Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5972

5653 - حدثنا بحر قال ثنا عبد الله بن وهب قال حدثني عمرو بن محمد عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى القضاء باليمين مع الشاهد الواحد في خاص من الأشياء في الأموال خاصة واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب أن يقضى في شيء من الأشياء إلا برجلين أو رجل وامرأتين ولا يقضى بشاهد ويمين في شيء من الأشياء قالوا أما ما رويتموه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما ذكر فيه أنه قضى باليمين مع الشاهد فقد دخله الضعف الذي لا يقوم به معه حجة وأما حديث زمعة عن سهيل فقد سأل الدراوردي سهيلا عنه فلم يعرفه ولو كان ذلك من السنن المشهورة والأمور المعروفة إذا لما ذهب عليه وأنتم قد تضعفون من الأحاديث ما هو أقوى من هذا الحديث بأقل من هذا وأما حديث عثمان بن الحكم عن زهير بن محمد عن سهيل عن أبيه عن زيد بن ثابت فمنكر أيضا لأن أبا صالح لا تعرف له رواية عن زيد ولو كان عند سهيل من ذلك شيء ما أنكر على الدراوردي ما ذكرتم عن ربيعة ويقول له لم يحدثني به أبي عن أبي هريرة ولكن حدثني به عن زيد بن ثابت مع أن عثمان بن الحكم ليس بالذي يثبت مثل هذا بروايته وأما حديث بن عباس فمنكر لأن قيس بن سعد لا نعلمه يحدث عن عمرو بن دينار بشيء فكيف يحتجون به في مثل هذا وأما حديث جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر فإن عبد الوهاب رواه كما ذكرتم وأما الحفاظ مالك وسفيان الثوري وأمثالهما فرووه عن جعفر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم ولم يذكروا فيه جابرا وأنتم لا تحتجون بعبدالوهاب فيما يخالف فيه الثوري ومالكا ثم لو لم ينازع في طريق هذا الحديث وسلمت على هذه الألفاظ التي قد رويت عليها لكانت محتملة للتأويل الذي لا يقوم لكم بمثلها معه الحجة وذلكم أنكم إنما رويتم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى باليمين مع الشاهد الواحد ولم يبين في الحديث كيف كان ذلك السبب ولا المستحلف من هو فقد يجوز أن يكون ذلك على ما ذكرتم ويجوز أ يكون أريد به يمين المدعي عليه إدعى المدعى ولم يقم على دعواه إلا شاهدا واحدا فاستحلف له النبي صلى الله عليه و سلم المدعى عليه فروى ذلك ليعلم الناس أن المدعى يجب له اليمين على المدعى عليه لا بحجة أخرى غير الدعوى لا يجب له اليمين إلا بها كما قال قوم إن المدعى لا يجب له اليمين فيما إدعى إلا أن يقيم البينة أنه قد كانت بينه وبين المدعى عليه خلطة ولبس فإن أقام على ذلك بينة استحلف له وإلا لم يستحلف فأراد الذي روى هذا الحديث أن ينفي هذا القول ويثبت اليمين بالدعوى وإن لم يكن مع الدعوى غيرها فهذا وجه وقد يجوز أن يكون أريد به يمين المدعي مع شاهده الواحد لأن شاهده الواحد كان ممن يحكم بشهادته وحده وهو خزيمة بن ثابت فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان عدل شهادته بشهادة رجلين

عمروبن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ ایک گواہ اور قسم سے بعض خاص مالی معاملات میں فیصلہ فرمایا اور انہوں نے ان آثار کو بطور دلیل پیش کیا ۔ فریق ثانی کا کہنا ہیک سی بھی چیز میں ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ وہ فیصلہ نافذ ہو گا جو کہ دو مروں کی گواہی یا ایک مرد اور دو دعورتوں کی گواہی سے کیا جائے گا ۔ جواب دلیل :۔یہ روایت جو آپ نے پیش کی یہ ضعیف روایت ہے اسکو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے ۔ رہی زمعہ والی روایت جس کوسہیل سے نقل کیا گیا ہے تو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ دراور دی نے خود سہیل سے اسکے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں تو اس روایت کو نہیں جانتا اگر یہ روایت سنن مشہورہ سے ہوتی تو اس سے یہ معاملہ نہ ہوتا آپ تو اس سے زیادہ قوی روایات کوبھی ضعیف قرار دیتے ہو۔ عثمان بن حکم جس کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے وہ منکر ہے کیونکہ ابو صالح کی کوئی روایت حضرت زید رضی اللہ عنہ سے معروف نہیں ہے ۔ اگر اس سلسلے میں سہیل کے پاس کوئی روایت ہوتی تو وہ در اور دی کے سامنے انکار نہ کرتے ربیعہ کی روایت جس میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے والد نے تو یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان نہیں کی مگر مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کی حالانکہ عثمان بن حکم ایسا راوی نہیں ہے کہ جس کی روایت سے اس قسم کی بات ثابت ہو سکے روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی منکر ہے کیونکہ قیس بن سعد ہمارے علم کی حد تک تو عمرو بن دینار سے کچھ بھی روایت نہیں کرتے توا س قسم کے معاملات میں وہ اس کی روایت سے کیسے دلیل بناتے ہیں ؟ جعفر بن محمد کی روایت جو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس سند کے ساتھ تو اس کو عبدالوہاب نے نقل کیا ۔ مگر حفاظ حدیث مالک سفیان جیسے علماء نے جعفر عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نقل کی اور جابر کا تذکرہ نہیں کیا اور عبدالواہاب کی روایت ثوری و مالک کے خلاف قابل حجت نہیں ۔ اگر سند کی اس بحث سے قطع نظر کر کے روایت کو من و عن تسلیم کر لیا جائے پھر بھی اس میں احتمال تاویل ہونے کی وجہ سے تمہارے ہاں قابل حجت نہ بنے گی تم نے یہ روایت بیان کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا روایت سے اس کا کہیں پتہ نہیں چلتا اور نہ حلف اٹھانے والا معلوم ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ مفہوم ہو جو آپ نے مراد لیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد مدعی علیہ کی قسم ہو ۔ جب مدعی نے دعویٰ تو کر دیا مگر اپنے دعویٰ پر فقط ایک گواہ پیش کر سکا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم لے کرفیصلہ فرما دیا پس یہ روایت بیان کر دی گئی تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مدعی کے لازم ہے کہ اس کی خاطر مدعیٰ علیہ پر قسم آئے جبکہ دعویٰ کے لیے اور دلیل نہ ہو اور اس کے حق کے لیے قسم صرف اسی صورت میں لازم ہو گی ۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مدعی کو اپنے حق کے لیے قسم لینا لازم نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ اس پر دلیل پیش کر دے کہ اس کے اور مدعی علیہ کے درمیان گڑ بڑ و اشتیباہ تھا اگر وہ اس پر دلیل قائم کردے تو اس کے لیے مدعی علیہ سے ھلف لیا جائے گا ورنہ نہیں ۔ پس جس نے اس روایت کو بیان کیا اس کا مقصد اس بات کی نفی کرنا تھا کہ قسم تو صرف دعویٰ ہی سے ثابت ہوجاتی ہے اگرچہ دعویٰ کے ساتھ کوئی اور بات نہ ہو ۔ تو یہ اس ھدیث کا باعث ہے یہ بھی ممکن ہے کہ مدعی سے ایک گواہ کے ساتھ قسم لینا مراد ہو کیونکہ اس کا ایک گواہ ان لوگوں سے ہو جس اکیلے کی گواہی سے فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن کی گواہی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گواہوں کے برابر قرار دیا ۔ روایت یہ ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5972

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5973

5654 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني عمارة بن خزيمة الأنصاري أن عمر حدثه وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ابتاع فرسا من أعرابي فاستتبعه ليقبضه ثمن فرسه فأسرع النبي صلى الله عليه و سلم المشي وأبطأ الأعرابي فطفق رجال يعترضون الأعرابي فيساومونه بالفرس لا يشعرون أن النبي صلى الله عليه و سلم إبتاعه حتى زاد بعضهم الأعرابي في السوم على ثمن الفرس الذي إبتاعه به النبي صلى الله عليه و سلم فنادى الأعرابي النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن كنت مبتاعا لهذا الفرس فابتعه وإلا بعته فقال النبي صلى الله عليه و سلم حين سمع نداء الأعرابي فقال أو ليس قد ابتعته منك فقال الأعرابي لا والله ما بعتك فقال النبي صلى الله عليه و سلم بلى قد إبتعته منك فطفق الناس يلوون بالنبي صلى الله عليه و سلم والأعرابي وهما يتراجعان وطفق الأعرابي يقول هلم شهيدا يشهد لك أني قد بايعتك ممن جاء من المسلمين قالوا للأعرابي ويلك إن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن يقول إلا حقا حتى جاء خزيمة فاستمع لمراجعة النبي صلى الله عليه و سلم ومراجعة الأعرابي وهو يقول هلم شهيدا يشهد لك أني قد بايعتك فقال خزيمة أنا أشهد أنك قد بايعته فأقبل النبي صلى الله عليه و سلم على خزيمة فقال بم تشهد فقال بتصديقك يا رسول الله فجعل رسول الله شهادة خزيمة بشهادة رجلين فلما كان ذلك الشاهد الذي قد ذكرنا قد يجوز أن يكون هو خزيمة بن ثابت فيكون المشهود له بشهادته وحده مستحقا لما شهد له كما يستحق غيره بالشاهدين مما شهدا له به فأدعى المدعي عليه الخروج من ذلك الحق إلى المدعي فاستحلفه له النبي صلى الله عليه و سلم على ذلك وأريد بنقل هذا الحديث ليعلم أن المدعي إذا أقام البينة على دعواه وأدعى المدعى عليه الخروج من ذلك الحق إليه أن عليه اليمين مع بينته فهذه وجوه يحتملها ما جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم من قضائه باليمين مع الشاهد فلا ينبغي لأحد أن يأتي إلى خبر قد احتمل هذه التأويلات فيعطفه على أحد بلا دليل يدله على ذلك من كتاب أو سنة أو إجماع ثم يزعم أن من خالف ذلك مخالف لما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكيف يكون مخالفا لما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد تأول ذلك على معنى يحتمل ما قال بل ما خالف إلا تأويل مخالفه بحديث رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يخالف شيئا من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روى عن علي بن أبي طالب كرم الله وجهه ما

عمارہ بن خزیمہ انصاری نے روایت کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں ہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا ۔ وہ آپ کے پیچھے چلاتا کہ گھوڑے کی قیمت وصول کر ے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز چلے اور بدوست رفتاری سے چلا کچھ لوگ اس کو ملنے لگے اور اس سے گھوڑے کا سودا کر رہے تھے ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا سودا کر چلے ہیں یہاں تک کہ بعض نے بدو کو اس سے زیادہ کی پیش کش کی جس پر آپ نے خریدا تھا تو بدو نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی کہ اگر آپ نے گھوڑا خریدنا ہو تو خرید لو ورنہ میں اس کو فروخت کروں گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدو کی آواز سن کر فرمایا کیا یہ میں تم سے خرید نہیں چکا ہوں ؟ اس نے کہا نہیں ۔ اللہ کی قسم میں نے یہ آپ کو نہیں بیچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں یہ تم سے خرید چکا ہوں ۔ لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بدو کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر بات کو لوٹا رہے تھے بدو کہنے لگا تم گواہ لاؤ جو یہ گواہی دے کہ یہ گھوڑا میں نے آپ کو فروخت کر دیا ہے جو مسلمان موقعہ پر آئے وہ بدو کو کہنے لگے تم پر افسوس ہے ! بلا شبہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو سچی بات ہی فرماتے ہیں ( یہ بات ہوتی رہی) یہاں تک کہ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب اور بدو کے جواب کو سنا کہ وہ کہتا جا رہا تھا گواہ جو گواہی دے کہ آپ نے مجھ سے اس کا سودا کر لیا ہے ۔خزیمہ کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس سے یہ گھوڑا خریدا ہے اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ کی طرف توجہ فرمارتے ہوئے کہا تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تصدیق کی وجہ سے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا ۔ پس اگر گواہ اس طرح کا ہو جس کا ہم نے تذکرہ کیا ممکن ہے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہوں تو ان کی صرف ایک گواہی ہی اس چیز کا حقدار بنا دیتی ہے جیسا کہ دوسرے دو گواہوں سے حقدار بنتے ہیں ۔ جب مدعا علیہ نے مدعی کے اپنے حق سے بری الذمہ ہونے کا دعویٰ کیا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( مدعی علیہ) کو اس بات پر قسم دی ۔ اس روایت کے ذکر کرنے سے مقصد یہ بتلانا ہے کہ مدعی جب اپنے دعویٰ پر گواہ قائم کر دے اور مدعیٰ علیہ یہ دعویٰ کرے کہ مدعی علیہ اپنا حق حاصل کر چکا ہے تو اب گواہی کی موجودگی میں اس مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی۔ پس اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فرمایا اس میں ان وجود کا احتمال ہے اب کسی شخص کو کب یہ مناسب ہے کہ وہ ایسی روایت پیش کرے جس میں ان تاویلات کا احتمال ہو پھر کسی ایسی دلیل کے بغیر سے کسی ایک معنی پر محمول کرے جس پر قرآن و سنت یا اجماع سے دلالت نہ پائی جاتی ہو ۔ پھر یہ گمان کرنے لگے کہ جو شخص اس کا مخالف ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایت کا مخالف ہے اب آپ ہی بتلا ئیں کہ وہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کا مخالف ہو سکتا ہے جبکہ اس نے وہ معنی مراد لیا جس کا حدیث میں احتمال ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس نے اپنے مخالف کی ان تاویلات کی مخالفت کی ہے جو اس نے حدیث کے ضمن میں بیان کیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی مخالفت نہیں کی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ملاحظہ ہو ۔

وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عمارة بن خزيمة الأنصاري أن عمر ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5974

5655 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي البحتري عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي قال إذا بلغكم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حديث فظنوا به الذي هو أهنأ والذي هو أهدى والذي هو أبقى والذي هو خير

ابو عبدالرحمن سلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جب تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی روایت پہنچے اس کا وہ معنی خیال میں لاؤ جو زیادہ سہل و آسان زیادہ راہنمائی والا زیادہ باقی رہنے والا اور بہتر ہو ۔

إذا بلغكم ← عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي الْبُحْتُرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5975

5656 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب وأبو الوليد قالا ثنا شعبة عن عمرو فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل والذي هو خير فهكذا ينبغي للناس أن يفعلوا وأن يحسنوا تحقيق ظنونهم ولا يقولون على رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا بما قد علموه فإنهم منهيون عن ذلك معاقبون عليه وكيف يجوز لأحد أن يحمل حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما حمله عليه هذا المخالف وقد وجدنا كتاب الله عز و جل يدفعه ثم السنة المجمع عليها تدفعه أيضا فأما كتاب الله عز و جل فإن الله تعالى يقول فاستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان وقال وأشهدوا ذوي عدل منكم وقد كانوا قبل نزول هاتين الآيتين لا ينبغي لهم أن يقضوا بشهادة ألف رجل ولا أكثر منهم ولا أقل لأنه لا يوصل بشهادتهم إلى حقيقة صدقهم فلما أنزل الله عز و جل ما ذكرنا قطع بذلك العذر وحكم بما أمر به على ما تعبد به خلقه ولم يحكم بما هو أقل من ذلك لأنه لم يدخل فيما تعبدوا به أما السنة المتفق عليها فهي أن لا يحكم بشهادة جار إلى نفسه مغنما ولا دافع عنها مغرما فالحكم باليمين مع الشاهد الواحد على ما حمل عليه هذا المخالف لنا حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه حكم لمدعي يمينه فذلك حكم لجار إلى نفسه بيمينه فهذه سنة متفق عليها تدفع الحكم باليمين مع الشاهد مع ما قد دفعه أيضا مما قد ذكرنا من كتاب الله تعالى فأولى الأشياء بنا أن نصرف حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى ما يوافق كتاب الله تعالى والسنة المتفق عليها لا إلى ما يخالفها أو يخالف أحدهما ولقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نصا ما يدفع القضاء باليمين مع الشاهد على ما أدعى هذا المخالف لنا

وہب اور ابو الولید دونوں نےکہا کہ ہمیں شعبہ نے عمرو پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ ( والدی ھو خیر) کے الفاظ مذکور نہیں ۔ اسی طرح لوگوں کو ایسا کرنا اور اپنے گمانوں کوعمدہ بنانا چاہیے ان کو اچھی طرح معلوم ہونے کے بغیر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بات نہ کہنی چاہیے ۔ کیونکہ ان کو اس بات سے منع کیا گیا ہے اور اس پر ان کو سز ابھی دی جائے گی کس کے لیے کس طرح مناسب ہے کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی وہ مراد بتلائے جوکہ ہمارے مخالف نے لی ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اس مفہوم کی تردید کر تاہے پھر متفق علیہ سنت بھی اس کی تردید کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیں واشھد و اشھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامر اتان (البقرہ 282) اور فرمایا ( واشھدو اذوی عدل منکم )(الطالق 2) ان دو آیات کے نزول سے پہلے ان کے لیے جائز نہ تھا کہ وہ ایک ہزار مردوں یا ان سے کم اور زیادہ کی گواہی سے فیصلہ کرتے کیونکہ ان کی گواہی سے پتہ چلتا کہ کون حقیقت میں سچا ہے جب یہ مذکورہ بالا آیات نازل فرمائیں تو عذر جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اتنی تعداد کا ذکر فرمایا جو عبادت کو قائم کر سکے اس سے کم کا حکم نہیں فرمایا کیونکہ وہ ان کی ( اجتماعی) عبادت کی تعداد میں داخل نہیں۔ اتفاقی سنت کے بھی خلاف ہے اتفاق سنت یہ ہےکہ ایسے شخص کی گواہی سے فیصلہ نہ کیا جائے جوا پنے نفع کھینچنے والا ہو اور نہ اس کی گواہی سے جو اپنے اوپر سے تاوان کو دور کرنے والا ہو ۔ پس ایک گواہ کے ساتھ قسم کے ذریعہ ہے یہ تو قسم کے ساتھ اپنے لیے نفع حاصل کرنے والے کے حق میں فیصلہ کرنے کے مترادف ہے تو یہ متفق علیہ سنت ہے جو گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کرنے کو رد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہم نے قرآن مجید کا حکم بیان کیا ہے وہ بھی اس کی نفی کرتا ہے پس ہمارے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو اس معنی پر محمول کریں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتفاقی سنت اور قرآن مجید کے مطابق ہو اس معنی پر محمول نہ کرنا چاہیے جو اس سنت یا ان میں سے کسی ایک کے مخالف ہو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح طور پر روایت وارد ہے جو ایک گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلے کی نفی کرتی ہے جس کا دعویٰ ہمارے مخالف کو ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5975

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5976

5657 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن خزيمة جميعا قالا ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا أبو عوانة عن عبد الحميد عن عبد الملك بن عمير عن علقمة بن وائل عن وائل بن حجر قال كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتاه رجلان يختصمان في أرض فقال أحدهما إن هذا يا رسول الله انتزأ علي أرضه في الجاهلية وهو أمرئ القيس بن عائش الكندي وخصمه ربيعة بن عنوان فقال له بينتك فقال ليس لي بينة قال يمينه قال إذا يذهب بها قال ليس لك إلا ذلك فلما قام ليحلف قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اقتطع أرضا ظالما لقى الله وهو عليه غضبان

علقمہ بن وائل نے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ دو آدمی حاضر ہوئے جو زمین کے متعلق باہمی جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا اور وہ شخص امرا لقیس بن عائش کندی تھا اور اس کا مخالف ربیعہ بن عبدان تھا آپ نے اس سے فرمایا پھر وہ قسم اٹھائے گا اس نے کہا اس طرح تو وہ زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا تمہارے لیے تویہی ہے کہ ( گواہ پیش کرو) جب قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ظلم کے طور پر کوئی زمین حاصل کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوں گے۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← إبراهيم بن مرزوق ومحمد بن خزيمة جميعا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5977

5658 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه قال جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الحضرمي يا رسول الله إن هذا قد غلبني على أرض كانت لي فقال الكندي هي أرضي في يدي أزرعها ليس له فيها حق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للحضرمي ألك بينة فقال لا فقال النبي صلى الله عليه و سلم فأحلفه فقال إنه ليس له يمين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس لك منه إلا ذلك فانطلق ليحلفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما إنه إن حلف على مالك ظالما ليأكله لقى الله وهو عنه معرض

علقمہ بن وائل نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضر موت کا ایک شخص اور ایک کندی شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرمی نے کہا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے میری زمین پر قبضہ جما لیا ہے کندی نے کہا وہ میری زمین ہے جو میرے قبضہ میں ہے میں اس کو کاشت کرتا ہوں اس کا اس میں کچھ بھی حق نہیں ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حضرمی ! تم گواہ رکھتے ہو اس نے کہا نہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے قسم لے لو ۔ حضرمی نے کہا اس کی قسم کا اعتبار نہیں ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے اس کی طرف سے یہی ہو سکتا ہے وہ کندی قسم اٹھانے لگا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا سنو ! اگر یہ تمہارے مال کے متعلق اس کو ظلما ً کھا جانے کے لیے (جھوتی ) قسم اٹھائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا وہ اس سے منہ موڑنے والا ہو گا۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5977

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5978

5659 - حدثنا فهد قال ثنا جندل بن والق قال ثنا أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله غير أنه قال فقال الحضرمي يا رسول الله إن هذا غلبني على أرض كانت لي قال أبو جعفر فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يمينك أو يمينه ليس لكم فيه إلا ذلك دل على أنه لا يستحق شيئا بغير البينة فهذا ينفي القضاء باليمين مع الشاهد والذي هو أولى بنا أن نحمل وجه ما اختلف فيه تأويله من الحديث الأول على ما يوافق هذا لا على ما يخالفه وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو يعطي الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه فدل ذلك أن اليمين لا يكون أبدا إلا على المدعى عليه وقد ذكرنا بالإسناد فيما تقدم من هذا الكتاب وأما النظر في هذا فإنه يغنينا عن ذكر أكثر فساد قول الذين ذهبوا إلى القضاء باليمين مع الشاهد فجعلوا ذلك في الأموال خاصة دون سائر الأشياء فلما ثبت أنه لا يقضي بيمين وشاهد في غير الأموال كان حكم الأموال في النظر أيضا كذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد

جندل بن والق نے ابو الا حوص سے پھر اس نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میری زمین پر قابض ہو گیا امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری قسم یا اس کی قسم کے علاوہ اس میں اور کوئی چیز تمہارے لیے نہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ دلیل کے علاوہ اور کسی چیز کا وہ حقدار نہیں ہے یہ بات ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلے کی نفی کرتی ہے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اس روایت کا وہ مفہوم لیں جو دیگر روایات کے موافق ہے وہ نہیں جو اس کے مخالف ہو ۔ حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو ان کے فقط دعویٰ پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے آدمیوں کے خونوں اوراموال کے مدعی بن بیٹھیں گے لیکن قسم مدعی علیہ پر ہے ۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قسم ہمیشہ مدعیٰ علیہ پر ہوتی ہے یہ روایت اسناد کے ساتھ پہلے ذکر کر آئے ہیں جہاں تک قیس کا تعلق ہے فریق اول کے قول کے فاسد ہونے کے لیے قیاس کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے کہ ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیا جائے کیونکہ انہوں نے بھی اس کا حکم کو اموال سے خاص کیا ہے ۔ (دوسرے امور میں وہ بھی جواز کے قائل نہیں ) پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ غیر اموال میں قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو اب قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اموال کا کا کم بھی یہی ہے ۔امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔

فقال الحضرمي ← أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله غير أنه ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5979

5660 - حدثنا وهبان قال ثنا أبو همام قال ثنا بن المبارك عن بن أبي ذئب عن الزهري أن معاوية أول من قضى باليمين مع الشاهد وكان الأمر على غير ذلك والله أعلم [ ص 149 ]

ابن ابی الذئب نے زہری سے بیان کیا کہ سب سے پہلا آدمی جس نے قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ کیا وہ حضرت معاویہ تھے حالانکہ پہلے معاملہ اس کے خلاف تھا ۔ واللہ اعلم ۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← وهبان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5980

5661 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزبير قال ثنا إسرائيل قال ثنا عبد الملك بن عمير قال ثنا جابر بن سمرة قال خطبنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه بالجابية فقال قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم اليوم فقال أحسنوا إلى أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشوا الكذب حتى يشهد الرجل على الشهادة لا يسألها وحتى يحلف الرجل على اليمين لا يستحلف

عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقام جابیہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ذکر کیا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جس طرح آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ نے ارشاد فرمایا میر ے صحابہ کرام سے حسن سلوک کرو پھر ان لوگوں سے جو ان کے قریب ہیں ( تابعین) پھر جو ان سے قریب ہیں ( تبع تابعین) پھرجھوٹ پھیل جائے گا۔ یہاں تک کہ آدمی گواہی دے گا ھالانکہ اس سےگواہی طلب نہیں کی جائے گی اور قسم بھی طلب کے بغیر کھائےگا۔

قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم اليوم ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5981

5662 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا عارم بن الفضل قال ثنا جرير بن حازم قال ثنا عبد الله بن عمر فذكر بإسناده مثله غير أنه قال أحسنوا إلى أصحابي الذين يلونهم ثم يفشوا الكذب

جریر بن حازم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی صرف ان الفاظ کا فرق ہے ۔ احسنو الی اصحابی ثم الذین یلونھم تم الذین یلو نھم ثم یفشوا الکذب"

أحسنوا إلى أصحابي الذين يلونهم ثم يفشوا الكذب ← عبد الله بن عمر فذكر بإسناده مثله غير أنه ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5982

5663 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا حماد بن زيد قال ثنا معاوية بن قرة المزني قال سمعت كهمسا يقول سمعت عمر يقول فذكر نحو حديث أبي بكرة عن أبي أحمد فذهب قوم إلى أن من شهد بالشهادة قبل أن يسألها مذموم واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل هو محمود مأجور على ما كان منه من ذلك وكان من الحجة لهم في دفع ما احتج به عليهم أهل المقالة الأولى أن النبي صلى الله عليه و سلم قال ثم يفشوا الكذب حتى يشهد الرجل على الشهادة لا يسألها وحتى يحلف على اليمين لا يستحلف فمعنى ذلك أن يشهد كاذبا أو يحلف كاذبا لأنه قال حتى يفشوا الكذب فيكون كذا وكذا فلا يجوز أن يكون ذلك الذي يكون إذا فشا الكذب إلا كذبا وإلا فلا معنى لذكره فيفشو الكذب واحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما

گھمس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا پھر ابو بکرہ نے ابو احمد سے جس طرح روایت کی ہے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں فریق اول کا موقف ہے جس نے مطالبہ سے پہلے گواہی دی وہ قابل مذمت ہے اور اسکی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں دوسروں نے کہا طلب سے پہلے گواہی دینے والا صرف قابل تعریف ہی نہیں بلکہ وہ اس پر ماجور ہے ۔ فریق اول کے موقف کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا یہاں تکہ کہ آدمی ایک معاملے کی گواہی دے گا ھالانکہ اس سے طلب نہ کی جائے گی اور وہ قسم اٹھائے گا ھالانکہ اس سے قسم طلب نہیں کی جائے گا۔ اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ جھوٹی گواہی دیں گے یا جھوٹی قسمیں کھائیں گے کیونکہ آپ نے تو جھوٹ کے پھیلانے کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہو گا اور جھوٹ کا پھسینا جھوٹ بولنے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے ۔ ورنہ فیثچفو الکذب کے تذکرہ کا کوئی مطلب نہیں ۔ فریق اول نے اپنے قول کی حمایت میں ان روایات سے بھی استدلال کیا ہے ۔

نحو حديث أبي بكرة ← عُمَرَ، ← کَهْمَسًا ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5983

5664 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم قال ثنا بن المبارك قال أخبرنا محمد بن سوقة عن عبد الله بن دينار عن بن عمر عن عمر رضي الله عنه أنه خطبهم بالجابية فقال سمعت رسول الله يقول أكرموا أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل قبل أن يستشهد

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ۔ میرے صحابہ کرام کا اکرام کرو پھرا ن لوگوں کا جو ان کے قریب ہیں پھروہ لوگ جو ان سےقریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر جھوٹ پھیل جائےگا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کرنے سے پہلے گواہی دے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عمر أنه خطبهم بالجابية ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5983

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter