شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5784
5470 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا بكير بن عامر عن بن أبي نعم قال حدثني رافع بن خديج أنه زرع أرضا فمر به النبي صلى الله عليه و سلم وهو يسقيها فسأله لمن الزرع ولمن الأرض فقال زرعي ببذري وعملي لي الشطر ولبني فلان الشطر فقال أربيت فرد الأرض على أهلها وخذ نفقتك
ابن ابی نعیم رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے زمین کاشت کی ۔ میں کھیت کو پانی لگا رہا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاس سے گزر ہو ا آپ نے پوچھا یہ کھیتی کس کے لیے اور زمین کس کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کھیتی میرے بیچ اور کام کے بدلے آدھا میرا اور بنی فلاں کا نصف ۔ آپ نے فرمایا نے سودی کام کیا تم زمین مالکوں کو واپس کر دو اوراپنا خرچہ لے لو ۔
بن أبي نعم ← بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5784
