Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6008

5688 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري سمع سهل بن سعد يقول شهدت النبي صلى الله عليه و سلم فرق بين المتلاعنين فقال يا رسول الله كذبت عليها إن أمسكتها

زہری نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرائی اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اسے رکھوں تو گویا میں نے اس کے متعلق جھوٹ کہا ہے ۔

شهدت النبي صلى الله عليه و سلم فرق بين المتلاعنين فقال ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6008

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6009

5689 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال ثنا هلال عن بن شهاب أن سهل بن سعد الساعدي أخبره أن عويمر العجلاني جاء إلى عاصم بن عدي الأنصاري فقال له أرأيت يا عاصم لو أن رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل سل لي عن ذلك يا عاصم رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رجع عاصم إلى أهله جاءه عويمر فقال يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عاصم يا عويمر لم تأتني بخير فذكره رسول الله صلى الله عليه و سلم المسألة التي سألته عنها فقال عويمر لا أنتهي حتى أسأله عنها فأقبل عويمر حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وسط الناس فقال يا رسول الله أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أنزل الله فيك وفي صاحبتك اذهب فأئت بها قال سهل فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما فرغا قال عويمر كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم قال بن شهاب فكانت سنة المتلاعنين

ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اسے کہا میرے لیے یہ مسئلہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کردو کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے ( اگر وہ ایسا کر لے ) تو پھر تم اسے قتل کر ے یا وہ کیا کرے ؟ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو عویمر آئے اور کہا اسے عاصم ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے عویمر تو میرے پاس اچھی بات نہیں لایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا جو کہ میں نے آپ سے دریافت کی عویمر کہنے لگے میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کروں گا پھر حضرت عویمر خود دربار بنوت میں حاضر ہوئے اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ عویمر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو وہ کیا کرے اسے قتل کر دے ( پھر آپ اس کے قاتل کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیو ی کے متعلق حکم نازل فرمایا ہے ۔ جاؤ اور اسے لے آؤ! حضرت سہل فرماتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا ۔ میں بھی اس وقت صحابہ کرام کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر تھا جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہے چنانچہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں ۔ ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ لعان کرنے والے کے متعلق یہی طریقہ ہے ۔

بن شِهَابٍ ← هِلَالٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6009

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6010

5690 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا الماجشون عن الزهري عن سهل بن سعد عن عاصم قال جاءني عويمر ثم ذكر مثله فقد علمنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لو علم الكاذب منهما بعينه لم يفرق بينهما ولم يلاعن لو علم أن المرأة صادقة لحد الزواج لها بقذفه إياها ولو علم أن الزوج صادق لحد المرأة بالزنا الذي كان منها فلما خفي الصادق منهما على الحاكم وجب حكم آخر فحرم الفرج على الزوج في الباطن والظاهر ولم يرد ذلك إلى حكم الباطن فلما شهدا في المتلاعنين ثبت أن كذلك الفرق كلها والقضاء بما ليس فيه تمليك أموال أنه على حكم الظاهر لا على حكم الباطن وأن حكم القاضي يحدث في ذلك التحريم والتحليل في الظاهر والباطن جميعا وأنه خلاف الأموال التي تقضي بها على حكم الظاهر وهي في الباطن على خلاف ذلك فتكون الآثار الأول هي في القضاء بالأموال والآثار الأخر هي في القضاء بغير الأموال من ثبات العقود وحلها حتى تتفق معاني وجوه الآثار والأحكام ولا تتضاد وقد حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم في المتبايعين إذا اختلفا في الثمن والسلعة قائمة أنهما يتحالفان ويترادان فتعود الجارية إلى البائع ويحل له فرجها ويحرم على المشتري ولو علم الكاذب منهما بعينه إذا لقضي بما يقول الصادق ولم يقض بفسخ بيع ولا بوجوب حرمة فرج الجارية المبيعة على المشتري فلما كان ذلك على ما وصفنا كان كذلك كل قضاء بتحريم أو تحليل أو عقد نكاح أو حله على ما حكم القاضي فيه في الظاهر لا على حكمه في الباطن وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس عویمر رضی اللہ عنہ آئے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ اگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین سے جھوٹ بولنے کا علم ہوتا تو آپ ان کے مابین تفریق نہ فرماتے ۔ اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ عورت یقینا سچی ہے تو لعان نہ کراتے اور قذف کی وجہ سے خاوند کو حد لگاتے ۔ اور اگر قطعی طور پر آپ کو معلوم ہوتا کہ مرد سچا ہے توعورت کو زنا کی وجہ سے زنا کی حد جاری فرماتے کیونکہ وہ اس سے صادر ہوا پس جب حاکم پر بات مخفی ہو کہ ان میں سے سچا کون ہے تو دوسرا حکم یعنی لعان نافذ ہوتا ہے اور پر عورت کی شرمگاہ پر ظاہر ا ً اور باطنا ً دونوں طرح حرام ہوتی ہے اور اسے باطنی حکم کی طرف لوٹایا نہیں جاتا تو ان دونوں روایات سے جب دنوں لعان کرنے والوں کے متعلق یہ بات ثابت ہوگئی تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ باقی صورتوں میں بھی حکم یہی رہے گا اور جن صورتوں میں اموال کا مالک بنانا نہیں ہوتا وہ ظاہر کے حکم پر ہو تا ہے باطن کے حکم پر نہیں ہوتا اور اس میں قاضی کا فیصلہ دونوں صورتوں میں تحریم و تحلیل دونوں کو پیدا کرتا ہے اور یہ حکم ان اموال کے خلاف ہے جن میں ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے اور وہ باطن میں اس کے خلاف ہوتا ہے ۔ فلہذا پہلی روایات اموال کے فیصلہ سے متعلق ہیں اور دوسری فریق ثانی کی پیش کردہ روایات عقود و غیرہ ثابت کرنے اور ختم کرنے سے متعلق ہوں گی تاکہ روایات کی معانی میں اور احکام میں موافقت ہو اور تضاد نہ ہو ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے مابین جو فیصلہ فرمایا جو کہ آپس میں سودا کرتے تھے کہ اگر ان کے مابین قیمت میں اختلاف ہو جائے اور سامان ( مبیع قائم ہو تو ایک دوسرے کو قسم دیں اور سودا واپس کرد یا جائے اسی طرح لونڈی فروخت کرنے والے کی طرف لوٹا دی جائے گی اور اس کے لیے اس کی شرمگاہ حلال ہو گی اور خریدار پر حرام ہو گی اور اگر اسے معلوم ہو کہ فلاں شخص جھوٹا ہے تو اس وقت وہ سچ بولنے والے کے قول کا اعتبار کر کے فیصلہ کر دے گا اور بیع کو نسخ کرنے کا فیصلہ نہ کرے گا اور نہ ہی فروخت کی جانے والی لونڈی کی شرمگاہ کو خریدار کے لیے حرام قرار دے گا۔ تو جب یہ فیصلہ اس طرح ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے تو حرام یا حلال ٹھہرانے عقد نکاح کرنے یا اسے توڑنے ( طلاق دینے ) سے متعلق فیصلہ بھی اسی طرح ہو گا۔ کہ قاضی اس کے ظاہری حکم کے مطابق فیصلہ کرے گا باطنی حکم کے مطابق نہ ہوگا یہ امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف امام محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

مثله فقد علمنا ← جاءني عويمر ثم ← عَاصِمٍ، ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْمَاجِشُونُ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6010

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 6 باب الحر يجب عليه دين ولا يكون له مال كيف حكمه ) · حديث 6011

5691 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا مسلم بن خالد الزنجي عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن البيلماني قال كنت بمصر فقال لي رجل ألا أدلك على رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فذهب بي إلى رجل فقلت ممن أنت يرحمك الله فقال أنا سرق فقلت رحمك الله ما ينبغي لك أن تسمى بهذا الاسم وأنت رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم سماني سرق فلن أدع ذلك أبدا قلت ولم سماك سرق قال لقيت رجلا من أهل البادية ببعيرين له يبيعهما فابتعتهما منه وقلت له انطلق معي حتى أعطيك فدخلت بيتي ثم خرجت من خلف لي وقضيت بثمن البعيرين حاجتي وتغيبت حتى ظننت أن الأعرابي قد خرج فخرجت والأعرابي مقيم فأخذني فقدمني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته الخبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما حملك على ما صنعت قلت قضيت بثمنهما حاجتي يا رسول الله قال فأقضه قال قلت ليس عندي قال أنت سرق اذهب به يا أعرابي فبعه حتى تستوفي حقك قال فجعل الناس يسومونه في ويلتفت إليهم فيقول ماذا تريدون فيقولون نريد أن نبتاعه منك قال فوالله إن منك أحد أحوج إليه مني اذهب فقد أعتقك

زیدبن اسلم نے عبدالرحمن بن بیلمانی سے روایت ہے کہ میں مصر میں تھا کہ ایک شخص نےمجھے کہا کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے بارے میں تمہاری راہنمائی نہ کروں پھر وہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گیا میں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں ۔ انہوں نے کہا میں سرق ہوں میں نے کہا آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے آپ کو یہ رکھنا مناسب نہ تھا ۔ کیونکہ آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام سرق رکھا ہے لہذا میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا میں نے پوچھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام سرق کیوں رکھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ایک دیہاتی شخص سے ملاقات کی اس کے پاس دو اونٹ تھے وہ انہیں بیچنا چاہتا تھا میں نے اس سے دونوں اونٹ خرید لیے اور اسے کہا کہ میرےساتھ چل میں تجھے ادا کروں میں اپنے گھر میں داخل ہوا پھر میں اپنے مویشی خانہ کی طرف سے نکل گیا اور اونٹوں کی قیمت اپنی ضرورت میں خرچ کر دی ہے آپ نے ارشاد فرمایا اسے ادا کر دو میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ نہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم سرق ہو ۔ اے اعرابی اس کو لے جاکر فروخت کر دو حتیٰ کہ تم اپنا حق پورا وصول کرلو اس پر صحابہ کرام میری بولی لگانے لگے اور وہ آدمی انکی طرف دیکھتا تھا اور پوچھتا تھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے تو وہ کہتے ہم اسے تم سے خریدنا چاہتے ہیں اس نے کہا اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ اس کی حاجت نہیں رکھتا جاؤ میں نے تمہیں آزاد کر دیا ۔

كُنْتُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6011

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 6 باب الحر يجب عليه دين ولا يكون له مال كيف حكمه ) · حديث 6012

5692 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الرزاق قال ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار قال حدثني زيد بن اسلم قال لقيت رجلا بالإسكندرية يقال له سرق فقلت ما هذا الاسم فقال سمانيه رسول الله صلى الله عليه و سلم قدمت المدينة فأخبرتهم أنه يقدم لي مال فبايعوني فاستهلكت أموالهم فأتوا بي النبي صلى الله عليه و سلم فقال أنت سرق فباعني بأربعة أبعرة فقال له غرماؤه ما يصنع به قال أعتقه قالوا ما نحن بأزهد في الآخر منك فأعتقوني قال أبو جعفر ففي هذا الحديث بيع الحر في الدين وقد كان ذلك في أول الإسلام يبتاع من عليه دين فيما عليه من الدين إذا لم يكن له مال يقضيه عن نفسه حتى نسخ الله عز و جل ذلك فقال وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة وقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك في الذي إبتاع الثمار فأصيب بها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدقوا فتصدق عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك وقد ذكرنا ذلك بإسناده فيما تقدم من كتابنا هذا ففي قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لغرمائه ليس لكم إلا ذلك دليل على أن لا حق لهم في بيعه ولولا ذلك لباعه لهم كما باع سرق في دينه لغرمائه وهذا قول أهل العلم جميعا رحمهم الله

زید بن اسلم کہتے ہیں کہ اسکندر یہ میں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی جس کو سرق کہتے تھے میں نے اس سے پوچھا یہ کیسا نام ہے اس نے کہا جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے میں مدینہ منورہ میں آیا اور ان لوگوں کو بتلایا کہ میرے پاس مال آنے والے ہے پس میرے ساتھ لے آئے آپ نے فرمایا تم سرق ہو ۔ آپ نے مجھے چار اونٹوں کے بدلے فروخت کر دیا اس ( خریدنے والے ) سے قرض خواہوں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے اس نے کہا اسے آزاد کروں گا انہوں نے کہا کہ ہم آخرت کے سلسلے میں تجھ سے زیادہ بے رغبت نہیں ہیں یعنی آخرت ہمیں بھی مطلوب ہے چنانچہ ان سب نے مجھے آزاد کر دیا ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس روایت میں قرض کے بدلے آزاد کو فروخت کر دینے کا تذکرہ ہےجو ابتداء اسلام میں جائز تھا ۔ مقروض کو قرض کے بدلے فروخت کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے پاس مال نہ ہوتا جس سے وہ قرض کی رقم ادا کر سکے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کر دیا اور فرمایا ( وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ وان تصدقوا خیر لکم ان کنتم ( البقرۃ 280) کہ تنگدست کو خوشحالی تک مہلت دی جائے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے متعلق فیصلہ فرمایا جس نے پھر خریدے اور آفت سے وہ تباہ ہو گئے ۔ اور اس پر قرض ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بھائی صدقہ کرو اس پر صدقہ کرنے کے باوجود اس کا قرض ادا نہ ہو سکا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہ ہو گا یہ روایت ہم پہلے اسناد کے ساتھ ذکر کر آئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں کو یہ فرمایا کہ تمہارے لیے صرف یہی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس کو فروخت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ اسے ان کی خاطر فروخت کر دیتے جیسا کہ حضرت سرق کو قرض خواہوں کے لیے قرض میں فروخت کیا تھا ۔ یہ تمام اہل عمل کا قول ہے اس باب میں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ذکر کیا کہ مقروض کے بدلے فروخت نہیں کر سکتے اس کے پاس موجود چیز قرض خواہوں کو بانٹ دی جائے گی وہ تنگدستی دور ہونے تک انتطار کریں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6012

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6013

5693 - حدثنا ربيع الجيزي وابن أبي داود قالا حدثنا عبد الله يوسف قال ثنا عيسى بن يونس قال ثنا يوسف بن إسحاق بن أبي إسحاق عن بن المنكدر عن جابر بن عبد الله أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إن لي مالا وعيالا وإن لأبي مالا وعيالا وإنه يريد أن يأخذ مالي إلى ماله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنت ومالك لأبيك

ابن المنکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا میرے پاس مال اور عیال ہیں اور میرے والد کے بھی عیال اور مال ہے اور وہ میرا مال اپنے مال کے ساتھ ملانا چاہتا ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے ۔

بن المنكدر ← يوسف بن إسحاق بن أبي إسحاق ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عبد الله يوسف ← ربيع الجيزي وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6013

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6014

5694 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا عبد الوارث قال ثنا حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال قال رجل لرسول الله صلى الله عليه و سلم إن لي مالا ولي والدا يريد أن يجتاح مالي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنت ومالك لأبيك إن أولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن ما كسبه الابن من مال فهو لأبيه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما كسب الابن من شيء فهو له خاصة دون أبيه وقالوا قول النبي صلى الله عليه و سلم هذا ليس على التمليك منه للأب كسب الابن وإنما هو على أنه لا ينبغي للإبن أن يخالف الأب في شيء من ذلك وأن تجعل أمره فيه نافذا كأمره فيما يملك ألا تراه يقول أنت ومالك لأبيك فلم يكن الابن مملوكا لأبيه بإضافة النبي صلى الله عليه و سلم إياه فكذلك لا يكون مالكا لماله بإضافة النبي صلى الله عليه و سلم إليه وقد

عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی عرض کرنے لگا میرے پاس مال ہے اور میرا والد میرا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اور تمہارا مال تمہار ے والد کا ہے تمہاری اولاد تمہاری کمائی سے ہے ۔ پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھاؤ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ جو بیٹا کمائے وہ اس کے باپ کا مال ہے اور انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے ۔ دوسرے فریق کو مؤقف یہ ہے کہ بیٹا جو کمائے وہ صرف اسی کا ہو گا باپ کا نہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب بیٹے کی کمائی کا والد کو مالک بنانا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو مناسب نہیں ہے کہ وہ اس مال کے متعلق باپ کے کسی حکم کی مخالفت کرے بلکہ اسے اس کا حکم اس میں نافذ کرنا چاہیے جیسا کہ وہ اپنی ملکیت میں حکم نافذ کرتا ہے ذرا غور تو فرمائیں کہ آپ نے فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نسبت کرنے سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ بیٹا باپ کا مملوک بن جاتا ہے اسی طرح اس اضافت سے وہ مال کا بھی مالک نہ بنے گا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6014

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6015

5695 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما نفعني مال قط ما نفعني مال أبي بكر فقال أبو بكر رضي الله عنه إنما أنا ومالي لك يا رسول الله فلم يرد أبو بكر بذلك أن ماله ملك للنبي صلى الله عليه و سلم دونه ولكنه أراد أن أمره ينفذ فيه وفي نفسه فكذلك قوله أنت ومالك لأبيك فهو على هذا المعنى أيضا والله أعلم وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم أموال المسلمين كما حرم دماؤهم ولم يستثن في ذلك والدا ولا غيره فمما روى عنه في ذلك ما

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا کہ ابو بکر کے مال نے فائدہ دیا تو اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور میرا مال آپ ہی کا ہے ۔ اس سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ نہیں کہ ان کا مال انکی ملکیت سے نکل کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں داخل ہو گیا اور ان کی اپنی ملک اس پر نہیں رہی ۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ آپ کا حکم اس مال اور جان میں نافذ ہے ۔ اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے ۔ کا بھی یہ مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مال کو اسی طرح قابل احترام قرار دیا جیسا کہ ان کے خون کو قابل عزت قرار دیا اور اس سلسلے میں والد وغیرہ کو مستثنیٰ نہیں فرمایا حرمت مال و خون کی روایات یہ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6015

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6016

5696 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ح

ابو بکرہ نے ابو داؤد سے بیان کیا ۔

أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6016

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6017

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب ويعقوب بن إسحاق الحضرمي قالوا ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة بن شراحيل قال حدثني رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وأحسبه قال في غزوتي هذه قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هل تدرون أي يوم هذا قالوا نعم يوم النحر قال صدقتم يوم الحج الأكبر قال هل تدرون أي شهر هذا قالوا نعم ذو الحجة قال صدقتم شهر الله الأصم هل تدرون أي بلد هذا قالوا نعم المشعر الحارم قال صدقتم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن دماؤكم وأموالكم وأحسبه قال وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يوكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا

مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ مجھے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس طرح فرمایا ہمارے اس غزوہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمای کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ یہ قربانی کا دن ہے آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ حج اکبر کا دن ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سا مہینہ ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں یہ ذوالحجہ کا مہینہ ہے آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ اللہ تعالیٰ کا اصم مہینہ ہے کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ۔ انہوں نے کہا ہاں یہ مشعر حرام ہے آپ نے سچ فرمایا تم نے سچ کہا پھر فرمایا بے شک تمہارے خون اور تمہارے اموال راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس ماہ اور تمہارے اس شہر میں آج کے دن کی حرمت و عزت ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم إن دماؤكم وأموالكم وأحسبه ← «صَدَقْتُمْ» ← نعم المشعر الحارم ← صدقتم شهر الله الأصم هل تدرون أي بلد هذا ← نعم ذو الحجة ← هل تدرون أي شهر هذا ← صدقتم يوم الحج الأكبر ← نعم يوم النحر ← هل تدرون أي يوم هذا ← قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← في غزوتي هذه ← رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وأحسبه ← مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وهب ويعقوب بن إسحاق الحضرمي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6017

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6018

5697 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا أبو الأشهب البكراوي هو بن خليفة قال ثنا بن وعون عن محمد بن سيرين عن عبد الرحمن بن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في خطبته يوم النحر في حجة الوداع إن أموالكم وأعراضكم ودماؤكم حرام بينكم في مثل يومكم هذا في مثل بلدكم هذا ألا ليبلغ الشاهد الغائب

عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں جو یوم نحر کو آپ نے ارشاد فرمایا یہ بات فرمائی " ان اموالکم" بے شک تمہارے اموال اور عزتیں اور تمہارے خون اپنے درمیان حرام ہیں جیسا کہ آج کا دن تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے ۔ سنو ! تم میں سے موجود غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← بن وعون ← أبو الأشهب البكراوي هو بن خليفة ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6018

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6019

5698 - حدثنا فهد قال ثنا عمرو بن حفص قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال سمعت أبا صالح يحدث عن أبي سعيد الخدري أو عن أبي هريرة وأراه أبا سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع إن أعظم الأيام حرمة هذا اليوم وإن أعظم الشهور حرمة هذا الشهر وإن أعظم البلدان حرمة هذا البلد وإن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة هذا اليوم وهذا الشهر وهذا البلد هل بلغت قالوا نعم قال اللهم اشهد

ابو صالح نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور میرا خیال یہ ہےکہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا بلا شبہ عظمت کے لحاظ سے سب سے زیادہ عظمت والا شہر یہ ہے بے شک تمہارے خون اور مال تم پر اس طرح معظم ہیں جس طرح آج کا یہ دن عظمت والا ہے اور یہ مہینہ عظمت والا اور یہ شہر عظمت والا ہے کیا میں نے پیغام خداوندی پہنچا دیا انہوں نے کہا جی ہاں تو آپ نے کہا اے اللہ تو گواہ رہنا۔

أبي هريرة وأراه أبا سعيد الخدري ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ ← أَبَا صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6019

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter