Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [177] بَابُ صيد الكلب · حديث 822

822 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا أمسك عليك كلبك المعلم فكل, وإذا أمسك عليك غير المعلم فلا تأكل. #697# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تمہارا سکھایا ہوا کتا ( شکارکو) تمہارے لئے روکے تو کھالو اور جب وہ کتا روکے جو سکھایا ہوا نہیں تو اسے نہ کھاؤ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 822

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [177] بَابُ صيد الكلب · حديث 823

823 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير, عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ما أمسك عليك كلبك إن كان عالما فكل, فإن أكل فلا تأكل منه, فإنما أمسك على نفسه, وأما الصقر والبازي فكل وإن أكل؛ فإن تعليمه إذا دعوته إن يجيبك, ولا تستطيع ضربه حتى يدع الأكل. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں تمہارا کتا جو کچھ تمہارے لئے روکے اور وہ سکھایا ہوا ہو تو اسے کھالو اور اگر وہ اس میں سے کھائے تو تم نہ کھاؤ کیونکہ یہ اس نے اپنے لئے روکا ہے۔“ جہاں تک شکرے اور باز کا تعلق ہے تو (اس کا شکار ) کھاؤ اگرچہ وہ خود بھی (اس سے) کھائے اور اس کا سکھانا (تعلیم) یہ ہے کہ جب تم اے بلاؤ تو وہ آ جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

ما أمسك عليك كلبك ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 823

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [177] بَابُ صيد الكلب · حديث 824

824 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الذي #698# يرسل كلبه وينسى أن يسمي فأخذه فقتل, قال: أكره أكله, وإن كان يهوديا أو نصرانيا فمثل ذلك. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, لا بأس بأكله إذا ترك التسمية ناسيا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جوشخص کتے کو ( شکار کے لئے ) چھوڑے اور بسم اللہ پڑھنا بھول جائے پھر اس کو پکڑ کر ہلاک کر دے تو وہ فرماتے ہیں اس کا کھانا مکروہ سمجھتا ہوں اور اگر وہ ( کتے چھوڑنے والا ) یہودی یا عیسائی ہوتو پھر بھی یہی حکم ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کر تے بھول کر بسم اللہ چھوڑ نے کی صورت میں اس (شکار) کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ یہاں سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أكره أكله, وإن كان يهوديا أو نصرانيا فمثل ذلك. ← إبراهيم في الذي يرسل كلبه وينسى أن يسمي فأخذه فقتل, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 824

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [177] بَابُ صيد الكلب · حديث 825

825 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا قتادة, عن أبي قلابة, عن أبي ثعلبة الخشني رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قلنا: إنا نأتي أرض المشركين, أفنأكل في آنيتهم؟ قال: إن لم تجدوا منها بدا فاغسلوها, ثم كلوا فيها. قلنا: فإنا بأرض صيد؟ قال: كل ما أمسك عليك سهمك, أو قوسك, أو كلبك إذا كان عالما. ونهانا عن أكل كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير, وأن نأكل لحوم الحمر الأهلية. #699# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت قتادہ رضی اللہ علیہ نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابو قلابہ رضی اللہ علیہ سے انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنٰی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں ہم نے پوچھا کہ مشرکین کی زمین میں جاتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے چھٹکارا نہ ہوتو ان کو دھو کر ان میں کھاؤ۔“ ہم نے پوچھا کہ ہم شکار والی زمین میں ہوتے ہیں؟ فرمایا جو کچھ تمہارا تیر یا گھوڑا تمہارے لئے روکے یا کتا جسے تم نے سدہایا ہو اور آپ نے ہمیں کچلیوں والے جانوروں اور پنجوں ( سے شکار کرنے والے ) پرندہ کے کھانے سے اور گھریلوں گدہوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

قُلْنَا ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 825

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [178] بَابُ الأشربة والأنبذة والشرب قائما وما يكره في الشراب · حديث 826

826 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن سليمان الشيباني, عن ابن #700# زياد, أنه أفطر عند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما, فسقاه شرابا له, فكأنه أخذ فيه, فلما أصبح قال: ما هذا الشراب؟ ما كدت أهتدي إلى منزلي, فقال عبد الله رضي الله عنه: ما زدناك على عجوة وزبيب. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت سلیمان شیبانی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ ابن زیاد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کے ہاں افطاری کی تو انہوں نے ان کو ایک مشروب پلایا گویا اس نے ان پر اثر کیا جب صبح ہوئی تو پوچھا یہ کونسا مشروب تھا میں تو گھر جانے کی راہ نہیں پا رہا تھا ۔ ‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہم نے عجوہ ( کھجور ) اور منقی پر اضافہ نہیں کیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

ابن زياد ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 826

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [178] بَابُ الأشربة والأنبذة والشرب قائما وما يكره في الشراب · حديث 827

827 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن نافع, عن ابن عمر رضي الله عنه, أنه كان ينبذ له نبيذ الزبيب, فلم يكن يستمرئه, فقال للجارية: اطرحي فيه تمرات. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت نافع رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے لئے منقی کابنیز (جوس) بنایا جاتا تھا ‘ آپ اس کو خوشگوار نہ پاتے تو لونڈی سے فرماتے اس میں چند کھجور ڈال دو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← للجارية: اطرحي فيه تمرات. ← ابن عمر أنه كان ينبذ له نبيذ الزبيب, فلم يكن يستمرئه, ← نَافِعٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 827

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [178] بَابُ الأشربة والأنبذة والشرب قائما وما يكره في الشراب · حديث 828

828 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال: #702# لا بأس بشرب نبيد التمر والزبيب إذا خلطا, فإنهما إنما كرها لشدة العيش في الزمن الأول, كما كره السمن واللحم, فأما إذا وسع الله تعالى على المسلمين فلا بأس بهما. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کھجور اور منقے کا نبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں جب دونوں کو ملایا جائے یہ اس زمانے میں مکروہ تھا جب مسلمانوں کی معیشت تنگ تھی اور ابتدائی دور تھا جس طرح گھی اور گوشت مکروہ تھا۔ ‘‘ لیکن جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو آسودہ حال کر دیا تو اب اس میں کوئی حرج نہیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 828

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [179] بَابُ النبيذ الشديد · حديث 829

829 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد قال: كنت أتقي النبيذ, فدخلت على إبراهيم وهو يطعم فطعمت معه, فأوتي قدحا من نبيذ, فلما رأى إبطائي عنه قال: حدثني علقمة, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما, أنه كان ربما طعم عنده, ثم دعا بنبيذ له تنبذه سيرين أم ولد عبد الله فشرب وسقاني. #704# قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبیذ سے بچا کرتا تھا پھر میں حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گیا اور وہ کھانا کھا رہے تھے میں بھی نے ان کے ساتھ کھانا کھایا پھر نبیذ کا پیالہ لایا گیا جب انہوں نے میرا پیچھے رہنا دیکھا تو فرمایا مجھ سے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ عنہا) سے روایت کر تے ہوئے بیان کیا کہ وہ بعض اوقات ان کے پاس کھانا کھاتے تو وہ نبیذ منگواتے جو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی ام ولد (لونڈی ) سیرین نے بنایا ہوتا تو وہ خودبھی پیتے اور مجھے بھی پلاتے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 829

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [179] بَابُ النبيذ الشديد · حديث 830

830 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا مزاحم بن زفر, عن الضحاك بن مزاحم قال: انطلق أبو عبيدة فأراه جرا أخضر لعبد الله بن مسعود رضي الله عنه كان ينبذ له فيه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے مزاحم بن زفر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ضحاک بن مزاحم رحمتہ اللہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ گئے تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک سبز گھڑا دیکھا جس میں ان کا نبیذ تھا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں (یعنی نبیذ جائز ہے ) اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 830

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [179] بَابُ النبيذ الشديد · حديث 831

831 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو إسحاق السبيعي, عن عمرو بن ميمون الأودي, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: إن للمسلمين جزورا لطعامهم, وإن العنق منها لآل عمر, وإنه لا يقطع لحوم هذه الإبل في بطوننا إلا النبيذ الشديد. #706# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابواسحاق سبیعی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عمر بن میمون اودی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مسلمانوں کے کھانے کے لئے ان کے اونٹ ہیں اور ان میں سے قدیم (اونٹ) آل عمر (رضی اللہ عنہ ) کے لئے ہیں اور ان اونٹوں کے گوشت کو ان کے پیٹوں میں تیز نبیذ کاٹتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 831

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [179] بَابُ النبيذ الشديد · حديث 832

832 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر رضي الله عنه أتي بأعرابي قد سكر, فطلب له عذرا, فلما أعياه إلا ذهاب عقل قال: احبسوه, فإذا صحا فاجلدوه, ودعا بفضلة فضلت في إداوته فذاقها فإذا نبيذ شديد ممتنع, فدعا بماء فكسره, وكان عمر رضي الله عنه يحب الشراب الشديد, فشرب وسقى جلساءه ثم قال: هكذا اكسروه بالماء إذا غلبكم شيطانه. #707# قال محمد: هذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دیہاتی لایا گیا جو نشے میں تھا آپ نے اس کے لئے عذر طلب کیا (یعنی کسی طرح وہ سزا سے بچ جائے ) جب وہ عقل کے زائل ہونے کی وجہ سے عذر پیش کرنے سے عاجز ہو گیا تو آپ نے فرمایا اسے قید کر دو جب ٹھیک ہو جائے ؟ تو اسے کوڑے مارو اور اس کے برتن میں جو کچھ بچ گیا تھا اسے منگوا کر چکھا تو وہ تیز نبیذ تھا جو ممنوع ہے تو آپ نے پانی منگوا کر اس کی تیزی کو توڑا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تیز مشروب پسند فرماتے تھے ‘ چنانچہ آپ نے اسے پیا اور مجلس والوں کو پلایا پھر فرمایا پانی سے اس ( کی شدت ) کو توڑ دو جب تم پر اس کا شیطان غالب آئے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 832

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [180] بَابُ نبيذ البختج والعصير · حديث 833

833 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا #708# طبخ العصير فذهب ثلثاه وبقي ثلثه قبل أن يغلي فلا بأس به قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! وہ فرماتے ہیں جب (انگور کا ) رس پکایا جائے اور اس کا دو تہائی چلا جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے اور اسے جوش نہ آیا ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 833

chevron_left Previous
1…636465…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter