Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6049

5726 - حدثنا أبو موسى يونس بن عبد الأعلى قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث وابن لهيعة والليث بن سعد أن سليمان بن عبد الرحمن حدثهم عن عبيد بن فيروز مولى بني شيبان عن البراء بن عازب رضي الله عنه أنه سأله عما كرهه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأضاحي أو ما نهى عنه فقال قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ويدي أقصر من يده فقال أربع لا يجزى في الضحايا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقى قال البراء رضي الله عنه فلقد رأيتني وإني لأرى الشاة وقد تركت فأسير إليها فإذا طرفت أخذتها فضحيت بها فقلت له فإني أكره أن يكون في السن نقص أو في الأذن نقص أو في القرن نقص فقال ما كرهت فدعه ولا تحرمه على أحد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے ۔ ( فلیسوا باعراب ) کہ وہ دوسرے دیہاتیوں کی طرح نہیں ہیں ۔ پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا جو دیہاتی بلاوے کے وقت آجاتے ہیں وہ شہریوں کے حکم میں ہیں اور وہ دیہاتی جن کے تحائف قبول نہ کیے جائیں وہ ان کے خلاف ہیں جو کہ بلاوے کے وقت نہیں آتے ( بلکہ سرکشی کرتے ہیں ) پس جو دیہاتی اس طرح کا ہو اس کی گواہی قابل قبول نہ ہو گی اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں یہی لوگ مراد ہیں جیسا کہ ہماری رائے ہے ۔ واللہ اعلم۔

عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ ← الليث بن سعد أن سليمان بن عبد الرحمن ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو مُوسَى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6049

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6050

5727 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عمرو بن الحارث عن عبيد بن فيروز عن البراء بن عازب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل ماذا يتقي من الضحايا فأشار بيده وقال أربعا وكان البراء رضي الله عنه يشير بيده ويقول يدي أقصر من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم العرجاء البين ضلعها والعوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقى

عبیدبن فیروز مولیٰ بنی شیبان نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ کون سی ربانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھیں یا کن جانوروں کی قربانیوں سے آپ نے منع فرمایا تو وہ کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے میرے ہاتھ آپ کے ہاتھوں سے بہت چھوٹے ہیں آپ نے فرمایا قربانی میں چار قسم کے جانور جائز نہیں ۔1 ۔ کانا جس کا کانا پن ظاہر ۔ 2۔ لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو ۔ 3۔ ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ۔ 4۔ ایسا دبلا جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں ایک بکری کو دیکھتا ہوں حالانکہ میں اسے چھوڑ چکا ہوں پھر میں اسکی طرف جاتا ہوں جب میں اسے اچھی طرح دیکھتا ہوں تو اس کی قربانی کرتا ہوں میں نے ان سے کہا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ دانت میں نقصان ہوا یا کان میں کوئی عیب ہو یا سینگ میں نقص ہو تو انہوں نے فرمایا جسے تم نا پسند کرتے ہو اسے چھوڑ دو ۔ لیکن اسے کسی دوسرے پر حرام نہ کرو۔

أَرْبَعًا، وَكَانَ الْبَرَاءُ يُشِيرُ بِيَدِهِ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6050

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6051

5728 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد وحبان بن هلال ح

عبیدبن فیروز نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ سے پوچھا گیا قربانی کے کن جانوروں سے پر ہیز کرنا چاہیے؟ تو آپ نے اپنے دست اقدس سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا چار ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے اور کہتے میرا ہاتھ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے بہت چھو ٹا ہے لنگڑ ا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ۔ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ۔ ایسابیمار جانور جسکی بیماری کھلی ہوئی ہو اور ایسا لاغر جس میں مغز نہ رہاہو ۔

أبو الوليد وحبان بن هلال ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6051

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6052

وحدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا شعبة عن سليمان بن عبد الرحمن قال سمعت عبيد بن فيروز قال سألت البراء فذكر مثله

ابراہیم بن مرزوق اور علی بن شیبہ دونوں نے اپنی سند کے ساتھ عبید بن فیروز سے نقل کیا کہ میں نے حضرات براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا پھر انہوں نے اسی طر ح روایت بیان کی ۔

سألت البراء فذكر مثله ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وحدثنا علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6052

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6053

5729 - حدثنا يونس قال ثنا أيوب بن سويد عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن البراء بن عازب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال والعجفاء التي لا تنقي ولم يقل والكسيرة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا لا تجزى شاة ولا بدنة ولا بقرة إذا كان بها واحد من هذه العيوب الأربع في هدى ولا أضحية قالوا وما كان سوى هذه الأربع مثل قطع الإلية والأذن وغير ذلك فإن ذلك لا يمنع الشاة ولا البقرة ولا البدنة أن تهدى ولا أن يضحى بها واحتجوا في ذلك أيضا بما

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ البتہ انہوں نے ( العجفاء التی لا تنقی ) تو کہا مگر الکبیرۃ کا لفظ ساتھ نہیں کہا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض لوگوں نے اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا کہ بکری اونٹ اور گائے جس میں ان چاروں عیوب میں سے کوئی ہو وہ بطورہدی اور قربانی کے جائز نہیں ان کے علاوہ جس کی چکی یا کان کٹا ہوا ہو اس کو ہدی کے طور پر دینا منع نہیں انہوں نے مزید دلیل دیتے ہوئے یہ روایت بھی پیش کی جس کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث ← والعجفاء التي لا تنقي ولم يقل والكسيرة ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6053

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6054

5730 - حدثنا إبراهيم بن محمد الصيرفي قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة وشريك عن جابر عن محمد بن قرظة عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال اشتريت كبشا لأضحي به فعدا الذئب عليه فقطع إليته فسئل النبي صلى الله عليه و سلم فقال ضح به وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز أن يضحي بالشاة ولا بالبقرة ولا بالبدنة وبها عيب من هذه العيوب الأربع ولا يجوز مع ذلك أيضا أن يضحي بمقطوعة الأذن ولا أن يهدى واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الحديث

محمد بن قرظہ نے ابو سعید دری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے قربانی کے لیے ایک دنبہ خریدا بھیڑیا اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے چکی کو کاٹ لیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم اسکی قربانی کر دو ۔ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ گائے ،اونٹ اور بکری کی قربانی جائز نہیں جبکہ اس میں ان چاروں عیوب میں سے کوئی عیب پایا جاتا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو اور نہ ہی ایسے جانور کو بطور ہدی بھیجا جا سکتا ہے دلیل یہ روایات ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ، ← جَابِرٍ ← أبو عوانة وشريك ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إبراهيم بن محمد الصيرفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6054

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6055

5731 - حدثنا محمد بن بحر بن مطر البغدادي قال ثنا شجاع بن الوليد قال حدثني زياد بن خيثمة قال ثنا أبو إسحاق عن شريح بن النعمان عن علي رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يضحي بمقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا شرقاء ولا عوراء

شریح بن نعمان نے حرضت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ اس جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا کان اگلی جانب سے یاپچھلی جانب سے کٹا ہوا ہو اور نہ ایسے جانور کی جس کا کان پھٹا ہوا یا چرا ہو اور نہ ہی اس جانور کی جو کانا ہو ۔

لا يضحي بمقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا شرقاء ولا عوراء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← محمد بن بحر بن مطر البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6055

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6056

5732 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا زهير بن معاوية قال حدثنا أبو إسحاق عن شريح بن النعمان قال أبو إسحاق وكان رجل صدق عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ شریح بن نعمان نے کہا اور وہ سچے آدمی تھے انہوں نے علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَلِيٍّ، ← أبو إسحاق وكان رجل صدق ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6056

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6057

5733 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قتادة قال سمعت جري بن كليب قال سمعت عليا رضي الله عنه يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عضباء القرن والأذن قال قتادة فقلت لسعيد بن المسيب ما عضباء الأذن قال إذا كان النصف فأكثر من ذلك مقطوعا

جریح بن کلیب کہتے ہیں کہ میں نے علی المرتضیٰ کو فرماتے سنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عضباء القرن والاذن سے منع فرمایا قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے وچھا کہ اس کا کیا معنی ہے تو وہ فرمانے لگے جس کا آدھا سینگ اور کان یا اس سے زیادہ کٹا ہو ا ہو ۔

إذا كان النصف فأكثر من ذلك مقطوعا ← قتادة فقلت لسعيد بن المسيب ما عضباء الأذن ← عَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيًّا ← جُرَيِّ بْنِ کُلَيْبٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6057

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6058

5734 - حدثنا سليمان قال ثنا علي بن معبد قال ثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن شريح بن النعمان الهمداني عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يضحي بمقابلة أو مدابرة أو شرقاء أو خرقاء أو جدعا

شریح بن نعمان ہمدانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کے کان کا اگلا حصہ یا پچھلا حصہ کٹا ہوا یا پھٹا ہو ا یا جرا ہوا ہو یا وہ جانور جس کی ناک کٹی ہو ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْهَمْدَانِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6058

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6059

5735 - حدثنا يونس قال أخبرني بن وهب قال أخبرني سفيان الثوري عن سلمة بن كهيل عن حجية بن عدي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نستشرف العين والأذن

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی سے پہلے جانور کے آنکھ ، کان اچھی طرح جانچ لیں ۔

أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نستشرف العين والأذن ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6059

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6060

5736 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حسن بن صالح وحدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا شريك قالا جميعا عن سلمة بن كهيل عن حجية بن عدي قال أتى رجل عليا فسأله عن المكسورة القرن فقال لا يضرك قال عرجاء قال إذا بلغت المنسك أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نستشرف العين والأذن قال أبو جعفر ففي هذه الآثار النهي عن الأضحية بمقابلة أو مدابرة وذلك في الأذن ما كان من ذلك من قبالة الأذن فهو مقابلة وما كان من أسفلها فهو مدابرة وبين سعيد بن المسيب عضباء الأذن المنهي عن ذبحها في الأضحية فقال هي المقطوعة نصف أذنها فثبت بذلك ما نهى عنه من ذلك في الأذن ولم يجز لنا تركه لأن حديث البراء الذي ذكرنا لا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون متقدما على حديث علي هذا فيكون حديث علي هذا زائدا عليه أو يكون متأخرا عنه فيكون ناسخا له فلما لم يعلم نسخ حديث على بعد ما قد علمنا ثبوته جعلناه ثابتا مع حديث البراء رضي الله عنه وأوجبنا العمل بهما جميعا فإن قال قائل فأنت لا تكره عضباء القرن وفي حديث جرى بن كليب عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم النهي عنها قيل له إنما تركنا ذلك لأن عليا رضي الله عنه لم ير بذلك بأسا فيما قد روينا عنه في حديث حجية بن عدي فعلمنا بذلك أن عليا رضي الله عنه لم يقل بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم خلاف ما قد سمعه من رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا بعد ثبوت نسخ ذلك عنده وأما حديث أبي سعيد الخدري رويناه عنه من حديث إبراهيم بن محمد الصيرفي فحديث فاسد في إسناده ومتنه قد بين ذلك شعبة

سلمہ بن کہیل نے جحیہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے جس کا کچھ سینگ ٹوٹا ہوا ہو آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کچھ نقصان نہیں اس نے کہا لنگڑے کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا جب وہ قربانی کے مقام تک پہنچ سکتا ہو تو ٹھیک ہے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس کی آنکھ اور کان کو اچھی طرح جانچ لینے کا حکم دیا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے کان کا اگلا یا پچھلا حصہ پھٹا یا کٹا ہوا س کی قربانی جائز نہیں مقابلہ کان کے اگلے حصے کے کٹنے کو کہتے ہیں جس کا آدھا کان کٹا ہوا ہو بتلایا ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جن جانوروں کے کان کی یہ کیفیت ہو ان کی قربانی بھی منع ہے اور اس حدیث کا چھوڑنا ہمیں جائز نہیں کیونکہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت دو معنی رکھتی ہے ۔ نمبر 1 یا تو اس روایت سے مقدم ہو گی تو اس صورت میں اس روایت میں اضافہ ہے ( جس کو قبول کیا جائے گا ) یا یہ متاخر ہو گئی تو اس صورت میں اس کے لیے ناسخ بن جائے گی پس جبکہ روایت علی رضی اللہ عنہ منسوخ نہیں بلکہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت کے ساتھ ثابت ہے تو ہمیں دونوں پر عمل کرنا ہو گا ۔ تمہارے نزدیک ٹوٹے ہوئے سینگ والا جانور ناجائز نہیں حالانکہ جریح بن کلیب والی روایت میں اس کی ممانعت ہے ان کو جواب میں کہے کہ ہم نے اس عیب کو نہ ہونے کے برابر اس لیے قرار دیا کیونکہ علی رضی اللہ عنہ اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے باقی حجیہ بن عدی والی روایت کا جواب یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اگر اس کے خلاف کہا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا منسوخ ہونا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔ باقی رہا ابو سعید خدری والی روایت تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام شعبہ نے اس کو سند اور متن کے لحاظ سے فاسد قراردیا ہے ۔

عرجاء ← لَا يَضُرُّكَ ← الْمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، ← أتى رجل عليا فسأله ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← جَمِيعًا ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد ← حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6060

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter