Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6061

5737 - حدثنا عبد الغني بن رفاعة أبو عقيل قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن جابر عن محمد بن قرظة عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال ولم نسمعه منه أنه اشترى كبشا ليضحي به فأكل ذنبه أو بعض ذنبه فسأل النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال ضح به فقد فسد إسناد هذا الحديث بما قد ذكرنا وفسد متنه لأنه قال قطع ذنبه أو بعض ذنبه فإن كان البعض هو المقطوع فيجوز أن يكون ذلك أقل من ربعه وذلك لا يمنع أن يضحي به في قول أحد من الناس ولو كان الحديث كما رواه إبراهيم بن محمد أنه قطع إليته لاحتمل أن يكون ذلك أيضا على بعضها لأنه قد يقال قطع إليته إذا قطع بعضها كما يقال قطع إصبعه إذا قطع بعضها فتصحيح هذه الآثار يمنع أن يضحي بالأربع التي في حديث البراء أو بالمقابلة والمدابرة وهي المشقوقة أكثر أذنها من قبلها أو من دبرها وإذا كان ذلك لا يجزي في الأضاحي فالمقطوعة الأذن أحرى أن لا تجزئ وكذلك في النظر عندنا كل عضو قطع من شاة مثل ضرعها أو إليتها فذلك يمنع أن يضحي بها إذا قطع بكماله فقطع بعضه فإن أصحابنا رحمهم الله يختلفون في ذلك فأما أبو حنيفة رحمة الله عليه فروى عنه المقطوع من ذلك إذا كان ربع ذلك العضو فصاعدا لم يصح بما قطع ذلك منه وإن كان أقل من الربع ضحى به وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله إذا كان المقطوع من ذلك هو النصف فصاعدا فلا يضحي بما إذا قطع ذلك منه وإن كان أقل من النصف فلا بأس أن يضحي بها إلا أن أبا يوسف رحمه الله ذكر أنه ذكر هذا القول لأبي حنيفة فقال له قولي مثل قولك فثبت بذلك رجوع أبي حنيفة رحمة الله عليه عن قوله الذي قد كان قاله إلى ما حدثه به أبو يوسف وقد وافق ذلك من قولهم ما روينا عن سعيد بن المسيب في هذا الباب في تفسير العضباء التي قد نهى عن الأضحية بها وأنها المقطوعة نصف أذنها وكل ما كان من هذا لا يكون أضحية لما قد نقص منه فإنه لا يكون هديا

شعبہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے یہ نہیں سنا کہ ابو سعید نے قربانی کے لیے کوئی دنبہ خریدا ہو اور پھر بھیڑیا اس کی دم کا بعض یا کچھ حصہ کھا گیا ہو اور انہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ہو اور آپ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو ۔ پس اس حدیث کے متن کا بگاڑ واضح ہو گیا کہ کہیں تو کہا گیا کہ اس کی دم کھا لی اور کہیں یہ کہا کہ اس کی دم کا کچھ حصہ کھا لیا اگر کچھ حصہ کھایا ہو اور وہ چوتھائی عضو سے کم ہو تو کسی کے نزدیک بھی اسکی قربانی ممنوع نہیں اور اگر روایت اسی طرح ہو جیسے ابراہیم بن محمد نے نقل کی ہے کہ " انہ قطع الیتہ" تو اس سے بھی بعض دم کا کٹنا مراد ہو سکتا ہے جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں قطع صبعہ جبکہ وہ انگلی کا کچھ حصہ کاٹے ۔ پس ان آثار کی تصحیح کی بہتر شکل یہ ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں جن چار عیوب والے جانوروں کا تذکرہ ہے ان کی بالکل قربانی نہ کی جائے اور مدابرہ اور مقابل کی قربانی بھی نہ کرے ۔ جب کان کے اکثر حصہ کا کٹنے والا اور پچھلی جانب سے کان پھٹنے والا قربانی میں ممنوع ہوا تو جس جانور کا بالکل کان کٹا ہو وہ بدرجہ اولیٰ جائز نہ ہو گا ۔ نظر کا تقاضا ہمارے ہاں یہ ہے کہ بکری کا جو عضو مثلاً تھن یا چکی (سرین) مکمل کاٹ ڈالی جائے تو اس کی قربانی ممنوع ہے اور جب کچھ حصہ کا ٹا گیا تو اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر عضو کا چوتھائی یا اس سے زائد کٹا ہو تو قربانی جائز نہ ہو گی اور اگر اس سے کم ہو تو قربانی کی جاسکتی ہے ۔ امام ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کے نزدیک نصف عضو یا اس زائد کٹا ہو تو قربانی سے منع کیا جائے اگر کم ہو تو اس میں حرج نہیں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ قول امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ قول امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا ۔ میرا قول بھی تمہارے ساتھ ہے اس سے ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول سے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی طرف رجوع فرما لیا اور یہ قول سعید بن مسیب کے قول کے موافق ہے جو کہ عضباء کی تفسیر کے ضمن میں ہم نے اسی باب میں ذکر کیا ہے عضباء اسی جانور کو کہا جاتا جس کا نصف کان کٹا ہوا ہو اور جو جانور قربانی پر لگ سکتا ہو وہ بدی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ولم نسمعه منه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ، ← جَابِرٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبد الغني بن رفاعة أبو عقيل

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6061

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6062

5738 - حدثنا محمد بن علي بن داود البغدادي قال ثنا سعيد بن داود قال ثنا حجاج بن محمد عن بن جريج عن أبي الزبير أخبره عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى يوم النحر بالمدينة فتقدم رجال فنحروا فظنوا أن النبي صلى الله عليه و سلم قد نحر فأمر من كان نحر قبله أن يعيد بذبح آخر ولا ينحر حتى ينحر النبي صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا لا يجوز لأحد أن ينحر حتى ينحر الإمام وإن نحر قبل ذلك بعد الصلاة أو قبلها لم يجزه ذلك واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وتأولوا قول الله عز و جل يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا من نحر بعد صلاة الإمام أجزاه ذلك ومن نحر قبل الصلاة فلم يجزه ذلك وقالوا قد روى عن بن الزبير أن هذه الآية قد نزلت في غير هذا المعنى فذكروا ما

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے دن مدینہ منورہ میں نماز ادا فرمائی تو کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر دی ان کا خیال یہ تھا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں تو آپ نے حکم فرمایا کہ جس نے آپ سے پہلے قربانی کی ہے ۔ وہ دوسرا جانور بطور قربانی ذبح کرے اور کوئی شخص قربانی کا جانور اس وقت تک ذبح نہ کرے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی نہ کر لیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کوئی شخص امام کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہین کر سکتا اگر اس سے پہلے قربانی کر لی خواہ نماز سے پہلے ہو یا بعد اسکی قربانی جائز نہ ہو گی ۔ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے (الحجرات 1) کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش دستی مت کرو ۔ دوسروں نے کہا جو آدمی امام کے نماز پڑھانے کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی درست ہے اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے اس کی قربانی جائز نہ ہو گی ۔ اس آیت کا شان نزول اور ہے جیسا کہ حجرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے ۔ (روایت یہ ہے )

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ← محمد بن علي بن داود البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6062

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6063

5739 - حدثنا محمد بن عبد الله الأصبهاني قال ثنا إسحاق بن أبي إسرائيل قال أخبرنا هشام بن يوسف عن بن جريج أن بن أبي مليكة أخبره أن عبد الله بن الزبير أخبره أن ركبا من بني تميم قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أبو بكر رضي الله عنه يا رسول الله أمر القعقاع بن معبد بن زرارة وقال عمر رضي الله عنه أمر الأقرع بن حابس فقال أبو بكر رضي الله عنه ما أردت بذلك إلا خلافي فقال عمر رضي الله عنه ما أردت خلافك فتماريا حتى ارتفعت أصواتهما فأنزل الله عز و جل يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله وكان من الحجة لهم في قولهم أن حديث جابر رضي الله عنه قد روي على غير هذا اللفظ

ابن ابی ملکیہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بنو تمیم قبیلہ کے کچھ سوار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا امیر قعقاع بن معبد بن زرارہ کو بنائیں جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اقراع بن جابس کو ان پر امیر مقرر فرمائیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے آ پ نے اس بات سے میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا دونوں کے مابین نزاع ہوا یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ نے یہ آیت کریمہ اتاری ۔۔( (الحجرات 1) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش دستی مت کرو ۔

بن جُرَيْجٍ ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← محمد بن عبد الله الأصبهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6063

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6064

5740 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أن رجلا ذبح قبل ان يصلي النبي صلى الله عليه و سلم عتودا جذعا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تجزى عن أحد بعدك ونهى أن يذبحوا قبل أن يصلي قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن النهي من النبي صلى الله عليه و سلم إنما قصد به إلى النهي عن الذبح قبل الصلاة لا قبل ذبحه وهو لا يجوز أن ينهاهم عن الذبح قبل أن يصلي إلا وهو يريد بذلك إعلامهم إباحة الذبح لهم بعد ما يصلى وإلا لم يكن لذكره الصلاة معنى وقد روى في ذلك أيضا عن غير جابر بن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يوافق هذا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رویت کرتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز عید ادا کرنے سے پہلے بکری کا چھ ماہ کا بچہ ذبح کر لیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بعد یہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں اور آپ نے نماز عید سے پہلے ذبح سے ممانعت فرمائی امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت سے معلوم ہوا کہ انہی سے مقصود عید کی نماز سے پہلے ذبح کی ممانعت ہے یہ مراد نہیں کہ آپ کے ذبح سے پہلے کوئی جانور ذبح نہ کیا جائے اور نماز ڑھنے سے پہلے ممانعت ذبح کا صاف مطلب یہ ہے کہ نماز عید سے پہلے ذبح جائز نہ ہو گا آپ کے اعلان کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے بعد ذبح کیا جائے ورنہ اس موقعہ پر نماز کے تذکرہ کا کوئی مطلب نہیں اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی اس معنی کی موافقت منقول ہے ۔ (روایت براء رضی اللہ عنہ ملاحطہ ہو)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6064

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6065

5741 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو داود الطيالسي ووهب بن جرير قالا ثنا شعبة عن زبيد اليامي قال سمعت الشعبي يحدث عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الأضحى إلى البقيع فبدأ فصلى ركعتين ثم أقبل علينا بوجهه فقال إن أول نسكنا في يومنا هذا أن نبدأ بالصلاة ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد وافق سنتنا ومن ذبح قبل ذلك فإنما هو لحم عجله لأهله ليس من النسك في شيء فقام خالي فقال يا رسول الله إني ذبحت وعندي جذعة خير من مسنة فقال اذبحها ولا تجزى أو لا توفي عن أحد بعدك

شعبی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے رویت کی ہے تو وہ کہنے لگے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدا لا ضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لائے آپ نے پہلے دو رکعت نماز ادا فرمائی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہماری آج کی اولین عبادت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں گے پھر واپس ا کر قربانی کریں گے پس جس نے ایسا کیا اس نے ہمارے طریقہ کی موافقت کی اور جس نے اس سے پہلے ذبح کیا تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کیا قربانی سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے ماموں کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ذبح کر چکا ہوں اور میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے جو ایک سال عمر والے سے بہتر ہے آپ نے فرمایا تم اسے ذبح کر دو اور یہ تمہارے بعد کسی کے لیے جائز نہیں ہے یا فرمایا کسی کے لیے کافی نہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← شُعْبَةُ، ← أبو داود الطيالسي ووهب بن جرير ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6065

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6066

5742 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا شعبة قال أخبرني زبيد ومنصور وداود وابن عون ومجالد عن الشعبي وهذا حديث زبيد قال سمعت الشعبي هاهنا يحدث عن البراء عند سارية في المسجد لو كنت قريبا منها لأخبرتكم بموضعها ثم ذکر مثلہ۔

زبید نے شعیب سے روایت کی ہے کہ وہ مسجد کے ستون کے پاس حضرت براء رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیان کر رہے تھے اگر میں ان سے قریب ہوتا تو تمہیں اس کی جگہ بتا دیتا پھر اس کی مثل روایت بیان کی ہے۔

مِثْلَہُ ← البراء عند سارية في المسجد لو كنت قريبا منها لأخبرتكم بموضعها ثم ← الشعبي هاهنا ← الشعبي وهذا حديث زبيد ← زبيد ومنصور وداود وابن عون ومجالد ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← محمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6066

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6067

5743 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو المطرف بن أبي الوزير قال ثنا محمد بن طلحة عن زبيد عن الشعبي عن البراء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله إلا أنه قال اذبحها ولا تزكي جذعة بعد قال أبو جعفر ففي هذا الحديث قول النبي صلى الله عليه و سلم إن أول نسكنا في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد وافق سنتنا فأخبر أن النسك في يوم النحر هو صلاة ثم الذبح بعدها فدل ذلك على أن ما يحل به الذبح هو الصلاة لا ذبح الإمام الذي يكون بعدها وعلى أن حكم النحر بعد الصلاة خلاف حكم النحر قبلها وقد روى مثل هذا أيضا عن النبي صلى الله عليه و سلم غير البراء

زبیر نے شعبی سے انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے کہ مگر اس میں یہ الفاظ مختلف ہیں اب اس کو ذبح کر لو اور آئندہ کوئی چھ ماہ کا بکرا مت ذبح کرنا (قربانی کے لیے ) امام اطحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد آج کے دن ہمارا پہلا عبادت کا عمل نماز ادا کرنا اور پھر واپس لوٹنا ہے اور بعد ازیں ہم قربانی کریں گے جس نے اس طرح کیا اس نے ہمارے طریقہ کی موافقت کی ۔ اس سے بتلا دیا گیا عیدالاضحی کے دن پہلا عبادت والا کام نماز عید ہے پھر اس کے بعد ذبح ہے اس سے یہ ثبوت مہیا ہو گیا کہ ذبح کو حلال کرنے والی نماز اور نماز سے پہلے ذبح اور بعد ذبح کا فرق ہے اور اس کو دیگر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے علاوہ نقل کیا ہے ۔

اذبحها ولا تزكي جذعة بعد ← الْبَرَاءِ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6067

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6068

5744 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال أخبرنا سفيان عن الأسود بن قيس عن جندب رضي الله عنه قال شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم النحر فمر بقوم قد ذبحوا قبل أن يصلى فقال من كان ذبح قبل الصلاة فليعد فإذا صلينا فمن شاء ذبح ومن شاء فلا يذبح

اسود بن قیس نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے دن موجود تھا آپ کا گزر ان لوگوں کے پاس پاس ہوا جنہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تھی تو آپ نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہو وہ قربانی دوبارہ کرے ۔ جب ہم نماز ادا کر لیں گے تو جو چاہے ذبح کرے اور جو چاہے ذبح نہ کرے۔

جُنْدُبٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6068

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6069

5745 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن الأسود بن قيس عن جندب بن عبد الله قال قال النبي صلى الله عليه و سلم من كان ذبح قبل أن يصلي فليعد أخرى مكانها ومن لم يكن ذبح فليذبح

اسود بن قیس نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی نماز عید سے پہلے ذبح کرتے وہ وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے ذبح نہ کی ہو وہ ذبح کرے ۔

جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6069

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6070

5746 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الأسود بن قيس سمع جندبا رضي الله عنه يقول شهدت الأضحى مع النبي صلى الله عليه و سلم فعلم أن ناسا ذبحوا قبل الصلاة فقال من كان ذبح فليعد ومن لا فليذبح على اسم الله

اسود بن قیس نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید قربانی میں موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے قربانیاں کر لی ہیں تو آپ نے فرمایا جس نے ذبح کر لیا وہ دوبارہ لوٹا ئے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرے ۔

جُنْدُبًا ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6070

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6071

5747 - حدثنا روح بن الفرج قال أخبرنا يوسف بن عدي قال أخبرنا أبو الأحوص عن الأسود بن قيس عن جندب بن سفيان قال شهدت النبي صلى الله عليه و سلم وقد صلى بالناس العيد فإذا هو بغنم قد ذبحت فقال من كان ذبح قبل الصلاة فتلك شاة لحم ومن لم يكن ذبح فليذبح على اسم الله

اسود بن قیس نے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں موجود تھا ۔ اچانک آپ نے دیکھا کہ ایک بکری ذبح شدہ پڑی ہے تو آپ نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا وہ صرف گوشت کی بکری ہے یعنی گوشت کھانے کے لیے اس کو ذبح کیا گیا ہے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرے۔

جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6071

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6072

5748 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبيد الله بن عمر قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن محمد قال حماد ولا أعلمه إلا عن أنس وهشام عن محمد عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى ثم خطب فأمر من كان ذبح قبل الصلاة أن يعد ذبحا قال أبو جعفر فدل ما ذكرنا أن أول وقت الذبح يوم النحر هو من بعد الصلاة لامن بعد ذبح الإمام فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار فأما ما يدل عليه النظر في ذلك فإنا رأينا الأصل المجمع عليه أن الإمام لو لم ينحر أصلا لم يكن ذلك بمسقط عن الناس النحر ولا بمانع لهم من النحر في ذلك العام وقد روى عن حذيفة بن أسيد أبي شريحة ما قد

محمد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدا دا فرمائی پھر خطبہ دیا اور حکم فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے وہ دوبارہ ذبح کرے ۔ محمد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدادا فرمائی پھر خطبہ دیا اور حکم فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا وہ دوبارہ ذبح کرنے کے بعد نہیں آثار کو سامنے رکھ کر اس کا یہی حکم ہے ۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ سب کے نزدیک اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر امام سرے سے قربانی ہی نہ کرے تو اس سے لوگوں کے ذمے سے قربانی ساقط نہ ہو گی اور نہ ہی اس کا ذبح نہ کرنا لوگوں کی قربانی میں اس حال میں رکاوٹ بنے گا اور یہ بات حذیفہ بن اسید ابی شریح کے اثر سے بھی ثابت ہے ۔

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← أنس وهشام ← حماد ولا أعلمه إلا ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6072

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter