شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6061
5737 - حدثنا عبد الغني بن رفاعة أبو عقيل قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن جابر عن محمد بن قرظة عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال ولم نسمعه منه أنه اشترى كبشا ليضحي به فأكل ذنبه أو بعض ذنبه فسأل النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال ضح به فقد فسد إسناد هذا الحديث بما قد ذكرنا وفسد متنه لأنه قال قطع ذنبه أو بعض ذنبه فإن كان البعض هو المقطوع فيجوز أن يكون ذلك أقل من ربعه وذلك لا يمنع أن يضحي به في قول أحد من الناس ولو كان الحديث كما رواه إبراهيم بن محمد أنه قطع إليته لاحتمل أن يكون ذلك أيضا على بعضها لأنه قد يقال قطع إليته إذا قطع بعضها كما يقال قطع إصبعه إذا قطع بعضها فتصحيح هذه الآثار يمنع أن يضحي بالأربع التي في حديث البراء أو بالمقابلة والمدابرة وهي المشقوقة أكثر أذنها من قبلها أو من دبرها وإذا كان ذلك لا يجزي في الأضاحي فالمقطوعة الأذن أحرى أن لا تجزئ وكذلك في النظر عندنا كل عضو قطع من شاة مثل ضرعها أو إليتها فذلك يمنع أن يضحي بها إذا قطع بكماله فقطع بعضه فإن أصحابنا رحمهم الله يختلفون في ذلك فأما أبو حنيفة رحمة الله عليه فروى عنه المقطوع من ذلك إذا كان ربع ذلك العضو فصاعدا لم يصح بما قطع ذلك منه وإن كان أقل من الربع ضحى به وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله إذا كان المقطوع من ذلك هو النصف فصاعدا فلا يضحي بما إذا قطع ذلك منه وإن كان أقل من النصف فلا بأس أن يضحي بها إلا أن أبا يوسف رحمه الله ذكر أنه ذكر هذا القول لأبي حنيفة فقال له قولي مثل قولك فثبت بذلك رجوع أبي حنيفة رحمة الله عليه عن قوله الذي قد كان قاله إلى ما حدثه به أبو يوسف وقد وافق ذلك من قولهم ما روينا عن سعيد بن المسيب في هذا الباب في تفسير العضباء التي قد نهى عن الأضحية بها وأنها المقطوعة نصف أذنها وكل ما كان من هذا لا يكون أضحية لما قد نقص منه فإنه لا يكون هديا
شعبہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے یہ نہیں سنا کہ ابو سعید نے قربانی کے لیے کوئی دنبہ خریدا ہو اور پھر بھیڑیا اس کی دم کا بعض یا کچھ حصہ کھا گیا ہو اور انہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ہو اور آپ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو ۔ پس اس حدیث کے متن کا بگاڑ واضح ہو گیا کہ کہیں تو کہا گیا کہ اس کی دم کھا لی اور کہیں یہ کہا کہ اس کی دم کا کچھ حصہ کھا لیا اگر کچھ حصہ کھایا ہو اور وہ چوتھائی عضو سے کم ہو تو کسی کے نزدیک بھی اسکی قربانی ممنوع نہیں اور اگر روایت اسی طرح ہو جیسے ابراہیم بن محمد نے نقل کی ہے کہ " انہ قطع الیتہ" تو اس سے بھی بعض دم کا کٹنا مراد ہو سکتا ہے جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں قطع صبعہ جبکہ وہ انگلی کا کچھ حصہ کاٹے ۔ پس ان آثار کی تصحیح کی بہتر شکل یہ ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں جن چار عیوب والے جانوروں کا تذکرہ ہے ان کی بالکل قربانی نہ کی جائے اور مدابرہ اور مقابل کی قربانی بھی نہ کرے ۔ جب کان کے اکثر حصہ کا کٹنے والا اور پچھلی جانب سے کان پھٹنے والا قربانی میں ممنوع ہوا تو جس جانور کا بالکل کان کٹا ہو وہ بدرجہ اولیٰ جائز نہ ہو گا ۔ نظر کا تقاضا ہمارے ہاں یہ ہے کہ بکری کا جو عضو مثلاً تھن یا چکی (سرین) مکمل کاٹ ڈالی جائے تو اس کی قربانی ممنوع ہے اور جب کچھ حصہ کا ٹا گیا تو اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر عضو کا چوتھائی یا اس سے زائد کٹا ہو تو قربانی جائز نہ ہو گی اور اگر اس سے کم ہو تو قربانی کی جاسکتی ہے ۔ امام ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کے نزدیک نصف عضو یا اس زائد کٹا ہو تو قربانی سے منع کیا جائے اگر کم ہو تو اس میں حرج نہیں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ قول امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ قول امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا ۔ میرا قول بھی تمہارے ساتھ ہے اس سے ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول سے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی طرف رجوع فرما لیا اور یہ قول سعید بن مسیب کے قول کے موافق ہے جو کہ عضباء کی تفسیر کے ضمن میں ہم نے اسی باب میں ذکر کیا ہے عضباء اسی جانور کو کہا جاتا جس کا نصف کان کٹا ہوا ہو اور جو جانور قربانی پر لگ سکتا ہو وہ بدی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ولم نسمعه منه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ، ← جَابِرٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبد الغني بن رفاعة أبو عقيل
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6061
