شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6229
5892 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال حدثني أسباط بن محمد عن الشيباني عن يزيد بن الأصم قال دعينا لعرس بالمدينة فقرب إلينا طعام فأكلناه ثم قرب إلينا ثلاثة عشر ضبا فمنا آكل ومنا تارك فلما أصبحت أتيت بن عباس رضي الله عنهما فأخبرته بذلك فقال بعض من عنده قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا آكله ولا أحرمه ولا آمر به ولا أنهي عنه فقال بن عباس رضي الله عنهما ما بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم محللا أو محرما قرب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لحم فمد يده يأكل فقالت ميمونة رضي الله عنها يا رسول الله إنه لحم ضب فكف يده ثم قال هذا لحم لم آكله قط فأكل الفضل بن عباس رضي الله عنهما وخالد بن الوليد رضي الله عنه وأمرأته كانت معهم وقالت ميمونة رضي الله عنها لا آكل طعاما لم يأكل منه رسول الله صلى الله عليه و سلم
شیبانی نے یزید بن اصم سے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ہمیں شادی کی ایک دعوت میں حاضری کا موقع ملا ہمارے سامنے کھانا رکھا گیا ہم نے کھا لیا پھر ہمارے سامنے تیرہ گوہ رکھے گئے تو ہم میں سے بعض نے کھا لیا بعض نے چھوڑ دیا جب صبح ہوئی تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے اس سارے واقعے کی اطلاع دی تو ان کے پاس بعض موجود لوگوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ اس کو حرام کرتا ہوں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ کو حلال و حرام کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا آپ کی خدمت میں کھانے کے لئے گوشت پیش کیا گیا آپ نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میمونہ کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ کہ گوہ کا گوشت ہے آپ نے اپنا دست اقدس اس سے کھینچ لیا اور فرمایا یہ گوشت ہے جس کو میں نے کبھی نہیں کھایا چنانچہ فضل بن عباس اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی بھی ان کے ساتھ بھی انہوں نے اس کو کھا لیا میمونہ رضی اللہ عنہ کہنے لگی میں اس کھانے کو نہ کھاؤں گی جس کو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کھایا۔
يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن عمرو بن يونس
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6229
