شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5996
5676 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبي بكر عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن عثمان عن أبي عمرة الأنصاري عن زيد بن خالد الجهني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ألا أخبركم بخير الشهداء الذي يأتي بشهادته قبل أن يسأل عنها أو يخبر بشهادته قبل أن يسألها قال مالك الذي يخبر بشهادته ولا يعلم بها الذي هي له أو يأتي بها الإمام فيشهد بها عنده وجعله خير الشهداء 4 فأولى بنا أن نحمل الآثار الأول على ما وصفنا من تأويل كل أثر منها حتى لا تتضاد ولا تختلف ولا يدفع بعضها بعضا فتكون الآثار الأول على المعاني التي ذكرنا وتكون هذه الآثار الأخر على تفضيل المبتدي بالشهادة من هي له أو المخبر بها الإمام وقد فعل ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتوا الإمام فشهدوا ابتداء منهم أبو بكرة ومن كان معه حين شهدوا على المغيرة بن شعبة فرأوا ذلك لأنفسهم لازما ولم يعنفهم عمر على ابتدائهم إياه بذلك بل سمع شهاداتهم ولو كانوا في ذلك مذمومين لذمهم من سألكم عن هذا ألا قعدتم حتى تسألوا فلما سمع منهم ولم ينكر ذلك عليهم عمر ولا أحد ممن كان بحضرته من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم دل ذلك على أن فرضهم كذلك وأن من فعل ذلك ابتداء لا عن مسألة محمود فمما روى في ذلك ما
ابو عمرہ انصاری نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بہترین گواہ نہ بتلاؤں پھر فرمایا جو مطالبہ کرنے سے پہلے گواہی دے اور مطالبہ سے پہلے اپنی شہادت کی خبر اور اطلاع دے ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو اپنی گواہی کی خبر دے جبکہ صاحب حق کو اس کی گواہی کا علم بھی نہ ہو یا امام و حاکم کے پاس آکر وہ گواہی دے تو اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین گواہ قرار دیا ہے ۔ ہمارے لیے مناسب یہ ہے کہ ان آثار کی وہ تاویل کی جائے جو ہم نے ذکر کی ہے تاکہ آثار میں تضاد و تخالف نہ ہوا اور وہ ایک دوسرے کی تردید نہ کریں پس آثار اول سے پہلا معنی اور بعد والے آثار سے دوسرا معنی مراد ہو گا کہ شہادت کی ابتداء کرنے والا افضل ہے یا خود امام کو اپنی گواہی کی اطلاع دینے والا افضل ہے اور صحابہ کرام سے اس فعل کا کرنا خود ثابت ہے چنانچہ وہ امام کے پاس آئے اور انہوں نے ابتداء گواہی دی ان صحابہ رضی اللہ عنہ میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جو ان کے ساتھ تھے جبکہ انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے متلق گواہی دی ۔ انہوں نے اسے ضروری قرار دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتداء شہادت پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ ان کی گواہی کو سنا اگر ان کا یہ فعل قابل مذمت ہوتا تو ان کی ضرور مذمت کرتے اور اس طرح فرماتے " من سالکم عن ھذا ؟ الا قعد تم حتی تسالو ا ؟ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات سنی اور انکار نہیں فرمایا اوردیگر مجلس میں موجود اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے بھی نکیر نہیں فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کایہی فریضہ تھا اور جس نے ابتداء بالشہادت کی جبکہ اس سے مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تو اس کا یہ فعل قابل مدح ہے اس سلسلہ میں یہ روایات بھی وارد ہیں ۔
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5996
