Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5861

5546 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا يعقوب بن حميد قال ثنا بن أبي داود عن بن جريج عن بن شهاب عن بن المسيب أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا حدت الطرق فلا شفعة فإن قال قائل فقد ثبت بما ذكرت وجوب الشفعة بالشركة في الدور والأرضين وبالشرك في الطريق إلى ذلك فمن أين أوجبت الشفعة بالجوار قيل له أوجبتها بما

ابن شہاب نے ابن مسیب سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستوں کی حد بندی کر دی جائے تو اس وقت شفعہ نہیں ہے ۔ جیسا کہ تم نے ذکر کیا شفعہ شرکت فی المکان اور زمین اور شرکت راہ سے تو لازم ہوتا ہے یہ جوار والا شفعہ کہاں سے نکال لیا ۔ ان روایات سے واجب ہوا ہے ۔

بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← بن جُرَيْجٍ ← بن أبي داود ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 5861

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5862

5547 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن بحر القطان وأحمد بن جناب قالا ثنا عيسى بن يونس قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال جار الدار أحق بالدار

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی وہ گھر کا زیادہ حقدار ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← علي بن بحر القطان وأحمد بن جناب ← بن أبي داود

Hadith 5862

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5863

5548 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي وأحمد قالا ثنا عيسى بن يونس قال سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن سمرة بن جندب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال جار الدار أحق بشفعة الدار

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی وہ گھر کے شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← علي وأحمد ← بن أبي داود

Hadith 5863

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5864

5549 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا همام قال ثنا قتادة فذكر بإسناده مثله

ہمام نے قتادہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

قتادة فذكر بإسناده مثله ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 5864

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5865

5550 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق وأحمد بن داود قالا ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن قتادة فذكر بإسناده مثله

شعبہ نے قتادہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

قتادة فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إبراهيم بن مرزوق وأحمد بن داود

Hadith 5865

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5866

5551 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا حميد وقتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر سمرة

حمید و قتادہ سے انہوں نے حسن سے انہوں نے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں سمرہ کا تذکرہ نہیں ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر سمرة ← الْحَسَنِ، ← حميد وقتادة ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 5866

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5867

5552 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا أحمد بن جناب ح

ابن ابی عمران نے احمد بن جناب سے روایت کی ہے ۔

أحمد بن جناب ← بن أبي عمران

Hadith 5867

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5868

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن بحر وأحمد بن جناب قالا ثنا عيسى بن يونس عن شعبة عن يونس عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یونس نے حسن سے انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← علي بن بحر وأحمد بن جناب ← وحدثنا بن أبي داود

Hadith 5868

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5869

5553 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد قال ثنا سفيان هو الثوري عن منصور عن الحكم عمن سمع عليا وعبد الله يقولان قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالجوار

حکم نے اس روایت کی جس نے علی و عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسائیگی سے (شفعہ کا ) فیصلہ فرمایا ۔ یہ روایات ثابت کر رہی ہیں کہ ہمسائیگی سے شفعہ لازم ہے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ یہ پڑوسی شریک ہو اس لیے کہ شریک کو جا ر کہا جاتا ہے حدیث میں تو کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر دلالت کر ے جو آپ نے ذکر کی لیکن ابو رافع سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد وہ پڑوسی ہے جو کہ شریک نہ تھا ۔

الْحَكَمِ عَمَّنْ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 5869

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5870

5554 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا محمد بن كثير قال ثنا سفيان عن أبي حيان عن أبيه عن عمرو بن حريث مثله ففي هذه الآثار وجوب الشفعة بالجوار فإن قال قائل قد يجوز أن يكون هذا الجار شريكا فإنه قد يقال للشريك جار قيل له ما في الحديث ما يدل على شيء مما ذكرت ولكنه قد روى عن أبي رافع ما قد دل على أن ذلك الجار هو الذي لا شركة له

ابو حیان نے اپنے والد سے انہوں نے عمرو بن حریث سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

عمرو بن حريث مثله ففي هذه الآثار وجوب الشفعة بالجوار فإن ← أَبِيهِ ← أَبِي حَيَّانَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 5870

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5871

5555 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن عمرو بن الشريد قال أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي فقال انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي وقاص في داره فجاء أبو رافع فقال للمسور ألا تأمر هذا يعني سعدا أن يشتري مني بيتين في داري فقال سعد والله لا أزيدك على أربع مائة دينار مقطعة أو منجمة فقال سبحان الله لقد أعطيت به خمس مائة دينار نقدا ولولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الجار أحق بسقبه ما بعتك فدل ما ذكرنا أن ذلك الجار الذي عناه رسول الله صلى الله عليه و سلم هو الجار الذي تعرفه العامة ومن أعطاك أن الشريك يقال له جار وأين وجدت هذا في لغات العرب فإن قال لأني قد رأيت المرأة تسمى جارة زوجها قيل له صدقت قد سميت المرأة جارة لزوجها ليس لأن لحمها مخالط للحمه ولا دمها مخالط لدمه ولكن لقربها منه فكذلك الجار سمى جارا لقربه من جاره لا لمخالطته إياه فيما جاوره به وأنت فقد زعمت أن الآثار على ظاهرها فكيف تركت الظاهر في هذا ومعه الدلائل وتعلقت بغيره مما لا دلالة معه ثم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من إيجابه الشفعة بالجوار وتفسيره ذلك الجوار ما قد

عمرو بن شرید کہتے ہیں کہ میرے پاس مسور بن مخرمہ آئے اور اپنا ہاتھ میرے ایک کندھے پر رکھ کر کہا میرے ساتھ سعد کے پاس چلو ! چنانچہ ہم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے تو اچانک ابو رافع آئے اور مسعود رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے کیا تم اس کو نہیں کہتے یعنی سعد کو یہ میرے گھر کے دو کمرے خریدے اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس پڑوسی کا ہم نے تذکرہ کیا اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف و معلوم پڑوسی مراد لیا ہے اب آپ کو کسی نے بتلایا کہ شریک کو جار کہا جاتا ہے اور آپ نے لغت عرب میں کہاں دھونڈا کہ شریک پر جار بولا جاتا ہے ۔ سعد کہنے لگے اللہ کی قسم میں چار سو دینا قسط سے زیادہ نہ دوں گا انہوں نے مقطعہ کا لفظ استعمال کیا یا منجمہ کا (دونوں ہم معنی ہیں ) انہوں نے کہا سبحان اللہ ! مجھے تو پانچ سو دینار نقد مل رہے ہیں۔ اگر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی " الجاراحق بسقبہ" پڑوسی قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے تو میں نے تم پر فروخت نہ کرتا عورت کو جازۃ و جہا بو لا جاتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ عورت کو جارۃ زوجہا سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس سے نہیں کہ اس کا گوشت خاوند سے ملا ہوا ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ مرد کا خون اس کے خون سے ملا ہے بلکہ قرب کی وجہ سے بول دیا جاتا ہے پس اسی طرح جا کو جار کہنے کی وجہ اپنے پڑوسی کے قریب ہونا ہے ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ جس میں قریب ہیں اس میں وہ آپس میں خلط ملط بھی ہیں ۔ آپ کے تو خیال شریف میں آثار کو ہمیشہ ظاہر پر محمول کرتے ہیں مگر یہاں آپ نے ظاہر کیوں چھوڑ دیا جبکہ اس کے دلائل بھی موجود ہیں اور غیر ظاہر سے مسئلے کو متعلق کر دیا جس کی کوی ادنیٰ دلالت بھی نہیں ؟ پھر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوار کی وجہ سے شفعہ کا ثبوت موجود ہے اور اس کی تفسیر اس روایت میں ملاحظہ کر لیں ۔

قاص في داره فجاء أبو رافع ← انطلق بنا إلى سعد فأتينا سعد بن أبي ← أتاني المسور بن مخرمة فوضع يده على أحد منكبي ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 5871

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5872

5556 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا أبو أسامة عن حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن عمرو بن الشريد عن أبيه الشريد بن سويد قال قلت يا رسول الله أرض ليس فيها لأحد قسم ولا شريك إلا الجوار بيعت قال الجار أحق بسقبه فكان قول رسول الله صلى الله عليه و سلم الجار أحق بسقبه جوابا لسؤال الشريد إياه عن أرض منفردة لا حق لأحد فيها ولا طريق فدل ما ذكرنا أن الجار الملازق تجب له الشفعة بحق جواره فقد ثبت بما روينا من الآثار في هذا الباب وجوب الشفعة بكل واحد من معان ثلاثة بالشرك في البيع بيع منه ما بيع وبالشرك في الطريق إليه وبالمجاورة له فليس ينبغي ترك شيء منها ولا حمل بعضها على التضاد وإذا كانت قد خرجت على الاتفاق من الوجوه التي ذكرنا على ما شرحنا وبينا في هذا الباب فإن قال قائل فقد جعلت هؤلاء الثلاثة شفعا بالأسباب التي ذكرت فلم أوجبت الشفعة لبعضهم دون بعض إذا حضروا وطالبوا بها وقدمت حق بعضهم فيها على حق بعض ولم تجعلها لهم جميعا إذ كانوا كلهم شفعاء قيل له لأن الشريك في الشيء المبيع خليط فيه وفي الطريق إليه فمعه من الحق في الطريق مثل الذي مع الشريك في الطريق ومعه اختلاط ملكه بالشيء المبيع وليس ذلك مع الشريك في الطريق فهو أولى منه ومن الجار الملازق ومع الشريك في الطريق شركة في الطريق وملازقة للشئ المبيع فمعه من أسباب الشفعة مثل الذي مع الجار الملازق ومعه أيضا ما ليس مع الجار الملازق من اختلاط حق ملكه في الطريق بملكه فيه فلذلك كان عندنا أولى بالشفعة منه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روي ذلك عن شريح

عمرو بن شرید نے اپنے والد حضرت شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی زمین جس میں کسی کا حصہ نہ تھا اور نہ کوئی شریک تھا ۔ بس پڑوسی تھا وہ فروخت کر دیا گیا آپ نے فرمایا پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ متصل پڑوسی کے لیے پڑوسی ہونے کی وجہ سے شفعہ کا حق ثابت ہے ۔ اس باب میں جو روایات ذکر کی گئیں ان سے یہ ثابت ہوا کہ چنچ وجوہ سے حق شفعہ ثابت ہوتا ہے ۔ نمبر1جو چیز فروخت ہو رہی ہے اس میں شرکت ہو ۔ نمبر2اس کی طرف جانے والے راستہ میں شرکت ہو ۔ نمبر 3اس جگہ کے ساتھ پڑوس حاصل ہو۔ ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی چھوڑ نا جائز نہیں اور ان کو ایک دوسرے سے متضاد بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ ان وجوہ کی بنیاد پر جو ہم نے وضاحت سے ذکر کی ہیں روایات باہم متفق ہیں ۔تم نے مذکورہ اسباب کی وجہ سے ہر سہ کو شفعہ کا حقدارقرار دیا ہے تو تم نے بعض کو چھوڑ کر دوسرے بعض کے لیے شفعہ کیوں کر ثابت کر دیا جبکہ وہ تمام حاضر ہو کر مطالبہ کریں تو اس طرح تم نے بعض کو بعض پر مقدم کیا اور جب وہ تمام ہی شفعہ کے حقدار ہیں تو تم نے سب کو حق کیوں نہ دیا ۔ اس طرح اسے لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اول یعنی شریک اس فروخت ہونے والی چیز میں حصہ دار ہے تو گویا وہ اس چیز اور اس کے راستہ دونوں میں شریک ہے پس اس کو راستہ کا حق حاصل ہے جس طرح کہ راستہ میں شریک کو یہ حق حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو فروخت ہونے والی چیز میں ملک کی شرکت بھی حاصل ہے اور راستے میں شریک کو یہ چیز حاصل نہیں ہےپس وہ راستہ میں شریک اور پڑوسی دونوں سے مقدم و والیٰ ہو گا اور جو راستہ میں شریک ہے اس کو اس شرکت کے ساتھ ساتھ فروخت ہونے والی چیز کے ساتھ کا اتصال حاصل ہے جو کہ اسباب شفعہ میں سے ہے اور پڑوس بھی حاصل ہے اس لیے وہ پڑوسی پر مقدم ہے کہ اس کو راستہ کی ملکیت حاصل ہے ۔ اس لیے ہمارے یہ پڑوسی سے مقدم ہو گا ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Hadith 5872

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter