شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6073
5749 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أشهل بن حاتم قال ثنا شعبة عن سعيد بن مسروق عن الشعبي عن أبي شريحة أن أبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانا لا يضحيان قال أبو جعفر أفترى ما ضحى في تلك السنين أحد إذ كان إمامهم لم يضح أو لا ترى أن إماما لو تشاغل يوم النحر بقتال عدو أو غيره فشغله ذلك عن النحر أما لغيره ممن أراد أن يضحي فله أن يضحي فإن قال إنه ليس لاحد أن يضحي في عامه ذلك خرج بهذا من قول الأئمة وإن قال للناس أن يضحوا إذا أذالت الشمس لذهاب وقت الصلاة فقد دل ذلك على أن ما يحل به النحر ما كان في وقت صلاة العيد فإنما هو الصلاة لا نحر الإمام فإذا صلى الإمام حل النحر لمن أراد أن ينحر أو لا ترى أن الإمام لو نحر قبل أن يصلي لم يجزه ذلك وكذلك سائر الناس فكان الإمام وغيره في الذبح قبل الصلاة سواء في أن لا يجزئهم فالنظر على ذلك أن يكون الإمام وسائر الناس أيضا سواء في الذبح بعد الصلاة فكما كان ذبح الإمام بعد الصلاة يجزئه فكذلك ذبح سائر الناس بعد الصلاة يجزئهم هذا هو النظر في هذا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
شعبی نے ابی شریح سے نقل کیا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم بعض اوقات قربانی نہ کرتے تھے یعنی قربانی کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے ۔ اما م طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ جن سالوں میں ان حضرات نے قربانی نہیں کی تو کیا کسی نے بھی قربانی نہیں کی اس لیے کہ ان کے امام نے قربانی نہیں کی یا تم نے کہیں یہ بات پائی ہو کہ امام عیدقربان کے دن دشمن کے ساتھ لڑائی وغیرہ میں مشغول رہا جس سے وہ قربانی کر لیں جبکہ سورج ڈھل جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب تک نماز عیدکا وقت ہے اس وقت تک قربانی درست نہں تو در حقیقت نماز عید ہی قربانی کے لے رکاوٹ ہے امام کا ذبح کرنا نہیں جب امام نے نماز پڑھ لی تو ذبح کرنا جائز ہو گیا ۔ جو شخص کہ قربانی کرنا چاہتا ہو ذرا توجہ تو کریں کہ امام اگر نماز پڑھانے سے پہلے خود قربانی کر لے تو اس کی بھی درست نہیں اور دوسرے لوگ بھی حکم میں اسی طرح ہیں میں امام اور غیر امام نماز سے پہلے قربانی کے ناجائز ہونے میں برابر ہیں ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ امام اور دوسرے لوگ نماز کے بعد ذبح میں برابر ہیں پس جس طرح امام کا ذبیحہ نماز کے بعد اس لیے کافی ہے اسی طرح بقیہ لوگوں کا ذبیحہ بھی نماز کے بعد ان کے لیے کافی ہے قیاس کا یہی تقاضا ہے ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔
أَبِي شُرْيَحَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← شُعْبَةُ، ← أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6073
