شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5907
5589 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن بكر السهمي قال ثنا حميد الطويل أنه قال سئل أنس عن كسب الحجام فقال احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم حجمه أبو طيبة الحجام فأمر له رسول الله صلى الله عليه و سلم بصاعين من طعام وكلم مواليه ليخففوا عنه من غلته شيئا ففعلوا ذلك
حمیدالطویل سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجام کی کمائی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے ابو طیبہ تھا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم فرمایا اور اس کے مالکوں سے بات چیت کی تاکہ وہ اس کے خراج میں سے کچھ کم کر دیں انہوں نے ایسا کر دیا۔
كَسْبِ الْحَجَّامِ. ← سُئِلَ أَنَسٌ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5907
