Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5931

5612 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى الصوفي قال أنا عبد الله بن وهب بن مسلم القرشي قال أخبرني عمرو بن الحارث ومالك بن أنس وسفيان بن سعيد الثوري جميعا أن ربيعة بن أبي عبد الرحمن الرأي حدثهم جميعا عن يزيد مولى المنبعث وزيد بن خالد الجهني أنه قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا مع رسول الله فسأله عن اللقطة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم أعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها قال فضالة الغنم يا رسول الله فقال هي لك أو لأخيك أو للذئب قال فضالة الإبل يا رسول الله فقال معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها

یزید مولیٰ منبعث اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا اور اس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا بندھن اور سر بند خوب پہچان لو پھر اس کی تشہیر ایک سال تک کرو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو مناسب ہے ورنہ تم جانو اور وہ شئی اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے ۔ فرمایا وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑے کے لیے ہے پھر اس نے گمشدہ اونٹ سے متعلق دریافت کیا تو فرمایا ۔ اس کا مشکیزہ اور موزہ اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درختوں سے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے ( اسے نہ چلنے میں دقت نہ پانی کی پریشانی بلکہ برداشت پر قدرت ہے ۔)

سفيان بن سعيد الثوري جميعا ← مالک بن أنس ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ← يونس بن عبد الأعلى الصوفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5931

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5932

5613 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عبد الله بن محمد الفهمي قال أنا سليمان بن بلال قال حدثني يحيى بن سعيد وربيعة بن أبي عبد الرحمن جميعا عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني أنه قال قد سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن اللقطة من الذهب والفضة والورق فقال اعرف وكاءها وعفاصها ثم عرفها سنة فإن لم تعرف فاستنفع بها ولتكن وديعة عندك فإن جاء لها طالب يوما من الدهر فأدها إليه ثم ذكرنا في الحديث في الإبل والغنم بمثل ما في حديث يونس سواء

یزید مولیٰ منبعث نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی اور چاندی کے ڈھلے ہوئے ٹکڑے کے متعلق سوال ہوا کہ وہ اگر گری پڑی ملے تو فرمایا اس کے بندھن اور سر بند کو اچھی طرح پہچان لو پھر ایک سال تک تشہیر کروا گر مالک معلوم نہ ہو تو اس کو استعمال کر لو ۔ اور وہ تیرے پاس بطور امانت ہونی چاہیے اگر کبھی اس کا مالک آجائے تو اس کو واپس کر دو ۔ پھر ہم نے روایت میں اونٹ بکری کا تذکرہ روایت یونس کی طرح کیا ہے ۔

اللقطة من الذهب والفضة والورق ← قد سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← يحيى بن سعيد وربيعة بن أبي عبد الرحمن جميعا ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5932

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5933

5614 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن يزيد مولى المنبعث أنه سمع زيد بن خالد الجهني يقول ثم ذكر هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل ذلك أيضا سواء

یزید مولیٰ منبعث کہتے ہیں کہ میں نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا پھر انہوں نے بعینہ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل ذلك أيضا سواء ← هَذَا الْحَدِيثَ ← ثُمَّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يزيد مولى المنبعث أنه ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5933

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5934

5615 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن الرائي عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثل ذلك الحديث أيضا سواء غير أنه لم يقل في ذلك وليكن وديعة عندك

یزید مولیٰ منعث نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ ( ولیکن ودیعۃ عندک ) کے الفاظ اس میں نہیں ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← ربيعة بن أبي عبد الرحمن الرائي ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5934

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5935

5616 - حدثنا فهد بن سليمان وعلي بن عبد الرحمن قالا ثنا بن أبي مريم قال ثنا يحيى بن أيوب قال حدثني محمد بن عجلان قال حدثني القعقاع بن حكيم عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سئل عن ضالة الغنم فقال هي لك أو لأخيك أو للذئب وسئل عن ضالة الإبل فقال مالك ومالها معها سقاؤها وحذاؤها دعها حتى يجدها ربها قالوا ففي هذا الحديث أنه قد نهاه عن أخذ ضالة الإبل وأمره بتركها فذلك أيضا دليل على تحريم أخذ الضوال قيل لهم ما في ذلك دليل على ما ذكرتموه ولكن في ذلك أمر النبي صلى الله عليه و سلم إياه بترك ضالة الإبل لأن من شأنها طلب الماء حتى يقدر على ذلك وهو لا يخاف عليها الضياع لذلك لأنها قد ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها فتركها أفضل من أخذها وليس من أخذها ليحفظها على صاحبها بمأثوم بذلك وقد سئل النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث عن ضالة الغنم فقال هي لك أو لأخيك أو للذئب أي لك أن تأخذها لنفسك فتكون في يديك لأخيك أو تخليها فيأخذها الذئب فيأكلها أو يجدها ربها فيأخذها ففي ذلك إباحة لأخذها وقد روى عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما قد

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکریوں کے متعلق دریافت کیا گیا آ پ نے فرمایا وہ تیری یا تیرے بھائی یا پھر بھیڑیے کی ہے اور آپ سے گمشدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا تمہیں ان سے کیا غرض ان کی مشک اور موزہ ان کے پاس ہے ا س کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک اس کے پالے۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گمشدہ اونٹ کو پکڑنے سے منع فرمایا اور چھوڑ دینے کا حکم دیا ۔ یہ دلیل ہے کہ گمشدہ چیز کو لینا حرام ہے اس کی حرمت پر تو روایت میں کوی دلیل نہیں بلکہ اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گمشدہ اونٹ کو چھوڑنے کا حکم فرمایا اور وہ اس لیے دیا کہ اونٹ پانی کی تلاش پر قدرت رکھتا ہے اور چارہ بھی کھا سکتا ہے اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ندارد کے برابر ہے کیونکہ وہ پانی پر جاتا اور درخت چرتا ہے یہاں تک کہ اپنے مالک تک پہنچ جائے پس اس کو پکڑنے سے چھوڑ دینا افضل ہے ۔ اگر کوئی شخص اسے مالک کے لیے حفاظت کی خاطر پکڑ لے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے گمشدہ بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی یا بھیڑئے کے لیے ہے یعنی اسے پکڑ لو پس تمہارے پاس تمہارے بھائی کے لیے محفوظ رہے گی اور چھوڑنے کی صورت میں بھیڑیا پکڑکر رکھا جائے گا یا پھر اس کا مالک خود پالے اور پکڑ لے تو اس کو پکڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے اور یہ روایت ابن عمر و بن بن عاص رحمۃ اللہ علیہ میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو۔

ضالة الغنم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد بن سليمان وعلي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5935

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5936

5617 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث وهشام بن سعد كلاهما عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رجلا من مزينة أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال له يا نبي الله كيف ترى في ضالة الغنم فقال طعام مأكول لك أو لأخيك أو للذئب احبس على أخيك ضالته فقال له يا نبي الله وكيف ترى في ضالة الإبل فقال مالك ومالها معها سقاؤها وحذاؤها ولا يخاف عليها الذئب تأكل الكلأ وترد الماء دعها حتى يأتي طالبها ففي هذا الحديث أيضا إباحة أخذ الضوال التي قد يخاف عليها الضياع وحبسها له فدل ذلك على أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم إن ضالة المسلم أو المؤمن حرق النار وقول النبي صلى الله عليه و سلم لا يأوي أو يؤوى الضالة إلا ضال إنما أراد بذلك الإيواء الذي لا تعريف مع ذلك والأخذ الذي لا تعريف مع ذلك أيضا اللذين هما ضد الحبس على صاحب الضوال حتى يتفق معنى حديثنا هذا ومعنى ذينك الحديثين ولا يتضاد هذا الحديث وذينك الحديثين أيضا وفيما قد بين النبي صلى الله عليه و سلم في الإبل بقوله مالك ومالها معها سقاؤها وحذاؤها ولا يخاف الذئب عليها دليل على انه لم يطلق له أخذها لعدم الخوف عليها وفي إباحته لأخذ الشاة لخوفه عليها من الذئب دليل على أن الناقة كذلك أيضا إذا خيف عليها من غير الذئب وأن أخذها لصاحبها وحفظها على ربها أولى من تركها وذهابها وقد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على أن حكم الضالة كحكم اللقطة في ذلك وهو ما قد

عمرو بن شعیب عن ابیہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مزینہ قبیلہ کا ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ سے پوچھنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گمشدہ بکری میں آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا وہ تیری خوراک ہو گی یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیئے کی اپنے بھائی کے لیے اس کی گمشدہ چیز کو روک رکھو ۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ گمشدہ اونٹ کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا غرض ؟ اس کے پاس مشک اور موزہ موجود ہے اور اسے بھیڑیئے کا کوئی خطرہ نہیں وہ گھاس کھائے گا اور پانی کے گھاٹ پر جائے گا اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک و طالب اس کو آلے ۔ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ گمشدہ جانور کو پکڑ کر روک لیا جائے خصوصاً وہ جانور جن کے ضیاع کا احتمال قوی ہو ۔ پس اس کے مطابق آپ کے ارشاد ( ان ضالۃ المسلم حرق النار ) اور لایاوی الضالۃ الاضال ) کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے مراد وہ ٹھکانہ دینا ہے جس میں تشہیر مقصود نہ ہو اور وہ پکڑنا جس میں لوگوں میں تشہیر مطلوب نہ تھی یہ دونوں حالتیں مالک کے لیے حفاظت کرنے کے خلاف ہیں یہ مفہوم اس لیے لیا جائے گا تا کہ ان روایات کا دیگر روایات سے تضاد نہ رہے اور اونٹ کے متعلق آپ کا یہ فرمانا تمہیں اس سے کیا غرض اس کے ساتھ مشک اور موزہ موجود ہے اس کے متعلق بھڑیے کا خوف نہیں ہے اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو پکڑنے کی ممانعت عدم خوف ہلاکت ہے اور بکری کے لیے اجازت کی وجہ بھیڑیے کا خطرہ ہے اس سے یہ دلیل مل گئی کہ اونٹنی کا حکم بھی یہی ہے اگر اس میں بھیڑئیے کے علاوہ کسی اور چیز کے پکڑنے کا خوف ہو ۔ تو اسے چھوڑنے اور ضائع کی بجائے پکڑنا اور مالک کے لیے محفوظ کرنا بہتر و اولیٰ ہو گا ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایات وارد ہیں جن سے گمشدہ اور لقطہ کا حکم ایسا جیسا ثابت ہو تا ہے ۔ لقطہ اور گمشدہ کا حکم ایک جیسا ہے جیسا ان روایات میں ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عمرو بن الحارث وهشام بن سعد كلاهما ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5936

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5937

5618 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي العلاء عن عياض بن حماد أن النبي صلى الله عليه و سلم قد سئل عن الضالة فقال عرفها فإن وجدت صاحبها وإلا فهي مال الله ففي هذا الحديث أن تعريفها واجب ومعرفها في حال تعريفه إياها ممسك لها ومؤو إياها لصاحبها ولم يؤمر بترك ذلك فدل هذا أن الإمساك المنهي عنه عن ذلك في غير هذا الحديث إنما هو الإمساك الذي لم يفعله الممسك لنفسه لا لرب الضالة في ذلك فهذا ما في الضوال من الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في اللقطة أنه قد أمر بالإشهاد عليها وترك كتمانها مما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد

ابو العلاء نے عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ چیز کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کو مشہور کرو اگر اس کا مالک مل جائے تو مناسب ہے ورنہ یہ اللہ کا مال ہے ۔ یہ حدیث ثابت کر رہی ہے کہ اس کی مشہوری ضروری ہے اور تشہیر کرنے والا دوران تشہیر اپنے پاس رکھے اور مالک کے لیے اس چیز کو محفوظ کرے اس کو چھوڑنے کا حکم نہیں فرمایا گیا ۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ اس پکڑنے سے روکا گیا ہے جس کو پکڑنے والا اس چیز کے مالک کے لیے نہ پکڑے بلکہ اپنے لیے پکڑے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ کا یہی حکم منقول ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقطہ پر گواہ قائم کرنے اور اس کو ظاہر کرنے اور کتمان نہ کرنے کا حکم فرمایا جیسا ان روایات میں ہے ۔

عياض بن حماد ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5937

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5938

5619 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا المعلى بن أسد قال ثنا عبد العزيز بن المختار عن خالد الحذاء عن يزيد بن الشخير عن مطرف بن الشخير عن عياض بن حماد المجاشعي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال من التقط لقطة فليشهد عليها ذوي عدل ولا يكتمها ولا يغيرها فإن جاء ربها وإلا فمال الله يؤتيه من يشاء فلما كان أخذ اللقطة على هذا الوجه مباحا كان كذلك أيضا أخذ الضالة في ذلك وإنما يكره أخذهما جميعا إذا كان يراد منها ضد ذلك ولقد استحب أبي بن كعب أخذ اللقطات وأن لا يترك للسباع

مطرف بن شخیر نے عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی گری پڑی چیز اٹھائے اسے اس پر دو گواہ بنا لینے چاہیں جو عدل والے ہوں اور چیز کو نہ چھپائے اور نہ بدلے اگر اس کا مالک آجائے تو مناسب ہے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے جس کو چاہے دے دے ۔مستحق کو جب اس طور پر لقطہ کو لینا مباح ہے تو گمشدہ کو پکڑنے کا بھی یہی حکم ہے ان دونوں کو لینا جائز نہیں جبکہ غرض اس سے مختلف ہو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا لقطہ کے متعلق ارشاد ہے گری پڑ ی چیز کو لے لیا جائے اور درندوں کے لیے نہ چھوڑ ا جائے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عياض بن حماد المجاشعي ← مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5938

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5939

5620 - فحدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سفيان بن سعيد الثوري عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة أنه قال خرجت حاجا فأصبت سوطا فأخذتها فقال لي زيد بن صوحان دعها فقلت لا أدعها للسباع لآخذنها فلأستنفعن بها فلقيت أبي بن كعب فذكرت ذلك له فقال لي لقد أحسنت في ذلك إني قد كنت وجدت صرة فيها مائة دينار على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذتها فذكرتها لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي عرفها حولا فإن وجدت من يعرفها فادفعها إليه وإلا فاستنفع بها

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں حج کے لیے روانہ ہوا تو میں نے ایک کوڑا پایا میں نے اس لے لیا مجھے زید بن صوحان کہنے لگے اس کو رہنے دو میں نے کہا میں اس کو درندوں کا شکار نہ بناؤں گا میں اس کو ضرور لوں گا اور اس سے ضرور فائدہ اٹھاؤں گا پھر میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے فرمایا تو نے اچھا کیا ۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سود ینار کی ایک تھیلی پائی اور میں نے اس کو لے لیا پھر میں نے اس کا تذکرہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا تو آپ نے مجھے فرمایا ۔ اس کو ایک سال تک مشہور کرو اگر اس کی پہچان والا مل جائے تو اس کے حوالے کر دو نہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّهُ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5939

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5940

5621 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل أنه قال قد سمعت سويد بن غفلة يقول قد كنت خرجت حاجا فأصبت سوطا فأخذتها فقال لي زيد بن صوحان دعها عنك فقلت والله لا أدعها للسباع ولآخذنها فلأستنفعن بها فلقيت أبي بن كعب فذكرت له ذلك فقال لي لقد أحسنت في أخذها فإني قد كنت وجدت صرة فيها مائة دينار على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذتها ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرتها له فقال عرفها حولا كاملا قال فعرفتها حولا فلم أجد من يعرفها قال فأتيت بها النبي صلى الله عليه و سلم فقال اذهب فعرفها حولا فعرفتها حولا فلم أجد من يعرفها ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عرفها حولا فعرفتها حولا فلم أجد من يعرفها فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم احفظ عددها ووعاءها وعفاصها ووكاءها فإن جاء صاحبها وإلا فاستمتع بها قال شعبة ثم إن سلمة بن كهيل شك في ذلك لا يدري أثلاثة أعوام قال في الحديث أو عاما واحدا قال سلمة بن كهيل فأعجبني هذا الحديث فقلت لأبي صادق ذلك فقال أبو صادق وقد سمعت أنا ذلك الحديث أيضا من أبي بن كعب كما قد سمعه سويد بن غفلة من أبي بن كعب سواء

سوید بن غفلہ کہتے ہیں میں حج کرنے نکلا تو میں نے ایک کوڑا گرا پڑ پایا ۔ میں نے اسے لے لیا ۔ تو مجھے زید بن صاحان کہنے لگے اس کو چھوڑدو میں نے کہا اللہ کی قسم میں تو اسے درندوں کے لیے نہ چھوڑوں گا بلکہ اس کو ضرور پکڑوں گا اور اس سے فائدہ اٹھاؤں گا پھر میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے فرمایا تو نے اس کو اٹھانے میں اچھے کام کیا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سو دینار کی ایک تھیلی پائی تھی میں نے اسے اٹھا لیا پھر میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا جاؤ، اس کا ایک سال اعلام کرو ( میں نے اعلان کروایا ) مگر کوئی آدمی نہ آیا پھر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو ایک سال اور مشہور کر و پس میں ایک سال اس کا اعلان کیا مگر کوئی شخص اس کا مالک نہ مل سکا تو مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی گنتی اچھی طرح محفوظ کرلو اور اس کا برتن (تھیلی) اور اس کا سر بند محفوظ کر لو اور تسمیہ بھی حفاظت سے رکھ لو اگر مالک آجائے تو مناسب ورنہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سلمہ بن کھیل کو اس میں شک ہے اس کو معلوم نہیں رہا کہ تین سال فرمایا ایک سال فرمایا۔ سلمہ بن کھیل کہتے ہیں مجھے یہ روایت پسند آئی تو میں نے ابو صادق سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا میں نے خود یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے جیسا کہ سوید بن غفلہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بعینہ سنی ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5940

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5941

5622 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أبو معمر المنقري قال ثنا عبد الوارث قال ثنا محمد بن جحادة عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة عن أبي بن كعب أنه قال كنت التقطت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم مائة دينار فأتيت بها النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال لي عرفها سنة فعرفتها سنة فلم أجد أحدا يعرفها فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت له عرفتها سنة فلم أجد من يعرفها فقال لي عرفها سنة فعرفتها سنة فلم أجد أحدا يعرفها فقال لي اعلم عددها ووكاءها ثم استمتع بها وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في ذلك أيضا ما قد

سوید بن غفلہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سود ینار گرے پڑے پائے تو میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو پس میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا پھر میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا میں ایک سال بھر اس کا اعلان کیا مگر کوئی اس کو پہچاننے والا نہیں ملا ۔ تو آپ نے مجھے فرمایا اس کو ایک سال تک مشہور کرو پس میں نے ایک سال تک اعلان کیا تو میں نے کی کوبھی نہ پایا جو اس کا پہچاننے والا ہو پھر میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا میں نے اس کو ایک سال تک مشہور کیا ہے مگر میں نے اس کا پہنچانے والا نہیں پایا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اس کو ایک سال اور مشہور کرو ۔ پس میں نے ایک سال اور اعلان کیا مگر اس کا کوئی مالک نہ آیا تو آپ نے مجھے فرمایا اس کی گنتی اچھی طرح جان لو اور اس کا سر بنو پہچان لو پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أبو معمر المنقري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5941

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5942

5623 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير أنه قال حدثني عمرو بن شعيب عن عمرو وعاصم ابني سفيان بن عبد الله بن ربيعة أن أباهما سفيان بن عبد الله قد كان وجد عتبة فأتى بها عمر بن الخطاب فقال له عرفها سنة فإن عرفت فذاك وإلا فهي لك قال فعرفها سنة فلم تعرف فأتى بها عمر العام المقبل أو القابل في الموسم فأخبره بذلك فقال له عمر هي لك وقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أمرنا بذلك فأبى سفيان أن يأخذها فأخذها منه عمر بن الخطاب فجعلها في بيت مال المسلمين

سفیان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے دروازے کی چوکھٹ کا بازو پایا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا اسکی تشہیر کرو اگر پہچان والا مل جائے تو یہ اسی کی ہے ورنہ یہ تیری ہے راوی کہتے ہیں کہ سفیان نے ایک سال تشہیر کی مگر کوئی پہچان والا نہ آیا پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئندہ سال حج کے موقعہ پر لائے اور ان کو اس کی اطلاع دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تیری ہے اور فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم فرمایا ہے تو سفیان نے اس کو لینے سے انکار کر دیا ۔ تو اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لے لی اور مسلمانوں کے بیت المال میں رکھ دی ۔

الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5942

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter