Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( باب أكل الضبع ) · حديث 6157

5826 - وحدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس الخولاني عن أبي ثعلبة الخشني رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو ادریس خولانی نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6157

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( باب أكل الضبع ) · حديث 6158

5827 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم البركي قال ثنا عبد العزيز بن مسلم قال ثنا محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فقد قامت الحجة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بنهيه عن أكل كل ذي ناب من السباع وتواترت بذلك الآثار عنه فلا يجوز أن يخرج من ذلك الضبع إذا كانت ذات ناب من السباع إلا بما يقوم علينا به الحجة بإخراجها من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہو گئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جا سکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معروف ہے پاس اس کو خارج کرنے کے لئے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے ۔ طرح درخت کا بھی کاٹنا درست نہیں ۔ اس قول کو امام مالک ، شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے ۔ دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے ۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے ( العینی و المرقات ) حاصل : جناب رسول اللہ ﷺ سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہو گئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جا سکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معرو ہے پس اس کو خارج کرنے کے لئے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم بنهيه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فقد قامت الحجة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6158

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6159

5828 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال حدثني إبراهيم التيمي قال حدثني أبي قال خطبنا علي رضي الله عنه على منبر من آجر وعليه سيف فيه صحيفة معلقة به فقال والله ما عندنا من كتاب نقرأه إلا كتاب الله وما في هذه الصحيفة ثم نشرها فإذا فيها المدينة حرام من غير إلى ثور

ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں علی رضی اللہ عنہ نے عیدوں کے ممبر پر خطبہ دیا اس وقت انہوں نے تلوار پہن رکھی تھی اور اس میں ایک خط لٹک رلا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہمارے پاس پڑھنے کے لئے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور جو کچھ اس خط میں ہے پھر آپ نے اس کو پھیلا دیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ مدینہ منورہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرمت والا ہے ۔

خطبنا علي على منبر من آجر وعليه سيف فيه صحيفة معلقة به ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6159

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6160

5829 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا عبد الله بن جعفر عن إسماعيل بن محمد عن عامر بن سعد أن سعدا ركب إلى قصره بالعقيق فوجد غلاما يقطع شجرة أو يحتطبه قال أبو جعفر رضي الله عنه أظن فيه فأخذ سلبه فلما رجع أتاه أهل الغلام فكلموه أن يرد عليهم ما أخذ من غلامهم فقال معاذ الله أن أرد شيئا نفلنيه رسول الله وأبى أن يرده إليهم

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد مقام عقیق میں اپنے محل کی طرف سوار ہو کر تشریف لے جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک غلام کو پایا جو درخت یا لکڑیاں کاٹ رہا تھا طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس کے اندر یہ الفاظ بھی ہیں کہ انہوں نے اس کا سامان لے لیا جب وہ واپس لوٹے تو غلام کے مالک آئے اور انہوں نے گفتگو کی کہ جو کچھ ان کے غلام سے لیا گیا ہے وہ واپس کر دیا جائے تو حضرت سعد نے فرمایا معاذ اللہ میں اس چیز کو واپس نہیں کر سکتا جو رسول اللہ ﷺ نے بطور غنیمت مجھے دی ہے اور اس چیز کو ان کی طرف واپس کرنے سے انکار کر دیا۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6160

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6161

5830 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير عن أبيه عن يعلى بن حكيم عن سليمان بن أبي عبد الله قال شهدت سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه وقد أتاه قوم في عبد لهم أخذ سعد بن أبي وقاص سلبه رآه يصيد في حرم المدينة الذي حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذ سلبه فكلموه أن يرد عليه سلبه فأبى وقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أحد حدود الحرام حرم المدينة فقال من وجدتموه يصيد في شيء من هذه الحدود فمن وجده فله سلبه فلا أرد عليكم طعمة أطعمينها رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن إن شئتم غرمت لكم ثمن سلبه فعلت

سلیمان بن ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ میں سعد بن ابی وقاص کے پاس موجود تھا جبکہ ان کے پاس ایک غلام کے مالک آئے جس غلام سے حضرت سعد نے سامان لیا تھا حضرت سعد نے اس غلام کو حرم مدینہ میں شکار کرتے دیکھا جس حرم کو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا۔ آپ نے اس کا سامان چھین لیا مالکوں نے سامان واپس کرنے کی بات کی تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم مدینہ کی حد بندی فرمائی تو ارشاد فرمایا کہ اس حدود میں جس کو تم شکار کرتا پاؤ تو جو آدمی شکار کرنا ہوا پائے شکاری کا سامان اسی کا ہے اس لئے میں وہ لقمہ واپس نہیں کر سکتا ۔ جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھلایا ہے لیکن تم چاہو تو میں سامان کی قیمت بطور چٹی کے بھر سکتا ہوں۔

سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6161

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6162

5831 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال أخبرنا مروان بن معاوية عن عثمان بن حكيم قال أخبرني عامر بن سعد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم ما بين لابتي المدينة أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها

عامر بن سعد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ان دو پہاڑوں کے درمیان والے حصے کو حرم قرار دیا اور اس کا ببول کا درخت کاٹنے اور شکار مارنے سے منع فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6162

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6163

5832 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا أحمد بن أبي بكر قال حدثني أبو ثابت عمران بن عبد العزيز الزهري عن عبد الله بن يزيد مولى المنبعث عن صالح بن إبراهيم عن أبيه قال اصطدت طيرا بالقنبلة فخرجت به في يدي فلقيني أبي عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه فقال ما هذا فقلت طيرا أصطدته بالقنبلة فعرك أذني عركا شديدا ثم أرسله من يدي ثم قال حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم صيد ما بين لا بتيها

صالح بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے جھنڈ سے ایک پرندے کو شکار کیا میں اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر نکلا تو مجھے میرے والد عبدالرحمن بن عوف مل گئے کہنے لگے یہ کیا ہے ۔ میں نے کہا یہ ایک پرندہ ہے جس کو میں نے شکار کیا ہے انہوں نے میرے کان کو زور سے مروڑا پھر اس کو میرے ہاتھ سے چھڑا دیا پھر فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان کے شکار کو حرام کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ← أبو ثابت عمران بن عبد العزيز الزهري ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6163

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6164

5833 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن يونس بن يوسف عن عطاء بن يسار عن أبي أيوب ألانصاري رضي الله عنه أنه وجد غلمانا قد لجؤا ثعلبا إلى زاوية فطردتهم قال مالك لا أعلم إلا أنه قال أفي حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع هذا

عطاء ابن یسار نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی ہے کہ جنہوں نے لومڑی کو ایک کونے میں گھسنے پر مجبور کر دیا تو آپ نے ان کو بھگا دیا امام مالک جو اس روایت کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے علم میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا کیا حرم رسول میں ایسا کیا جاتا ہے ۔

أفي حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع هذا ← مالك لا أعلم إلا أنه ← أبي أيوب ألانصاري أنه وجد غلمانا قد لجؤا ثعلبا إلى زاوية فطردتهم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6164

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6165

5834 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا سليمان الشيباني عن يسير بن عمرو عن سهل بن حنيف قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم أو أهوى بيده إلى المدينة يقول إنه حرم آمن

یسیر بن عمر کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آپ نے اپنا دست مبارک مدینہ منورہ کی طرف جھکاتے ہوئے فرمایا ۔ یہ امن والد حرم ہے ۔

إنه حرم آمن ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أو أهوى بيده إلى المدينة ← سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6165

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6166

5835 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي قال حدثنا سفيان قال ثنا زياد بن سعد عن شرحبيل قال أتانا زيد بن ثابت رضي الله عنه ونحن ننصب فخاخا لنا بالمدينة فرمى بها وقال ألم تعلموا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم صيدها

شر حبیل کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے اور ہم اس وقت مدینہ میں اپنا ایک جال لگا رہے تھے آپ اس کو پھینک دیا اور فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے شکار کو حرام قرار دیا ہے ۔

أَلَمْ تَعْلَمُوا ← أتانا زيد بن ثابت ونحن ننصب فخاخا لنا بالمدينة فرمى بها ← شُرَحْبِيلَ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6166

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6167

5836 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا أحمد بن إسحاق الحضرمي قال ثنا وهيب قال ثنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم عليه السلام حرم مكة ودعا لهم وإني حرمت المدينة ودعوت لهم بمثل ما دعا به إبراهيم الأهل مكة أن يبارك لهم في صاعهم ومدهم

عباد بن تمیم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کے مکے کو حرام قرار دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا اور ان کے لئے اسی طرح کی دعا فرمائی جو ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لئے فرمائی تھی کہ اے اللہ ان کے مد اور صاع میں برکت عنایت فرما۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6167

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6168

5837 - حدثنا علي قال أخبرنا بن أبي مريم قال أخبرنا محمد بن جعفر قال أخبرني عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله

محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے عمرو بن یحییٰ نے خبر دی پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ۔

عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← عَلِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6168

chevron_left Previous
1…91011…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter