Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 1 باب القضاء بين أهل الذمة ) · حديث 5960

5641 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا علي بن معبد عن عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم بن مالك عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجم يهوديا ويهودية حين تحاكموا إليه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن أهل الذمة إذا أصابوا شيئا من حدود الله تعالى لم يحكم عليهم المسلمون حتى يتحاكموا إليهم ويرضوا بحكمهم فإذا تحاكموا إليهم كان الإمام مخيرا إن شاء أعرض عنهم فلم ينظر فيما بينهم وإن شاء حكم واحتجوا في ذلك أيضا بقول الله تعالى فإن جاؤك فأحكم بينهم أو أعرض عنهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا على الإمام أن يحكم بينهم بأحكام المسلمين فكلما وجب على الإمام أن يقيمه على المسلمين فيما أصابوا من الحدود وجب عليه أن يقيمه على أهل الذمة غير ما استحلوا به في دينهم كشربهم الخمر وما أشبهه وأن ذلك يختلف حالهم فيه وحال المسلمين يعاقبون على ذلك وأهل الذمة لا يعاقبون عليه ما خلا الرجم في الزنا فإنه لا يقام عندهم على أهل الذمة لأن الأسباب التي يجب بها الإحصان في قولهم أحدها الإسلام فأما ما سوى ذلك من العقوبات الواجبات في انتهاك الحرمات فإن أهل الذمة فيه كأهل الإسلام ويجب على الإمام أن يقيمه عليهم وإن لم يتحاكموا إليه كما يجب عليه أن يقيمه على أهل الإسلام وإن لم يتحاكموا إليه وكان من الحجة لهم في حديث بن عمر الذي ذكرنا أنه إنما أخبر فيه بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجم اليهود حين تحاكموا إليه ولم يقل إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما رجمتهم لأنهم تحاكموا إلي ولو كان قال ذلك لعلم أن الحكم منه إنما يكون إليه بعد أن يتحاكموا إليه وأنهم إذا لم يتحاكموا إليه لم ينظر في أمورهم ولكنه لم يجئ إنما جاء عنه أنه رجمهم حين تحاكموا إليه فإنما أخبر عن فعل النبي صلى الله عليه و سلم وحكمه إذ تحاكموا إليه ولم يخبر عن حكمهم عنده قبل أن يتحاكموا إليه هل يجب عليهم فيه إقامة الحد أم لا فبطل أن يكون في هذا الحديث دلالة في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا عن بن عمر من رأيه ثم نظرنا فيما سوى ذلك من الآثار هل نجد فيه ما يدل على شيء من ذلك فإذا أحمد بن أبي عمران

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی مرد و عورت کو سنگسار کیا جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلہ لائے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اہل ذمہ جب کسی ایسے فعل کے مرتکب ہوں جو حدود تک پہنچنے والا ہو تو مسلمان ان کے متعلق اس وقت تک فیصلہ نہیں کر سکتے جب تک وہ ان کا حاکم تسلیم نہ کرلیں اور ان کے فیصلے کو پسند کریں جب وہ فیصل بنائیں گے تو امام کو اختیار ہے خواہ ان سے اعراض کرے اور ان کے مابین معاملات پر توجہ نہ کرے اور اگر وہ چاہے تو فیصلہ کر دے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے دوسری دلیل یہ آیت ہے ( فان جاء وک فاحکم بینھم اواعرض عنھم) (المائدہ 42) دوسروں نے کہا امام پر لازم ہے کہ ان کے مابین اسلام کے احکام کے مطابق فیصلہ کرے تو جب حاکم پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں پر حدود کو قائم کرے تو اس پر یہ بھی لازم ہے کہ ذمیوں پربھی حدود کو قائم کرے سوائے اس عمل کے جس کو وہ اپنے دین میں حلال سمجھتے ہوں جیسا کہ شراب نوشی کرنا یا اس جیسے دوسرے کام ۔ اس سلسلے میں ان کی حالت مسلمانوں سے مختلف ہے کیونکہ مسلمانوں کو تو اس قسم کے افعال پر سزا دی جائے گی اور انہیں دی جاتی ۔ البتہ ذمیوں کو زنا کی صورت میں رجم نہ کیا جائے گا کیونکہ احصان کے اسباب میں سے ایک سبب مسلمان ہونا بھی ہے ۔ ( اور احصان نہ ہو تو رجم نہیں البتہ تعزیر ہوگی) مگر جو سزائیں حرمت کے توڑنے کے سلسلہ میں دی جاتی ہیں ان میں زمی لوگ مسلمانوں کی طرح ہیں اور حکم کے لیے ضروری ہے کہ پھر ان پر حدود کوقائم کرے اگر اپنا مقدمہ نہ لےجائیں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے انہوں نے دلیل لی ہے انہوں نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو رجم کیا جب کہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے ۔ اس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ تم اپنامقدمہ میرے پاس لائے ہو ۔ اگر یہ بات ہوتی تو پھر معلوم ہو جاتا کہ آپ کا فیصلہ ان کے مقدمہ کو پیش کرنے کے بعد ہوا اور اگر وہ اپنا مقدمہ نہ لائے تو آپ نے انکے معاملات میں مداخلت نہ کرتے مگر یہ بات مروی نہیں ہے ۔ آپ سے تو صرف اس قدر مروی ہے کہ آپ نے اس وقت رجم کیا جب وہ اپنا مقدمہ لائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور فیصلے کی خبر دی جبکہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے اور آپ کے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کے فیصلے کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی کہ کیا اس صورت میں بھی حد کا قائم کرنا واجب ہے یا نہیں تو اس صورت میں اس روایت کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دلیل میں لانا منع ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الكريم بن مالك ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5960

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 1 باب القضاء بين أهل الذمة ) · حديث 5961

5642 - قد حدثنا قال ثنا أبو خيثمة زهير بن حرب قال ثنا حفص بن غياث عن مجالد بن سعيد عن عامر الشعبي عن جابر بن عبد الله أن اليهود جاؤوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل وامرأة منهما زنيا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إيتوا بأربعة منكم يشهدون فثبت بهذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان ينظر بينهم قبل أن يحكمه الرجل والمرأة المدعي عليهما الزنا لأنهما جميعا جاحدان ولو كانا مقرين لما أحتاج مع إقرارهما إلي أربعة يشهدون وروى عن البراء بن عازب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك أيضا

شعبی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ یہود اپنے ایک مرد و عورت کے لے کر حاضر ہوئے ان دونوں نے زنا کیا تھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے لوگوں سے چار گواہ لاؤ۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ ان کے معاملات پر توجہ فرماتے تھے اس سے پہلے کہ وہ آپ کو فیصل بنائیں کہ جن پر دعویٰ زنا کیا گیا ہے کیونکہ وہ دونوں منکر تھے اگر وہ اقرار ی ہوتے تو اقرار کے ساتھ چار گواہوں کی ضرورت نہ تھی ۔

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← قَدْ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5961

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 1 باب القضاء بين أهل الذمة ) · حديث 5962

5643 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي عن الأعمش عن عبد الله بن مرة عن البراء قال مر علي رسول الله برجل قد حمم وجهه وقد ضرب يطاف به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شأن هذا قالوا زنى قال فما تجدون في كتابكم قالوا يحمم وجهه ويعزر ويطاف به فقال أنشدكم الله ما تجدون حده في كتابكم فأشاروا إلى رجل منهم فسأله رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الرجل نجد في التوراة الرجم ولكنه كثر في أشرافنا فكرهنا أن نقيم الحد على سفلتنا وندع أشرافنا فاصطلحنا على شيء فوضعنا هذا فرجمه صلى الله عليه و سلم وقال أنا أولى من أحيا ما أماتوا من أمر الله ففي هذا ما يدل أن النبي صلى الله عليه و سلم قد كان له أن يحكم بينهم وإن لم يحكموه لأن في هذا الحديث أنهم مروا به وهو محمم فذكر باقي الحديث ثم رجمه رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما دعاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إنكارا لما فعلوه من قبل أن يأتوه فرد أمرهم إلى حكم الله الذي قد عطلوه وغيروه ثبت بذلك أنه قد كان له أن يحكم فيما بينهم حكموه أو لم يحكموه فهذا ما في هذه الآثار من الدلائل على ما قد تكلمنا عليه وأما قول الله عز و جل فإن جاؤك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم فإن الذي ذهبوا فيه إلى تثبيت الحكم يقولون هي منسوخة

عبداللہ بن مرہ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس ایک آدمی گزارا گیا جس کاچہرہ سیاہ کیا گیاتھا اور اس کو گھمایا اور پیٹا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کا کیا معاملہ ہے تو انہوں نے کہا اس نے زنا کیا ہے آپ نے فرمایا تمہاری کتاب میں کیا حکم ہے ۔ انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا تو اس سےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو وہ آدمی کہنے لگا ہم اپنی کتاب میں رجم کا حکم پاتے ہیں مگر ہم سرداروں میں زنا کی کثر ت ہوگئی پس ہم نے اپنے کم درجہ لوگوں پر حد کا قیام بھی ناپسند کیا اورسرداروں کو بالکل چھوڑنا بھی نا پسند کیا ہم نے باہمی ایک چیز پر صلح کر لی اور اس سزا کو ختم کر دیا آپ نے اس کو رجم کیا اور فرمایا جس حد کو انہوں نے مروہ کر دیا میں اسے زندہ کرنے کا زیادہ حقدار ہوں ۔ تو اس روایت میں یہ دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق حاصل تھا کہ ان کے مابین فیصلہ کریں خواہ وہ آپ کو فیصل نہ بنائیں ۔ یہ روایت بتلاتی ہے کہ ایسا شخص آپ کے پاس سے گزرا جس کا منہ سیاہ کیا گیا تھا پھر باقی روایت اسی طرح ہے ۔ پھر آپ نے اس کو سنگ سار کیا ۔ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کا انکار کرتےہوئےجو آپ کے پاس آنے سے پہلے وہ کر چکے تھے آپ نے ان کو بلایا تو آپ نے ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پھیرا جس کو انہوں نے معطل کر دیا تھا اور بدل ڈالا تھا اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو ان کے درمیان فیصلہ کا حق حاصل تھا خواہ وہ مقدمہ لائیں یا نہ لائیں ۔ مذکورہ بالا روایات میں یہ دلائل موجود ہیں جن پر ہم نے گفتگو کی ہے ۔ یہاں تک قرآن مجید کی آیت ( فان جاؤک فاحکم بینھم اواعرض عنھم ) کا تعلق ہے تو جن کے ہاں یہ حکم ثابت ہے وہ اس آیت کو منسوخ مانتے ہیں ۔

الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5962

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 1 باب القضاء بين أهل الذمة ) · حديث 5963

5644 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة عن سفيان عن السدي عن عكرمة فإن جاؤك فأحكم بينهم أو أعرض عنهم قال نسختها هذه الآية وأن أحكم بينهم بما أنزل الله ولا تتبع أهواءهم وقال الآخرون تأويلها وإن أحكم بينهم بما أنزل الله إن حكمت فلما اختلف في تأويل هذه الآية وكانت الآثار قد دلت على ما ذكرنا ثبت الحم عليهم على إمام المسلمين [ ص 143 ] ولم يكن له تركه لأن في حكمه النجاة في قولهم جميعا لأن من يقول عليه أن يحكم يقول قد ترك ما كان عليه أن يفعله ومن يقول له أن لا يحكم يقول قد ترك ما كان له تركه فإذا حكم يشهد له الفريقان جميعا بالنجاة وإذا لم يحكم لم يشهدا له بذلك فأولى الأشياء بنا أن نفعل ما فيه النجاة بالاتفاق دون ما فيه ضد النجاة بالاختلاف وهذا الذي ذكرنا من وجوب الحكم عليهم قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى فإن قال قائل فأنتم لا ترجمون اليهود إذا زنوا فقد تركتم بعض ما في الحديث الذي به احتججتم قيل له إن الحكم كان في الزناة في عهد موسى عليه السلام هو الرجم على المحصن وغير المحصن وكذلك كان جواب اليهودي الذي سأله رسول الله صلى الله عليه و سلم عن حد الزاني في كتابهم فلم ينكر ذلك عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان على النبي صلى الله عليه و سلم اتباع ذلك والعمل به لأن على كل نبي اتباع شريعة النبي الذي كان قبله حتى يحدث الله شريعة تنسخ شريعته قال الله تعالى أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده فرجم رسول الله صلى الله عليه و سلم اليهوديين على ذلك الحكم ولا فرق حينئذ في ذلك بين المحصن وغير المحصن ثم أحدث الله عز و جل لنبيه صلى الله عليه و سلم شريعة فنسخت هذه الشريعة فقال واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منك فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا وكان هذا ناسخا لما كان قبله ولم يفرق في ذلك بين المحصن وغير المحصن ثم نسخ الله تعالى ذلك فجعل الحد هو الإيذاء بالآية التي بعدها ولم يفرق في ذلك أيضا بين المحصن وغيره ثم جعل لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام والثيب جلد مائة والرجم فرق حينئذ بين حد المحصن وحد غير المحصن الجلد ثم اختلف الناس من بعد في الإحصان فقال قوم لا يكون الرجل محصنا بامرأته ولا المرأة محصنة بزوجها حتى يكونا حرين مسلمين بالغين قد جامعها وهما بالغان وممن قال بذلك أبو حنيفة وأبو يوسف محمد رحمهم الله تعالى وقال آخرون يحصن أهل الكتاب بعضهم بعضا ويحصن المسلم النصرانية ولا تحصن النصرانية المسلم وقد كان أبو يوسف قال بهذا القول في الإملاء فيما حدثني سليمان بن شعيب عن أبيه فاحتمل قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الثيب بالثيب الرجم أن يكون هذا على كل ثيب واحتمل أن يكون على خاص من الثيب فنظرنا في ذلك فوجدناهم مجتمعين أن العبيد غير داخلين في ذلك وأن العبد لا يكون محصنا ثيبا كان أو بكرا ولا يحصن زوجته حرة كانت أو أمة وكذلك الأمة لا تكون محصنة بزوجها حرا كان أو عبدا فثبت بما ذكرنا أن قول النبي صلى الله عليه و سلم الثيب بالثيب الرجم إنما وقع على خاص من الثيب لا على كل الثيب فلم يدخل فيما أجمعوا أنه وقع على خاص إلا ما قد أجمعوا أنه فيه داخل وقد أجمعوا أن الحرين المسلمين البالغين الزوجين اللذين قد كان منهما الجماع محصنين واختلفوا فيمن سواهم فقد أحاط علمنا أن ذلك قد دخل في قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الثيب بالثيب الرجم فأدخلنا فيه ولم يحط علمنا بما سوى ذلك فأخرجناه منه وقد كان يجئ في القياس لما كانت الأمة لا تحصن لا حر ولا يحصنها الحر وكانت هي في عدم إحصانها إياه كهو في عدم إحصانه إياها أن يكون كذلك النصرانية فكما هي لا تحصن زوجها المسلم كان هو أيضا كذلك لا يحصنها وقد رأينا الأمة أيضا لما بطل أن تحصن المسلم بطل أن يحصن الكافر قياسا ونظرا على ما ذكرنا والله تعالى أعلم

عکرمہ نے روایت کی ہےکہ " فان جاؤک فاحکم بینھم اواعرض عنھن الایہ" یہ اس آیت سے منسوخ ہے " وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم الایۃ" ( وان احکم ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کے مابین فیصلہ فرمائیں تو اس چیز کے ساتھ فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ۔ جب اس آیت کی تاویل میں اختلاف ہوا اور روایات کی دلالت مذکورہ گفتگو کی موافقت کرتی ہے ۔تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کا حکم ان کے مابین فیصلہ کرے گا اور وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ تمام کے قول کےمطابق اس فیصلے میں نجات ہے ۔ کیونکہ جو لوگ فیصلے کے حق میں ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس نے اس عمل کو چھوڑ دیا جواس پر لازم تھا ۔ جو حضرات کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ نہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس عمل کو چھوڑا ہے جس کے لیے چھوڑنے کا اسے اختیار تھا اور جب وہ فیصلہ کرے گا تو دونوں فریق اس کے لیے نجات کی گواہی دیں گے اور جب وہ فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ نجات کی گواہی نہ دیں گے تو جس کام میں بالا تفاق نجات ہو اس کا کرنا اولیٰ ہے بجائے اس کام کے جس میں نجات کے خلاف بات اختلاف کے ساتھ ثابت ہو ۔ یہ فیصلہ کرنے کا وجوب جوکہ مذکور ہوا یہ امام ابو حنیفہ ، ابویوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اگرکوئی معترض کہے کہ آپ زانی یہودی کےمتعلق رجم کے قائل نہیں پس تم نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا ۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے اگر زمانہ موسیٰ علیہ السلام میں زنا کرنے والوں کی سزا رجم تھی خواہ وہ محصن ہوں یا غیر محصن اسی طرح جس یہودی سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی سزا کیا ہے تو اس نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں فرمایا ۔ آپ پر اس حکم کی اتباع لازم تھی اور ہر پیغمبر علیہ السلام کو یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ پہلے پیغمبر علیہ السلام کی شریعت پر چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی نئی شریعت دے کر اس حکم کو منسوخ کر دے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ ( الانعام 90) پس جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکم سے دو یہودیوں کو سنگسار فرمایا اس حکم میں محصن وغیرہ محصن کا فرق نہ تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شریعت اتار کر یہ حکم منسوخ کر دیا فرمایا (النساء 15) کہ وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں سے بے حیائی کا ارتکاب کریں ان پر چار گواہ بنا لو ۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں موت تک روکے رکھویا پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راہ پیدا کر دے ۔ یہ حکم ماقبل کے لیے ناسخ تھا اور اس میں محصن اور غیر محصن کی تفریق نہ تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ فرمایا اور ایذاء کو حد قرار دیا گیا ۔ اور اس میں بھی محصن وغیرہ میں فرق نہ رکھا گیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل مقرر فرمایا ۔ ( البکر بالبکر جلد مائۃ وتغریب عام الشیب بالشیب جلد مائہ والرجم (ابن ماجہ فی الحدود باب 7) کہ کنواری اور کنوارے کے زنا پر سو کوڑے اور ایک سال جالوطنی اور شادی شدہ کو شادی کے ساتھ زنا کی وجہ سے سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے ۔ چنانچہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی حد میں فرق کر دیا گیا ۔ پھر علماء کا احصان کے متعلق اختلاف ہوا ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اپنی بیوی کی وجہ سے محصن نہ بنے گا اور عورت اپنے خاوند سے محصنہ بن جائے گی جب تک کہ وہ دونوں مسلمان بالغ ہوں اور اس نے اپنی بیوی کے ساتھ بلوغت کی عمر میں جماع کیا ہو یہ امام ابو حنیفہ ، امام ابویوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے دوسری جماع کے ہاں اہل کتاب بھی کتابیہ سے محصن ہو گا اور مسلمان مسلمہ اور نصرانیہ سے محصن ہو جائے گا البتہ نصرانیہ مسلم سےمحضنہ نہ بنے گی امالی میں امام یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے جیسا کہ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا ہے اب جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے قول ثیب ثیبہ سے زنا کرے تو سنگسار کرنا ہے اس میں داخل نہیں اور غلام محصن نہیں ہوتا خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور اسکی بیوی بھی محصنہ نہ بنے گی خواہ وہ لونڈی ہو یا آزاد اسی طرح لونڈی اپنے خاوند کی وجہ سے محصنہ نہ کہلائے گی ۔ خواہ اس کا خاوند آزاد ہویا غلام پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو رجم ہے اس سےخاص قسم کی ثیب مراد ہے ہر ثیب مرادنہیں ۔ تو جس پر اجماع ہے کہ خاص ثیب مراد ہے اس میں صرف وہی داخل ہو گا جس کےداخل ہونے پر اجماع ہو اور ان حضرات کا اتفاق ہےکہ دو آزاد مسلمان بالغ میاں بیوی جو ( کم ازکم ایک بار) جماع کر چکے ہوں وہ محصن ہوں گے اس کے علاوہ میں اختلاف ہے تو ہمارے علم کے مطابق یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول ( الثیب بالشیب الرجم) اس میں داخل ہے اور ہم نے اس کو داخل قرار دیا اس کےعلاوہ کے متعلق ہمارے علم میں بات نہیں اسکی اس لیے ان کو اس حکم سے خارج کیا ہے اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب لونڈی آزاد آدمی کو محصن نہیں بنا سکتی اور نہ ہی آزاد لونڈی کو محصنہ بنا سکتا ہے اور وہ مرد کو محصن نہ بنانے میں اس طرح ہے جس طرح وہ وہ اس کو محصنہ بنہ بنا سکے گا ہم دیکھتے ہیں کہ لونڈی کا مسلمان کو محصن بنانا جب باطل ٹھہرا تو کافر کو محصن بنانا بھی باطل ہو گیا جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے واللہ اعلم ۔

السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5963

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5964

5645 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا زيد بن حباب قال أخبرني سيف بن سليمان المكي عن قيس بن سعد عن عمرو بن دينار عن بن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى باليمين مع الشاهد

عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک شادہ سے فیصلہ فرمایا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيِّ، ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5964

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5965

5646 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5965

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5966

5647 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن وابن أبي داود قالا ثنا سعيد بن منصور قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن فذكر بإسناده مثله قال عبد العزيز ونسيه سهل قال حدثني ربيعة عني

عبدالعزیز بن محمد نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں سہل نے بھول کر حدثنی ربیعہ عنی کہا ۔

رَبِيعَةَ عَنِّي ← عبد العزيز ونسيه سهل ← ربيعة بن أبي عبد الرحمن فذكر بإسناده مثله ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5966

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5967

5648 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد يعني الحماني قال ثنا سليمان بن بلال والداروردي فذكر بإسناده مثله قال عبد العزيز فلقيت سهيلا فسألته عن هذا الحديث فلم يعرفه

سلیمان بن بلال اور دراور دی نے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے عبدالعزیز کہتے ہیں کہ میں اس روایت کے متعلق سہیل سے ملا تو انہوں نے کہا میں اس روایت کو نہیں جانتا ۔

هذا الحديث فلم يعرفه ← عبد العزيز فلقيت سهيلا فسألته ← سليمان بن بلال والداروردي فذكر بإسناده مثله ← يحيى بن عبد الحميد يعني الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5967

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5968

5649 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا عبد الله بن وهب قال حدثني عثمان بن الحكم عن زهير بن محمد عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن زيد بن ثابت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے یہ روایت نقل کی ہے اور انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5968

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5969

5650 - حدثنا وهبان بن عثمان قال ثنا أبو همام قال ثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے نقل کیا انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← وهبان بن عثمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5969

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5970

5651 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن جعفر عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يذكر جابرا

جعفر نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يذكر جابرا ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5970

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 2 باب القضاء باليمين مع الشاهد ) · حديث 5971

5652 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن جعفر بن محمد عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انہوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5971

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter