Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5943

5624 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أحمد بن الحسين اللهبي قال ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن أبي النضر عن بشر بن سعيد عن زيد بن خالد الجهني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن اللقطة فقال عرفها سنة فإن جاء باغيها فأدها إلى صاحبها وإلا فاعرف عفاصها ووكاءها فإن جاء باغيها فأدها إلى باغيها أفلا ترى أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يعنف أبي بن كعب في أخذه تلك الدنانير حين أخذها وقد صوب أبي بن كعب في أخذه السوط ليحفظها على صاحبها ولا يدعها للسباع وقد قال عمر بن الخطاب في حديث سفيان بن عبد الله هي مالك قد أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك فلما أن أبى سفيان ذلك جعلها عمر في بيت المال وقد أجاز رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ اللقطة والضالة لأن يحفظهما على صاحبهما وقد روى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما

بشر بن سعید نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی ایک سال تشہیر کرو ۔ اگر اس کا متلاشی آجائے تو اس کو دے دو ورنہ اس کا سر بند پہچان لو اور اس کا بندھن جان لو ۔ اگر متلاشی آجائے تو متلاشی کے حوالہ کر دو۔ اس میں غور فرمائیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اٹھانے پر ڈانٹ نہیں پلائی اور حضرت ابی رحمۃ اللہ علیہ نے کوڑا اٹھانے والے کے عمل کی تصویب فرمائی تا کہ مالک کے لیے اس کو محفوظ کر لیا جائے اور درندوں کے لیے اس کو نہ چھوڑا جائے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روایت سفیان میں سفیان کو فرمایا یہ تیری ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کا حکم فرمایا پھر جب سفیان نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے اس کو مسلمانوں کے بیت المال میں رکھ دیا ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقطہ اور گمشدہ کو لینے کی اجازت دی تاکہ اس کو محفوظ کیا جائے ۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس سلسلہ میں روایات وارد ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أحمد بن الحسين اللهبي، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5943

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5944

5625 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنبي قال ثنا مالك عن سليمان بن يسار أن ثابت بن الضحاك كان وجد بعيرا فقال له عمر عرفه فعرف ذلك ثلاث مرات ثم جاء إلى عمر فقال قد شغلني عن صنعتي فقال له عمر أنزع خطامه ثم أرسله حيث وجدته

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ پایا ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو۔ انہوں نے تین مرتبہ تشہیر کی پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اس نے تو مجھے میرے کام سے مشغول کر دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسکی مہار کھینچ دو پھر اس کو تم نے جہاں پایا تھا وہیں چھوڑ دو۔

له عمر أنزع خطامه ثم أرسله حيث وجدته ← صنعتي ← قد شغلني ← له عمر عرفه فعرف ذلك ثلاث مرات ثم جاء إلى عمر ← سليمان بن يسار أن ثابت بن الضحاك كان وجد بعيرا ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5944

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5945

5626 - حدثنا يونس أخبرنا عبد الله بن وهب أن مالكا حدثهم عن يحيى بن سعيد ثم ذكر هذا الحديث بإسناده عن عمر بن الخطاب مثل ذلك أيضا سواء وزاد في الحديث أن ثابت بن الضحاك وقد كان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثه أنه كان وجد بعيرا على عهد عمر بن الخطاب وقد

مالک نے یحییٰ بن سعید سے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ البتہ روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے جو کہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں خود مجھے بیان فرمایا کہ میں نے عہد فاروقی میں اونٹ پایا تھا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5945

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5946

5627 - حدثنا يونس قال أنا أنس بن عياض قال ثنا يحيى بن سعيد قال سمعت سليمان بن يسار يحدث عن ثابت بن الضحاك أنه كان وجد بعيرا ثم ذكر هذا الحديث عن عمر بن الخطاب مثل ذلك أيضا سواء فهذا عمر بن الخطاب قد حكم في الضالة بحكم اللقطة وكذلك روى عن عبد الله بن عمر في ذلك أيضا وهو كما قد

سلیمان بن یسار سے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے ایک اونٹ پایا پھر روایت اس قرار دیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے اور وہ اسی طرح ہے جیسا تھا ۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5946

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5947

5628 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا العوام بن حوشب قال حدثني العلاء بن سهيل أنه سمع عبد الله بن عمر يسأل عن الضالة من الفرح والشئ يجده الإنسان فقال اتق خيرها بشرها وشرها بخيرها ولا تضمنها فإن الضالة لا يضمها إلا ضال

علاء بن سہیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ان سے گمشدہ کے متعلق پوچھا گیا جیسے پیالہ یا تیر یا کوئی چیز جس کو پائے تو انہوں نے فرمایا اس کے خیر کو اس کے شر سے ملانے سے بچ اور اس کے شر کو خیر سے ملانے سے گریز کر اور اس کو اپنے مال سے مت ملا گمشدہ چیز کو گمراہ اپنے مال سے ملاتا ہے ۔

الضالة من الفرح والشئ يجده الإنسان ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَسْأَلُ ← العلاء بن سهيل أنه ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5947

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5948

5629 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو داود وبشر بن عمر قالا ثنا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت قال سمعت رجلا يسأل عبد الله بن عمر عن الضالة فقال له ادفعها إلى السلطان

حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا جو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گمشدہ چیز کے متعلق استفسار کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس چیز کو بادشاہ کے سپرد کر دو ۔

الضالة فقال له ادفعها إلى السلطان ← رجلا يسأل عبد الله بن عمر ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أبو داود وبشر بن عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5948

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5949

5630 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا همام عن نافع وابن سيرين أن رجلا جاء عبد الله بن عمر فقال إني قد أصبت ناقة فقال عرفها فقال عرفتها فلم تعرف فقال ادفعها إلى الوالي

ابن سیرین اور نافع نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ مجھے ایک اونٹنی ملی ہے آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو تو اس نے بتلایا کہ میں نے اس کی تشہیر کی ہے مگر کوئی لینے والا نہیں آیا فرمایا اس چیز کو بادشاہ کے سپرد کر دو ۔

ادفعها إلى الوالي ← عرفتها فلم تعرف ← عرفها ← إني قد أصبت ناقة ← نافع وابن سيرين أن رجلا جاء عبد الله بن عمر ← هَمَّامٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5949

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5950

5631 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد الرصافي قال ثنا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت أنه قال سمعت عبد الله بن عمر وقد سئل عن الضالة فقال أدفعها إلى السلطان أو إلى الأمير وقد روى عن عائشة في ذلك أيضا ما

حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا جبکہ ان سے گمشدہ کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا اس کو بادشاہ یا امیر کے حوالے کر دو۔

عائشة في ذلك أيضا ما ← الضالة فقال أدفعها إلى السلطان أو إلى الأمير وقد روى ← عبد الله بن عمر وقد سئل ← حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← عبد الرحمن بن زياد الرصافي ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5950

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5951

5632 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن يزيد الرشك عن معاذة العدوية أن امرأة سألت عائشة فقالت إني أصبت ضالة في الحرم وإني عرفتها فلم أجد أحدا يعرفها فقالت لها عائشة استنفعي بها وقد روى عن عبد الله بن مسعود في هذا مثل ذلك أيضا وهو كما قد

یزید رشک نے معاذہ عدویہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا میں نے حرم میں ایک گمشدہ چیز پائی ہے میں نے اس کی تشہیر کی مگر کسی مالک کا پتہ چلا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔

لها عائشة استنفعي بها وقد روى ← إني أصبت ضالة في الحرم وإني عرفتها فلم أجد أحدا يعرفها ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ((أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5951

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5952

5633 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني أنا شريك عن عامر بن شقيق عن أبي وائل أنه قال اشترى عبد الله خادما بسبعمائة درهم فطلب صاحبها فلم يجده فعرفها حولا فلم يجد صاحبها فجمع المساكين وجعل يعطيهم ويقول اللهم عن صاحبها فإن أبى ذلك فمني ذلك وعلي الثمن ثم قال هكذا يفعل بالضوال وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك وعمن رويناه من أصحابه ممن قد ذكرناهم في هذا الباب التسوية بين حكم اللقطة والضالة جميعا فدل أن ما قد جاء من هذه الآثار مما في ذلك ذكر إحداهما فهو فيها وفي الأخرى وأن حكمها حكم واحد في جميع ذلك فإن قال قائل فإن الضال ما قد ضل بنفسه واللقطة ما سوى ذلك من الأمتعة وما أشبهها قيل له وما دليلك على ما قد ذكرت بل رأينا اللغة في ذلك أباحت أن ما يسمي مالا نفس له ضالا ألا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حديث الإفك إن أمكم قد أضلت قلادتها وقد روى عن عائشة أيضا في الضالة أن حكمها حكم اللقطة في جميع ذلك وهو كما قد

ابو وائل کہتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سات سو درہم میں ایک خادم خریدا اس کے مالک کا گھر وہ نہ ملا تو آپ نے ایک سال تک اعلان کرایا مگر وہ نہ ملا پس آپ نے مساکین کو جمع کیا اور ان کو وہ رقم دینے لگے اور فرماتے جاتے اے اللہ یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے اگر وہ اس سے انکار کرے تو میری طرف سے ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے پھر فرمایا گمشدہ چیزوں کے متعلق یہ عمل کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور جن صحابہ کرام سے روایت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گری پڑی اور گمشدہ چیز کا حکم ایک جیسا ہے ۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اس سلسلہ کی روایات جن میں ان دونوں میں سے ایک کا حکم مذکور ہے تو وہ دوسری کے متعلق بھی ہے اور اس سلسلہ میں دونوں کے حکم مین فرق نہیں ہے ۔ گمشدہ تو ہر اس ذی روح کو کہا جاتا ہے جو خود گم ہو اور گری پڑی چیز بے جان ساز و سامان ہے ( تو دونوں کے حکم میں یکسانیت کیسے ؟) آپ کا یہ قول لغت کے خلاف ہے گمشدہ کا لفظ ہر جاندار و بے جان پر بولا جاتا ہے حدیث افک میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ان امکم قد اضلت قلا دتھا) تو ہار پر یہ لفظ دارد ہوا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ضالہ اور لقطہ کا حکم تمام حالتوں میں ایک جیسا ہے ۔ روایت ملاحظہ ہو ۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5952

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5953

5634 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن العالية امرأة أبي إسحاق أنها قالت كنت عند عائشة فأتتها امرأة فقالت لها يا أم المؤمنين إني وجدت ضالة فكيف تأمريني أن أصنع بها فقالت عرفيها واعلفي واحتلبي قالت ثم عادت فسألتها فقالت عائشة تريدين آمرك ببيعها أو نزعها فقد ثبت بما ذكرنا التسوية بين حكم الضوال واللقطة وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى في هذا الباب وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في لقطة مكة وضالتها ما قد

عالیہ ابو اسحق کی زوجہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو ان کے پاس ایک عورت آکر کہنے لگی اے ام المومنین ! میں نے گمشدہ چیز پائی ہے آپ اس کے متعلق کیا حکم دیتی ہیں ۔ انہو ں نے فرمایا اس کی تشہیر کرو اور چارہ ڈالو اور دودھ دوھ لو ۔ وہ پھر لوٹ کر پوچھنے لگی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم ارادہ رکھتی ہو کہ میں تمہیں اس کی فروخت کاحکم دوں یا اس کو چھوڑنے کا کہوں اس کا تمہیں اختیار نہیں ان روایات سے یہ بات ثابت ہوگئی گمشدہ اور لقطہ کا حکم تمام احوال میں ایک جیسا ہی ہے یہ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف محمد بن حسن رحمہم اللہ کا اس سلسلہ میں قول ہے ۔

العالية امرأة أبي إسحاق ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5953

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5954

5635 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي قال ثنا محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في وصف مكة ولا يلتقط ضالتها إلا لمنشد وقد

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے متعلق فرمایا کہ اس کی گمشدہ چیز کو کوئی نہ اٹھائے سوائے اس آدمی کے جو گمشدہ کا اعلان کرنے والا ہو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5954

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter