شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 1 باب القضاء بين أهل الذمة ) · حديث 5960
5641 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا علي بن معبد عن عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم بن مالك عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجم يهوديا ويهودية حين تحاكموا إليه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن أهل الذمة إذا أصابوا شيئا من حدود الله تعالى لم يحكم عليهم المسلمون حتى يتحاكموا إليهم ويرضوا بحكمهم فإذا تحاكموا إليهم كان الإمام مخيرا إن شاء أعرض عنهم فلم ينظر فيما بينهم وإن شاء حكم واحتجوا في ذلك أيضا بقول الله تعالى فإن جاؤك فأحكم بينهم أو أعرض عنهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا على الإمام أن يحكم بينهم بأحكام المسلمين فكلما وجب على الإمام أن يقيمه على المسلمين فيما أصابوا من الحدود وجب عليه أن يقيمه على أهل الذمة غير ما استحلوا به في دينهم كشربهم الخمر وما أشبهه وأن ذلك يختلف حالهم فيه وحال المسلمين يعاقبون على ذلك وأهل الذمة لا يعاقبون عليه ما خلا الرجم في الزنا فإنه لا يقام عندهم على أهل الذمة لأن الأسباب التي يجب بها الإحصان في قولهم أحدها الإسلام فأما ما سوى ذلك من العقوبات الواجبات في انتهاك الحرمات فإن أهل الذمة فيه كأهل الإسلام ويجب على الإمام أن يقيمه عليهم وإن لم يتحاكموا إليه كما يجب عليه أن يقيمه على أهل الإسلام وإن لم يتحاكموا إليه وكان من الحجة لهم في حديث بن عمر الذي ذكرنا أنه إنما أخبر فيه بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجم اليهود حين تحاكموا إليه ولم يقل إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما رجمتهم لأنهم تحاكموا إلي ولو كان قال ذلك لعلم أن الحكم منه إنما يكون إليه بعد أن يتحاكموا إليه وأنهم إذا لم يتحاكموا إليه لم ينظر في أمورهم ولكنه لم يجئ إنما جاء عنه أنه رجمهم حين تحاكموا إليه فإنما أخبر عن فعل النبي صلى الله عليه و سلم وحكمه إذ تحاكموا إليه ولم يخبر عن حكمهم عنده قبل أن يتحاكموا إليه هل يجب عليهم فيه إقامة الحد أم لا فبطل أن يكون في هذا الحديث دلالة في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا عن بن عمر من رأيه ثم نظرنا فيما سوى ذلك من الآثار هل نجد فيه ما يدل على شيء من ذلك فإذا أحمد بن أبي عمران
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی مرد و عورت کو سنگسار کیا جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلہ لائے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اہل ذمہ جب کسی ایسے فعل کے مرتکب ہوں جو حدود تک پہنچنے والا ہو تو مسلمان ان کے متعلق اس وقت تک فیصلہ نہیں کر سکتے جب تک وہ ان کا حاکم تسلیم نہ کرلیں اور ان کے فیصلے کو پسند کریں جب وہ فیصل بنائیں گے تو امام کو اختیار ہے خواہ ان سے اعراض کرے اور ان کے مابین معاملات پر توجہ نہ کرے اور اگر وہ چاہے تو فیصلہ کر دے انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے دوسری دلیل یہ آیت ہے ( فان جاء وک فاحکم بینھم اواعرض عنھم) (المائدہ 42) دوسروں نے کہا امام پر لازم ہے کہ ان کے مابین اسلام کے احکام کے مطابق فیصلہ کرے تو جب حاکم پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں پر حدود کو قائم کرے تو اس پر یہ بھی لازم ہے کہ ذمیوں پربھی حدود کو قائم کرے سوائے اس عمل کے جس کو وہ اپنے دین میں حلال سمجھتے ہوں جیسا کہ شراب نوشی کرنا یا اس جیسے دوسرے کام ۔ اس سلسلے میں ان کی حالت مسلمانوں سے مختلف ہے کیونکہ مسلمانوں کو تو اس قسم کے افعال پر سزا دی جائے گی اور انہیں دی جاتی ۔ البتہ ذمیوں کو زنا کی صورت میں رجم نہ کیا جائے گا کیونکہ احصان کے اسباب میں سے ایک سبب مسلمان ہونا بھی ہے ۔ ( اور احصان نہ ہو تو رجم نہیں البتہ تعزیر ہوگی) مگر جو سزائیں حرمت کے توڑنے کے سلسلہ میں دی جاتی ہیں ان میں زمی لوگ مسلمانوں کی طرح ہیں اور حکم کے لیے ضروری ہے کہ پھر ان پر حدود کوقائم کرے اگر اپنا مقدمہ نہ لےجائیں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے انہوں نے دلیل لی ہے انہوں نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو رجم کیا جب کہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے ۔ اس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ تم اپنامقدمہ میرے پاس لائے ہو ۔ اگر یہ بات ہوتی تو پھر معلوم ہو جاتا کہ آپ کا فیصلہ ان کے مقدمہ کو پیش کرنے کے بعد ہوا اور اگر وہ اپنا مقدمہ نہ لائے تو آپ نے انکے معاملات میں مداخلت نہ کرتے مگر یہ بات مروی نہیں ہے ۔ آپ سے تو صرف اس قدر مروی ہے کہ آپ نے اس وقت رجم کیا جب وہ اپنا مقدمہ لائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور فیصلے کی خبر دی جبکہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے اور آپ کے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کے فیصلے کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی کہ کیا اس صورت میں بھی حد کا قائم کرنا واجب ہے یا نہیں تو اس صورت میں اس روایت کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دلیل میں لانا منع ہے ۔
بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الكريم بن مالك ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5960
