Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5883

5566 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عبد الله بن أبي السفر عن عامر الشعبي عن خارجة بن الصلت عن عمه أنه قال أقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتينا على حي من أحياء العرب فقالوا لنا إنكم قد جئتم من عند هذا الخبر بخير فهل عندكم دواء أو رقية أو شيء فإن عندنا معتوها في القيود قال فقلنا نعم فجاؤوا به فجعلت أقرأ عليه بفاتحة الكتاب ثلاثة أيام غدوة وعشية أجمع بزاقي ثم أتفل فكأنما أنشط من عقال فأعطوني جعلا فقلت لا حتى أسأل النبي صلى الله عليه و سلم فسألته فقال كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت حق وقد

شعبی نے خارجہ بن صلت سے انہوں نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوٹے تو ہمارا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا ۔ تو انہوں نے ہم سے کہا تم اس بڑے عالم کی طرف سے بہتری لائے ہو کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا جھاڑ یا اور کوئی چیز ہے کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ بیڑیوں میں جکڑا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا ہاں چنانچہ وہ اس دیوانہ کو ہمارے پاس لائے میں نے اس پر تین روز صبح و شام سورۃ فاتحہ پڑھی میں اپنے لعاب کو جمع کر کے اس پر تھوکتا رہا گویا وہ رستی سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت دی میں نے کہا جب تک میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی متعلق دریافت نہ کر لوں اس وقت تک نہ لوں گا۔ میں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس کو کھاؤ مجھے اپنی عمر کی قسم ہے جو آدمی باطل جھاڑ پھونک سے کھائے تو وہ باطل اور ناجائز ہے تونے تو سچے دم سے کھایا ہے ۔

عَمِّهِ أَنَّهُ ← خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5883

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5884

5567 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا هشيم عن أبي بشر عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كانوا في غزاة فمروا بحي من أحياء العرب فقالوا هل فيكم من راق فإن سيد الحي قد لغ أو قد عرض له شيء [ ص 127 ] قال فرقاه رجل بفاتحة الكتاب فبرأ فأعطى قطيعا من الغنم فأبى أن يقبله فسأل عن ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له بم رقيته فقال بفاتحة الكتاب قال وما يدريك أنها رقية قال ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوها واضربوا لي معكم فيها بسهم فاحتج قوم بهذه الآثار فقالوا لا بأس بالجعل على تعليم القرآن وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا الجعل على تعليم القرآن كما قد يكره الجعل على تعليم الصلاة وقد كان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في ذلك أن الآثار الأول في ذلك لم يكن الجعل المذكور فيها على تعليم القرآن وإنما كان على الرقي التي لم يقصد بالاستيجار عليها إلى القرآن وكذلك نقول نحن أيضا لا بأس بالاستيجار على الرقي والعلاجات كلها وإن كنا نعلم أن المستأجر على ذلك قد يدخل فيما يرقى به بعض القرآن لأنه ليس على الناس أن يرقى بعضهم بعضا فإذا استؤجروا فيه على أن يعملوا ما ليس عليهم أن يعملوه جاز ذلك وتعليم القرآن على الناس واجب أن يعلمه بعضهم بعضا لأن في ذلك التبليغ عن الله تعالى إلا أن من علمه منهم أجزى ذلك عن بقيتهم كالصلاة على الجنائز إنما هي فرض على الناس جميعا إلا أن من فعل ذلك منهم أجزى عن بقيتهم ولو أن رجلا استأجر رجلا ليصلي علي ولى له قد مات لم يجز ذلك لأنه إنما استأجره على أن يفعل ما عليه أن يفعل ذلك فكذلك تعليم الناس القرآن بعضهم بعضا هو عليهم فرض إلا أن من فعله منهم فقد أجزى فعله ذلك عن بقيتهم فإذا استأجر بعضهم بعضا على تعليم ذلك كانت إجارته تلك واستيجاره إياه باطلا لأنه إنما استأجره على أن يؤدى فرضا هو عليه لله تعالى وفيما يفعله لنفسه لأنه إنما يسقط عنه الفرض بفعله إياه والإجارات إنما تجوز وتملك بها الأبدال فيما يفعله المستأجرون للمستأجرين فإن قال قائل فهل روى عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء يدل على ما ذكرت في المنع من الاستيجار على تعليم القرآن قيل له نعم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أنه قال لا تأكلوا بالقرآن وعن عبادة بن الصامت رضي الله عنه أنه قال كنت أقرئ ناسا من أهل الصفة القرآن فأهدى إلي رجل منهم قوسا على أن أقبلها في سبيل الله تعالى فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي إن أردت أن يطوقك الله بها قوسا من نار فأقبلها وقد ذكرنا ذلك كله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأسانيدها فيما تقدم من كتابنا هذا في باب التزويج على سورة من القرآن من كتاب النكاح ثم قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما قد

ابوالمتوکل ناجی نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شریک تھے ۔ ان کا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے پوچھا کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کر لیتا ہے ہمارے قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا یا اس کو کوئی عارضہ پیش آگیا ہے ۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا تو نے کس چیز سے دم اس آدمی نے کہا فاتحۃ الکتاب سے ۔ آپ نے فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ وہ جھاڑ کا کام دیتی ہے ابو سعید کہتے ہیں پھر آپ نے اس کو لینے کا حکم دیا اور فرمایا اس میں میرابھی ایک حصہ رکھ لو ۔ ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے اس کو لینے کا حکم دیا اور فرمایا اس میں میرا بھی ایک حصہ رکھ لو ۔ ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تعلیم قرآن پر اجرت میں حرج نہیں تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں جس طرح کہ نماز کی تعلیم پر اجرت جائز نہیں ۔ اس سلسلہ میں جو روایات پیش کی گئی ہیں ان میں جس اجرت کا ذکر ہے وہ قرآن مجید کے کسی حصہ کے ساتھ بھی دم کرتا ہے ایک دوسرے کو دم کرنا واجب نہیں فلہذا اگر وہ ایسے عمل پر اجارہ کریں جو ان پر لازم نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مگر لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قرآن مجید سکھائیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے مگر جو ان میں سے تعلیم دے گا تو وہ باقی لوگوں کی طرف سے کفایت کرنے والا ہو گا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کر لینے سے باقی کی طرف سے کفایت کرنے والا ہو گا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کرلینے سے باقی کی طرف سے کفایت کرنے والا ہو گا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کر لینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہو جائے گی اور اگر کوئی شخص کسی سے اپنے رشتہ دار کے نماز جنازہ پڑھنے کی اجرت مانگے تو یہ جائز نہیں ہے کہ کیونکہ وہ اس عمل کی اجرت مانگ رہا ہے جو اس پر لازم ہے اسی طرح قرآن مجید بھی ایک دوسرے کو سکھانا فرض ہے البتہ بعض کے سکھا دینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہو جائے گی فلہذا اگر کوئی کسی کو تعلیم قرآن کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ اجارہ اور اجرت دونوں ناجائز ہیں کیونکہ اس فرض عمل پر اجارہ کیا ہے اور اس عمل کو سقوط فرض کے لیے اسے خود کرنا لازم تھا مگر اجاروں میں مزدور اپنے مستاجر کے لیے عمل کرتا ہے تبھی تو اجارہ درست ہوتا ہے اور وہ بدل کا مالک بنتا ہے ۔ آپ نے تعلیم قرآن مجید کے سلسلے میں جو بات کہی ہے کیا اس پر کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منقول ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی روایات وارد ہیں مثلاً " لا تا کلوابالقرآن " نمبر 2 حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بعض اصحاب صفہ کو قرآن مجید پڑھاتا تھا ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیہ میں دی اور اصرار کیا کہ اس کو راہ خدا کے لیے قبول فرماہیں میں نے یہ بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نےفرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کی کمان کا طوق ڈالیں تو اسے قبول کر لو ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5884

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5885

5568 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا حماد بن سلمة عن أبي مسعود سعيد بن إياس الجريري عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشخير عن أخيه مطرف بن الشخير عن عثمان بن أبي العاص أنه قال قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم الأذان بالأجر وقد روى في ذلك أيضا عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ما قد

مطرف بن شخیر نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا موذن مقرر کرو جو اذان پر اجرت نہ لے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر اذان کو ناپسند فرمایا ۔

قَدْ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ ← أخيه مطرف بن الشخير ← أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← أبي مسعود سعيد بن إياس الجريري ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5885

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5886

5569 - حدثنا أحمد بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله بن محمد بن عمر بن حفص التيمي قال أخبرنا حماد بن سلمة عن يحيى البكاء أن رجلا قال لابن عمر إني أحبك في الله فقال له بن عمر لكني ابغضك في الله لأنك تبغي في آذانك أجرا وتأخذ على الأذان أجرا فقد ثبت بما ذكرنا كراهية الاستيجار على الآذان فالاستجعال على تعليم القرآن كذلك أيضا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر التبليغ عن الله ولو آية من كتاب الله وأوجب الله على نبيه التبليغ عنه فقال يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في مثل ذلك أيضا فيما

یحییٰ البکاء سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہا مجھے اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے محبت ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مگر میں تم سے اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھتا ہوں کیونکہ تم اپنی اذان پر اجرت لیتے ہو ۔ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان پر کسی کو اجرت دے کر رکھنا مکروہ ہے اور قرآن مجید کی تعلیم پر اجارہ یہی حکم رکھتا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کی بھی آیت کو پہنچا دینے کا حکم فرمایا ہے اور اپنے پیغمبر پر تبلیغ کو فرض فرمایا اور فرمایا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتار ا گیا اس کو پہنچا دیں اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ نے اپنی رسالت کی تبلیغ نہ کی اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا " یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک"

يحيى البكاء أن رجلا ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبيد الله بن محمد بن عمر بن حفص التيمي ← أحمد بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5886

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( باب الاستيجار على تعليم القرآن هل يجوز ذلك أم لا وما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5887

5570 - حدثنا أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق جميعا قالا ثنا أبو عاصم عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن أبي كبشة السلولي عن عبد الله بن عمرو بن العاص أنه قال قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بلغوا عني ولو آية من كتاب الله وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج في ذلك ومن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار فأوجب رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث على أمته التبليغ عنه ثم قد فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بين التبليغ عنه والحديث عن غيره فقال وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج أي ولا حرج عليكم في أن لا تحدثوا عنهم في ذلك فالاستجعال على ذلك استجعال على الفرض ومن استجعل جعلا على عمل يعمله فيما افترض الله عمله عليه فذلك عليه حرام لأنه إنما يعمله لنفسه ليؤدي به فرضا عليه ومن استجعل جعلا على عمل يعمله لغيره من رقية أو غيرها وإن كانت بقرآن أو علاج أو ما أشبه ذلك فذلك جائز والاستجعال عليه حلال فيصح بما ذكرنا معاني ما قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في الباب من النهي ومن الإباحة ولا يتضاد ذلك فيتنافى وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم

ابو کبثہ سلولی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بلغو اغنی ولو ایۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" کہ ایک آیت قرآن بھی ہو تو وہ بھی میری طرف سے پہنچا ؤ اور بنی اسرائیل کی باتیں نقل کرنے میں حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا " فلیتو مقعدہ من النار " تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لینا چاہیے اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر تبلیغ کو لازم فرمایا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف سے بات کے پہنچانے اور دوسروں سے بات نقل کرنے میں فرق کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا ۔ بنی اسرائیل سے بات بیان کرنے میں حرج نہیں یعنی تم پر ان سے بیان نہ کرنے میں کچھ گناہ نہیں ۔ پس اس پر انعام وا جرت کو طلب کرنا جو کہ اس پر فرض ہے تو یہ فرض پر اجرت کو چاہنا ہے جو کہ اس پر حرام ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کے لیے عمل کرنا ہے تا کہ فریضہ کی ادائیگی ہو اور جو عمل دوسرے کے لیے کیا جائے مثلاً جھاڑ پھونک وغیرہ اگرچہ قرآن مجید کی آیات سے ہو یا علاج وغیرہ اس پر اجرت جائز ہے اور حلال ہے ۔ اس بات کو سامنے رکھنے سے آثار مذکورہ کے معانی درست ہو جاتے ہیں اور ان میں منافات اور تضاد نہیں رہتا یہ تمام امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

قَدْ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق جميعا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5887

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5888

5571 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا هارون بن إسماعيل الخراز قال ثنا علي بن المبارك قال ثنا يحيى بن أبي كثير عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ أن السائب بن يزيد قد حدثهم أن رافع بن خديج قد حدثهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قال إن كسب الحجام خبيث

سائب بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی ناپاک ہے ۔

أن رافع بن خديج قد ← إبراهيم بن عبد الله بن قارظ أن السائب بن يزيد قد ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← هارون بن إسماعيل الخراز ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5888

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5889

5572 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير قال حدثني إبراهيم بن عبد الله بن قارظ قال حدثني السائب بن يزيد قال سمعت رافع بن خديج يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سائب بن یزید نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5889

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5890

5573 - وحدثنا يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق جميعا قالا ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا رباح بن أبي معروف عن عطاء عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن من السحت كسب الحجام

عطاء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی حرام ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← رَبَاحِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← وحدثنا يزيد بن سنان وإبراهيم بن مرزوق جميعا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5890

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5891

5574 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا شهاب عن محمد بن أبي ليلى عن عطاء عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عطاء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← شِھَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5891

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5892

5575 - وحدثنا عبد الرحمن بن الجارود قال ثنا وهب بن بيان الواسطي قال ثنا يحيى بن سعيد القطان قال حدثني عبد العزيز بن زياد عن أنس بن مالك أنه قال قد حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم كسب الحجام

عبدالعزیز بن زیاد نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کی کمائی کو حرام قرار دیا ۔

قد حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم كسب الحجام ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ زِيَادٍ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← وهب بن بيان الواسطي ← وحدثنا عبد الرحمن بن الجارود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5892

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5893

5576 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال أنبأنا سعيد قال ثنا عون بن أبي جحيفة أنه قال قد اشترى أبي حجاما فكسر محاجمه فقلت له ياأبت لم كسرتها فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الدم قال أبو جعفر وليس في هذا دليل على تحريم كسب الحجام ولكن إنما أتينا به لئلا يتوهم متوهم أنا قد أغفلناه وإنما في هذا الحديث كراهية أبي جحيفة لذلك فقط فأما ما في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من نهيه عن ثمن الدم فهو ما يباع به الدم لا غير ذلك فذهب قوم إلى كراهية كسب الحجام واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن كسب الحجام كسب ذي دنس فيكره للرجل أن يدنس نفسه ويدينها بذلك فأما أن يكون ذلك في نفسه حراما فلا واحتجوا في ذلك بما

سعید نے ہمیں مطلع کیا کہ عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا کہ میرے والد نے ایک سینگی لگانے والے (غلام ) کو خریدا پھر اس کی سینگی لگانے والے آلات توڑ دیے میں نے کہا ابا جی ! آپ نے یہ آلات کیوں توڑ ڈالے ؟ تو فرمانے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس روایت میں حجام کی کمائی کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اس روایت کو ذکر کر نے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ ہم اس سے بے خبر ہیں بس اس روایت سے اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابو حجیفہ نے اس کو ناپسند کرتے ہوئے ایسا کیا رہا یہ سوال کہ خون کی قیمت سے منع فرمایا تو اس کا اطلاق خون فروخت کرنے پر ہوتا ہے اس کے علاوہ نہیں ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ حجام کی کمائی مکروہ ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات کرنے پر ہوتا ہے اس کے علاوہ نہیں ، بعض لوگوں نے کہا کہ حجام کی کمائی مکروہ ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں ۔ دوسروں نے کہا سینگی لگوانے کا پیشہ گندا پیشہ ہے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے کو اس پیشے میں ملوث کرکے اپنے کو عیب دار نہ کرے ۔۔۔۔کو اختیار نہ کرے باقی بذات خود یہ حرام نہیں ۔ دلیل یہ روایات ہیں ۔

قد اشترى أبي حجاما فكسر محاجمه فقلت له ياأبت لم كسرتها فقال ← عون بن أبي جحيفة أنه ← سَعِيدٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5893

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 19 كتاب الإجارات ) ‹ ( 2 باب الجعل على الحجامة هل يطيب للحجام أم لا ) · حديث 5894

5577 - حدثنا يونس والربيع المؤذن قالا ثنا يحيى بن حسان قال ثنا وهيب عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن عبد الله بن العباس أنه قال احتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأعطى الحجام أجره في ذلك وقد

عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور حجام کو اس کی مزدوری عنایت فرمائی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← يونس والربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5894

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter