Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6073

5749 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أشهل بن حاتم قال ثنا شعبة عن سعيد بن مسروق عن الشعبي عن أبي شريحة أن أبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانا لا يضحيان قال أبو جعفر أفترى ما ضحى في تلك السنين أحد إذ كان إمامهم لم يضح أو لا ترى أن إماما لو تشاغل يوم النحر بقتال عدو أو غيره فشغله ذلك عن النحر أما لغيره ممن أراد أن يضحي فله أن يضحي فإن قال إنه ليس لاحد أن يضحي في عامه ذلك خرج بهذا من قول الأئمة وإن قال للناس أن يضحوا إذا أذالت الشمس لذهاب وقت الصلاة فقد دل ذلك على أن ما يحل به النحر ما كان في وقت صلاة العيد فإنما هو الصلاة لا نحر الإمام فإذا صلى الإمام حل النحر لمن أراد أن ينحر أو لا ترى أن الإمام لو نحر قبل أن يصلي لم يجزه ذلك وكذلك سائر الناس فكان الإمام وغيره في الذبح قبل الصلاة سواء في أن لا يجزئهم فالنظر على ذلك أن يكون الإمام وسائر الناس أيضا سواء في الذبح بعد الصلاة فكما كان ذبح الإمام بعد الصلاة يجزئه فكذلك ذبح سائر الناس بعد الصلاة يجزئهم هذا هو النظر في هذا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

شعبی نے ابی شریح سے نقل کیا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم بعض اوقات قربانی نہ کرتے تھے یعنی قربانی کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے ۔ اما م طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ جن سالوں میں ان حضرات نے قربانی نہیں کی تو کیا کسی نے بھی قربانی نہیں کی اس لیے کہ ان کے امام نے قربانی نہیں کی یا تم نے کہیں یہ بات پائی ہو کہ امام عیدقربان کے دن دشمن کے ساتھ لڑائی وغیرہ میں مشغول رہا جس سے وہ قربانی کر لیں جبکہ سورج ڈھل جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب تک نماز عیدکا وقت ہے اس وقت تک قربانی درست نہں تو در حقیقت نماز عید ہی قربانی کے لے رکاوٹ ہے امام کا ذبح کرنا نہیں جب امام نے نماز پڑھ لی تو ذبح کرنا جائز ہو گیا ۔ جو شخص کہ قربانی کرنا چاہتا ہو ذرا توجہ تو کریں کہ امام اگر نماز پڑھانے سے پہلے خود قربانی کر لے تو اس کی بھی درست نہیں اور دوسرے لوگ بھی حکم میں اسی طرح ہیں میں امام اور غیر امام نماز سے پہلے قربانی کے ناجائز ہونے میں برابر ہیں ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ امام اور دوسرے لوگ نماز کے بعد ذبح میں برابر ہیں پس جس طرح امام کا ذبیحہ نماز کے بعد اس لیے کافی ہے اسی طرح بقیہ لوگوں کا ذبیحہ بھی نماز کے بعد ان کے لیے کافی ہے قیاس کا یہی تقاضا ہے ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔

أَبِي شُرْيَحَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← شُعْبَةُ، ← أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6073

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6074

5750 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس قال ثنا محمد بن إسحاق عن بن شهاب عن عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة ومروان بن الحكم قالا خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم عام الحديبية يريد زيارة البيت وساق معه الهدى وكان الهدى سبعين بدنة وكان الناس سبعمائة رجل وكانت كل بدنة عن عشرة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن البدنة تجزئ في الهدايا والضحايا عن عشرة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا تجزئ البدنة إلا عن سبعة وقالوا قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في نحر البدن يوم الحديبية ما يخالف هذا وذكروا في ذلك ما

عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے اور اپنے ساتھ ہدی کے جانور بھی لے لیے ہدی کے جانوروں کی تعداد ستر تھی اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی اور ہر اونٹ دس کی طرف سے تھا ۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ قربانی اور ہدی کا اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے ہو سکتا ہے دلیل میں انہوں نے یہ روایت پیش کی ۔ دوسروں نے کہا اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ کے دن اونٹوں کے ذبح کے سلسلے میں اور روایات بھی وارد ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6074

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6075

5751 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا مالك بن أنس عن أبي الزبير أن جابر بن عبد الله رضي الله عنه حدثهم أنهم نحروا يوم الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے حدیبیہ کے دن گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے ۔

سَبْعَةٍ» ← سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ ← أنهم نحروا يوم الحديبية البدنة ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← مالک بن أنس ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6075

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6076

5752 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه فذكر بإسناده مثله

ابن وہب کہتے ہیں کہ مالک نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6076

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6077

5753 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أخبرنا عبد الله بن صالح قال حدثني يحيى بن أيوب عن بن جريج عن عمرو بن دينار وأبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم البدنة عن سبعة نفر فقيل لجابر رضي الله عنه والبقرة قال هي مثلها وحضر جابر رضي الله عنه عام الحديبية قال ونحرنا يومئذ سبعين بدنة

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا گائے کا کیا حکم ہے تو فرمایا وہ اونٹ کی مثل ہے جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ والے سال موجود تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ا سدن ستر اونٹوں کی قربانی کی ۔

ونحرنا يومئذ سبعين بدنة ← هي مثلها وحضر جابر عام الحديبية ← سبعة نفر فقيل لجابر والبقرة ← نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم البدنة ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6077

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6078

5754 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن عمران قال ثنا أبي قال حدثني بن أبي ليلى عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه قال نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الحديبية سبعين بدنة فأمرنا أن يشترك منا سبعة في البدنة

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے سال ستر اونٹ ذبح کئے اور ہمیں حکم دیا کہ اونٹ میں ہم سات آدمی شریک ہو جائیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6078

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6079

5755 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سليمان بن قيس عن جابر رضي الله عنه قال نحرنا مع النبي صلى الله عليه و سلم سبعين بدنة البدنة عن سبعة

سلیمان بن قیس کہتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ستر اونٹ قربان کے ایک اونٹ سات کی طرف سے

سَبْعَةٍ» ← نحرنا مع النبي صلى الله عليه و سلم سبعين بدنة البدنة ← جَابِرٍ ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6079

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6080

5756 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا هدبة بن خالد قال سمعت أبان بن يزيد يحدث عن قتادة عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال الجزور عن سبعة فهذا جابر بن عبد الله رضي الله عنه يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما ذكرنا وهو كان معه حينئذ وقد روى عن علي وعبد الله رضي الله عنهما من قولهما ما يوافق هذا في البدنة أنها عن سبعة

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے یہ جابر بن عبداللہ بتا رہے ہیں جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہ اس وقت آپ کے ساتھ تھے علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی قول یہی ہے کہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ہے ۔

سبعة فهذا جابر بن عبد الله يخبر ← «الْجَزُورُ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6080

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6081

5757 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن عيسى بن أبي غرة عن عامر عن علي وعبد الله رضي الله عنهما قالا البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة وقد روى مثل ذلك أيضا عن أنس رضي الله عنه يحكيه عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم

عامر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اونٹ سات کی طرف سے ہے اور گائے بھی سات کی طرف سے ہو گی اور یہی بات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کی ہے ۔

أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم ← أنس يحكيه ← سبعة وقد روى مثل ذلك أيضا ← سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ ← البدنة ← عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ ← عَامِرٍ، ← عيسى بن أبي غرة ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6081

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6082

5758 - حدثنا بن أبي داود قال حدثنا سليمان بن حرب قال ثنا أبو هلال قال ثنا قتادة عن أنس رضي الله عنه قال كان أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يشتركون سبعة في البدنة من الإبل والسبعة في البدنة من البقر فهذا مذهب أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم في البدنة يوافق ما روى عن جابر رضي الله عنه لا ما روى عن المسور ومروان فهو أولى منه ولما اختلفوا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما ذكرنا رجعنا إلى ما روى عنه في هذا الباب مما سوى ما نحر يوم الحديبية

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سات سات ایک اونٹ میں شریک ہو جاتے اور سات ہی گائے میں ۔ یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ہے اس طرح نہیں جیسا کہ مسور اور مروان نے نقل کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ان کی روایت سے اعلیٰ ہے اب جبکہ اصحاب رسول سے یہ مختلف روایات آگئیں اب ہم ان روایات کی طرف رجوع کرتے ہیں جو حدیبیہ کے دن ذبح کے متلق وارد ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6082

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 3 باب البدنة عن كم تجزئ في الضحايا والهدايا ) · حديث 6083

5759 - فإذا حسين بن نصر قد حدثنا قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا حفص بن غياث عن بن جريج عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنهما قال سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أشتر سبعا من الغنم إن علي ناقة وقد غربت عني فقال اشتر سبعا من الغنم أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث إنما عدلها بسبع من الغنم مما يجزئ كل واحدة منهن عن رجل ولم يعدلها بعشر من الغنم فدل ذلك على تصحيح ما روى جابر رضي الله عنه في ذلك لا ما روى المسور فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا قد رأيناهم قد أجمعوا أن البقرة لا تجزئ في الأضحية عن أكثر من سبعة وهي من البدن باتفاقهم فالنظر على ذلك أن تكون الناقة مثلها ولا تجزئ عن أكثر من سبعة فإن قال قائل إن الناقة وإن كانت بدنة كما أن البقرة بدنة فإن الناقة أعلى من البقرة في السمانة والرفعة قيل له إنها وإن كانت كما ذكرت فإن ذلك غير واجب لك به علينا حجة ألا ترى أنا قد رأينا البقرة الوسطى تجزئ عن سبعة وكذلك ما هو دونها وما هو أرفع منها وكذلك الناقة تجزئ عن سبعة أو عن عشرة رفيعة كانت أو دون ذلك فلم يكن السمن والرفعة مما يميز به بعض البقر عن بعض ولا بعض الإبل عن بعض فيما تجزئ في الهدى والأضاحي بل كان حكم ذلك كله حكما واحدا يجزئ عن عدد واحد فلما كان ما ذكرنا كذلك وكانت الإبل والبقر بدنا كلها ثبت أن حكمها حكم واحد وأن بعضها لا يجزئ أكثر مما يجزئ عنه البعض الباقي وإن زاد بعضها على بعض في السمن والرفعة فلما كانت البقرة لا تجزئ عن أكثر من سبعة كانت الناقة أيضا كذلك في النظر لا تجزئ عن أكثر من سبعة قياسا ونظرا على ما ذكرناه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے یہ سوال کیا کہ اگر مجھ پر ایک اونٹ لازم ہو اور وہ غائب ہو جائے تو کیا میں اس کے بدلے سات بکریاں خرید سکتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات بکریاں خرید لو ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ایک اونٹ کو سات بکریوں کے برابر قرار دیا ہے جو کہ ہر ایک آدمی کی طرف سے ایک ہو جائے گی دس بکریوں کے برابر قرار نہیں دیا ۔ اس سے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کی درستگی ظاہر ہو گئی نہ کہ مسور کی روایت ۔ آثار کو سامنے رکھ کر اس باب کا یہی حکم ہے ۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ گائے کی قربانی میں سات سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور گائے کا بدنہ میں سے ہونا قطعی ہے پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اونٹ جو کہ بدنہ ہے اس کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے کہ وہ سات سے زیادہ کی طرف سے جائز نہ ہو ۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ گائے اگرچہ بدنہ میں شامل ہے لیکن اونٹ اس سے اعلیٰ اور موٹا پے میں زیادہ ہے ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ آپ کے اس سوال سے ہمارے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا ۔ دیکھیں درمیانی قسم کی گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے اور کم درجہ کی گائے بھی سات کی طرف سے جائز ہے حالانکہ وہ اس سے موٹا پے میں کم ہے اور درمیانی گائے موٹا پے میں زیادہ ہے اسی طرح اونٹنی سات کی طرف سے بالا اتفاق اور دس کی طرف سے بقول تمہارے جائز ہے خواہ موٹی یا پتلی۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ موٹا اور قیمت کی بلندی جب گائے ایک دوسرے سے فرق ہونے کے باوجو د حکم کو نہیں بدل سکتی اسی طرح اونٹوں میں بھی خواہ وہ قربانی کے ہوں یا ہدی کے ہوں سب کا حکم ایک ہی ہے کہ اتنی تعداد کے لیے کافی ہو گی جب بدنہ ہونے میں دونوں شریک ہیں تو ان کا حکم بھی ایک ہی ہے اگر چہ ان میں موٹا پے اور قیمت کی بلندی کے اعتبار سے باہمی فرق ہو تو جب گائے سات سے زائد آدمیوں کی طرف سے نہیں ہو سکتی تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اونٹنی بھی سات سے زائد کی طرف نہ ہو ۔یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا ہے ۔

اشتر سبعا من الغنم أفلا ترى ← أشتر سبعا من الغنم إن علي ناقة وقد غربت عني ← سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← فإذا حسين بن نصر قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6083

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6084

5760 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال ثنا عمي ح

احمد بن عبدالرحمن بن وہب کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھے بیان کیا ۔

عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6084

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter