شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6032
5710 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن يحيى بن حاطب عن أبيه قال اتى رجلان إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه يختصمان في غلام من ولادة الجاهلية يقول هذا هو ابني ويقول هذا هو ابني فدعا لهما عمر رضي الله عنه قائفا من بني المصطلق فسأله عن الغلام فنظر إليه المصطلق ثم قال لعمر والذي أكرمك إنهما قد اشتركا فيه جميعا فقام إليه عمر فضربه بالدرة حتى ضجع ثم قال والله لقد ذهب بك النظر إلى غير مذهب ثم دعا أم الغلام فسألها فقالت إن هذا لأحد الرجلين قد كان غلب على الناس حتى ولدت له أولادا ثم وقع بي على نحو ما كان يفعل فحملت فيما أرى فأصابني هراقة من دم حتى وقع في نفسي أن لا شيء في بطني ثم إن هذا الآخر وقع بي فوالله ما أدري من أيهما هو فقال عمر للغلام أتبع أيهما شئت فأتبع أحدهما قال عبد الرحمن بن حاطب فكأني أنظر إليه متبعا لأحدهما فذهب به وقال عمر قاتل الله أخا بني المصطلق قالوا ففي هذا الحديث أن عمر حكم بالقافة فقد وافق ما تأولنا في حديث مجزز المدلجي فكان من الحجة عليهم للآخرين أن في هذا الحديث ما يدل على بطلان ما قالوا وذلك أن فيه أن القائف قال هو منهما جميعا فلم يجعله عمر كذلك وقال له وال أيهما شئت على ما يجب في صبي أدعاه رجلان فإن أقر أحدهما كان أباه فلما رد عمر ذلك إلى حكم الصبي المدعي إذا أدعاه رجلان ولم يكن بحضرة الإمام قائف لا إلى قول القائف دل ذلك على أن القافة لا يجب بقولهم ثبوت نسب من أحد وقد روى عن عمر أيضا من وجوه صحاح أنه جعله بين الرجلين جميعا
یحییٰ بن حاطب نے اپنے والد سے نقل کیا کہ دو آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والے ایک بچے سے متعلق جھگڑ رہے تھے ایک کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے ۔ حضر ت عمر ( رر) نے قبیلہ بنو مصطلق کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اور اس بچے کے متعلق دریافت کیا ۔ مصلطقی نے بچے کی طرف دیکھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نواز ا ہے یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف اٹھے اور اس کو درہ لگایا یہاں تک کہ و ہ لیٹ گیا پھر فرمایا اللہ کی قسم ! تجھے نظر دوسری طرف لے گئی ہے پھر بچے کی ماں کو بلایا اور اس سے دریافت فرمایا اس نے کہا یہ ان میں سے ایک مرد کا ہے یہ لوگوں پر غالب آیا اور میں نے اس کے لیے کئی بچے جنے ہیں ۔ پھر وہ عادت کے مطابق مجھ سے ہم بستر ہوا میں اپنے خیال میں حاملہ ہو گئی لیکن مجھے خون آیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میرے پیٹ میں کچھ بھی نہیں پھر یہ دوسرا مجھ سے ہم بستر ہو پھر اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے فرمایا ان میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔ وہ لڑکا ایک کے ساتھ چلا گیا حضرت عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ ان میں سے ایک کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے اور وہ اسے لے گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " قاتل اللہ اخابنی مصطلق" ( یہ کلمہ مدح و مذمت دونوں کے لیے ہو سکتا ہے )
أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6032
