Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6032

5710 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن يحيى بن حاطب عن أبيه قال اتى رجلان إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه يختصمان في غلام من ولادة الجاهلية يقول هذا هو ابني ويقول هذا هو ابني فدعا لهما عمر رضي الله عنه قائفا من بني المصطلق فسأله عن الغلام فنظر إليه المصطلق ثم قال لعمر والذي أكرمك إنهما قد اشتركا فيه جميعا فقام إليه عمر فضربه بالدرة حتى ضجع ثم قال والله لقد ذهب بك النظر إلى غير مذهب ثم دعا أم الغلام فسألها فقالت إن هذا لأحد الرجلين قد كان غلب على الناس حتى ولدت له أولادا ثم وقع بي على نحو ما كان يفعل فحملت فيما أرى فأصابني هراقة من دم حتى وقع في نفسي أن لا شيء في بطني ثم إن هذا الآخر وقع بي فوالله ما أدري من أيهما هو فقال عمر للغلام أتبع أيهما شئت فأتبع أحدهما قال عبد الرحمن بن حاطب فكأني أنظر إليه متبعا لأحدهما فذهب به وقال عمر قاتل الله أخا بني المصطلق قالوا ففي هذا الحديث أن عمر حكم بالقافة فقد وافق ما تأولنا في حديث مجزز المدلجي فكان من الحجة عليهم للآخرين أن في هذا الحديث ما يدل على بطلان ما قالوا وذلك أن فيه أن القائف قال هو منهما جميعا فلم يجعله عمر كذلك وقال له وال أيهما شئت على ما يجب في صبي أدعاه رجلان فإن أقر أحدهما كان أباه فلما رد عمر ذلك إلى حكم الصبي المدعي إذا أدعاه رجلان ولم يكن بحضرة الإمام قائف لا إلى قول القائف دل ذلك على أن القافة لا يجب بقولهم ثبوت نسب من أحد وقد روى عن عمر أيضا من وجوه صحاح أنه جعله بين الرجلين جميعا

یحییٰ بن حاطب نے اپنے والد سے نقل کیا کہ دو آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والے ایک بچے سے متعلق جھگڑ رہے تھے ایک کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے ۔ حضر ت عمر ( رر) نے قبیلہ بنو مصطلق کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اور اس بچے کے متعلق دریافت کیا ۔ مصلطقی نے بچے کی طرف دیکھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نواز ا ہے یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف اٹھے اور اس کو درہ لگایا یہاں تک کہ و ہ لیٹ گیا پھر فرمایا اللہ کی قسم ! تجھے نظر دوسری طرف لے گئی ہے پھر بچے کی ماں کو بلایا اور اس سے دریافت فرمایا اس نے کہا یہ ان میں سے ایک مرد کا ہے یہ لوگوں پر غالب آیا اور میں نے اس کے لیے کئی بچے جنے ہیں ۔ پھر وہ عادت کے مطابق مجھ سے ہم بستر ہوا میں اپنے خیال میں حاملہ ہو گئی لیکن مجھے خون آیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میرے پیٹ میں کچھ بھی نہیں پھر یہ دوسرا مجھ سے ہم بستر ہو پھر اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے فرمایا ان میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔ وہ لڑکا ایک کے ساتھ چلا گیا حضرت عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ ان میں سے ایک کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے اور وہ اسے لے گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " قاتل اللہ اخابنی مصطلق" ( یہ کلمہ مدح و مذمت دونوں کے لیے ہو سکتا ہے )

أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6033

5711 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن توبة العنبري عن الشعبي عن بن عمر أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت فدعا عمر القافة فقالوا أخذ الشبه منهما جميعا فجعله بينهما

شعبی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دو آدمی ایک عورت کی پشت میں شریک ہوئے پھر اس عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناسوں کو بلایا انہوں نے کہا یہ ان دونوں کے مشابہہ ہے تو آ پ نے ان دونوں کے درمیان کر دیا ( کہ جس کے ساتھ چاہے وہ بچہ چلا جائے )

أخذ الشبه منهما جميعا فجعله بينهما ← بن عمر أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت فدعا عمر القافة ← الشَّعْبِيِّ، ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6034

5712 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عمر نحوه قال فقال لي سعيد لمن ترى ميراثه قال هو لآخرهما موتا

قتادہ نے سعید بن مسیب سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے ۔ شعبی کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب نے کہا تم بتلاؤ اس کی میراث کس کو ملے گی ۔ فرمایا جوان میں آخر میں مرے۔

هو لآخرهما موتا ← فقال لي سعيد لمن ترى ميراثه ← عُمَرَ نَحْوَهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6035

5713 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال حدثني عوف بن أبي جميلة عن أبي المهلب أن عمر بن الخطاب قضى في رجل أدعاه رجلان كلاهما يزعم أنه ابنه وذلك في الجاهلية فدعا عمر أم الغلام المدعي فقال أذكرك بالذي هداك للإسلام لأيهما هو قالت لا والذي هداني للإسلام ما أدري لأيهما هو أتاني هذا أول الليل وأتاني هذا آخر الليل فما أدري لأيهما هو قال فدعا عمر من القافة أربعة ودعا ببطحاء فنثرها فأمر الرجلين المدعيين فوطئ كل واحد منهما بقدم وأمر المدعي فوطئ بقدم ثم أراه القافة قال أنظروا فإذا أتيتم فلا تتكلموا حتى أسألكم قال فنظر القافة فقالوا قد أثبتنا ثم فرق بينهم ثم سألهم رجلا قال فتقادعوا يعني فتبايعوا كلهم يشهد أن هذا لمن هذين قال فقال عمر يا عجبا لما يقول هؤلاء قد كنت أعلم أن الكلبة تلقح بالكلاب ذوات العدد ولم أكن اشعر أن النساء يفعلن ذلك قبل هذا إني لا أرد ما يرون اذهب فهما أبواك

ابوالمہلب سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے لڑکے کے متعلق فیصلہ فرمایا جس کے متعلق دو آدمی دعویدار تھے ان میں سے ہر ایک اپنا بیٹا خیال کرتا تھا اور یہ زمانہ جاہلیت کا عمل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کی ماں کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے اسلام کی ہدایت بخشی ۔ یہ لڑکا ان میں سے کس کا ہے اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی میں نہیں جانتی کہ وہ ان میں سے کس کا ہے ۔ اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی میں نہیں جانتی کہ وہ ان میں سے کس کا ہے یہ شخص میرے پاس رات کے پہلے حصہ میں آیا اور وہ شخص رات کے پچھلے حصہ میں آیا پس مجھے معلوم نہیں یہ کس کا ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چار قیافہ شناسوں کو بلایا پھر کنکریاں منگوا کر ان کو پھیلا دیا پھر دونوں دعویٰ کرنے والوں کو ھکم دیا کہ و ہ ان پر کنکریوں پر اپنا قدم رکھ کر ان کوروندیں پھر جس بچے پر دعویٰ تھا اس کو حکم دیا کہ وہ کنکریوں کو روندے اس نے بھی روندا۔ پھر قیافہ شناسوں نے اسے دیکھا پھر فرمایا اس کو دیکھو لیکن جب واپس لوٹو تو اس وقت کلام مت کرو۔ جب تک میں کلام نہ کروں اور سوال نہ کروں ۔ راوی کہتے ہیں کہ قیافہ شناسوں نے دیکھا تو کہنے لگے ہم سمجھ گئے ۔ ہم نے محفوظ کر لیا پھر ان کو جدا کر کے ایک ایک سے دریافت کیا ۔ راوی کا بیان ہے وہ سب اس پر متفق ہو گئے ۔ اور ہر ایک نے گواہی دی کہ یہ لڑکا ان دونوں کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ بڑا عجیب ہے میں جانتا تھا کہ کتیا بہت سے کتوں سے حاملہ ہو تی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ان کی رائے کو رد نہ کرو ں گا۔ جاؤ یہ دونوں تمہارے باپ ہیں۔

أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6035

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6036

5714 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا همام بن يحيى عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت لهما ولدا فارتفعا إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فدعا لهما ثلاثة من القافة فدعا بتراب فوطئ فيه الرجلان والغلام ثم قال لأحدهم أنظر فنظر فاستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أو وأعلن فقال عمر بل أسر فقال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فما أدري لأيهما هو فأجلسه ثم قال للآخر أيضا أنظر فنظر واستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أو أعلن قال بل أسر قال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فلا أدري لأيهما هو وأجلسه ثم أمر الثالث فنظر فاستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أم أعلن قال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فما أدري لأيهما هو فقال عمر إنا نعرف الآثار بقولها ثلاثا وكان عمر قائفا فجعله لهما يرثانه ويرثهما فقال لي سعيد أتدري عن عصبته قلت لا قال الباقي منهما قال أبو جعفر فليس يخلو حكمه في هذه الآثار التي ذكرنا من أحد وجهين إما أن يكون بالدعوى لأن الرجلين ادعيا الصبي وهو في أيديهما فألحقه بهما بدعواهما أو يكون فعل ذلك فكان الذين يحكمون بقول القافة لا يحكمون بقولهم إذا قالوا هو بن هذين فلما كان قولهم كذلك ثبت على قولهما أن يكون قضاء عمر بالولد للرجلين كان بغير قول القافة وفي حديث سعيد بن المسيب ما يدل على ذلك وذلك أنه قال فقال القافة لا ندري لأيهما هو فجعله عمر بينهما والقافة لم يقولوا هو ابنهما فدل ذلك أن عمر أثبت نسبه من الرجلين بدعواهما ولمالهما عليه من اليد لا بقول القافة فإن قال قائل فإذا كان ذلك كما ذكرته فما كان احتياج عمر إلى القافة حتى دعاهم قيل له يحتمل ذلك عندنا والله أعلم أن يكون عمر رضي الله عنه وقع بقلبه أن حملا لا يكون من رجلين فيستحيل إلحاق الولد بمن يعلم أنه لم يلده فدعا القافة ليعلم منهم هل يكون ولد يحمل به من نطفتي رجلين أم لا وقد بين ذلك ما ذكرنا في حديث أبي المهلب فلما أخبره القافة بأن ذلك قد يكون وأنه غير مستحيل رجع إلى الدعوى التي كانت من الرجلين فحكم بها فجعل الولد ابنهما جميعا يرثهما ويرثانه فذلك حكم الدعوى لا بقول القافة وقد روى عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في ذلك أيضا ما

قتادہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ دونوں ایک عورت کی پشت میں شریک ہوئے اس نے ان دونوں کے لیے ایک بچہ جنا ۔ وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لائے ۔ آپ نے تین قیافہ شناسوں کو بلایا اور مٹی منگوائی ان دونوں آدمیوں اور اس لڑکے نے اس مٹی کو روندا پھر ان میں سے ایک قیافہ شناس سے فرمایا دیکھو ! میں نے دیکھا وہ آگے بڑھا ۔ دائیں باہیں پھر ا اور پیچھے ہٹا پھر کہا کہ پوشیدہ کہوں یا اعلانیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوشیدہ کہو ۔ اس نے کہا اس کی ان دونوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے آپ نے اس کو بھی بٹھا دیا پھر تیسرے کو حکم فرمایا اس نے دیکھا آگے بڑھا اور ادھر ادھر ہوا اور پیچھے ہٹا پھر کہنے لگا کہ پوشیدہ کہو یا اعلانیہ ۔ آپ نے فرمایا ظاہر کہو ۔ ا س نے کہا یہ ان دونوں سے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ مجھے معلوم نہیں یہ ان دونوں میں سے کس کا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نشانات کی پہچان رکھتے ہیں اور آپ بھی قیافہ شناس تھے آپ نے یہ بچہ دونو ں کا قرار دیا وہ دونوں اس کے وارث ہوں گے اور وہ ان دونوں کا وارث ہو گا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب مجھ سے فرمانے لگے تم بتاؤ اس کا وارث کون ہے میں نے کہا مجھے معلوم نہیں تو آپ نے فرمایا جو ان میں سے زندہ رہے گا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ہم نے جو روایات بیان کی ہیں ان میں حکم کی دو صورتیں ہیں ۔ نمبر1۔ دعویٰ کے ساتھ ہو گا کیونکہ دونوں مردوں نے بچے کا دعویٰ کیا جبکہ وہ ان کے قبضہ میں تھا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا کیونکہ دونوں مردوں نے بچے کا دعویٰ کیا جبکہ وہ ان کے قبضہ میں تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی وجہ سے ان کے ساتھ ملا دیا ۔ نمبر2۔ آ پ نے بذات خو د یہ فیصلہ فرمایا تو گویا وہ لوگ جو قیافہ شناسوں کے قول کے مطابق فیصلہ کرتے تھے وہ ان کے قول پر اس صورت میں فیصلہ نہیں کرتے تھے جبکہ وہ یہ کہیں کہ وہ یہ کہیں کہ وہ ان کا بیٹا ہے تو جب ان کے قول کی یہ صورت ہے تو ان دونوں کے قول کے مطابق ثابت ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ قیافہ شناسوں کے قول کے بغیر تھا اور روایت ابن مسیب میں ایسی بات ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ قیافہ شناس کہنے لگے ہم نہیں جانتے کہ یہ کس کا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ان دونوں کاقرار دیا ھالانکہ قیافہ والوں نے یہ نہ کہا تھا کہ دونوں کا بیٹا ہے ۔ پس اس سے ثبوت میسر آگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس لڑکے کا نسب دونوں کے ساتھ اس لیے ثابت کیا کیونکہ وہ دونوں مدعی تھے اور دونوں کا اس پر قبضہ تھا ۔ قیافہ شناسوں کے قول کی وجہ سے نہیں اگر بات اس طرح ہے جس طرح آپ نے کہی تو پھر قیافہ شناسوں کو بلانے کی چنداں حاجت نہ تھی ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ اس بات کا احتمال ہے واللہ اعلم کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ یہ حمل ان دونوں سے نہیں ہے پس بچے کو ایسے شخص سے ملانا جس سے وہ پیدا نہ ہوا ہوناممکن ہے پس آپ نے قیافہ والوں کو بلایا تا کہ ان سے معلوم کر لیں کہ کیا دو آدمیوں کے نطفہ سے ٹھہرنے والا حمل بھی بچہ بن جاتا ہے یا نہیں اور یہ بات ابوالمہلب والی روایت میں بیان ہوئی ہے جومذکور ہوئی جب قیافہ والوں نے یہ خبر دی کہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے اور یہ ناممکن نہیں ہے تو آپ نے اس دعویٰ کی طرف رجوع کیا جو ان دونوں کے درمیان تھا اور اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا اور بچہ ان دونوں کے لیے قرار دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی اس کی تائید کرتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6036

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6037

5715 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن مولى لبني مخزومة قال وقع رجلان على جارية في طهر واحد فعلقت الجارية فلم يدر من أيهما هو فأتيا عمر يختصمان في الولد فقال عمر ما أدري كيف اقضي في هذا فأتيا عليا فقال هو بينكما يرثكما وترثانه وهو للباقي منكما فهذا حكم بالولد لمدعييه جميعا فجعله ابنهما ولم يحتج في ذلك إلى قول القافة وبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

سماک نے مولیٰ نبی مخزومہ سے روایت کی ہے کہ دو آدمی ایک لونڈی پر ایک ہی طہر میں جا پڑے لونڈی ھاملہ ہو گئی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس کا ہے وہ دونوں بچے کے متعلق جھگڑا لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں میں ان کے مابین کیسے فیصلہ کروں تم دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ و ہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا یہ بچہ تم دونوں کے درمیان مشترک ہے وہ تمہارا وارث ہو گا اور تم دونوں میں سے بعد میں زندہ رہنے والے کے لیے اس کی وارثت ہے ۔ یہ اس بچےکا حکم ہے جس کے متعلق دونوں دعویٰ رکھتے ہوں کہ اس کو دونوں کا بیٹا قرار دیا اور انہوں نے قیافہ شناسوں کی کوئی ضرورت نہ سمجھی ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

مولى لبني مخزومة ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6037

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6038

5716 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل أفلس فأدرك رجل ماله بعينه فهو أحق به من غيره

ابو بکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی مفلس ہو جائے پھر فروخت کرنے والا آدمی اپنا مال اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت زیادہ حقدار ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6038

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6039

5717 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب وبشر بن عمر ح

ابراہیم بن مرزوق نے وہب و بشر بن عمر سے روایت کی ہے ۔

وهب وبشر بن عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6039

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6040

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قالوا ثنا شعبة عن قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا اشترى عبدا بثمن وقبض العبد ولم يدفع ثمنه فأفلس المشتري وعليه دين والعبد قائم في يده بعينه أن بائعه أحق به من غيره من غرما المشتري واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل بائع العبد وسائر الغرماء فيه سواء لأن مالكه قد زال عن العبد وخرج من ضمانه فإنما هو في مطالبة غريم من غرماء المطلوب يطالبه بدين في ذمته لا وثيقة في يديه فهو وهم في جميع ما لهم سواء وكان من حجتهم على أهل المقالة الأولى في فساد ما ذهبوا إليه واحتجوا لقولهم من حديث أبي هريرة الذي ذكرنا أن الذي في ذلك الحديث فأصاب رجل ماله بعينه وإنما ماله بعينه يقع على المغصوب والعوارى والودائع وما أشبه ذلك فذلك ماله بعينه فهو أحق به من سائر الغرماء وفي ذلك جاء هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وإنما يكون هذا الحديث حجة لأهل المقالة الأولى لو كان فأصاب رجل غير ماله قد كان له فباعه من الذي وجده في يده ولم يقبض منه ثمنه فهو أحق به من سائر الغرماء وهذا الذي يكون حجة لهم لو كان لفظ الحديث كذلك فأما إذا كان على ما روينا في الحديث فلا حجة لهم في ذلك وهو على الودائع والغصوب والعوارى والرهون أموال الطالبين في وقت المطالبة بها وذلك كما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث سمرة فإنه

بشیر بن ٹھیک نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک فریق علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کوئی غلام خریدنے اور اس پر قبضہ کر لے لیکن ابھی تک قیمت ادا نہ کرنے پایا تھا کہ مشتری مفلس ہو گیا اور اس پر قرض ہو گیا جبکہ غلام اسی طرح کے قبضہ میں موجود تھا تو فروخت کرنے والا دوسرے قرض خواہوں سے اس غلام کا زیادہ حقدار ہے ۔ ان حضرات کا استدلال مندرجہ روایات سے ہے ۔ دوسروں نے کہا دوسرا فریق کہتا ہے کہ فروخت کرنے والا اور دوسرے قرض خواہ اس غلام کے سلسلے میں برابر حق رکھتے ہیں کیونکہ غلام سے اس کی ملک زائل ہو چکی اور وہ اس کی ضمان سے نکل چکا فلہذا فروخت کرنے والا مطالبہ کے وقت مطلوبہ کے قرض خواہوں میں سے ایک ہے وہ اپنے قرض کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس شخص کے ذمہ ہے اور اس نے اس کے پاس کوئی چیز بطور رہن بھی نہیں رکھی پس وہ اور باقی قرض خواہ اس کے تمام مال میں برابر کا حقدار ہیں ۔ فریق اول کے قول کے فاسد ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت کے الفاظ کہ آدمی نے اپنے مال کو بعینہ اس کا مال ہے اور وہ دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے اور یہ روایت اسی سلسلہ میں وارد ہوئی ہے فریق اول کے لیے دلیل اس وقت بنتی جب یہ الفاظ ہوتے کہ اس شخص نے اپنے مال کو اس طرح پایا جو اس کا تھا پھر اس نے اسے اس شخص پر فروخت کیا جس کے پاس اسے پایا اور اس نے ابھی تک اس کی قیمت پر قبضہ نہیں کیا تو وہ باقی قرض خؤاہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے ۔، تو اگر روایت اس طرح ہوتی تو ان کے لیے دلیل بن جاتی ۔ مگر جس طرح ہم نے روایت کی ہے تو وہ ان کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ رایت کا تعلق مغصوبات ،ادھار پر حاصل کردہ اشیاء اور مرہونہ اشیاء سے متعلق ہے اس لیے کہ وہ مطالبہ کرنے والے کا اپنا مال ہے اور یہ اس طرح ہے جیسا کہ روایت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ میں وارد ہے ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6040

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6041

5718 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا أبو معاوية عن حجاج عن سعيد بن عبيد عن زيد بن عقيل عن أبيه عن سمرة بن جندب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من سرق له متاع أو ضاع له متاع ووجده في يدي رجل بعينه فهو أحق به ويرجع المشتري على البائع بالثمن قال أبو جعفر فقال أهل المقالة الأولى لو كان الحديث على ما ذكرتم من التأويل الذي وصفتم إذا لما كان بنا إلى ذكر النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك حاجة لأن هذا يعلمه العامة فضلا عن الخاصة فالكلام بذلك فضل وليس من صفته صلى الله عليه و سلم الكلام بالفضل ولا الكلام بما لا فائدة منه فكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك أن ذلك ليس بفضل بل هو كلام صحيح وفيه فائدة وذلك أنه أعلمهم أن الرجل إذا أفلس وجب أن يقسم جميع ما في يده بين غرمائه فثبت ملك رجل لبعض ما في يده أنه أولى بذلك وأن الذي كان في يده قد ملكه وغر فيه فلا يجب له فيه حكم إذ كان مغرورا فعلمهم بهذا الحديث علمهم بحديث سمرة ونفى أن يكون المغرور الذي يشكل حكمه عند العامة يستحق بذلك الغرور شيئا فهذا وجه لهذا الحديث صحيح وقال أهل المقالة الأولى ويروى هذا الحديث من غير هذا الوجه بألفاظ غير ألفاظ الحديث الأول فذكروا ما

زید بن عقیل نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا سامان چوری ہو جائے یا اس کا سامان ضائع ہو جائے اور بعینہ وہ سامان کسی آدمی کے پاس پالے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اپنے ثمن کے لیے بائع کی طرف رجوع کر ے گا ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر روایت اسی طرح ہےجیسا کہ تم نے بیان کیا یعنی تم نے جو تاویل کی ہے تو پھر جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات کو ذکر کرنے کا کیا مقصد ہوگااس بات کو عام لوگ بھی جانتے ہیں پھر خاص لوگوں کی کلام تو زائد ٹھہرے گی اور خصوصا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے فائدہ اور فضول کلام کرنے والے نہ تھے ۔ یہ کب کہا گیا کہ فضول کلام ہے ( نعوذ باللہ منہ) بلکہ یہ عظیم فائدہ مند کلام ہے وہ اسی طرح کہ آپ نے یہ خبر دار فرمایا کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو ہو جائے تو ضروری ہے کہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہو وہ اس کے قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے سو آدمی کی ملک اس بعض مال میں جو اس کے ہاتھ میں ہے قائم ہو جائے گی اور وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا اور اگر وہ شخص اس میں دھوکا سے مالک ہواتو پھر اس میں اس کی ملک ثابت نہ ہو گی کیونکہ اس میں دھوکا پایا گیا پس اس ارشاد سے بھی وہی بات بتلانا مقصود ہے جو حدیث سمرہ میں کہی گئی ہے اور اس بات کی نفی کر دی کہ دھوکہ باز جس نے مال دھوکے سے حاصل کیا ہے عام لوگوں کے ہاں اس کا معاملہ اشکال والا ہے آپ نےواضح کر دیا کہ وہ مال کا حقدار نہیں ہو گا پس اس صحیح حدیث کا یہ مفہوم ہے کہتے ہیں کہ یہ روایت اس کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی مروی ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← زيد بن عقيل ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← حجاج، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6041

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6042

5719 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب قال أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بالسلعة يبتاعها الرجل فيفلس وهي عنده بعينها لم يقض صاحبها من ثمنها شيئا فهو أسوة الغرماء قال أبو بكر فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من توفى وعنده سلعة رجل بعينها ولم يقبض من ثمنها شيئا فصاحب السلعة أسوة الغرماء

زہری نے روایت کیا کہ مجھے حضرت ابو بکر بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سامان کا فیصلہ فرمایا جس کو ایک آدمی نے خریدا پھر وہ خود مفلس ہوگیا اور وہ سامان بعینہ اس کے پاس موجود تھا اور اس نے اپنے فروخت کرنے والے کو قیمت کا کوئی حصہ نہ دیا تھا تو آپ نے فیصلہ فرمایا وہ آدمی قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حقدار ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جو آدمی اس حالت میں مر جائے کہ اس کے پاس بائع کا سامان بعینہ موجود تھا اور بائع نے اس سے اپنی قیمت کا ایک ذرہ بھی وصول نہیں کیا تھا تو یہ سامان والا دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حقدار ہے ۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6042

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6043

5720 - حدثنا يونس قال ثنا وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن أبي بكر بن عبد الرحمن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل إبتاع متاعا فأفلس الذي إبتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا فوجده بعينه فهو أحق به فإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء قالوا فقد بان بهذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أراد في هذا الحديث الأول الباعة لا غيرهم فكان من الحجة للآخرين عليهم أن هذا الحديث منقطع لا يقوم بمثله حجة فإن قالوا إنما قبلناه وإن كان منقطعا لأنه بين ما أشكل في الحديث المتصل قيل لهم قد كان ينبغي لكم لما أضطرب حديث أبي بكرة بن عبد الرحمن هذا فرواه عنه الزهري كما ذكرنا آخرا ورواه عنه عمر بن عبد العزيز على ما وصفنا أولا إن رجعوا إلى حديث غيره وهو بشير بن نهيك فيجعلونه هو أصل حديث أبي هريرة ويسقطون ما خالفه وإذا فعلتم ذلك عادت الحجة الأولى عليكم وإن لم تفعلوا ذلك كان لخصمكم أيضا أن يقول هذا الحديث الدي رواه الزهري عن أبي بكر ففرق فيه بين حكم التفليس والموت هو غير الحديث الأول فيكون الحديث الأول عنده مستعملا من حيث تأوله ويكون هذا الحديث الثاني حديثا منقطعا شاذا لا يقوم بمثله حجة فيجب ترك إستعماله فهذا الذي ذكرنا هو وجه الكلام في الآثار المروية في هذا الباب وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا الرجل إذا باع من رجل شيئا كان له أن يحبسه حتى ينقده الثمن وإن مات المشتري وعليه دين فالبائع أسوة الغرماء فكان البائع متى كان محبسا لما باع حتى مات المشتري كان أولى به من سائر غرماء المشتري ومتى دفعه إلى المشتري وقبضه منه ثم مات فهو وسائر الغرماء فيه سواء فكان الذي يوجب له الانفراد بثمنه دون الغرماء هو بقاؤه في يده فلما كان ما وصفنا كذلك كان كذلك إفلاس المشتري إذا كان العبد في يد البائع فهو أولى به من سائر غرماء المشتري وإن كان قد أخرجه من يده إلى يد المشتري فهو وسائر الغرماء فيه سواء فهذه حجة صحيحة وحجة أخرى أنا رأينا إذا لم يقبضه المشتري وقد بقى للبائع كل الثمن أو نقده بعض الثمن وبقيت له عليه طائفة منه أنه أولى بالعبد حتى يستوفى ما بقى له من الثمن فكان ببقائه في يده أولى به إذا كان له كل الثمن أو بعض الثمن ولم يفرق بين شيء من ذلك فجعل حكمه حكما واحدا فلما كان ذلك كذلك وأجمعوا أن المشتري إذا قبض العبد ونقد البائع من ثمنه طائفة ثم أفلس المشتري أن البائع لا يكون بتلك الطائفة الباقية له أحق بالعبد من سائر الغرماء بل هو وهم فيه سواء وكذلك إذا بقي له ثمنه كله حتى أفلس فلا يكون بذلك أحق بالعبد من سائر الغرماء ويكون هو وهم فيه سواء فيستوي حكمه إذا بقى له كل الثمن على المشتري أو بعض الثمن حتى أفلس المشتري كما استوى بقاؤهما جميعا له عليه حتى كان الموت الذي أجمعوا فيه على ما ذكرنا فثبت بالنظر ما ذكرنا من ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد

ابن شہاب نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کوئی سامان خریدا پھر خریدار مفلس ہو گیا اور فروخت کرنے والے نے اس سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا تھا فروخت کرنے والے نے اپنا سامان بعینہ اس کے پاس پایا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اگر خریدار مر گیا تو پھر سامان والا آدمی بقیہ قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا ھصے دار ہوگا اس حدیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ پہلی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فروخت کرنے والے لوگ ہیں دوسرے لوگ مراد نہیں ۔ یہ روایت منقطع ہے جو دلیل بننے کے قابل نہیں فریق اول والے کہتے ہیں کہ اگر چہ یہ منقطع ہے مگر حدیث متصل کا بیان بن جانے کی وجہ سے اس کو قبول کیا گیا ہے ۔ تو ان کے جواب میں کہا جائے گا تمہیں مناسب یہ تھا کہ جب یہ روایت ابی بکر بن عبدالرحمن مفطرب ہے جیسا کہ اس کو زہری نے اسی طرح روایت کیا جیسے تم نے ذکر کیا اور ان سے عمر بن عبدالعزیز نے اس طرح روایت کی جیسے ہم نے پہلے بیان کی ہے تو تم کسی اور روایت کی طرف رجوع کرتے اور وہ ھضرت بشیر بن نہیک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا اصل قرار دے کر اس کے مخالف روایت کو ساقط قرار دیتے ہیں اور اگر تم ایسا کرتے تو پھر دلیل تمہارے خلاف بن جاتی اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا گیا تو تمہارے مخالف کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اس حدیث زہری میں مفلس ہو جانے اور موت کے درمیان فرق کیا گیا ہے وہ پہلی روایت کے خلاف ہے پس تمہارے مخالف کے ہاں پہلی روایت کی تاویل کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے گا اور یہ دوسری روایت منقطع اور شاذ ٹھیرے گی جس سے کوئی دلیل بھی قائم نہ ہو سکے گی پس اس کے استعمال کو ترک کر دینا اور چھوڑ دینا ضروری ہو گا۔ اب تک جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ آثار مرویہ کو سامنے رکھ کر اس باب کا حکم ہے ۔ بطریق نظر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے کو کوئی چیز فروخت کر دے تو اس کا حق پہنچتا ہے کہ قیمت وصول کرنے تک اس چیز کو اپنے پاس روک لے اور اگر خریدار مر جائے اور اس پر قرضہ ہو تو فروخت کرنے والا دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا شریک ہے جب فروخت کرنیوالے کو فروخت شدہ چیز روکنے کا حق ہے اور اس نے وہ چیز روک لی یہاں تک کہ خریدار مر گیا تو وہ اس چیز کا دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حقدار ہے اور اس نے وہ چیز مشتری کے حوالے کر دی اور اس نے وہ قبضے میں کر لی پھر مشتری مر کیا تو اس صورت میں تمام قرض خواہ برابر کے شریک ہوں گے جو چیز اس کو ان سے الگ کرتی ہے وہ اس کا ثمن ہے اور یہ چیز باقی قرض خواہوں کے لیے نہیں اور وہ اس چیز کا اس کے ہاتھ میں اسی طرح باقی رہنا ہے پس جو کچھ ہم نے بیان کیا جب اس کی صورت اسی طرح ہے تو مشتری کے مفلس ہو جانے میں بھی حکم یہی ہونا چاہیے جب کہ بعینہ وہ غلام بائع کے ہاتھ میں موجود ہو تو وہ اس کا تمام قرض خواہوں میں زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ غلام اس کے ہاتھ سے نکل کر مشتری کے ہاتھ میں چلا گیا تو وہ اور دیگر قرض خواہ برابر کے حقدار ہیں یہ درست دلیل ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے غور کیا کہ جب خریدار نے اس کو اپنے قبضے میں نہ لیا اور فروخت کرنے والے کی ۔کل قیمت ابھی مشتری کے ذمے باقی ہے یا اس نے کچھ قیمت نقدادا کر دی اور باقی رقم اس کے ذمے ہے تو پھر بھی بیچنے والا قیمت کی کامل وصولی تک اس کا زیادہ حقدار ہے پس وہ اس چیز کے قبضہ میں ہونے کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے جب کہ تمام قیمت یا قیمت کا کچھ حصہ مشتری کے ذمہ باقی ہو ان دونوں صورتوں میں کوئی تفریق نہ کی جائے گی اور ان کا حکم ایک ہی قرار دیا جائے گا پس جب یہ بات اسی طرح ہے اور اس پر بھی اسکا اتفاق ہے کہ مشتری جب غلام پر قبضہ کر لے اور خریدار اس کی قیمت کا کچھ حصہ نقد وصول کر لے پھر خریدار مفلس ہو جائے تو اس صورت میں فروخت کرنے والا بقیہ رقم میں دیگر قرض خواہوں کے مقابلہ میں اس غلام کا زیادہ حقدار نہ ہو گا بلکہ سب قرض خواہ برابر ہوں گے پس حکم ایسا جیسا ہو گا جبکہ تمام قیمت مشتری کے ذمہ باقی ہو یا بعض قیمت کے ذمہ ہوتے ہوئے مشتری مفلس ہو جائے جس طرح کہ اسکی موت کی صورت میں کل قیمت یا بعض قیمت کا باقی رہنا برابر ہے اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس پر سب کا اتفاق ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ قیاس سے بھی ثابت ہو گیا اور یہی ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6043

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter