Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5996

5676 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبي بكر عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن عثمان عن أبي عمرة الأنصاري عن زيد بن خالد الجهني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ألا أخبركم بخير الشهداء الذي يأتي بشهادته قبل أن يسأل عنها أو يخبر بشهادته قبل أن يسألها قال مالك الذي يخبر بشهادته ولا يعلم بها الذي هي له أو يأتي بها الإمام فيشهد بها عنده وجعله خير الشهداء 4 فأولى بنا أن نحمل الآثار الأول على ما وصفنا من تأويل كل أثر منها حتى لا تتضاد ولا تختلف ولا يدفع بعضها بعضا فتكون الآثار الأول على المعاني التي ذكرنا وتكون هذه الآثار الأخر على تفضيل المبتدي بالشهادة من هي له أو المخبر بها الإمام وقد فعل ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتوا الإمام فشهدوا ابتداء منهم أبو بكرة ومن كان معه حين شهدوا على المغيرة بن شعبة فرأوا ذلك لأنفسهم لازما ولم يعنفهم عمر على ابتدائهم إياه بذلك بل سمع شهاداتهم ولو كانوا في ذلك مذمومين لذمهم من سألكم عن هذا ألا قعدتم حتى تسألوا فلما سمع منهم ولم ينكر ذلك عليهم عمر ولا أحد ممن كان بحضرته من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم دل ذلك على أن فرضهم كذلك وأن من فعل ذلك ابتداء لا عن مسألة محمود فمما روى في ذلك ما

ابو عمرہ انصاری نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بہترین گواہ نہ بتلاؤں پھر فرمایا جو مطالبہ کرنے سے پہلے گواہی دے اور مطالبہ سے پہلے اپنی شہادت کی خبر اور اطلاع دے ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو اپنی گواہی کی خبر دے جبکہ صاحب حق کو اس کی گواہی کا علم بھی نہ ہو یا امام و حاکم کے پاس آکر وہ گواہی دے تو اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین گواہ قرار دیا ہے ۔ ہمارے لیے مناسب یہ ہے کہ ان آثار کی وہ تاویل کی جائے جو ہم نے ذکر کی ہے تاکہ آثار میں تضاد و تخالف نہ ہوا اور وہ ایک دوسرے کی تردید نہ کریں پس آثار اول سے پہلا معنی اور بعد والے آثار سے دوسرا معنی مراد ہو گا کہ شہادت کی ابتداء کرنے والا افضل ہے یا خود امام کو اپنی گواہی کی اطلاع دینے والا افضل ہے اور صحابہ کرام سے اس فعل کا کرنا خود ثابت ہے چنانچہ وہ امام کے پاس آئے اور انہوں نے ابتداء گواہی دی ان صحابہ رضی اللہ عنہ میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جو ان کے ساتھ تھے جبکہ انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے متلق گواہی دی ۔ انہوں نے اسے ضروری قرار دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتداء شہادت پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ ان کی گواہی کو سنا اگر ان کا یہ فعل قابل مذمت ہوتا تو ان کی ضرور مذمت کرتے اور اس طرح فرماتے " من سالکم عن ھذا ؟ الا قعد تم حتی تسالو ا ؟ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات سنی اور انکار نہیں فرمایا اوردیگر مجلس میں موجود اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے بھی نکیر نہیں فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کایہی فریضہ تھا اور جس نے ابتداء بالشہادت کی جبکہ اس سے مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تو اس کا یہ فعل قابل مدح ہے اس سلسلہ میں یہ روایات بھی وارد ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5997

5677 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عفان بن مسلم وسعيد بن أبي مريم قالا حدثنا السري بن يحيى قال ثنا عبد الكريم بن رشيد عن أبي عثمان النهدي قال جاء رجل إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فشهد على المغيرة بن شعبة فتغير لون عمر ثم جاء آخر فشهد فتغير لون عمر ثم جاء آخر فشهد فتغير لون عمر حتى عرفنا ذلك فيه وأنكر لذلك وجاء آخر يحرك بيديه فقال ما عندك يا سلخ العقاب وصاح أبو عثمان صيحة تشبه بها صيحة عمر حتى كربت أن يغشى علي قال رأيت أمرا قبيحا قال الحمد لله الذي لم يشمت الشيطان بأمة محمد فأمر بأولئك النفر فجلدوا

ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دی تو اس کی بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر دوسرا آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر دوسرا آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر ایک اور آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا ۔ یہاں تک کہ اس کا اثر آپ کے چہرہ پر معلوم ہونے لگا آپ اس بات کو انوکھا خیال کیا اور ایک اور شخص آیا جو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہا تھا آپ نے فرمایا اے سزا کو کھینچ کر دور کرنے والے تیرے پاس کیا خبر ہے ۔ ابو عثمان راوی نے زور سے چیخ ماری جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی چیخ کے مشابہہ تھی یہاں تک کہ مجھے بے ہوشی کا خطرہ ہوا ۔ وہ کہنے لگا میں نے ایک بری بات دیکھی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا الحمد اللہ اللہ کا شکر ہے جس نے شیطان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر خوش ہونے کا موقع نہیں دیا ۔ پھر اس گروہ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا چنانچہ ان لوگوں کو کوڑے لگائے گئے ۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ رَشِيدٍ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← عفان بن مسلم وسعيد بن أبي مريم ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5997

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5998

5678 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال أنا محمد بن مسلم الطائفي قال ثنا إبراهيم بن ميسرة عن سعيد بن المسيب قال شهد على المغيرة أربعة فنكل زياد بن أبي سفيان فجلد عمر بن الخطاب الثلاثة واستتابهم فتاب الإثنان وأبى أبو بكرة أن يتوب فكان يقبل شهادتهما حين تابا وكان أبو بكرة لا تقبل شهادته لأنه أبى أن يتوب وكان مثل التصوم من العبادة

ابراہیم بن میسرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ مغیرہ کے متعلق چار آدمیوں نے گواہی دی ان میں سے زیاد بن ابی سفیان نے اس بات سے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں کو کوڑے لگائے اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا تو ان میں سے دو نے توبہ کر لی مگر ابو بکرہ نے توبہ سے انکار کیا تو جب ان دو نے توبہ کر لی تو ان کی گواہی کوقبول کرلیا تو ان میں سے دو نے توبہ کر لی مگر ابو بکرہ نے توبہ سے انکار کیا تو جب ان دو نے توبہ کر لی تو ان کی گواہی کو قبول کر لیا جانے لگا اور ابو بکرہ کی گواہی قبول نہ کی جاتی تھی کیونکہ انہوں نے تو توبہ سے انکار کیا تھا ۔ ( اور یہ توبہ نہ کرنا ) عبادت سے باز رہنے کی طرح تھا ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5998

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5999

5679 - حدثنا فهد قال ثنا إبراهيم قال ثنا الوليد بن عبد الله بن جميع قال حدثني أبو الطفيل قال أقبل رهط معهم امرأة حتى نزلوا فتفرقوا في حوائجهم فتخلف رجل مع امرأة فرجعوا وهو بين رجليها فشهد ثلاثة منهم أنهم رأوه يهب كما يهب المرود في المكحلة وقال الرابع أحمي سمعي وبصري لم أره يهب فيها رأيت سختليه يعني خصيتيه يضربان أستها ورجلاها مثل أذني حمار وعلى مكة يومئذ نافع بن الحارث الخزاعي وكتب إلى عمر فكتب عمر إن شهد رابع بمثل ما شهد الثلاثة فقدمهما اجلدهما وإن كانا محصنين فارجمهما وإن لم يشهدا إلا بما كتبت به إلي فاجلد الثلاثة وخل سبيل الرجل قال فجلد الثلاثة وأخلى سبيل الرجل والمرأة فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد شهد بعضهم ابتداء وقبلها بعضهم وحضر ذلك أكثرهم فلم ينكر فدل ذلك على إتفاقهم جميعا على هذا المعنى وثبت أن معاني الآثار الأول على ما ذكرنا من معانيها التي وصفناها في مواضعها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

ولید بن عبداللہ نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابو الطفیل نے بیان کیا کہ ایک گروہ آیا اور ان کے ساتھ ایک عورت تھی یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر اترے اور اپنی اپنی ضروریات کے لیے چلے گئے ایک مرد عورت کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب وہ واپس لوٹے تو وہ اس کے دونوں پاؤں کے درمیان تھا ان میں سے تین نے گواہی دی کہ انہوں نے اسے اس طرح گھسا ہوا پایا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں گھسی ہوئی ہوتی ہے چوتھے نے کہا میں اپنے کانوں اور آنکھوں کو صحیح خیال کرتا ہوں میں نے اسے گھسا ہوا نہیں دیکھا میں نے اس کے خصیتین کو دیکھا کہ وہ عورت کی سرین سے لگے ہوئے تھے اور اس کے پاؤں گدھے کے دو کانوں کی طرح تھے ان دنوں مکہ مکرمہ کے حاکم حضرت نافع بن حارث خزاعی رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے یہ معاملہ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا اگر چوتھا آدمی بھی ان تینوں کی طرح گواہی دے تو ان دونوں کو لا کر کوڑے مارو اور اگر وہ دونوں شادی شدہ ہوں تو پھر ان کو سنگ سار کر دو اور اگر گواہی کی نوعیت وہی ہو جو تم نے تحریر کی ہے تو تینوں کو ( تہمت کی وجہ سے ) کوڑے لگاؤ اور اس مرد ( اور عورت ) کا راستہ چھوڑ دو ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں کو کوڑے لگائے گئے اور مرد و عورت کا راستہ چھوڑ دیا گیا ۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہیں ان سے بعض ہیں جنہوں نے گواہی کو خود ابتداء کی اور بعض نے اس کو قبول کیا اور اس سے پہلی روایات کے وہ معانی بھی ثابت ہو گئے جو ہم نے پہلے بیان کیے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم کا قول ہے ۔

أَبُو الطُّفَيْلِ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5999

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6000

5680 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب بن أبي حمزة قال أخبرني عروة بن الزبير أن زينب بنت أبي ساحة وأمها أم سلمة أخبرته أن أمها أم سلمة قالت سمع النبي صلى الله عليه و سلم جلبة خصام عند بابه فخرج إليهم فقال إنما أنا بشر وإنه يأتي الخصم ولعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأقضي له بذلك وأحسب انه صادق فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو ليدعها

زینب نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو آپ ان لوگوں کی طرف تشریف لائے اور فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس جھگڑا کرنے والے آتے ہیں ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ فصیح و بلیغ ہو اور میں اس کے مطابق فیصلہ کر دو ں اور میرے خیال میں وہ سچا ہو ۔ فلہذا میں جس شخص کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دو تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے پس اب وہ اس کو لے لے یا چھوڑ دے ( اس پر موقف ہے )

"إِنَّمَا ← أمها أم سلمة أخبرته أن أمها أم سلمة ← عروة بن الزبير أن زينب بنت أبي ساحة ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6000

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6001

5681 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد العزيز الأويسي قال ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

صالح نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6001

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6002

5682 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنكم تختصمون إلي وإنما أنا بشر ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فإنما أقطع له قطعة من النار فلا يأخذه

زینب نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس جھگڑا لاتے ہو اور بلا شبہ میں انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے سے اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ عمدہ ہو تو میں جو کچھ اس سے سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کردوں ۔ فلہذا جس کے لیے میں اس کے مسلمان بھائی کے حق کا فیصلہ کروں گا گویا میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔ پس وہ اسے نہ لے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6002

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6003

5683 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

محمد بن عمرو بن ابی سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6003

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6004

5684 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا وكيع عن أسامة بن زيد سمعه من عبد الله بن نافع مولى أم سلمة عن أم سلمة قالت جاء رجلان من الأنصار يختصمان إلى النبي صلى الله عليه و سلم في مواريث بينهما قد درست ليست بينهما بينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أنا بشر وإنه يأتي الخصم ولعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأقضي له بذلك وأحسب أنه صادق فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو ليدعها فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما حقي لأخي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما إذ فعلتما هذا فاذهبا فاقتسما وتوخيا الحق ثم أستهما ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه

عبداللہ بن نافع مولیٰ ام سلمہ رحمۃ اللہ علیہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ دو انصاری آدمی جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وراثت کا ایک جھگڑ ا لائے جو کہ مٹ چکی تھی اور ان کے دونوں کے پاس کوئی دلیل بھی تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک انسان ہوں میرے ہاں جھگڑے والے آتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ بلیغ بات کرنے والا ہو اور میں اسکی بات پر فیصلہ کر دوں اور اس کو سچا گمان کروں تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کروں وہ اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ہے ۔ پس وہ اس کو لے لے ( اگر اس کا حق بنتا ہے ) یا اس کو چھوڑ دے ۔ پس ( اس بات کو سن کر ) دونوں آدمی رو پڑے اور ہر ایک پکاراٹھا میرا حق میرے بھائی کا ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نے ایسا کر دیا ہے تو اب جاؤ اور اس کو آپس میں بانٹ لو ۔ حق کے متعلق غور کرو اور پھر قرعہ اندازی کر کے اس کے بعد ہر ایک دوسرے کے لیے اسے حلال قرار دے دے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أسامة بن زيد سمعه من عبد الله بن نافع مولى أم سلمة ← وَكِيعٌ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6004

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6005

5685 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أنا أسامة بن زيد فذكر بإسناده مثله

عثمان بن عمر نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پھر ان کی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ۔

أسامة بن زيد فذكر بإسناده مثله ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6005

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6006

5686 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن نافع الصائغ قال حدثني أسامة فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن كل قضاء قضي به حاكم من تمليك مال أو إنالة ملك عن مال أو من إثبات نكاح أو من حله بطلاق أو بما أشبهه أن ذلك كله على حكم الباطن وأن ذلك في الباطن كهو في الظاهر وجب ذلك على ما حكم به الحاكم وإن كان ذلك في الباطن على خلاف ما شهد به الشاهدان وعلى خلاف ما حكم به بشهادتهما على الحكم الظاهر لم يكن قضاء القاضي موجبا شيئا من تمليك ولا تحريم ولا تحليل واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وممن قال بذلك أبو يوسف وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما كان من ذلك من تمليك مال فهو على حكم الباطن كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذه فإنما أقطع له قطعة من النار وما كان من ذلك من قضاء بطلاق أو نكاح بشهود ظاهرهم العدالة وباطنهم الجرحة فحكم الحاكم بشهادتهم على ظاهرهم الذي تعبد الله أن يحكم بشهادة مثلهم معه فذلك يحرم في الباطن كحرمته في الظاهر والدليل على هذا ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المتلاعنين

عبداللہ بن نافع الصائغ نے اسامہ بن زید پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ حاکم جو بھی فیصلہ کرے اس سے کسی مال کا مالک بنانا ہو یا کسی مال سے ملک کو زائل کرنا ہو نکاح کو ثابت کرنا یا طلاق کے ذریعہ نکاح کو نسخ کرنا ہو یا اس سے ملتا جلتا کوئی بھی حکم ہو ۔ یہ تمام احکام باطن پر محمول ہوتے ہیں اور باطن میں بھی ظاہر کے مطابق ہوتے ہیں اس سے حاکم کافیصلہ لازم ہو جاتا ہے اور اگر یہ باطن میں اس بات کے مخالف ہو جس کو گواہوں نے گواہی دی ہے اور جو ان کی گواہی پر بظاہر فیصلہ ہوا ہے باطن میں بھی اس کے بھی خلاف ہوں تو قاضی کسی چیز کو واجب نہیں کر سکتا نہ تو وہ مالک بنا سکتا ہے اور نہ کسی چیز کو حلال و حرام قرار دے سکتا ہے ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے اس قول کو اختیار کرنے والوں میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں ۔ فریق ثانی نے انکی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ جہاں تک مالک بنانے کے فیصلے کا تعلق ہے تو وہ باطل کے حکم پر ہو گا جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جس شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق سے فیصلہ کروں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔ البتہ جو معاملہ نکاح و طلاق سے متعلق ہو تو وہ ایسے گواہوں سے ثابت ہے جو ظاہر میں اصحاب عدل ہیں مگر ان کا باطن مجروح ہے اور حاکم ان کے ظاہر کو دیکھ کر گواہی پر فیصلہ کر دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں کی گواہی پر فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا تو یہ باطن میں بھی اسی طرح قابل احترام ہو گا جیسے کہ ظاہر میں قابل احترام ہے ۔ اس پر دلیل وہ روایت ہے ہے جس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لعان کے سلسلہ میں نقل کیا گیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6006

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6007

5687 - حدثنا يونس قال أنا سفيان عن عمرو بن دينار عن سعيد بن جبير عن عبد الله بن عمر قال فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أخوي بني العجلان وقال لهما حسابكما على الله الله يعلم أن أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال يا رسول الله صداقي الذي أصدقتها قال لا مال لك عليها إن كنت أصدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كاذبا عليها فهو أبعد لك منه

سعید بن جبیر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دو آدمیوں کے درمیان تفریق کر دی اور ان کو فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ( اے مرد ) تمہارا اس عورت پر کوئی حق نہیں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اس مال کا کیا بنے گا جو میں نےبطور مہر ادا کیا آپ نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اس کے ذمہ اب کوئی مال نہیں ۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تو وہ اس چیز کے بدلے میں ہے جو تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے حق میں حلال کیا اور اگر تونے جھوٹ بولا ہے تو وہ تجھ سے بہت دور ہے ۔

فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أخوي بني العجلان ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6007

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter