شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 3 باب اللقطة والضوال ) · حديث 5931
5612 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى الصوفي قال أنا عبد الله بن وهب بن مسلم القرشي قال أخبرني عمرو بن الحارث ومالك بن أنس وسفيان بن سعيد الثوري جميعا أن ربيعة بن أبي عبد الرحمن الرأي حدثهم جميعا عن يزيد مولى المنبعث وزيد بن خالد الجهني أنه قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا مع رسول الله فسأله عن اللقطة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم أعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها قال فضالة الغنم يا رسول الله فقال هي لك أو لأخيك أو للذئب قال فضالة الإبل يا رسول الله فقال معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها
یزید مولیٰ منبعث اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا اور اس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا بندھن اور سر بند خوب پہچان لو پھر اس کی تشہیر ایک سال تک کرو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو مناسب ہے ورنہ تم جانو اور وہ شئی اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے ۔ فرمایا وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑے کے لیے ہے پھر اس نے گمشدہ اونٹ سے متعلق دریافت کیا تو فرمایا ۔ اس کا مشکیزہ اور موزہ اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درختوں سے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے ( اسے نہ چلنے میں دقت نہ پانی کی پریشانی بلکہ برداشت پر قدرت ہے ۔)
سفيان بن سعيد الثوري جميعا ← مالک بن أنس ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ← يونس بن عبد الأعلى الصوفي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5931
