Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6217

5882 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا شعبة عن عبد الله بن دينار عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه لم يحرم أكل الضب وقد روى عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال إنه حلال

عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کا حرام نہ ہونا نقل کر رہے ہیں ۔

إنه حلال ← بن عُمَرَ ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6217

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6218

5883 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب وعبد الصمد قالا ثنا شعبة عن توبة العنبري قال سمعت الشعبي يقول رأيت فلانا حين يروى عن النبي صلى الله عليه و سلم لقد جالست بن عمر رضي الله عنهما فما سمعته يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أنه قال كان أناس من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يأكلون ضبا فنادتهم امرأة من أزواج النبي صلى الله عليه و سلم إنها ضب فقال النبي صلى الله عليه و سلم كلوه ليس من طعامي وفي حديث وهب فإنه حلال قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبر أنه حلال وأنه تركه لأنه لم يكن من طعامه وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أيضا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يحرمه

شعبی کہتے تھے کہ میں نے فلاں کو دیکھا جبکہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے تھے میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بھی بیٹھا تو میں نے ان کو جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب کر کے بیان کرتے نہیں سنا ۔ البتہ انہوں نے یہ فرمایا کہ کچھ لوگ اصحاب نبی ﷺ میں سے گوہ کھا رہے تھے تو ان کو ازواج مطہرات میں سے ایک نے آواز دے کر کہا یہ گوہ ہے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو کھاؤ یہ میرا کھانا نہیں اور وہب کی روایت میں فانہ حلال کے الفاظ بھی ہیں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس روایت میں آپ ﷺ نے خبر دی کہ یہ حلال ہے اور آپ نے اس کو اس لئے نہیں کھایا کہ یہ آپ معمول میں کھائی جانے والی اشیاء سے نہیں ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس روایت میں آپ ﷺ نے خبر دی کہ یہ حلال ہے اور آپ نے اس کو اس لئے نہیں کھایا کہ یہ آپ معمول میں کھائی جانے والی اشیاء سے نہیں ہے ۔

رأيت فلانا حين يروى ← الشَّعْبِيِّ، ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وهب وعبد الصمد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6218

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6219

5884 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة عن أبي الزبير قال سألت جابرا رضي الله عنه عن الضب فقال أتى به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا أطعمه وقال عمر رضي الله عنه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يحرمه وإن الله لينفع به غير واحد وطعام عامة الرعا ولو كان عندي لأكلته وقد كره قوم أكل الضب منهم أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين واحتج لهم محمد بن الحسن في ذلك بما

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوہ پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا میں اسے کھاؤں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو حرام قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو اس سے فائدہ دیتا ہے یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں کھا لیتا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت نے گوہ کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے ان میں امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ بھی ہیں ۔ ان کی دلیل : امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اس طرح پیش کی ہے ۔

عُمَرَ، ← لا أطعمه ← أتى به رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الضَّبِّ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6219

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6220

5885 - حدثنا محمد بن بحر بن مطر قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا حماد بن سلمة ح

یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے نقل کیا ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن بحر بن مطر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6220

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6221

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان ح

ابراہیم بن مرزوق نے عفان سے روایت کی ہے ۔

عَفَّانُ، ← وحدثنا إبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6221

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6222

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قالوا ثنا حماد بن سلمة قال ثنا حماد وهو بن أبي سليمان عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم أهدى له ضب فلم يأكله فقام عليهم سائل فأرادت عائشة رضي الله عنها أن تعطيه فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم أتعطينه ما لا تأكلين قال محمد رحمه الله فقد دل ذلك على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كره لنفسه لغيره أكل الضب قال فبذلك نأخذ قيل له ما في هذا دليل على ما ذكرت قد يجوز أن يكون كره لها أن تطعمه السائل لأنها إنما فعلت ذلك من أجل أنها عافته ولولا أنها عافته لما أطعمته إياه وكان ما تطعمه السائل فإنما هو لله تعالى فأراد النبي صلى الله عليه و سلم أن لا يكون ما يتقرب به إلى الله عز و جل إلا من خير الطعام كما قد نهى أن يتصدق بالبسر الردي والتمر الردي فمما روى عنه في ذلك ما

ابراہیم نے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوہ کو بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ نے اس کو نہ کھایا تو اسی وقت ایک سائل آ گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اس کو دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کو وہ چیز دینا چاہتی ہو جو خود نہیں کھاتی ہو۔ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو اپنے اور دوسروں کے لئے نا پسند کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں آپ کے مؤقف کی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے سائل کو کھلانا نا پسند کیا ہو ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس کو ناپسند کیا تھا اگو وہ اس کو ناپسند نہ کرتے تیں تو وہ اسے اس کو کھانے کے لئے نہ دیتیں حالانکہ سائل کو جو وہ کھلانا چاہتی تھیں وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تھا۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ جو کھانا تقرب الی اللہ کے لئے دیا جائے وہ بہترین کھانا ہو۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے روی بسر ( تازہ کھجور ) اور روی خشک کھجور کو صدقہ کرنے سے منع فرمایا ۔ روایت یہ ہے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حماد وهو بن أبي سليمان ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← وحدثنا محمد بن خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6222

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6223

5886 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي قال ثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل بن عنيف عن أبيه قال أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالصدقة فجاء رجل بكباس من هذه النخل قال سفيان يعني الشيص وكان لا يجئ أحد بشيء إلا نسب إلى الذي جاء به فنزلت ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الجعرور ولون الحبيق أو يؤخذا في الصدقة قال الزهري لونان من تمر المدينة

ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم فرمایا تو ایک آدمی اس کھجور کے خوشے لایا ۔ سفیان کہتے یعنی روی کھجور کے خوشے اور جو بھی کوئی چیز لاتا تھا تو وہ اسی کی طرف منسوب ہوتی تھی ۔ پس یہ آیت نازل ہوئی " ولا تیممو الخبیث منہ تنفقون " البقرہ 267) اور جناب رسول اللہ ﷺ نے معرور اور لون الحبیق کھجور صدقہ میں لینے کی ممانعت فرمائی ۔ یہ دونوں قسم مدینہ منورہ کی کھجوریں ہیں۔

أَبِيهِ ← أبي أمامة بن سهل بن عنيف ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6223

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6224

5887 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن كثير قال ثنا الزهري عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الجعرور ولون الحبيق

ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد سے روایت کی ہے جناب نبی اکرم ﷺ نے معرور اور لون الحبیق کھجور کو صدقہ میں لینے سے منع فرمایا۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6224

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6225

5888 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن السدي عن أبي مالك عن البراء رضي الله عنه قال كانوا يجيئون في الصدقة بأردأ تمرهم وأردأ طعامهم فنزلت يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما كسبتم ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه قال لو كان لكم فأعطاكم لم تأخذوه إلا وأنتم ترون أنه قد نقصكم من حقكم

ابو مالک نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ لوگ صدقہ میں نہایت روی کھجور لاتے تھے اور سب سے روی قسم کا کھانا لاتے ۔ تو یہ آیت اتری " یا ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات " البقرہ ۔ 267) ارشاد فرمایا کہ اگر وہ تمہارے لئے ہو اور تمہیں دی جائے تو تم اس کو نہیں لو گے مگر اسی صورت میں کہ تمہارا خیال یہ ہو گا کہ اس نے تمہارے حق میں کمی کی ہے ۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6225

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6226

5889 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن عمران قال ثنا عبد الحميد بن جعفر عن صالح عن أبي مرة عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال بينما نحن في المسجد إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي يده عصا وإقنا معلقة في المسجد فيها قنو حشف فقال لو شاء رب هذا القنو لتصدق بأطيب منه إن رب هذه الصدقة ليأكل الحشف يوم القيامة ثم أقبل على الناس فقال أم والله ليدعنها مذ لله أربعين عاما للعوافي يعني نخل المدينة

ابو مرہ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم مسجد میں تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے اس وقت کے دست اقدس میں ایک لاٹھی تھی اور مسجد میں کھجور کے خوشے لٹکے تھے ان میں ایک خراب خوشہ تھا آپ نے فرمایا اگر اس خوشے کا مالک چاہتا تو عمدہ کھجور صدقہ کرتا۔ بے شک اس خوشے کا مالک قیامت کے دن اسی خوشہ سے کھائے گا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اللہ کی قسم ! اس کو اللہ تعالیٰ کی خاطر چالیس سال تک مدیز کی کھجوروں میں چھوڑنا ہو گا۔

بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي مُرَّةَ، ← صَالِحٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6226

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6227

5890 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال حدثني صالح بن أبي عريب عن كثير بن مرة الحضرمي عن عوف بن مالك الأشجعي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذا المعنى الذي كره رسول الله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها الصدقة بالضب لا لأن أكله حرام وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إباحة أكله أيضا ما

کثیرہ بن مرہ حضری نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے انہوں جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہی وہ مطلب ہے جس کی وجہ سے جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لئے گوہ کے صدقے کو ناپسند کیا اس لئے نہیں کہ اس کا کھانا حرام ہے اس کے مباح کے متعلق روایت یہ ہے ۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6227

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6228

5891 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس ومالك عن بن شهاب أنه أخبرهم عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن بن عباس رضي الله عنهما أن خالد بن الوليد رضي الله عنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بيت ميمونة رضي الله عنها فأتى بضب محنوذ فأهوى إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده فقال بعض النسوة اللاتي في بيت ميمونة رضي الله عنها أخبروا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يريد أن يأكل منه فقالوا هو ضب فرفع يده فقلت أحرام هو فقال لا ولكنه لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه فاجتررته فأكلته ورسول الله صلى الله عليه و سلم ينظر إلي فلم ينهني

ابن سہل بن حنیف نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میمونہ کے گھر میں داخل ہوئے آپ کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف جھکایا حضرت میمونہ کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا آپ ﷺ کو اطلاع دے دو کہ جس چیز کو آپ کھانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا وہ گوہ ہے اور آپ نے اپنا ہاتھ اٹھالی ۔ میں نے کہا کیا وہ حرام ہے فرمایا نہیں لیکن وہ میری قوم کے علاقے میں نہیں پائی جاتی ۔ اس لئے میں اس کے کھانے کو ناپسند کرتا ہوں میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کھا لی ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ میرے طرف دیکھتے رہے اور آپ نے منع نہیں کیا۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← بن شهاب أنه ← يُونُسُ، وَمَالِكٌ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6228

chevron_left Previous
1…141516…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter