Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6020

5699 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حاتم بن إسماعيل قال ثنا جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خطبهم في حجة الوداع فقال ألا إن دماءكم أموالكم حرام عليكم إلى أن تلقوا ربكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا لوگو ! سنو ! بلا شبہ تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں ۔ یہاں تک کہ تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو ( یعنی فوت آئے ) یہ اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں آج کا دن حرمت والا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6020

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6021

5700 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا دحيم بن اليتيم قال ثنا الوليد بن مسلم قال ثنا هشام بن الغار الجرشي قال أخبرني نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا پھر اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هشام بن الغار الجرشي ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمُ بْنُ الْيَتِيمِ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6021

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6022

5701 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا عفان بن مسلم قال ثنا ربيعة بن كلثوم بن جبر قال ثنا أبي قال سمعت أبا عادية الجهني قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

کلثوم بن جبر کہتے ہیں کہ میں نے ابو غادیہ جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ← أبا عادية الجهني ← أَبِي ← رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← محمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6022

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6023

5702 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يونس بن محمد قال ثنا حسين بن عارف بن شبيب بن عروة أبو عروة عن شبيب بن عروة عن سليم بن عمرو بن الأحوص قال خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فذكر مثله قال أبو جعفر فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم حرمة الأموال كحرمة الأبدان فكما لا يحل أبدان الأبناء للآباء إلا بالحقوق الواجبة فكذلك لا يحل لهم أموالهم إلا بالحقوق الواجبة فإن قال قائل نريد أن يوجد ما ذكرت في الأب منصوصا عن النبي صلى الله عليه و سلم قلت

شعیب بن عروہ نے سلیم بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن خطبہ ارشاد فرمایا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی حرمت کو بدن کی حرمت کی طرح قرار دیا پس جس طرح بیٹوں کے ابدان اباء کے لیے حلال نہیں مگر حقوق واجبہ کے ذریعہ بالکل اسی طرح اولاد کے اموال بھی ان کے لیےحقوق واجبہ کے بغیر حلال نہیں ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ آپ نے جوبات ذکرفرمائی ہے یہ منصوص چاہیے ( فقط قیاس بلا دلیل تو معتبر نہیں )

سُلَيْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ← شبيب بن عروة ← حسين بن عارف بن شبيب بن عروة أبو عروة ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6023

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6024

5703 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني سعيد بن أبي أيوب عن عياش بن عباس القتباني عن عيسى بن هلال الصدفي عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لرجل أمرت بيوم الأضحى عيد جعله الله لهذه الأمة فقال الرجل أفرأيت إن لم أجد إلا منيحة ابني أفأضحي بها قال لا ولكنك تأخذ من شعرك وأظفارك وتقص شاربك وتحلق عانتك فذلك تمام أضحيتك عند الله قال أبو جعفر فلما قال هذا الرجل يا رسول الله أضحي بمنيحة ابني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا وقد أمره أن يضحي من ماله وحضه عليه دل ذلك على أن حكم مال ابنه خلاف ماله مع أن أولى الأشياء بنا حمل هذه الآثار على هذا المعنى لأن كتاب الله عز و جل يدل على ذلك قال الله عز و جل يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين ثم قال ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك فورث الله عز و جل غير الولد مع الوالد من مال الابن فاستحال أن يكون المال للأب في حياة الابن ثم يصير بعضه لغير الأب قال الله عز و جل من بعد وصية يوصى بها أو دين فجعل الله عز و جل المواريث للوالد وغيره بعد قضاء دين إن كان على الميت وبعد إنفاذ وصايه من ثلث ماله وقد أجمعوا أن الأب لا يقضى من ماله دين ابنه ولا ينفذ وصايا أبيه من ماله ففي ذلك ما قد دل على ما ذكرنا وقد أجمع المسلمون أن الابن إذا ملك مملوكة حل له أن يطأها وهي ممن أباح الله عز و جل له وطأها بقوله تعالى والذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فلو كان ماله لأبيه إذا لحرم عليه وطء ما كسب من الجواري كحرمة وطء جواري أبيه عليه فدل ذلك أيضا على انتفاء ملك الأب لمال الابن وأن ملك الابن فيه ثابت دون أبيه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

عیسیٰ بن ہلال صدفی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا کہ مجھے قربانی کے دن کو عید بنانے کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے عید بنایا ہے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی دودھ والی اونٹنی ہو کیا میں اس کی قربانی کر سکتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں لیکن تم اپنے بال اور ناخن کاٹ لو اور اپنی مونچھوں کے بال لے لو اور زیر ناف کو صاف کرو ۔ پس یہی اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری قربانی کی تکمیل ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ۔ ذرا توجہ فرمائیں کہ جب یہ کہتا ہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنے بیٹے کی دودھ والی اونٹنی کی قربانی کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا منع فرمایا بلکہ اسے اس کے اپنے مال سے قربانی کاحکم فرمایا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ بیٹے کے مال کا حکم اپنے مال کے حکم سے مختلف ہے ہمارے لیے سب سے زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ان آثار کا یہ معنی لیا جائے کیونکہ اپنے مال کے حکم سے مختلف ہے ہمارے لیے سب سے زیادہ مناسب بات یہ ہےکہ ان آثار کا یہ معنی لیا جائے کیونکہ قرآن مجید کی دلالت اسی کے لیے راہنمائی کرتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (النساء 11) پھر فرمایا ( النساء 11) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس والد کے ساتھ اولاد کے علاوہ کو بیٹے کے ترکہ میں حصہ دار بنایا ہے اگر مال بیٹے کی زندگی میں ہی والد کا ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ زندگی کےبعد اس کا کچھ حصہ باپ کے علاوہ کی طرف چلا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( النساء 12) اللہ نے میراث میں قضاء دین کے بعد والد اور دوسروں کا حصہ مقرر فرمایا جو کہ اس کے ثلث مال میں بطور وصیت نافد ہو گا ۔ باپ کے مال سے بیٹے کا قرضہ ادا نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی والد کی وصیت بیٹے کے مال میں نافذ ہو سکتی ہے ۔ اس میں ہمارے قول پر دلالت پائی جاتی ہے ۔ ( کہ باپ بیٹے کے مال کا مالک نہیں بنتا ) جب بیٹا کسی لونڈی کا ملک بن جائے تو اس کو اس سے وطی حلال ہے اور یہ موطوہ لونڈی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے حلال کی ہے فرمایا ( المومنون 6) اگر وہ والد کا مال ہوتا تو اس پر ان لونڈیوں سے وطی حرام ہو تی جو بھی اپنی کمائی میں سے حاصل کرتا جس طرح کہ والد کی لونڈیوں سے بیٹے کو وطی حرام ہے یہ ہے کہ اس سے ثابت ہو گیا کہ باپ بیٹے کے مال کا مالک نہیں اور بیٹا ہی اپنے مال کا مالک ہے کہ والد ( اگر وہ اس کی اپنی ملک یمین تھی تو حرمت وطی چہ معنی دارد فتدبر ) یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا ہے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6024

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6025

5704 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت دخل مجزز المدلجي على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى أسامة وزيدا وعليهما قطيفة قد غطيا رؤوسهما فقال إن هذه الأقدام بعضها من بعض فدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم مسرورا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجزز مدلجی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں داخل ہوئے چنانچہ اس سے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہ کو ایک دھاری دار چادر میں لپٹے دیکھا ان کے سر ڈھنپے ہوئے تھے تو وہ کہنے لگا یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں بڑے خوش خوش داخل ہوئے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6025

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6026

5705 - حدثنا يونس قال ثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة أنها قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم مسرورا تبرق أسارير وجهه فقال ألم تري أن مجززا نظر آنفا إلى زيد بن حارثة وأسامة بن زيد فقال إن بعض هذه الاقدام من بعض قال أبو جعفر فاحتج قوم بهذا الحديث فزعموا أن فيه ما قدر لهم أن القافة يحكم بقولهم ويثبت به الأنساب قالوا ولولا ذلك لأنكر النبي صلى الله عليه و سلم على مجزز ولقال له وما يدريك فلما سكت ولم ينكر عليه دل أن ذلك القول مما يؤدي إلى حقيقة يجب بها الحكم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز أن يحكم بقول القافة في نسب ولا غيره وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن سرور النبي صلى الله عليه و سلم بقول مجزز المدلجي الذي ذكروا في حديث عائشة ليس فيه دليل على ما توهموا من واجب الحكم بقول القافة لأن أسامة قد كان نسبه ثبت من زيد قبل ذلك ولم يحتج النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك إلى قول أحد ولولا ذلك لما كان دعي أسامة فيما تقدم إلى زيد إنما تعجب النبي صلى الله عليه و سلم من إصابة مجزز كما يتعجب من ظن الرجل الذي يصيب بظنه حقيقة الشيء الذي ظنه ولا يجب الحكم بذلك فترك رسول الله صلى الله عليه و سلم الإنكار عليه لأنه لم يتعاط بقوله ذلك إثبات ما لم يكن ثابتا فيما تقدم فهذا ما يحتمله هذا الحديث وقد روى في أمر القافة عن عائشة رضي الله عنها ما يدل على غير هذا

ابن شہاب نے عروہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں بڑے خوش خوش تشریف لائے آپ کے چہرہ مبارک کے بل خوشی سے چمک رہے تھے اور فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیا کہ مجزز مد لجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں ( یعنی باپ بیٹے کے پاؤں ہیں اور ملتے جلتے ہیں) امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت سے بعض لوگوں نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ قیافہ شناس لوگوں کے قول سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے نسب بھی ثابت ہو جائے گا اگر یہ بات نہ ہوتی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجزز کی بات کا انکار کرتے اور اس کو ضرور فرماتے تمہیں کیا معلوم ہے ؟ پس جب آپ نے خاموشی اختیار فرمائی اور انکار نہیں فرمایا تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اس کی یہ بات حقیقت کی نشاندہی کرنے والی ہے اس پر حکم و فیصلہ لازم ہے ۔ نسب میں اہل قیافہ کے قول کا اعتبار نہیں اور دوسرے معاملات میں بھی یہی حکم ہے مجزز مدلجی کی بات پر جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جس خوشی کا تذکرہ کیا ہے اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ اہل قیافہ کی بات پر عمل واجب ہے ۔ کیونکہ اسامہ رضی اللہ عنہ کا نسب تو زید رضی اللہ عنہ سے اس سے پہلے ہی ثابت تھا ۔ اس میں آپ کو کسی کے قول کی حاجت نہ تھی اگر یہبات نہ ہوتی تو اسامہ بن زید کہہ کر نہ پکارے جاتے ۔ بس اتنی بات ہے کہ آپ کو تعجب کرتا ہے او اس سے کسی چیز پر حکم لگانا لازم نہیں آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قول پر انکار کو اس لے ترک فرمایا کہ آپ کا اس سے پہلے ہی ثابت شدہ چیز کو کوئی ثابت کرنا مقصود نہ تھا ۔ اس بات کو احتمال اس روایت میں پایا جاتا ہے یہ ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قیافہ شناسوں کے متعلق نقل فرمایا ہے ۔ روایت یہ ہے دیکھیں ان روایات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیانہ شناس کے قیافہ کے مطابق فیصلہ فرمایا پس ہم نے مجزز کی روایت میں ہم نے جو تاویل کی ہے یہ اس کے موافق ہے اس روایت میں تو تمہارے قول کے بطلان کی دلیل موجود ہے کہ قیافہ شناس نے کہا یہ ان دونوں سے ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح قرار نہ دیا اور اس بچے کو فرمایا ان میں سے جس سے چاہو مل جاؤ۔ جیسا کہ کسی ایک بچے پر دو آدمی دعویٰ کریں پھر ایک اقرار کرے تو واجب ہے کہ بچہ اسی کا قرار دیا جائے ۔ تو جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اس بچے کے حکم کی طرف لوٹا یا جس ر دو آدمی دعویٰ کریں اور حاکم کے پاس قیافہ شناس نہ ہو ۔ آپ نے اسے قیافہ شناس کے قول کی طرف نہیں لوٹا یا تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ قیافہ شناسوں کے قول سے کسی کا نسب ثابت نہیں ہوتا ۔ صحیح سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ یہ بچہ دونوں سے ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6026

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6027

5706 - حدثنا بن داود قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة رضي الله عنها أخبرته أن النكاح كان في الجاهلية على أربعة أنحاء فمنه أن يجتمع الرجال العدد على المرأة لا تمتنع ممن جاءها وهن البغايا وكن ينصبن على أبوابهن رايات فيطؤها كل من دخل عليها فإذا حملت ووضعت حملها جمع لهم القافة فأيهم ألحقوه به كان أباه ودعي ابنه لا يمتنع من ذلك فلما بعث الله عز و جل محمدا صلى الله عليه و سلم بالحق هدم ذلك النكاح الذي كان يكون فيه ذلك الحكم وأقر الناس على النكاح الذي لا يحتاج فيه إلى قول القافة وجعل الولد لأبيه الذي يدعيه فيثبت نسبه بذلك ونسخ الحكم المتقدم الذي كان يحكم فيه بقول القافة وقد كان أولاد البغايا الذين ولدوا في الجاهلية من أدعى أحدا منهم في الإسلام لحق به

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کا ہوتا تھا ۔ 1۔ کئی آدمی ایک عورت کے پاس جاتے وہ کسی کو بھی اپنے سے منع نہ کرتی یہ زانیہ عورتوں کا طریق کا ر تھا ۔ وہ اپنے دروازوں پر بطور نشان جھنڈے لگاتی تھیں ہر جانے والا ان سے وطی کرتا جب کسی سے حمل ٹھہر جاتا پھر وہ بچہ جنتی تو قیافہ شناس جمع ہو کر اس بچے کو کسی کے ساتھ ملا دیتے وہی اس کا باپ شمار ہوتا تھا اور وہ اس کا بچہ کہلا تا اس سے نسبت سے منع نہ کیا جاتا تھا جب جب اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تو آپ نے اس قسم نکاح کو ختم کر دیا آپ نے اس نکاح کو برقرار رکھا جس میں کسی قیافہ شناس کی کوئی حاجت نہ تھی ۔ بچہ اس کے والد کے لیے قرار دیا جاتا جو اس کا مدعی ہوتا تھا اور اسی سے اس کا نسب ثابت ہوتا اور وہ پہلا حکم جس میں قیافہ شناس کے دل سے فیصلہ ہوتا آپ نے اس کو منسوخ کر دیا اور ان زانیہ عورتوں کی جو اولاد دور جاہلیت میں پیدا ہوئی اسلام میں جس نے اس کا دعویٰ کیا اس کے سات اس کو ملا دیا گیا ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6027

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6028

5707 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد

مالک نے یحیٰ بن سعید سے نقل کیا ہے ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6028

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6029

وحدثنا يونس قال أنا أنس عن يحيى بن سعيد قال مالك في حديثه عن سليمان بن يسار وقال أنس أخبرني سليمان بن يسار أن عمر كان ينيط أهل الجاهلية بهن من أدعى بهم في الإسلام فدل ذلك أنهم لم يكونوا يلحقون بهم بقول القافة فيكون قولهم كالبينة التي تشهد على ذلك فلو كان قولهم مستعملا في الإسلام كما كان مستعملا في الجاهلية إذا لما قالت عائشة إن ذلك مما هدم إذا كان قد يجب به علم أن الصبي ممن وطئ أمة من الرجال ففي نسخ ذلك دليل أن قولهم لم يجب به حكم بثبوت النسب واحتج أهل المقالة الأولى بقولهم أيضا بما

سلیمان بن یسار نے بتلایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اہل جاہلیت کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیتے تھے جو اسلام کے زمانہ میں ان کو دعویدار بنتا ۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ و ہ قیافہ شناس لوگوں کے قول سے ( ان دعویٰ کرنے والوں ) کے ساتھ نہیں ملاتے تھے کہ ان کے قول کو گواہی کہیں جس سے وہ گواہی دیتے اگر زمانہ جاہلیت کی طرح اسلام میں بھی یہ طریق مستعمل ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نہ فرماتیں کہ یہ طریقہ اسلام میں ختم ہو گیا بلکہ اس سے یہ بات معلوم کرنا ضروری تھا کہ یہ بچہ وطی کرنے والے مردوں میں سے کس کا ہے۔ تو اس کے منسوخ ہونے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان قیافہ شناسوں کے قول سے ثبوت نسب کا فیصلہ واجب نہیں ۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مَالِكٌ فِي حَدِيثِهِ: ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6029

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6030

5708 - حدثنا يونس أخبرني يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار أن رجلين أتيا عمر كلاهما يدعي ولد امرأة فدعا لهما رجلا من بني كعب قائفا فنظر إليهما فقال لعمر لقد اشتركا فيه فضربه عمر بالدرة ثم دعا المرأة فقال أخبريني خبرك قالت كان هذا لأحد الرجلين يأتيها وهي في إبل أهلها فلا يفارقها حتى تظن أن قد استمر بها حمل ثم ينصرف عنها فأهراقت عليه دما ثم خلفها ذا تعني الآخر فلا يفارقها حتى استمر بها حمل لا يدري ممن هو فكبر الكعبي فقال عمر للغلام وال أيهما شئت

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے دونوں ایک عورت کے بچے س ےمتعلق دعویٰ کر رہے تھے آپ نے بنو کعب کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اس نے دونوں کو دیکھا اور حضرت عمر کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو درہ سے مارا۔ پھر عورت کو بلا کر فرمایا مجھے اپنی خبر بتاؤ اس نے کہا یہ ان دو میں سے ایک کا ہے وہ اس کے پاس آیا جبکہ وہ اپنے گھریلو اونٹوں کے پاس تھی ۔ وہ اس سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے گمان کیا کہ اسے حمل ٹھہر گیا ہے پھر وہ اس سے پھر گیا۔ اس نے اس پر خون بہایا (حیض آیا) پھر وہ دوسرا اسکے پاس آیا وہ جدا نہ ہوا حتی کہ اسے حمل ٹھہر گیا ۔ نامعلوم یہ کس کا ہےتو کعبی قیافہ شناس نے اللہ اکبر کہا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بچے سے فرمایا سے ان میں سے جس سے چاہے مل جا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6031

5709 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب عن مالك حدثه عن يحيى بن سعيد عن سليمان مثله

یحییٰ بن سعدی سے سلیمان سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سليمان مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6031

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter