شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5984
5665 - حدثنا عبد الله بن محمد البصري قال ثنا عارم قال ثنا أبو عوانة عن قتادة عن زرارة بن أبي أوفي عن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خير أمتي القرن الذي بعثت فيهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم قال والله أعلم أذكر الثالث أم لا ثم يفشو قوم يشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويخونون ولا يؤتمنون ويفشو فيهم اليمين
زرارہ بن ابی اوفنیٰ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا سب سے بہتر زمانہ وہ ہے جس میں میری بعثت ہوئی ہے پھر ان لوگوں کا زمانہ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آیا تیسری مرتبہ بھی یہ بات دہرائی یا نہیں ؟ پھر ایسی قوم پھیل جائے گی جو گواہی دے گی حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور وہ نذریں مانیں گے اور ان کو پورا نہ کریں گے اور خیانت کریں گے اور امانت دار نہ ہوں گے ان میں موٹا پا پھیل جائے گا۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَارِمٌ، ← عبد الله بن محمد البصري
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5984
