شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5972
5653 - حدثنا بحر قال ثنا عبد الله بن وهب قال حدثني عمرو بن محمد عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى القضاء باليمين مع الشاهد الواحد في خاص من الأشياء في الأموال خاصة واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب أن يقضى في شيء من الأشياء إلا برجلين أو رجل وامرأتين ولا يقضى بشاهد ويمين في شيء من الأشياء قالوا أما ما رويتموه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما ذكر فيه أنه قضى باليمين مع الشاهد فقد دخله الضعف الذي لا يقوم به معه حجة وأما حديث زمعة عن سهيل فقد سأل الدراوردي سهيلا عنه فلم يعرفه ولو كان ذلك من السنن المشهورة والأمور المعروفة إذا لما ذهب عليه وأنتم قد تضعفون من الأحاديث ما هو أقوى من هذا الحديث بأقل من هذا وأما حديث عثمان بن الحكم عن زهير بن محمد عن سهيل عن أبيه عن زيد بن ثابت فمنكر أيضا لأن أبا صالح لا تعرف له رواية عن زيد ولو كان عند سهيل من ذلك شيء ما أنكر على الدراوردي ما ذكرتم عن ربيعة ويقول له لم يحدثني به أبي عن أبي هريرة ولكن حدثني به عن زيد بن ثابت مع أن عثمان بن الحكم ليس بالذي يثبت مثل هذا بروايته وأما حديث بن عباس فمنكر لأن قيس بن سعد لا نعلمه يحدث عن عمرو بن دينار بشيء فكيف يحتجون به في مثل هذا وأما حديث جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر فإن عبد الوهاب رواه كما ذكرتم وأما الحفاظ مالك وسفيان الثوري وأمثالهما فرووه عن جعفر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم ولم يذكروا فيه جابرا وأنتم لا تحتجون بعبدالوهاب فيما يخالف فيه الثوري ومالكا ثم لو لم ينازع في طريق هذا الحديث وسلمت على هذه الألفاظ التي قد رويت عليها لكانت محتملة للتأويل الذي لا يقوم لكم بمثلها معه الحجة وذلكم أنكم إنما رويتم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى باليمين مع الشاهد الواحد ولم يبين في الحديث كيف كان ذلك السبب ولا المستحلف من هو فقد يجوز أن يكون ذلك على ما ذكرتم ويجوز أ يكون أريد به يمين المدعي عليه إدعى المدعى ولم يقم على دعواه إلا شاهدا واحدا فاستحلف له النبي صلى الله عليه و سلم المدعى عليه فروى ذلك ليعلم الناس أن المدعى يجب له اليمين على المدعى عليه لا بحجة أخرى غير الدعوى لا يجب له اليمين إلا بها كما قال قوم إن المدعى لا يجب له اليمين فيما إدعى إلا أن يقيم البينة أنه قد كانت بينه وبين المدعى عليه خلطة ولبس فإن أقام على ذلك بينة استحلف له وإلا لم يستحلف فأراد الذي روى هذا الحديث أن ينفي هذا القول ويثبت اليمين بالدعوى وإن لم يكن مع الدعوى غيرها فهذا وجه وقد يجوز أن يكون أريد به يمين المدعي مع شاهده الواحد لأن شاهده الواحد كان ممن يحكم بشهادته وحده وهو خزيمة بن ثابت فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان عدل شهادته بشهادة رجلين
عمروبن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ ایک گواہ اور قسم سے بعض خاص مالی معاملات میں فیصلہ فرمایا اور انہوں نے ان آثار کو بطور دلیل پیش کیا ۔ فریق ثانی کا کہنا ہیک سی بھی چیز میں ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ وہ فیصلہ نافذ ہو گا جو کہ دو مروں کی گواہی یا ایک مرد اور دو دعورتوں کی گواہی سے کیا جائے گا ۔ جواب دلیل :۔یہ روایت جو آپ نے پیش کی یہ ضعیف روایت ہے اسکو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے ۔ رہی زمعہ والی روایت جس کوسہیل سے نقل کیا گیا ہے تو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ دراور دی نے خود سہیل سے اسکے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں تو اس روایت کو نہیں جانتا اگر یہ روایت سنن مشہورہ سے ہوتی تو اس سے یہ معاملہ نہ ہوتا آپ تو اس سے زیادہ قوی روایات کوبھی ضعیف قرار دیتے ہو۔ عثمان بن حکم جس کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے وہ منکر ہے کیونکہ ابو صالح کی کوئی روایت حضرت زید رضی اللہ عنہ سے معروف نہیں ہے ۔ اگر اس سلسلے میں سہیل کے پاس کوئی روایت ہوتی تو وہ در اور دی کے سامنے انکار نہ کرتے ربیعہ کی روایت جس میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے والد نے تو یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان نہیں کی مگر مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کی حالانکہ عثمان بن حکم ایسا راوی نہیں ہے کہ جس کی روایت سے اس قسم کی بات ثابت ہو سکے روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی منکر ہے کیونکہ قیس بن سعد ہمارے علم کی حد تک تو عمرو بن دینار سے کچھ بھی روایت نہیں کرتے توا س قسم کے معاملات میں وہ اس کی روایت سے کیسے دلیل بناتے ہیں ؟ جعفر بن محمد کی روایت جو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس سند کے ساتھ تو اس کو عبدالوہاب نے نقل کیا ۔ مگر حفاظ حدیث مالک سفیان جیسے علماء نے جعفر عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نقل کی اور جابر کا تذکرہ نہیں کیا اور عبدالواہاب کی روایت ثوری و مالک کے خلاف قابل حجت نہیں ۔ اگر سند کی اس بحث سے قطع نظر کر کے روایت کو من و عن تسلیم کر لیا جائے پھر بھی اس میں احتمال تاویل ہونے کی وجہ سے تمہارے ہاں قابل حجت نہ بنے گی تم نے یہ روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا روایت سے اس کا کہیں پتہ نہیں چلتا اور نہ حلف اٹھانے والا معلوم ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ مفہوم ہو جو آپ نے مراد لیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد مدعی علیہ کی قسم ہو ۔ جب مدعی نے دعویٰ تو کر دیا مگر اپنے دعویٰ پر فقط ایک گواہ پیش کر سکا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم لے کرفیصلہ فرما دیا پس یہ روایت بیان کر دی گئی تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مدعی کے لازم ہے کہ اس کی خاطر مدعیٰ علیہ پر قسم آئے جبکہ دعویٰ کے لیے اور دلیل نہ ہو اور اس کے حق کے لیے قسم صرف اسی صورت میں لازم ہو گی ۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مدعی کو اپنے حق کے لیے قسم لینا لازم نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ اس پر دلیل پیش کر دے کہ اس کے اور مدعی علیہ کے درمیان گڑ بڑ و اشتیباہ تھا اگر وہ اس پر دلیل قائم کردے تو اس کے لیے مدعی علیہ سے ھلف لیا جائے گا ورنہ نہیں ۔ پس جس نے اس روایت کو بیان کیا اس کا مقصد اس بات کی نفی کرنا تھا کہ قسم تو صرف دعویٰ ہی سے ثابت ہوجاتی ہے اگرچہ دعویٰ کے ساتھ کوئی اور بات نہ ہو ۔ تو یہ اس ھدیث کا باعث ہے یہ بھی ممکن ہے کہ مدعی سے ایک گواہ کے ساتھ قسم لینا مراد ہو کیونکہ اس کا ایک گواہ ان لوگوں سے ہو جس اکیلے کی گواہی سے فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن کی گواہی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گواہوں کے برابر قرار دیا ۔ روایت یہ ہے ۔
أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرٌ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5972
