماعة وإن كثروا وافترق أهل هذه المقالة على فرقتين فقالت فرقة لا تجزئ إلا أن يكون الذين يضحي بها عنهم من أهل بيت واحد وقالت فرقة إن ذلك تجزئ كان المضحي بها عنهم من أهل بيت واحد أو من أهل أبيات شتى لأن النبي صلى الله عليه و سلم ضحى بالكبش الذي ضحى به عن جميع أمته وهم أهل أبيات شتى فإن كان ذلك ثابتا لمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم فهو يجزئ عمن أجزأه بذبح النبي صلى الله عليه و سلم فثبت بهذا قول الذين قالوا يضحي بها عن أهل البيت وعن غيرهم ثم كان الكلام بين أهل هذا القول وبين الفرقة التي تخالف هؤلاء جميعا وتقول إن الشاة لا تجزئ عن أكثر من واحد وتذهب إلى أن ما كان من النبي صلى الله عليه و سلم مما احتجت به الفرقتان الأوليان لقولهما منسوخ أو مخصوص فمما دل على ذلك أن الكبش لما كان يجزئ عن غير واحد لا وقت في ذلك ولا عدد كانت البقرة والبدنة أحرى أن تكونا كذلك وأن تكونا تجزيان عن غير واحد لا وقت في ذلك ولا عدد ثم قد روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد دل على خلاف ذلك مما قد ذكرناه في الباب الذي قبل هذا من نحر أصحابه معه الجزور عن سبعة والبقرة عن سبعة وكان ذلك عند أصحابه على التوقيف منه لهم على أن البقرة والبدنة لا تجزي واحدة منهما عن أكثر مما ذبحت عنه يومئذ وتواترت عنهم الروايات بذلك

عبدالرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کی پھر یہ دعا فرمائی ۔۔۔اللھم ھذا عنی۔۔۔۔۔۔۔ اے اللہ یہ میری طرف سے اور امت کے قربانی نہ کرنے والے لوگوں کی طرف سے ہے ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں بکری بھی کئی لوگوں کی طرف سے بطور قربانی دی جا سکتی ہے خواہ کتنے زیادہ ہو ں پھر ان کے دو گروہ ہیں نمبر1 ایک ہی گھر کے افراد ہوں تو تب ایک قربانی ان کی طرف سے کفایت کر جائے گی نمبر2 ایک گھر کے ہوں یا کئی گھروں سے تعلق رکھتے ہوں تب بھی جائز ہے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کی طرف سے قربانی کی اور وہ سب مختلف علاقوں سے متعلق ہیں ۔اگر یہ اسی طرح ثابت ہو تو وہ ان لوگوں کی طرف سے قربانی کی اور وہ سب مختلف علاقوں سے متعلق ہیں ۔ اگر یہ اسی طرح ثابت ہو تو و ہ ان لوگو ں کی طرف سے کفایت کرے گی جن کے لیے آپ کو ذبح کرنے سے کافی ہو ئی ۔ پس اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہو گئی جو کہتے ہیں ایک گھر والوں اور ان کے علاوہ دوسروں کی طرف سے بھی قربانی کی جا سکتی ہے پھر اس بات والو ں کی ان سے بات چیت ہوئی جو ایک بکری کو ای آدمی سے زائد کی طرف سے نہیں مانتے ہیں وہ ان دو گروہوں کی روایات کو منسوخ قرار دیتے ہیں یا آپ کی خصوصیت قرار دیتے ہیں اور اس پر دلالت یہ ہے کہ جب مینڈھا ایک سے زائد افراد کی طرف سے جائز ہے جو افراد کہ غیر متعین ہیں ۔ تو گائے اور اونٹ کا کثیر افرا د کے لیے ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہو جائے گا پھر ہم نے گزشتہ سطور میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے خلاف روایات پائی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اونٹ و گائے سات کی طرف سے ذبح کیا اور آپ کا یہ عمل اس بات کی وضاحت کے لیے تھا کہ اونٹ اور گائے میں ان سات سے ایک فرد بھی اضافی نہیں ہو سکتا جتنوں کے طرف سے ان کو ذبح کیا گیا ۔ چنانچہ اس سلسلہ کی متوار روایات نقل کی جاتی ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 6092

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6093

5767 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال سلمة بن كهيل عن حجية بن عدي وعبد الله بن تمام ومالك بن حويرث فيما يحسب سلمة بن كهيل أن رجلا أشتري بقرة أضحية فنتجها فسأل عليا رضي الله عنه هل لا أبدل مكانها أخرى فقال لا ولكن أذبحها وولدها يوم النحر عن سبعة

سلمہ بن کھیل نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نےقربانی کی گائے خدیدی اس نے بچہ جن دیا تو اس آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا کیا میں اس کی جگہ اور نہ بدلوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن اس گائے اور اس کے بچے دونوں کی قربانی کے دن ذبح کر لو اور ہ سات کی طرف سے کفایت کر ےگی ۔

مالك بن حويرث فيما يحسب سلمة بن كهيل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 6093

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6094

5768 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن منصور عن ربعي قال كان أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم ورضي الله عنهم يقولون البقرة عن سبعة

ربعی کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام یہ کہتے تھے گائے سات کی طرف سے ہے ۔

رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 6094

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6095

5769 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة بن عقبة قال ثنا سفيان عن أبي حصين ح

سفیان نے ابو حصین سے روایت کی ہے ۔

أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← علي بن شيبة

Hadith 6095

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6096

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي حصين عن خالد بن سلمة عن أبي مسعود رضي الله عنه قال البقرة عن سبعة

ابراہیم بن مرزوق نے اپنی سند سے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ گائے سات کی طرف سےہے ۔

سَبْعَةٍ» ← الْبَقَرَةُ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← وحدثنا إبراهيم بن مرزوق

Hadith 6096

chevron_left Previous
12345…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter