Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6265

5926 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا مكي بن إبراهيم وأبو عاصم قالا أخبرنا بن جريج قال أخبرني نافع قال قال بن عمر ثم ذكر مثله فكان من الحجة عليهم في ذلك أن جابرا رضي الله عنه قد أخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم أطعمهم يومئذ لحوم الخيل ونهاهم عن لحوم الحمر وهم كانوا إلى الخيل أحوج منهم إلى الحمر فدل تركه منعهم أكل لحوم الخيل أنهم كانوا في بقية من الظهر ولو كان في قلة من الظهر حتى احتج لذلك أن يمنعوا من أكل لحوم الحمر لكانوا إلى المنع من أكل لحوم الخيل أحوج لأنهم يحملون على الخيل كما يحملون على الحمر ويركبون الخيل بعد ذلك لمعان لا يركبون لها الحمر فدل ما ذكرنا أن العلة التي لها منعوا من أكل لحوم الحمر ليست هي هذه العلة وقد قال آخرون إنما منعوا يومئذ من أكل لحوم الحمر لأنها حمر كانت تأكل العذرة ورووا في ذلك ما

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کی ہے ۔ گزشتہ روایات میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ ﷺ کا صاف ارشاد ہے کہ آپ نے ان کو گھوڑے کا گوشت کھلایا اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا حالانکہ گھوڑے کی گدھے سے زیادہ ضرورت تھی ۔ گھوڑوں کا گوشت کھانے سے ممانعت نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے پاس زائد سواریاں موجود تھیں اگر سواریوں کی قلت کی وجہ سے گدھوں کے گوشت کی ممانعت ہوتی تو گھوڑوں کے گوشت کی ممانعت اس بنیاد پر بدارجہ اولیٰ ہوتی کیونکہ گھوڑے گدھوں کی طرح سامان لادنے کا کام بھی دیتے ہیں اور گھوڑوں پر سواری کی جاتی ہے اور کئی حالات میں گدھوں پر سواری کی ہی نہیں جاتی ۔ اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کہ گدھوں کے گوشت کھانے کی ممانعت کی وہ علت نہیں جو آپ نے بیان فرمائی۔ ایک اور فریق کا استدلال یہ ہے کہ گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اس لئے فرمائی گئی کہ وہ گندگی کھانے والے گدھے تھے اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا۔

مثله فكان من الحجة عليهم في ذلك أن جابرا قد أخبر ← بن عمر ثم ← نَافِعٍ ← بن جُرَيْجٍ ← مكي بن إبراهيم وأبو عاصم ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6265

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6266

5927 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قالك ثنا شعبة عن الشيباني قال ذكرت لسعيد بن جبير حديث بن أبي أوفي في أمر النبي صلى الله عليه و سلم إياهم بإكفاء القدور يوم خيبر فقال إنما نهى عنها لأنها كانت تأكل العذرة وقالوا فإنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن أكلها لهذه العلة فكان من الحجة عليهم في ذلك أنه لو لم يكن جاء في هذا إلا الأمر بإكفاء القدور لكان ذلك محتملا لما قالوا ولكنه قد جاء هذا وجاء النهي في ذلك مطلقا

شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کے سامنے حضرت ابن ابی اوفی والی روایات بیان کی ۔ کہ جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ہانڈیاں الٹ دینے کا حکم فرمایا تو سعید کہنے لگے آپ نے اس لئے منع فرمایا کہ وہ گندگی کھانے والے گدھے تھے ۔ یہ حضرات کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی سبب سے ان کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ اگر صرف ہانڈیاں پلٹنے کا حکم ہوتا تو اس بات کی کسی قدر گنجائش تھی مگر یہاں تو ہانڈیاں بھی پلٹ دی گئیں اور مطلقاً ممانعت کر دی گئی ( جیسا کہ اس روایت میں ہے ) حاصل : یہ حضرات کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی سبب سے ان کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔

الشَّيْبَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وهب قالك ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6266

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6267

5928 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا شبابة بن سوار قال ثنا أبو زيد عبد الله بن المعلاء قال ثنا مسلم بن مشكم كاتب أبي الدرداء رضي الله عنه قال سمعت أبا ثعلبة الخشني يقول أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله حدثني ما يحل لي مما يحرم علي فقال لا تأكل الحمار الأهلي ولا كل ذي ناب من السباع فكان كلام النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث جوابا لسؤال أبي ثعلبة إياه عما يحل له مما يحرم عليه فدل ذلك على نهيه عن أكل لحوم الحمر الأهلية لا لعلة تكون في بعضها دون بعض من أكل العذرة وما أشبهها ولكن لها في أنفسها وقد جعلها صلى الله عليه و سلم في نهيه عنها كذي الناب من السباع فكما كان ذو ناب منهيا عنه لا لعلة كان كذلك الحمر الأهلية منهيا عنها لا لعلة وقد قال قوم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما نهى عنها لأنها كانت نهبة ورووا في ذلك

حضرت ابو درداء کے کاتب مسلم بن مشکم کہتے ہیں کہ میں نے ابو ثعلبہ خشنی کو فرماتے سنا میں حضور کی خدمت میں آیا میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے بتلائیے کہ میرے لیے کیا حلال ہے اور کون سی چیزیں حرام ہیں آپ نے فرمایا گھریلو گدھوں کو مت کھاؤ اور نہ ہی کچلیوں والے درندوں کو۔ پس اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ کا کلام ابو ثعلبہ کے اس سوال کا جواب ہے کہ میرے لئے کیا حلال و حرام ہے ( تو آپ نے ان دو حرام چیزوں کا بیان فرمایا ) پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ گھریلو گدھوں کے گوشت کی ممانعت سواری کی کمی یا گندگی کا کھانا نہیں بلکہ ذاتی ممانعت ہے اس کو آپ نے کچلیوں والے درندے کی طرح قرار دیا ۔ جس طرح اس کی ممانعت ذاتی ہے کسی علت پر موقوف نہیں ۔ یہی حکم اس کا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس لئے منع فرمایا کہ یہ لوٹ کے گدھے تھے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ← مسلم بن مشكم كاتب أبي الدرداء ← أبو زيد عبد الله بن المعلاء ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6267

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6268

5929 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن مرزوق قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير عن النحاز الحنفي عن سنان بن سلمة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر يوم خيبر بقدور فيها لحم حمر الناس فأمر بها فأكفئت فكان من الحجة عليهم في ذلك أن قوله حمر الناس يحتمل أن يكون انتهبوها من الناس ويحتمل أن تكون نسبت إلى الناس لأنهم يركبونها فيكون النهي وقع عليها لأنها أهلية لا لغير ذلك قالوا فإنه قد روى في ذلك ما يدل على أنها كانت نهبة فذكروا ما

سنان بن سلمہ نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ خیبر کے دن جناب رسول اللہ ﷺ کا گزر ایسی ہانڈیوں کے پاس سے ہوا جن میں گھریلو گدھوں کا گوشت تھا آپ نے ان کو الٹ دینے کا حکم دیا۔ اس میں ان پر حجت یہ ہے کہ حمرالناس میں دو احتمال ہیں : 1۔ کہ انہوں نے لوگوں کے گدھے لوٹ لئے اس لئے لوگوں کی طرف نسبت کی ۔ لوگوں کی طرف اس لئے نسبت کی گئی کہ وہ ان پر سوار ہوتے تھے تو آ جا کر ممانعت کا دارو مدار اسی بات پر ہوا کہ وہ گھریلو گدھے تھے نہ کچھ۔ 2۔ اور اگر کوئی معترض کہے کہ ایک اور روایت وارد ہے جو آپ کی بات کی تردید کر کے ثابت کرتی ہے کہ وہ لوٹ کے گدھے تھے روایت ملاحظہ ہو۔

أَبِيهِ ← سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ← النحاز الحنفي ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6268

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6269

5930 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن عدي بن ثابت عن البراء رضي الله عنه أنهم أصابوا من الفيء حمرا فذبحوها فقال النبي صلى الله عليه و سلم أكفئوا القدور قالوا فبين هذا الحديث أن تلك الحمر كانت نهبة فقيل لهم فإذا ثبت أنها كانت نهبة كما ذكرتم فما دليلكم على أن النهي كان للنهبة وما جعلكم بتأويل ذلك النهي أنه كان للنهبة أولى من غيركم في تأويله أن النهي عنها كان لها في أنفسها لا للنهبة وقد ذكرنا في حديث أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لهم أكفئوها فإنها رجس فدل ذلك على أن النهي وقع عليها لأنها رجس لا لأنها نهبة وفي حديث سلمة بن الأكوع رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم أكفئوا القدور وأكسروها فقالوا يا رسول الله أو نغسلها فقال أوذاك فدل ذلك أيضا على أن النهي كان لنجاسة لحوم الحمر لا لأنها نهبة ولا لأنها مغصوبة ألا يرى أن رجلا لو غصب رجلا شاة فذبحها وطبخ لحمها أن قدره التي طبخ ذلك فيها لا يتنجس وأن حكمها في طهارتها حكم ما طبخ فيه لحم غير مغصوب فدل ما ذكرنا من أمره إياه بغسلها على نجاسة ما طبخ فيها على أن الأمر الذي كان منه بطرح ما كان فيها لنجاستها لا لغصبهم إياها وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر في شاة غصبت فذبحت وطبخت بخلاف هذا

عدی بن ثابت نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ان کو مال غنیمت کے کچھ گدھے ملے پس انہوں نے ان کو ذبح کر دیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہانڈیاں الٹ دو۔ اس حدیث نے تو واضح کردیا کہ وہ گدھے لوٹ مار کے تھے۔ ان کو جواب میں کہے کہ یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ وہ مال فئی میں سے تھے لیکن اس بات کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ ممانعت لوٹ کی وجہ سے ہوئی اور یہ اختیار تمہیں کس نے دیا ہے کہ تمہاری لوٹ والی تا ویل اس تاویل سے زیادہ بہتر ہے کہ ممانعت کی وجہ ذاتی حرمت تھی ہم حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ میں ذکر کر چکے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا کفو فانها رجس تواس سے یہ ثابت ہوا کہ ممانعت کی وجہ اس کا پلید ہونا ہے نہ کہ لوٹ کا ملا حدیث سلمہ میں جیسا ہم ذکر کر آئے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے اگلی بات فرمائی۔ ان ہانڈیوں کو الٹ دو اورتوڑ ڈالو۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ان کو دھوڈالیں تو آپ نے فرمایایہ کر ڈالوتو اس سے ثابت ہوگیا کہ ممانعت گدھے کے گوشت کی نجاست کی وجہ سے تھی لوٹ کی وجہ سے نہیں ۔ کیا معترض کو یہ بات نظر نہیں آتی کہ اگر کوئی آدمی بکری غصب کر کے اس کو ذبح کر ڈالے اور اس کے گوشت کو پکائے اس کی ہنڈیا اس پکانے کی وجہ سے پلید نہیں ہو گئی اور اس کی ہڈیوں کے متعلق طہارت کا وہی حکم رہے گا جو غیر مغصوب گوشت پکانے کے بعد ہوتا ہے اس کے دھونے کا جو معاملہ ہم نے ذکر کیا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ہانڈیوں میں پکی ہوئی چیز نجس تھی اور اس کے پھینکنے کا حکم بھی اس کی نجاست کی وجہ تھا غصب کی وجہ سے نہیں تھا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بکری کے بارے میں جو غصب کر کے ذبح کر ڈالی گئی اور اس کا گوشت پالیا گیا اس کے الٹ حکم فرمایا۔ ملاحظہ ہو۔

النبي صلى الله عليه و سلم أكفئوا القدور ← البراء أنهم أصابوا من الفيء حمرا فذبحوها ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6269

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6270

5931 - حدثنا فهد قال ثنا النفيلي قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل قال حسبته من الأنصار أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فلقيه رسول امرأة من قريش يدعوه إلى طعام فجلسنا مجالس الغلمان من آبائهم ففطن آباؤنا النبي صلى الله عليه و سلم وفي يده أكلة فقال إن هذا لحم شاة يخبرني أنها أخذت بغير حلها فقامت المرأة فقالت يا رسول الله لم تزل تعجبني أن تأكل في بيتي وإني أرسلت إلى البقيع فلم توجد فيه شاة وكان أخى اشترى شاة بالأمس فأرسلت بها إلى أهله بالثمن فقال أطعموها الأسارى فتنزه رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكلها ولم يأمر بطرحها بل أمرهم بالصدقة بها إذ أمرهم أن يطعموها الأسارى فهذا حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم في اللحم الحلال إذا غصب فاستهلك فلو كانت لحوم الحمر الأهلية حلالا عنده لأمر فيها لما أنتهبت بمثل ما أمر به في هذه الشاة لما غصبت ولكنه إنما أمر في لحم تلك الحمر لما أمر به لمعنى خلاف المعنى الذي من أجله أمر في لحم هذه الشاة بما أمر به ألا يرى أن رجلا لو غصب رجلا شاة فذبحها وطبخ لحمها أنه لا يؤمر بطرح ذلك في قول أحد من الناس فكذلك لحم الأهلية المذبوحة بخيبر لو كان النبي صلى الله عليه و سلم إنما نهى عنها من أجل النهبة التي حكمها حكم النصب إذا لما أمرهم بطرح ذلك اللحم ولأمرهم فيه بمثل ما يؤمر به من غصب شاة فذبحها وطبخ لحمها فلما انتفى أن يكون نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن أكل لحوم الحمر لمعنى من هذه المعاني التي إدعاها الذين أباحوا لحمها ثبت أنه نهيه ذلك عنها كان لها في نفسها كالنهي عن أكل كل ذي ناب من السباع فكان ذلك النهي له في نفسه فلا ينبغي لأحد خلاف شيء من ذلك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قال لا ألفين أحدا منكم متكئا على أريكته يأتيه الأمر من أمري فيقول بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه من حرام حرمناه وما وجدنا من حلال أحللناه ألا وإن ما حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم فهو مثل ما حرم الله

عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے بیان کیا اور انہوں نے ایک آدمی سے میرے خیال میں وہ انصاری آدمی تھا جو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر تھا آپ ﷺ کوقریش کی ایک عورت ملی جس نے آپ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی ہم بچوں کی جگہ بیٹھ گئے جو اپنے بالوں کے پاس بیٹھتے ہیں ہمارے والدین آپ ﷺ کے بارے میں کوئی بات سمجھ گئے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک لقمہ ہے اورآپ ﷺ فرمارہے ہیں کہ یہ بکری کا گوشت مجھے بتلا رہا ہے کہ یہ حرام طریقہ سے لی گئی ہے۔ عورت کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ مجھے ہمیشہ یہ بات پسند رہی ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں۔ میں نے بقیع کی طرف آدمی بھیجا وہاں کوئی بکری ملی اور میرے بھائی نے کل گزشتہ ایک بکری خریدی تھی میں نے (اس سے وہ لے لی اور اس کے بدلے میں میں نے قیمت اس کے گھر والوں کی طرف بھیج دی آپ نے فرمایا اس کا گوشت قیدیوں کو کھلا دو۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے کھانے سے پرہیز فرمایا مگر اس کو پھینکنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ اس کے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا اس لئے کہ ان کو حکم دیا کہ وہ قیدیوں کو کھلا دیں ۔ حلال گوشت کا یہی حکم ہے جبکہ اس کو غصب کر کے ہلاک کر ڈالا جائے ۔ بالفرض اگر گھریلو گدھوں کا گوشت حلال ہوتا تو اس کے چھیننے کی صورت میں وہی حکم فرماتے جو اس غصب شدہ بکری کے متعلق فرمایا۔ لیکن گدھوں کے گوشت کے متعلق حکم فرمایا جو فرمایا کیونکہ اس کی وجہ وہ نہ تھی جو یہاں تھی کہ جس کے باعث بکری میں وہ حکم فرمایا جوان گدھوں کے حکم سے مختلف تھا کیا اس فریق کو یہ معلوم نہیں کہ اگر کوئی شخص ایک بکری غصب کر کے ذبح کر ڈالے اور اس کا گوشت پکا لے تو کسی کے ہاں بھی اس گوشت کے پھینکنے کا حکم نہ دیا جائے گا۔ پس اسی طرح گھر یلو گد ھے جو خیبر میں ذبح کئے گئے اگر ان کے گوشت سے ممانعت کی وجہ ان کا لوٹ وغصب کا مال ہونا ہوتا تو پھر اس پرغصب کا حکم لگنا چاہئے تھا۔ پھر آپ گوشت کو پھینکنے کا حکم نہ فرماتے تو ضرور اس میں وہی حکم فرماتے جو اس بکری کے متعلق دیا جس کو غصب کر کے ذبح کیا گیا اور پکایا گیا تھا۔ پس جب گدھے کے گوشت کو مباح کرنے والوں نے جو علل بیان کی ہیں ان سب کی نفی ہوگئی تو یہ خود ثابت ہو گیا کہ ممانعت ذاتی تھی پس کسی کو اس کی مخالفت ہرگز درست نہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمادیا میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کو میرا حکم پہنچے اور وہ یہ کہہ کر ٹال دے۔ ہمارے درمیان تو کتاب حاکم ہے ہم جو چیز اس میں حرام پائیں گے اس کو حرام قرار دیں گے اور جو حلال اس میں پائیں گے اس کو حلال سمجھیں گے اچھی طرح سنو! بے شک جس چیز کو جناب رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا (یعنی اس کی حرمت کو اپنی زبان مبارک سے بیان فرمایا ) وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح وہ چیز جس کو اللہ تعالی نے ( قرآن مجید میں ذکر کر دیا) حرام کیا ہو۔

رَجُلٌ: ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6270

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6271

5932 - حدثنا بذلك محمد بن الحجاج قال ثنا أسد قال ثنا معاوية بن صالح عن الحسن بن جابر عن المقدام رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم

حسن بن جابر نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَامِ، ← الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أسد ← بذلك محمد بن الحجاج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6271

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6272

5933 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو مسهر قال ثنا يحيى بن حمزة قال حدثني الزبيدي عن مروان بن روية أنه حدثه عن عبد الرحمن بن أبي عوف الجرشي عن المقدام بن معد يكرب الكندي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إني أوتيت الكتاب وما يعدله يوشك شبعان على أريكته يقول بيننا وبينكم هذا الكتاب فما كان فيه من حلال حللناه وما كان فيه من حرام حرمناه ألا وإنه ليس كذلك لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الأهلي

عبدالرحمن بن ابی عوف جرشی نے حضرت مقدام بن معدکریب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک مجھے قرآن مجید اور اس کے معاول چیز ( حدیث ) دی گئی عنقریب ایک پیٹ بھرا تکیہ لگائے کہے گا ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب فیصل ہے ۔ پس اس میں جو حلال ہے اس کو ہم حلال قرار دیں گے اور اس میں جو حرام ہے اس کوہم حرام قرار دیں گے ۔ سنو ! بات اس طرح نہیں کوئی کچلیوں والا درندہ حلال نہیں اور نہ گھریلو گدھا حلال ہے ۔

المقدام بن معد يكرب الكندي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ← مروان بن روية أنه ← الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6272

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6273

5934 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي النضر عن أبي رافع رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو النصر نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي رَافِعٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6273

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6274

5935 - وحدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني الليث بن سعد عن أبي النضر عن موسى بن عبد الله بن قيس عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم والناس حوله لا أعرفن أحدكم يأتيه الأمر من أمري قد أمرت به أو نهيت عنه وهو متكئ على أريكته فيقول ما وجدناه في كتاب الله عملناه وإلا فلا

موسیٰ بن عبداللہ بن قیس نے مولیٰ رسول اللہ ﷺ ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ نے اس وقت فرمائی جبکہ لوگ آپ کے اردگرد تھے ۔ ہر گز میں تم میں سے کسی کو اس کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرا حکم پہنچے جو میں نے دیا ہو یا جس سے منع کیا ہو اور وہ تکیہ پر ٹیک لگائے ( بڑائی میں ) کہنے لگے جو کچھ ہم کتاب اللہ میں پائیں گے ہم اس پر عمل کریں گے ورنہ نہیں ( کریں گے )

أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي النَّضْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن وَهْبٍ ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6274

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 11 باب أكل لحوم الحمر الأهلية ) · حديث 6275

5936 - حدثنا عيسى بن إبراهيم الغافقي قال حدثنا سفيان عن بن المنكدر وأبي النضر عن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه أو عن غيره عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته يأتيه الأمر من أمري مما قد أمرت به أو نهيت عنه فيقول لا أدري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه فحذر رسول الله صلى الله عليه و سلم من خلاف أمره كما حذر من خلاف كتاب الله عز و جل فليحذر أن يخالف شيئا من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فيحق عليه ما يحق على مخالف كتاب الله وقد تواترت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في النهي عن لحوم الحمر الأهلية بما قد ذكرنا ورجعت معانيها إلى ما وصفنا فليس ينبغي لأحد خلاف شيء من ذلك فإن قال قائل فقد رويتم عن بن عباس رضي الله عنهما إباحتهما وما احتج به في ذلك من قول الله عز و جل قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه الآية قيل له ما قاله رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك فهو أولى مما قال بن عباس رضي الله عنهما وما قاله رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك فهو مستثنى من الآية على هذا ينبغي أن يحمل ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا المجئ المتواتر في الشيء المقصود إليه بعينه مما قد أنزل الله عز و جل في كتابه آية مطلقة على ذلك الجنس فيجعل ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك مستثنى من تلك الآية غير مخالف لها حتى لا يضاد القرآن السنة ولا السنة القرآن فهذا حكم لحوم الحمر الأهلية من طريق تصحيح معاني الآثار قال أبو جعفر ولو كان إلى النظر لكان لحوم الحمر الأهلية حلالا وكان ذلك كلحم الحمر الوحشية لأن كل صنف قد حرم إذا كان أهليا مما قد أجمع على تحريمه فقد حرم إذا كان وحشيا ألا ترى أن لحم الخنزير الوحشي كلحم الخنزير الأهلي فكان النظر على ذلك أيضا إذا كان الحمار الوحشي لحمه أن يكون حلالا أن يكون كذلك الحمار الأهلي ولكن ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أولى ما أتبع وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

عبیداللہ بن ابی رافع نے اپنے والد سے یا کسی اور سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے میں ہرگز تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ تکیہ نشین ہو اور میرا حکم آئے جو میں نے اپنے حکم سے دیا ہو یا اس سے خودروکا ہو اور وہ یہ کہنے لگے میں نہیں جانتا۔ ہم تو جو چیز کتاب اللہ میں پائیں گے اس کی اتباع کریں گے۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے حکم کی خلاف ورزی سے اسی طرح ڈرایا جس طرح کتاب اللہ کی مخالفت سے ڈرایا۔ پس چاہئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی سے ڈرے ورنہ وہ اس بات کا حقدار ہوگا جس کا مخالفت کتاب اللہ میں حقدار ہے۔ گھر یلو گدھوں کے گوشت کی حرمت میں متواتر روایات نقل کی جا چکیں اور دیگر روایات کے مناسب معانی ذکر کئے جا چکے۔ پس کسی کو بھی مناسب نہیں کہ وہ ان چیزوں میں سے کسی کی مخالفت کرے ۔ گزشتہ سطور میں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کی اباحت نقل کر چکے ہو اور انہوں نے اس کی تائید میں ”قل لا اجد فیما اوحی الی » «الانعام:۱۶۵ ( تو حرمت کا دعویٰ مشکل ہے ) ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ جناب اس کے جواب میں ہم وہی کہتے ہیں جو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ۔ فرمان رسول اللہ ﷺ کے بالمقابل ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول قابل سماعت نہیں۔ باقی آیت کا جواب یہ ہے کہ جو بات جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمائی وہ آیت سے مستثنیٰ ہے گویا آیت میں حکم مطلق ہے اور جو جناب رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ ان میں تضاد نہیں کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کتاب اللہ سے متضاد ہو۔ آثار کی تصحیح کالحاظ کرتے ہوئے ہی گھر یلو گدھوں کے گوشت کا حکم ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا تو گھریلو گدھوں کا گوشت حلال ٹھہر ے گا کیونکہ یہ جنگلی گدھے کے گوشت کی طرح ہوگا کیونکہ جو گھر یلو ہونے کی صورت میں حرام ہو وہ وحشی ہونے کی صورت میں بدرجہ اولی حرام ہوگا۔ ذرا دیکھئے کہ جس طرح جنگلی خنزیر کا گوشت حرام ہے۔ پالتو خنزیر کا گوشت بھی حرام ہے۔ تو قیاس کا تقاضا یہی ہے کہ جنگلی گدھے کا گوشت جب حلال ہے تو گھر یلو کا بھی اسی طرح ہونا چاہئے لیکن نصوص رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے انکی اتباع ضروری ہے اور (ترک قیاس لازم ہے ) (یہاں قیاس کو چھوڑ دیا اورنص کی اتباع کی) یہی ابو حنیفہ ، ابویوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

غَيْرِهِ، ← أَبِيهِ أَوْ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← بن المنكدر وأبي النضر ← سُفْيَانَ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6275

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 12 باب أكل لحوم الفرس ) · حديث 6276

5937 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو نعيم ح

ربیع جیزی نے ابو نعیم سے روایت کی ہے ۔

أَبُو نُعَيْمٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6276

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter