شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6193
5859 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي قتيلة المدني قال ثنا محمد بن طلحة التيمي عن موسى بن محمد بن إبراهيم عن أبيه عن سلمة بن الأكوع أنه كان يصيد ويأتي النبي صلى الله عليه و سلم من صيده فأبطأ عليه ثم جاءه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم ما الذي حبسك فقال يا رسول الله أنتفى عنا الصيد فصرنا نصيد ما بين نبت إلى قناة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما إنك لو كنت تصيد بالعقيق لشيعتك إذا ذهبت وتلقيتك إذا جئت فإني أحب العقيق
محمد بن ابراہیم نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ شکار کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں لاتے ایک مرتبہ انہوں نے دیر کر دی پھر وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا رکاوٹ بنی ؟ یا رسول اللہ ﷺ شکار ہم سے دور چکا گیا ہم شکار کے لئے مقام نبت اور مقام قناۃ کے درمیان گئے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو مقام عقیق میں شکار کرتا تو میں بھی تمہارے ساتھ تمہیں رخصت کرنے جاتا اور جب تم آتے تو ہمارا استقبال کرتا مجھے وادی عقیق پسند ہے ۔
سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← بن أبي قتيلة المدني ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6193
