شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 18 كتاب الشفعة ) ‹ ( باب الشفعة بالجوار ) · حديث 5849
5534 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن جريج أن أبا الزبير أخبره أنه سمع جابر بن عبد الله يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الشفعة في كل شرك بأرض أو ريع أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه فيأخذ أو يدع قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الشفعة لا تكون إلا بالشركة في الأرض أو الحائط أو الريع ولا يجب بالجوار واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الشفعة فيما وصفتم واجبة للشريك الذي لم يقاسم ثم هي من بعده واجبة للشريك الذي قاسم بالطريق الذي قد بقي له فيه الشرك ثم هي من بعده واجبة للجار الملازق وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الأثر إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الشفعة في كل شرك بأرض أو ريع أو حائط ولم يقل إن الشفعة لا تكون إلا في كل شرك فلا يكون ذلك نفيا أن يكون الشفعة واجبة بغير الشرك ولكنه إنما أخبر في هذا الحديث أنها واجبة في كل شرك ولم ينف أن تكون واجبة في غيره وقد جاء عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد زاد على معنى هذا الحديث
ابوالزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شفعہ کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو زمین یا مکان یا باغ میں شریک ہو ۔ اس کو فروخت کرناجائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے شریک پر پیش کرے پھر وہ اسے لے لے یا چھوڑ دے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شفعہ صرف زمین باغ یا مکان میں شراکت کی صورت میں جائز ہے پڑوس سے لازم نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا تمہارے کہنے کے مطابق شفعہ صرف اس شراکت میں ثابت ہوگا جو تقسیم نہ ہوئی ہو ۔ پھر دوسرے اس شریک کو حق ہو گا جس نے اس راستہ کی تقسیم کی ہو جس میں شراکت باقی ہے پھر اس کے بعد متصل پڑوسی کو حاصل ہو گا ۔ تمہارے بیان کردہ اثر میں صرف اس قدر ہے کہ شفعہ مشترک زمین مکان یا باغ میں ہے تو نہیں کہا گیا کہ انہی میں ہے اور دوسروں میں نہ ہو گا ہر شراکت میں اس کا وجوب ثابت ہوا ، اس کے علاوہ میں وجوب کی نفی نہیں اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت دوسرے طریق سے وارد ہے اس میں اضافہ موجود ہے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← بن جريج أن أبا الزبير ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Hadith 5849
