شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5943
5624 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أحمد بن الحسين اللهبي قال ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن أبي النضر عن بشر بن سعيد عن زيد بن خالد الجهني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن اللقطة فقال عرفها سنة فإن جاء باغيها فأدها إلى صاحبها وإلا فاعرف عفاصها ووكاءها فإن جاء باغيها فأدها إلى باغيها أفلا ترى أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يعنف أبي بن كعب في أخذه تلك الدنانير حين أخذها وقد صوب أبي بن كعب في أخذه السوط ليحفظها على صاحبها ولا يدعها للسباع وقد قال عمر بن الخطاب في حديث سفيان بن عبد الله هي مالك قد أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك فلما أن أبى سفيان ذلك جعلها عمر في بيت المال وقد أجاز رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ اللقطة والضالة لأن يحفظهما على صاحبهما وقد روى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما
بشر بن سعید نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی ایک سال تشہیر کرو ۔ اگر اس کا متلاشی آجائے تو اس کو دے دو ورنہ اس کا سر بند پہچان لو اور اس کا بندھن جان لو ۔ اگر متلاشی آجائے تو متلاشی کے حوالہ کر دو۔ اس میں غور فرمائیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اٹھانے پر ڈانٹ نہیں پلائی اور حضرت ابی رحمۃ اللہ علیہ نے کوڑا اٹھانے والے کے عمل کی تصویب فرمائی تا کہ مالک کے لیے اس کو محفوظ کر لیا جائے اور درندوں کے لیے اس کو نہ چھوڑا جائے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روایت سفیان میں سفیان کو فرمایا یہ تیری ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کا حکم فرمایا پھر جب سفیان نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے اس کو مسلمانوں کے بیت المال میں رکھ دیا ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقطہ اور گمشدہ کو لینے کی اجازت دی تاکہ اس کو محفوظ کیا جائے ۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس سلسلہ میں روایات وارد ہیں ۔
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أحمد بن الحسين اللهبي، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5943
