Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5984

5665 - حدثنا عبد الله بن محمد البصري قال ثنا عارم قال ثنا أبو عوانة عن قتادة عن زرارة بن أبي أوفي عن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خير أمتي القرن الذي بعثت فيهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم قال والله أعلم أذكر الثالث أم لا ثم يفشو قوم يشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويخونون ولا يؤتمنون ويفشو فيهم اليمين

زرارہ بن ابی اوفنیٰ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا سب سے بہتر زمانہ وہ ہے جس میں میری بعثت ہوئی ہے پھر ان لوگوں کا زمانہ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آیا تیسری مرتبہ بھی یہ بات دہرائی یا نہیں ؟ پھر ایسی قوم پھیل جائے گی جو گواہی دے گی حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور وہ نذریں مانیں گے اور ان کو پورا نہ کریں گے اور خیانت کریں گے اور امانت دار نہ ہوں گے ان میں موٹا پا پھیل جائے گا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَارِمٌ، ← عبد الله بن محمد البصري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5985

5666 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن ثابت البزار قال ثنا شعبة عن أبي حمزة عن زهدم بن مضرس الجرمي أنه سمع عمران بن حصين يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خيركم قرني ثم ذكر مثله قالوا فقد ذم النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث الذي يشهد ولا يستشهد قيل لهم هذا على الذي لا يستشهد في بدء الأمر فيكون في شهادته عند الحاكم شاهدا بما لم يشهد عليه ولا يعلمه فعاد معنى هذا الحديث إلى معنى الحديث الأول وذكروا في ذلك أيضا ما

زہدم بن مضرس جرمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو فرماتے سناکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر زمانہ میرا ہے پھر اسی طرح روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو موقع مذمت میں ذکر فرمایا جو طلب گواہی کے بغیر گواہی دینے لگے تو اس کے جواب میں کہا جائےگا اس مراد وہ آدمی ہے جس کو ابتداء میں گواہ نہ بنایا جائے پھر وہ حاکم کے پاس ایسی بات کی گواہی دیتا ہے جس پر اسے گواہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی وہ اسے جانتا ہے فلہذا اس روایت کی معنی پہلی روایت کی طرف لوٹ گیا ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زهدم بن مضرس الجرمي أنه ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5985

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5986

5667 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا الليث بن سعد عن يحيى بن أبي سليم عن مصعب بن عبد الله بن أبي أمية قال حدثتني أم سلمة إنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يأتي على الناس زمان يكذب فيه الصادق ويصدق فيه الكاذب ويخون فين الأمين ويؤتمن فيه الخؤون ويشهد فيه المرء وإن لم يستشهد ويحلف المرء وإن لم يستحلف

مصعب بن عبداللہ بن ابی امیہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا لوگوں پر ایک ایسا و قت آجائے گا جس میں آدمی بھی جھوٹ بولے گا اور جھوٹا سچ بولے گا اور امانت دار خیانت کرے گا اور خائن لوگوں کو امین بنایا جائے گا اور گواہی طلب کرنے کے بغیر آدمی گواہی دے گا اور حلف اٹھوانے کے بغیر حلف اٹھا ئے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حدثتني أم سلمة أنها ← مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5986

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5987

5668 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد ح

ابن مرزوق نے عفان سے انہون نے حماد سے روایت نقل کی ہے ۔

حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5987

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5988

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا هشام بن عبد الملك قال ثنا أبو عوانة قالا جميعا عن أبي بشر عن عبد الله بن شقيق عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم لا أدري أذكر الثالثة أم لا ثم يخلف بعدهم خلوف يعجبهم السمانة ويشهدون ولا يستشهدون

عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر زمانہ میرا ہے پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں مجھے معلوم نہیں آیا انہوں نے تیسری مرتبہ بھی ذکر کیا یا نہیں ۔ پھر ان کے بعد نالائق لوگ آئیں گے ان کو موٹا پا پسند ہو گا اور ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی مگر وہ گواہی دیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← جَمِيعًا ← أَبُو عَوَانَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← وحدثنا بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5988

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5989

5669 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو مسهر قال ثنا صدقة بن خالد قال حدثني عمرو بن شرحبيل عن بلال بن سعد عن أبيه قال قلنا يا رسول الله أي أمتك خير قال أنا وقرني قال قلنا ثم ماذا قال ثم القرن الثاني قال قلنا ثم ماذا قال القرن الثالث قال قلنا ثم ماذا قال ثم يأتي قوم يشهدون ولا يستشهدون ويحلفون ولا يستحلفون ويؤتمنون ولا يؤدون قال أبو جعفر فالكلام في تأويل هذا هو الكلام الذي ذكرنا في تأويل الآثار التي في الفصل الذي قبل هذا واحتجوا في ذلك أيضا بما

عمرو بن شرحبیل نے بلال بن سعد سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کے سب سے بہتر لوگ کون ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میرا زمانہ ۔ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا پھر کون سا؟ فرمایا دوسرا زمانہ پھر ہم نے کہاپھرکون ؟ فرمایا تیسرا زمانہ (تیسری صدی) راوی کہتے ہیں ہم نے کہا پھر کونسا؟ آپ نے فرمایا پھر ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور وہ قسمیں اٹھائیں گے حالانکہ ان سے قسم نہ اٹھوائی جائے گی اور وہ امین بنائے جائیں گے اور وہ امانتوں کو ادا نہ کریں گے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس روایت کی تاویل وہی ہے جو سابقہ آثار کی کر چکے دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ ان روایات سے بھی استدلال کیا گیا ۔

قُلْنَا ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5989

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5990

5670 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا شعبة عن منصور وسليمان أي الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة أي السلماني عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خيركم قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يخلف قوم يسبق شهادتهم أيمانهم وأيمانهم شهادتهم

عبید ہ سلمانی نے عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ان کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت کرنے والی ہو گی اور ان کی قسمیں گواہی سے سبقت کرنے والی ہوں گی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عبيدة أي السلماني ← إِبْرَاهِيمَ، ← منصور وسليمان أي الأعمش ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5990

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5991

5671 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أحمد بن سكيت قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابراہیم نے عبیدہ سے پھر انہوں نے حضرت عبداللہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أحمد بن سكيت ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5992

5672 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة الجريري عن أبي نضرة عن عبد الله بن مولة قال كنت أسير مع بريدة الأسلمي وهو يقول اللهم ألحقني بقرني الذي أنا منه ثلاثا وأنا معه فقلت وأنا فدعا لي ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول خير هذه الأمة القرن الذي بعثت فيهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يكون قوم تسبق شهاداتهم أيمانهم وأيمانهم شهاداتهم

عبداللہ بن مولہ کہتے ہیں کہ میں حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا اور وہ یہ دعا کرتے تھے الھم الحقنبی بقرنی الذی انامنہ ) اے اللہ مجھ سے میرا وہ ساتھی ملا دے جس سے میں ہوں ۔ یہ تین مرتبہ دہرایا میں نے کہا اور میں پھر میرے لیے دعا فرمائی پھر کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اس امت کا سب سے بہتر زمانہ وہ ہے جس میں میری بعثت ہوئی پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر ایسے لوگ آئیں گے انکی گواہی ان کی قسموں سے سبقت کرنے والی ہو گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے آگے بڑھنے والی ہوں گی ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← فدعا لي ثم ← معه فقلت ← منه ثلاثا ← اللهم ألحقني بقرني الذي ← كنت أسير مع بريدة الأسلمي وهو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ ← أَبِي نَضْرَةَ ← حماد بن سلمة الجريري ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5993

5673 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن عاصم عن خيثمة عن النعمان بن بشير عن النبي صلى الله عليه و سلم قال خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يخلف قوم تسبق شهاداتهم أيمانهم وأيمانهم شهاداتهم

خیثمہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ سب سے بہتر میرے زمانہ والے لوگ ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر کچھ لوگ قسمیں اٹھائیں گے ان کی گواہی ان کی قسموں سے اور قسمیں گواہی سے سبقت کرنے والی ہوں گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← خيثمة ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5994

5674 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم فذكر بإسناده مثله وزاد ثم الذين يلونهم مرة أخرى ثم يأتي قوم فكان من حجتنا على الذين احتجوا بهذه الآثار لأهل المقالة الأولى أن هذه الشهادة لم يرد بها الشهادة على الحقوق وإنما أريد بها الشهادة في الأيمان وقد روى ما يدل على ذلك عن إبراهيم النخغي

ابو بکر بن عیاش نے عاصم سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں ثم الذین یلو نہم ایک مرتبہ اضافہ ہے اس کے بعد ثم یاتی قوم ہے ۔ ان روایات میں جس شہادت کا تذکرہ ہے اس سے شہادت علی الحقوق مراد نہیں ہے اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے ایسی بات منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5995

5675 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا شيبان عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال قلنا يا رسول الله أي الناس خير قال قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجئ قوم يسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته قال إبراهيم كان أصحابنا ينهوننا ونحن غلمان أن نحلف بالشهادة والعهد فدل هذا من قول إبراهيم أن الشهادة التي ذم النبي صلى الله عليه و سلم صاحبها هي قول الرجل أشهد بالله ما كان كذا على معنى الحلف فكره ذلك كما يكره الحلف لأنه مكروه للرجل الإكثار منه وإن كان صادقا فنهى عن الشهادة التي هي حلف كما نهى عن اليمين إلا أن يستحلف بها فيكون حينئذ معذورا ولعله أن يكون أراد بالشهادة التي ذكرنا الحلف على ما لم يكن لقوله ثم يفشو الكذب فتكون تلك الشهادة شهادة كذب وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في تفضيل الشاهد المبتدي بالشهادة ما

ابراہیم نے عبیدہ سے انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا میرے زمانہ والے پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر کچھ لوگ ایسے آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے سبقت کر نے والی ہو گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت کرنے والی ہو گی ۔ ابراہیم کہتے ہیں جب ہم بچے تھے تو ہمارے احباب ہمیں شہادت و عہد کے ساتھ قسم اٹھانے سے منع کرتے تھے ۔ ابراہیم کا یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شہادت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذمت فرمائی اس سے مراد کسی آدمی کا اس طرح بطر حلف کہنا ہے " اشھد با اللہ ماکان کذا" پس اس کو ناپسند کیا گیا جیسا کہ حلف کو بھی ناپسند کیاگیا اگرچہ آدمی سچا ہو مگر اسے ایسا بار بار کہنا ناپسندیدہ حرکت ہے پس شہادت والے حلف سے روکا گیا جیسا کہ قسم سے روکا گیا ہاں اگر اس سے حلف اٹھوایا جائے گا تو اس وقت وہ معذور شمار ہو گا ۔ ممکن ہے اس مذکورہ شہادت سے مراد ایسے کام پر قسم کھانا ہو جو وقوع پذیر نہیں ہوا ۔ کیونکہ آپ نے فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا پس اس گواہی سے مراد جھوٹی گواہی ہو گی ۔

قُلْنَا ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5995

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter